افضل احسن رندھاوا مرحوم کا ایک اہم انٹرویو

افضل احسن رندھاوا کا شمار پنجابی ناول اور افسانہ  کے بانیوں میں ہوتا ہے-
لیکن بدقسمتی سے رندھاوا کو ملک پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں اہمیت دی جاتی ہے-ملک کے اندر اردو بولنے والے ادبی قیادت اسے نہیں مانتی-مگر اس کی کتابیں مشرقی پنجاب میں دھڑا دھڑ بکتی ہیں-
فیصل آباد کے رہنے والے رندھاوا نے دوسرے پنجابی لکھاریوں کی طرح پہلے اردو میں  لکھنا شروع کیا-لیکن اس نے اپنے آپ اس وقت دریافت کیا جب اس نے پنجابی میں لکھنا شروع کیا-
اس کا پہلا ناول ‘دیوا تے دریا ‘ پہلا پاکستانی ناول تھا جو ہندوستان میں چھپا-اسے آدم جی ایوارڈ ملا مگر رندھاوا نے رائڑز گلڈ انتظامیہ کے  پنجابی کی طرف غیر مناسب  رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے اسے لینے سے انکار کر دیا- اس کی یہ کتاب چھپنے کی وجہ سے وہ پنجاب کی آواز بن گیا-
گو رندھاوا نثر نگار کے طور پر پہچانا جاتا ہے مگر اس کی آٹھ سے زیادہ شاعری کے مجموعہ ہیں اور اس کے بعض شعر تو ضرب المثل بن گئے ہیں-
  رندھاوا اپنی زبان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں ہے کہ یہ پاکستانی پنجاب میں کم پڑھی جاتی ہے- اس انڑویو میں انہوں نے اپنی  پنجابی میں تحریروں ، خوشیاں اور تکلیفوں کے بارے میں بات چیت کی ہے –
سوال: آپ نے کب لکھنا شروع کیا؟
جواب: پہلا مضمون میں نے 1951 میں  سکول  کے رسالہ کی ایڈیڑ شپ کی لئے مضمون لکھنے کے مقابلہ میں لکھا اور جیتا، 1951-52 میں سکول کے رسالہ کا ایڈیڑ رہا-
میں نے  اپنے کالج کے زمانے میں شاعری، غزل اور افسانہ لکھنا شروع کر دیا لیکن پڑھائی میرا بہت وقت لے لیتی تھی –
پھر میں لا کالج میں داخل ہو گیا اور میں نے لکھنے کو سنجیدہ کام اور پیشہ سمجھنا شروع کر دیا-میں نے کالج کا رسالہ ایڈت کیا-میری نظمیں امروز کے سنڈے ایڈیشن میں چھپنا شروع ہو گیں- جس  کا اس وقت ہفتہ وارلیل و نہار کی طرح بڑا اونچا معیار تھا-
اصل میں شاعری میرا پہلا عشق تھا مگر مجھے نثر میں زیادہ شہرت ملی-
سوال: اس حقیقت کے بارے  آپ کے کیا جذبات ہیں ؟
جواب: اصل میں میں ان جگہوں پر نژر نگار کے طور پر جانا جاتا ہوں جہاں پر میری شاعری نہیں پہنچی -مثال کے طور انڈیا میں اپنے پہلے پنجابی ناول ‘دیوا تے دریا’ کی  وجہ سے جو  کہ 1960 میں لکھااور یہ پہلی پاکستانی کتاب تھی جو ہندوستان میں چھپی تھی -میری شاعری کی آٹھ /نو کتابیں ہیں مگر کوئی بھی ہندوستان میں نہیں  ملتی جب کہ میری کہانیاں ملتی ہیں –
