بہار قرنطینہ میں ہے

زرد رتوں.بیمار فضاؤں سے کہدو,

ابھی خوشبو کو گلاب

رنگوں کو خواب

رگوں میں جمے سیال کو

لہو لکھنا,ہے.

بے کیف و ساکت منظرکو

خوش خصال لکھنا,ہے

ان چڑیوں کو لوٹنے دو

فضا کے حبس میں جو محصور ہیں

زرد رتوں کو سرخ گلال لکھنا ہے

اس کرلاتی خاموشی سے

بہتے سر نکلنے دو

سناٹوں کو شور

تنہائی کو جشن طرب

دوست کو یار لکھنا ہے

اک لمحہ انتظار! مجھے محبتوں کی تازہ نظم. لکھنی ہے…!!!!۔

ابھی تو

بہار قرنطینہ میں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*