میں 1989 میں دہلی گیا-دہلی یونیورسٹی  جہاں میرا ناول ایم اے کے سلیبس میں پڑھایا جا رہا ہے ،  استادوں نے  بحث کی لئے مجھے بلا یا- جنہوں نے میرا ناول پڑھا ہوا تھا۰ -سو میں نے یہ دعوت قبول کر لی-جب ہم نژ پر سیر حاصل بات کر چکے تو ڈاکڑ اطہر سنگھ نے بتایا کہ یہ شاعر بھی ہے- پھر میری شاعری پر گفتگو کرنے کے لئے ایک اور میٹنگ رکھی گئی- پنجاب پر میری نظمیں سن کر سامعین اور میں بھی رویا-
سوال: آپ کی کہانیاں پنجاب کی ثقافت اور رہن سہن کے بارے میں ہوتی ہیں ؟
جواب: یہ اس لئے ہے کہ مجھے اس کا ذاتی علم ہے -گو میں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ شہرمیں گذارا ہے مگر گاوں میں میری جڑیں ہیں- یہ حقیقت ہے کہ شہروں کے مسائل بہت پیچیدہ ہوتے ہیں مگر گاّوں میرا کینوس ہے –
سوال: آپ  نے اردو میں لکھنا شروع کیا پھر آپ نے پنجابی میں لکھنا شروع کر دیا؟
جواب: دلچسپ بات یہ ہے کہ میں  نے پہلی کہانی اردو میں لکھی اور پھر اسے دوبارہ پنجابی میں لکھا-یہ کوئی 1958 کی بات ہے جب پنجابی میں لکھنے کا شعور مجھ میں پیدا ہوا- اصل بات یہ ہے کہ میں نے کچھ چیزیں اردو میں لکھی ہیں یہ میری 25 سال کی کمائی ہے –مگر میری زیادہ تر تحریریں پنجابی میں ہیں-
میرا پہلا کہانیوں کا مجموعہ ‘رن تلوار تے گھوڑا’ نے پنجابی حلقوں میں تھر تھلی مچا دی، تو اس لئے پنجابی میں کہانیوں کی مانگ بڑھ گئی –
سوال: کیا یہ بات صحیح ہے کہ آپ نے اپنی پہلی پنجابی کہانی منیر نیازی کے کہنے پر  لکھی؟
جواب: گو میں نے یہ کہانی اردو میں لکھی تھی، کہانی پنجاب اور پنجابی پرتھی مگر کہیں چپھی نہیں تھی-ایک دن ہمارے پاس  شراب کے لئے پیسے نہیں تھے-منیر نیازی نے کہا کہ چلو ہم اس کہانی کو بیچتے ہیں -میں نے اسے کہا کہ تم اپنی کیوں نہیں بیچتے اس نے کہا کہ وہ پہلے ہی کئی اخباروں کو بیچ چکا ہے -سو ہم بھاٹی گیٹ میں روزنامہ ‘احساس’ گئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پہلے ہی بڑے ادیبوں کی بہت کہانیاں ہیں انہیں ایک پنجابی کہانی کی ضرورت ہے  انہوں نے ہمیں 35 روپے دینے کا کہا –اس زمانے میں یہ بہت بڑی رقم تھی- -سو میں نے کہا کہ کسی دن لکھ دوں گا وعدہ کرتا ہوں -نیازی اڑ گیا اور اس نے کہا کہ ابھی کیوں نہیں لکھ دیتے ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے -میں نے اردو کی کہانی کو دوبارہ پنجابی میں لکھ دیا-             
سوال: آپ کا پہلا ناول کب چھپا ؟
جواب:  1960اس پنجابی کہانی  کے ‘احساس’ میں چپھنے کے بعد پنجابی کے ایک بڑے  ایڈیڑ آصف خان نے مجھ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ میں  اسے  ہندوستان میں پاکستان کی پنجابی  کی کہانیوں کی  کتاب میں اپنی کہانی چھاپنے  کی اجازت دوں-اس کے ساتھ ہی اس نے پنجابی ناول لکھنے کی دوسری درخواست کی – میں نے کہا میرے پاس وقت نہیں ہے میں اس وقت قانون کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا –اس نے کہا ٹھیک ہے – اگر تم ناول نہیں لکھ سکتے تو ناولٹ ہی لکھ دو- میں نے  کہا خان صاحب ناول اور ناولٹ میں کوئی زیادہ فرق نہیں-صاف ظاہر ہے کہ تم مجھے  پھنسانا چاہتے ہو،اس میں لوگوں کو قائل کرنے کی بہت صلاحیت تھی –اس نے مجھے ناول کا نام بھی پوچھا  جس کا کہیں دور دور ذکر نہیں تھا- -میں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا میرے ذہن میں ایک پلاٹ تھا-میں نے کہا  ‘دیوا تے دریا’-
پھر اس کے بعد رسالہ میں آدھے صفحہ کا اشتہار تھا کہ افضل احسن کا ناول ‘دیوا دے دریا’ ستمبر میں چھپ جائے گا-جب میں اپنا امتحان دے کر واپس لائلپور آگیا تو۰آصف لائلپور آیا اور اس نے مجھے کہا تمہارے پاس ناول مکمل کر نے کے لئے پندرہ دن ہیں –تو میں نے پندرہ دنوں میں وہ ناول مکمل کر دیا –لیکن آپ  شائد یقین نہ کریں کہ میں نے  ناول کو دوبارہ نہیں پڑھا-ناول کے چھپنے کے 20 دنوں کے بعد مجھے پاکستان  کے اندر سے سینکڑوں خطوط آئے –
ہم پنجابی نہیں پڑھتے  ہیں حتیٰ کہ پنجابی لکھاری بھی دوسرے لکھاریوں کی تحریریں بھی نہیں پڑھتے ہیں -اس ناول پر رد عمل میری توقع سے زیادہ تھا-  پھر کسی نے  آصف کو لکھا کہ وہ اس ناول کو ہندوستان میں چھاپنے کی اجازت چاہتا ہے–اس نے مجھے  250 روپے رائلٹی دینے کا کہا- یہ میرے لئے بہت بڑی عزت تھی کہ ایک پاکستانی کا ناول ہندوستان میں چھپ رہا ہے- یہ آج بھی بڑی عزت ہے، میں نے اسے اسی وقت اجازت دے دی-
سوال: آپ نے اس ناول پر آدم جی پرائز لینے سے انکار کر دیا ؟
جواب: ہاں لیکن اختلاف ذاتی نہیں تھے –میں نے ایوارڈ اس لئے واپس کردیا تھا کہ راٹرز گلڈ ،اردو سیل کا پنجابی لکھاریوں  کی طرف رویہ کی وجہ سے واپس کر دیا تھا-
پنجابی رائڑز نے گلڈ میں پنجابی سل کھول دیا اور پنجابی کے  بڑے ادیب شفقت تنویر مرزا کو اس کا نمائندہ چنا-قتیل  شفائی اردو سیکشن کا سیکریڑی جنرل چنا گیا-ان دونوں سیلوں کے درمیان کچھ اختلاف ہو گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ پنجابی سیل زیادہ متحرک تھا- پنجابی لکھاریوں نے اپنی شناخت مانگنی شروع کردی-شفقت کو ایک شو کاز نوٹس دے دیا گیا- جس میں الزام تھا کہ وہ سرکار دشمن سیاسی سر گر میوں میں حصہ لیتا ہے –دوسرا انہوں نے شفتقت کا داخلہ بند کر دیا-سو ہم نے ان کے ایوارڈ واپس کردئے، اور بطور احتجاج رائرز گلڈ سے استعفٰی دے دیا- ہم نے پنجابی ادبی سنگت بنا لی اور اس کی دوسری برانچ لائلپورمیں بنا لی-
سوال: پنجابی کو اس کا معاشرے میں اصل مقام نہیں دیا گیا گو یہ آبادی کا 56 فی صد ہیں ؟
جواب:اس مسئلہ پر پچھلے 30 برسوں سے بہت کچھ کہا گیا ہے-بنیادی طور پر کوئی اختلاف نہیں- انہوں نے جھگڑے کی صورت بنا دیا ہے –مجھے سمجھ نہیں  آتی پنجاب کے لوگوں کو اپنی زبان پنجابی بولنے سے کیوں روکا جاتا ہے-اس بات کا کریڈت پنجابیوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے بنگالیوں کے بر عکس اردو کو قومی زبان کے طور پر مان لیا ہے-
    جب سے انگریز آئیے ہیں اور پنجاب فتح کیا ہے پنجابیوں کے خلاف
 ہمیشہ سازش  ہوتی رہی ہے اور پنجابیوں کو دبایا گیا ہے –ان کی زبان ان سے چھین لی گئی ہے اور جب لوگوں سے ان کی زبان چھین لی جائے تو ان کی پوری ثقافت ہی ختم کردی جاتی ہے –آپ لوگوں کو ان کی ماں بولی بولنے سے منع نہیں کر سکتے- 1973 کے آیئن میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے  کہ اردو قومی زبان ہو گی اور  ساری ریجنل زبانیں ،بلوچی ، پنجابی۔ سندھی پشتو کو بڑھنے، پھولنے کا موقعہ دیا  جا ئے  گا- –لیکن حاکم یہ چاہیں گے کہ  لوگ ان پڑھ رہیں کیوں کہ اس طرح سے حکومت کرنا آسان ہو جاتا ہے -پنجابی کو اس کا حق نہ دے کر  وہ 60 فی صد لوگوں کو انپڑھ رکھنا چاہتے ہیں -سو جب پنجابی زبان کی شناخت کی بات ہوتی ہے ، خاص کر ذریعہ تعلیم بنانے کی اور سرکاری زبان، تو سرکار اس نعرے کے ساتھ آجاتی ہے کہ یہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں-اپنی زبان کے لئے کھڑے ہونا کسی کو قوم دشمن اور پاکستان دشمن نہیں بنا دیتا – ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں  کہ ہم چاروں صوبوں کو اکھٹا رکھ سکتے ہیں-
سوال:آپ نہیں سمجھتے کہ پنجابی زبان کی اس بری حالت کے خود پنجابی ذمہ دار ہیں-وہ عام آدمی کو قائل نہیں کرسکے کہ وہ پنجابی لکھے اور پڑھے-دانشوروں نے دوسری زبانوں میں لکھا ہے مگر اپنی زبان میں کوئی خاص کام نہیں کیا؟
جواب: سوال تعلیم کا نہیں، شناخت کا ہے99 فی صد لوگ نوکری کی لئے پڑھتے ہیں – صرف ایک فی صد اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے لئے پڑھتے ہیں -مغل اور پشتون دور میں فارسی سرکاری اور  دربار کی زبان تھی –انگریزوں کے آنے کے ساتھ  فارسی کو  موت کا پروانہ دے دیا گیا-انگریزی ہر جگہ نافذ کردی گئی-اب ہر بچہ جو’ سی ایس ایس’ کا امتحان پاس کرنا چاہتا ہے اس کو اچھی انگریزی آنی چاہئے -اردو اس کے کسی کام کی نہیں ہے-
  دوسری زبانوں کو 45 سالوں سے اردو سے  مار رہے ہیں -لیکن انہوں نے اردو کے لئے کیا کیا-اردو میں تو سائینس کی ڈکشنری بھی نہیں-
ہم پنجابی بد قسمتی سے سکندر کے حملہ سے آج تک پنجاب کی شناخت ڈھونڈ رہے ہیں -انگریزی اور اردو بولنے کے قابل ہونے کے بعد آپ فورا اشرافیہ کا حصہ بن جاتے ہیں-
 -جب ہم پنجابی کی طرف مڑے تو ہمارے دوستوں نے کہا کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں ایک چھوٹے سرکل کے لئے بڑا سرکل چھوڑ رہے ہیں
جب تک ہم پورا ڈھانچہ تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک لوگ اردو اور انگریزی لکھتے رہیں  گے-
سوال: آپ کا کہنے کا  مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی زبان ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ آپ کے روزگار کی ضمانت نہ دے؟
جواب: ہر ایک کو وہ زبان سیکھنے اور  پڑھنے کی ضرورت ہے جو اس کی روٹی کی ضمانت دے-پنجابی کو سرکاری زبان بنانا پڑے گا -جتنی جلدی سرکار اس حقیقت کو مان لے اتنا ہی اچھا ہے -پنجابی کو پہلی جماعت سے ذریعہ تعلیم ہونا چاہئے – پھر لوگ پنجابی پڑھیں گے -اگر پنجابی ان کو نوکری نہ دے ،  لوگ پنجابی میں ایم اے  کیو٘ں کریں گے–بہت کم لوگ اسے تعلیم کے لئے پڑھیں گے –
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پنجابی اس سطح تک ترقی کر گئی ہے کہ اس میں ہر طرح کی تعلیم دی جاسکتی ہے ؟
جواب: ہاں، میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ  پنجابی نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی ایک سب سے زیادہ بلیغ ، اور بہت پرانی زبان ہے- اس سے بھی پرانی جب اس خطہ کو پنجاب نہیں کہا جاتا تھا- -میرا خیال ہے کہ اس خطہ کی جو بھی زبان اس وقت تھی وہ ایک طرح کی پنجابی ہی تھی –اس وقت نہ فارسی، انگریزی اور اردو تھی -اردو تو کل کی بات ہے -جدید پنجابی بھی کوئی اٹھ سو سال پرانی ہے-ہم فخر کرتے ہیں  بابا فرید کے نام پر ،جو پہلا پنجابی شاعر تھا- پنجابی کلاسیکل شاعری کے اساتذہ، شاہ حسین، وارث شاہ، بابا فرید، باہو، مولوی غلام رسول جنہوں نے دنیا کے ہر موضوع پر لکھا-جو کہتے ہیں کہ کوئی سکرپٹ اور سٹینڈرڈ زبان نہیں ان کو ہیر وارث شاہ پڑھنی چاہئے -زبان بہت امیر اورپر زور ہے-پنجاب کی صوفی شاعری دنیا کی بہت اعلٰیٰ شاعری ہے-اردو اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی-
مشرقی پنجاب ہم سے سو گنا آگے ہے-سکھوں کی مزاہمتی تحریک اس کی مرہون منت ہے-ساری سائینس اس میں ترجمہ ہو چکی ہے اور  لوگ اب  پنجابی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں –
سوال: آپ کا پہلا ناول ‘دیوا تے دریا’ 1960 میں چھپا اور آپ کا دوسرا ناول 20 سال بعد چھپا-اتنا وقفہ کیوں؟
جواب: مجھے اپنے پہلے ناول پر جو شناخت ملی ، مجھے تو چاہئے تھا کہ میں ہر سال ناول لکھوں مگر میں اپنے قاری کو اس سطح پر نہیں مارنا چاہتا تھا-میں نہیں سمجھتا کہ آپ دو، تین یا پنج سال میں اچھا  ناول لکھ سکتے ہیں – آپ کو کچھ تازہ  خیالات کا
 انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ جڑیں پکڑیں اور پھلیں پھولیں –
مجھے دوسرا ناول لکھنے میں 20 سال لگے-موضوع میرے ہاتھ میں تھا ، میں لکھ سکتا تھا-مگر میں چاہتا تھا کہ میرے دوسرے ناول کی پذیرائی بھی پہلے ناول کی طرح ہو-‘دوآبہ’ نے دھوم مچا دی ہے اور20سال کی دیر کو صحیح  ثابت کیا ہے-
سوال:  لگتا ہے کہ آپ کی پہلی تحریروں ‘رن تلوار تے گھوڑا اور دیوا تے دریا’ والا رومانس ختم ہو گیا ہے ؟
جواب:  رومانس میری تھیم نہیں ہےمیری تھیم ثقافت اور انسانی قدریں ہیں -محبت کائنات کا مرکز ہے-مگر اس پر لکھنا بہت  مشکل  ہے جب دنیا میں بہت سارے دوسرے مسائل ہوں-پسماندگی، خون ریزی ، سماجی نا انصافی اور  مار شل لا-میں نے  ‘دیوا تے دریا’  میں ایک مرد اورایک عورت کے ذریعہ بہت سوال اٹھائے ہیں جن کا آپس میں پیار تھا- لیکن تکنیکی طور یہ لو سٹوری نہیں تھی – یہ اخلاق، سماجی، ثقافتی قدروں کی کہانی پے-
تخلیق، ادب کے کئی پہلو اور پرتیں ہوتی ہیں–یہ پڑھنے  والے کی ذمہ داری ہے کہ ان کو ڈھونڈھے -ظاہری طور  پر ‘دیوا تے دریا’ ایک رومانوی ناول ہے-لیکن اس کے اندر ایک وقت میں کئی پرتیں ہیں -میری کہانیوں میں بھی رومانس سے زیادہ ثقافتی قدروں پر  زور ہے-
سوال: ؛’دوآبہ’ میں آپ کا کینوس بڑا ہے اور آپ زیادہ میچور ہیں؟
جواب:’ دوآبہ’ ، ‘دیوا تے دریا’ سے 20 سال بعد لکھا گیا-‘دیوا تے دریا’ میں ، میں نے جذبہ اور  خیال کو کھل کھلینے دیا-مگر جب میں نے’ دوآبہ’ لکھنا شروع کیا تو مجھے اپنے لکھاری ہونے کا احساس، شعور تھا – مجھے  20 سالوں کی سین سے اپنی غیر حاضری کا جواز بھی پیش کرنا تھا-پھر میں نے نئی تکنیک کا تجربہ بھی کرنا تھا-دوآبہ ایک مختصر ناول لکھنا، تجربہ تھا جس میں ناول کی عالمی تعریف ختم نہ ہو جائے اور نثر اور شاعری دونوں  کا میں نے  زبان میں  تجربہ کیا-پھر موضوع کے اعتبار سے ‘دیوا تے دریا’ میں پنجابی جوان سے بات کی ہے ،پیار کرنے والے ماں باپ -چکمدار پنجابی زندگی-دوآبہ میں زیادہ زور پنجابی لوگوں میں سرمایہ داری پہلو-
ڈاکڑ اطہر سنگھ جو کہ پنجابی کا ایک بہت بڑا ناقد ہے اس کا کہنا ہے کہ دوآبہ دشمنی کے فلسفہ نالوں میں بڑا ناول ہے–میرا اینگل ہے کہ ہم  پنجابی ہر چیز کو عزت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات ،  زمین کے مسئلہ پر، گاوں میں لوگ ایک دوسرے کو  قتل کرنا شروع کر دیتے ہیں -مار ڈھار شروع کر دیتے ہیں –ان منفی باتوں کے علاوہ ‘دوآبہ’ میں اصلاح کا پہلو بھی ہے ، کیا ہمیں نہیں کرنا چاہئے ،ہمارے اندر کیا کمزوریاں ہیں اور پنجاب کو کیا ‘روگ’ لگا ہوا ہے-
سوال: آپ کی ایک لمبی نظم ؛چھیکڑلی چیخ’ نے سب جگہ ہلچل مچا دی ہے-آپ نے اس کا نام ‘چھیکڑ لی چیخ’ کیوں رکھا؟
جواب: یہ پنجاب کی مرنے سے پہلے چیخ ہے-جو کہ میں نے نظم میں پیش کی ہے-‘ایس او ایس’ پنجاب کی طرف سے جو ڈوب رہا ہے اور جو  کسی سے مدد مانگ رہا ہے-پوری دنیا میں یہ نظم پنجابی قوم پرستی کے لئے اور پنجاب کی مرتی ہوئی ثقادت کے لئے   کھڑی ہے –
سوال: کیا آپ کا  ناول ‘سورج گرہن ‘ آپ بیتی ہے؟
جواب: ہر ناول ایک لحاظ سے آپ بیتی ہوتا ہے کیونکہ آدمی اپنے تجربے سے لکھتا ہے، جو آدمی نے دیکھا ہوتا ہے-  جہاں تک ‘سورج گرہن’ کی بات ہے آپ ٹھیک کہتے ہیں اس میں دوسرے ناولوں کے مقابلہ میں زیادہ آپ بیتی ہے-
سوال: آپ اکیلے پنجابی لکھاری ہیں جنہوں نے  خطوں کے ذریعہ ناول لکھنے کہ پہلی  بار تکنیک استعمال کی ہے؟
جواب:  یہ انگریزی اور اردو کی ایک پرانی تکنیک ہے-پر میں نے اس تکنیک کو  ذرا دوسرے طریقے سے استعمال کیا ہے -میرے ناول میں ناول کی  ہیروئن ، ناول کے ہیرو کو خط لکھتی ہے– اس کی طرف سے کوئی خط نہیں -سو بینادی طور یہ خطوں کی یک طرفہ ٹریفک ہے-یہ پاکستان میں نیا تجربہ ہے اور لوگوں نے پسند کیا ہے-
سوال: آپ نے ‘سورج گرہن’ میں اپنی پرانی تحریروں سے علیحدہ ایک اور تجربہ کیا ہے – آپ کی پہلی تحریروں میں دیہات اور اس مسا ئل پر زور ہے مگر ‘سورج گرہن’ میں  آپ پاکستان اور پاکستان سے باہر ایک شہری درمیانہ طبقے کی ورکنگ وومن پیش کی ہے-یہ تبدیلی کیسے آئی؟
جواب: پچھلے 20/25 سالوں میں، میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اصلی پنجاب ڈھونڈنے کی  کوشش تھی مگر  ناقدوں نے کہنا شروع کردیا کہ رندھاوا صرف پنجاب پر ہی  لکھتا ہے- میرے دو ناول پائپ لائین میں ہیں -ایک جو پاکستانی ولائت میں رہتے ہیں -یہ میرے ولائت میں  1973 میں تین مہینے رہنے کے تجربہ پر ہے- -جو ایک  ماہانہ رسالہ میں قسط وار1981-84 میں چھپا-  
‘چاند گرہن’ ایک درمیانہ طبقہ کی شہری، پڑھی لکھی تعلیم یافتہ ، پوسٹ گریجوایٹ عورت کی کہانی ہے  جو مردوں کے محکمہ میں کام کرتی تھی –یہ دو مختلف معاشرے اور ملکوں میں انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق  کی مکمل سٹدی ہے- یہ موازنہ ہے پاکستانی سوسائٹی اور سوئس سوسائٹی کا -جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ لبرل اور جمہوری ہے-
خصوصی طور پر ‘سورج گرہن’ عورتوں کے مقام اور وہ مردوں کے معاشرے میں کام کرنے والی مشکلات –
سوال: آپ نے بہت کامیابی کے ساتھ عورت کے جذبات اور احساسات کو دیکھا ہے-کیا آپ نے اس کے لکھے ہوئے کچھ اصلی خط دئے ہیں ؟
جواب: ہاں لیکن یہ لکھاری کی مرضی ہے- وہ کسی بھی جگہ سے مواد لے سکتا ہے -میں نے کچھ دوستوں کی مغرب میں زندگی دیکھی ہے-سو آپ کہہ سکتے ہیں  کہ مجھے  آنے والے خطوں نے متاثر کیا-
مختلف عمر کے لوگوں سے مجھے دلچسپ جواب ملے-ایک پنجابی کے بڑے سینیر لکھاری سجاد حیدر سے -اس نے کہا کہ خطوں نے اس کو اپنا ڈھاکہ کا جوانی کا زمانہ یاد کروا دیا ہے جب اس کو کسی سے عشق ہو گیا تھا – پھر مجھے دوستوں سے  خط آئیے کہ انہوں نے میرے خطوں کو نقل کرکے اپنے معشوقوں کو بھیجا –
سوال: کیا آپ نے  سجاد حیدر کوں محبت میں گرفتار ہوتے پسند کیا ہے ؟
جواب: ہاں میں اعتراف کرتا ہوں میں نے صرف  لوگوں کو محبت کرتے ڈھونڈا اوراس پر لکھا – فیض صاحب نے کہا تھا’ کچھ عشق کیا کچھ کام کیا’-
سوال: آپ عوامی شاعر کا رتبہ حاصل نہیِں کر سکے؟
جواب: میں نے مارشل لا کے خلاف ادب  لکھا لیکن  نعرے بازی نہیں کی-سیاسی ادب کوئی چیز نہیں ہے –جب لینن نے کہا تھا ‘ لڑیچر نعرے لگانا اور نعرہ بازی نہیں ہے-‘ آپ کے کام کی کامیابی آپ کے پیغام  کی نفاست میں ہے- میں چھپنے والے لفظ میں یقین کرتا ہوں اس لئے اپنی تحریروں کو چھپواتا  ہوں -میں مشاعروں میں نہیں جاتا اور نہ سرکار کی چمچہ گیری کرتا ہوں ، نہ  سرکار سے شناخت مانگنے کے لئے جاتا ہوں-جو کچھ میں لکھتا ہوں لوگ پڑھتے ہیں-
سوال: آپ دونوں پنجاب کے لکھاریون کو کیسے دیکھتے اور پرکھتے ہیں؟
جواب: آپ ان کے حجم کے حساب سے موازنہ نہیں کر سکتے -کیوں کہ انڈیا میں بہت سارا لکھا گیا ہے  -پنجابی ادب نے بہت ترقی کی ہے-وہ ہم سے کم از کم ایک سو سال آگے ہیں –ان کے پاس سینکڑوں ناول ہیں ، افسانوں کے مجموعہ اور کئی سو شاعری کے مجموعہ ہیں –ہم نے ساٹھ کی دہائی سے شروع کیا اور ہمارا پہلا ناول 1967 میں چھپا-گوہم  دیر سے  شروع ہوئے  لیکن ہمیں  شرمندہ نہیں ہونا چاہئے –جب میں ہندوستان میں عالمی افسانہ کی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے گیا تو میں نے ہندوستانیوں کو کہا ہمیں ادب کے حجم سے نہ دیکھو- بلکہ اپنے ادب کے معیار سے دیکھو-کیوں کہ پاکستان میں لکھنے والا ادب کسی بھی لحاظ سے انڈیا میں چھپنے والے ادب سے کمتر نہیں –
سوال: کیا کسی خاص لکھاری نے آپ کی تحریروں پر کوئی نقش چھوڑا؟
جواب: کسی نا معلوم نوجوان شاعر کی ایک سطر آپ کو متاثر کر سکتی ہے-لیکن بد قسمتی سے  میں کوئی زیادہ پنجابی لکھاریوں کو  نہیں پڑھتا ہوں -میں  عالمی ادب پڑھتا ہوں مجھے انقلاب سے پہلے کا  روسی کلاسیکل ادب متاثر کرتا ہے،انگلش اور فرنچ-اردو میں اور اسی طرح پنجابی میں بھی چند اچھے لکھاری ہیں جس طرح  راجندر سنگھ بیدی اورفیض صاحب –

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*