امیج

میرا کوئی امیج نہیں۔ میں کسی وقت، کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔”، اس نے اپنی ہی کہی ہوئی بات کو دہرایا۔

رات تین بجے وہ بے چین ہو کر اٹھی اورکھڑکی کے قریب آ گئی۔ اس کھڑکی سے نظر آنے والے نظارے دن کی روشنی میں اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے۔کئی تصویریں تو اس نے مختلف زاویوں سے اس منظر کی ہی بنا چھوڑی تھی؛ سردی گرمی کے سب رنگ اور برف باری میں سفیدی سے ڈھکی گھاس اور نجانے کیا کچھ۔

رات کے اس وقت، البتہ یہ منظر تاریک تھا مگر وہ اپنے اندر کی آنکھ سے سب دیکھ سکتی تھی۔ آج وہ اپنی ساری گھٹن اور چار سو چھائی تاریکی کو کینوس پر اتار دینا چاہتی تھی۔

تصویر کے خط و خال نمایاں ہوتے چلے گئے۔ کئی دن کی محنت کے بعد تصویرمکمل ہوئی اور اس نے تصویر تصور کو دکھائی۔

وہ تصویر دیکھ کر چونک گیا۔

” کیا تم اس سے اتفاق کرتی ہو؟ “، اس نے تصویر پر نظریں جمائے ہوئے پوچھا۔

” میرا اتفاق کرنا یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔”

” کیوں؟ تم نے اسے تخلیق کیا ہے، یہ معنی کیوں نہیں رکھتا؟ ”

” دیکھو یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا روپ ہے جسے ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو بہرحال موجود ہے چاہے ہم اسے قبول کریں یا نہیں۔ ”

” بات قبول کرنے یا نہ کرنے کی نہیں ہے؛ میں ابھی تک اس تصویر کا مقصد نہیں سمجھ پایا ہوں۔تم اس میں کیا دکھانا چاہتی ہو؟ ”

“جو نظر آ رہا ہے، مگر جو نظر نہیں آتا ہمیشہ پنہاں ہی رہتا ہے۔”

“اور جو پنہاں رہتا ہے اسے تم سب کے سامنے لا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟ ”

“میں نہ تو کچھ ثابت کرنا چاہتی ہوں نہ کسی اچھے برے کا فیصلہ۔۔۔ میں نے صرف اپنے اندر موجود ایک تخلیق کو کینوس پر اتار دیا ہے۔ ”

”نہیں! یہ محض ایک تخلیق نہیں ہے؛ جب ایک بات ڈھکی چھپی ہے، کسی کے سامنے نہیں ہے تم اسے سب کے سامنے رکھ کر ایک برائی کو ہوا دے رہی ہو، اسے شہہ دے رہی ہو۔ خاندان معاشرے کی ایک اکائی ہے تم اسے توڑنا چاہتی ہو۔”، تصور کا لہجہ اس لمحے مصورہ کو بہت اجنبی سا محسوس ہوا۔

“میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کر رہی ہوں، کسی بات کو اچھا برا نہیں کہہ رہی میں نے صرف ایک کرب کو پینٹ کیا ہے۔ ”

“تم خوبصورتی کو پینٹ کرتے کرتے یہ کس طرف چل پڑی ہو؟ اور اگر بدصورتی کو ہی پینٹ کرنا ہے تو اس دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے اس پر کام کرو۔ بہت سے دکھ منہ پھاڑے فریاد کر رہے ہیں، بھوک، بیماری، بے بسی، لاچاری ان سب کو پینٹ کرو۔ فطرت کے یہ رخ بھی ہیں چاہے بدصورت ہی سہی! ”

” تم تو تب سے میرے ساتھ ہو جب میں برش پکڑنا سیکھ رہی تھی۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے فطرت کے ہر رنگ کو پینٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی اس کا ہی ایک رخ ہے اور اگر غور کرو تو اسی میں تمہیں بھوک، بیماری، بے بسی، لاچاری سب نظر آجائے گی۔ ویسے بھی تم ہی کہا کرتے ہو کہ جو اندر سے اٹھے، اسے ضرور بناؤں، خود کو نہ تو زبردستی کسی کام پر اکساؤں اور نہ ہی اندر سے اٹھنے والی ہْوک کو روکوں۔۔۔۔ مگر اب! کیا تم مجھے اس سے روکو گے؟ تمہاری روشن خیالی کیا ہوئی؟ ”

“دیکھو تمہارا ایک امیج ہے اور میں یہ نہیں چاہوں گا کہ اسے کوئی گزند پہنچے“ اس بار اس کا لہجہ نرم تھا۔”

” میرا کوئی امیج نہیں۔۔۔ ”

” بہرحال تم یہ تصویر کسی کو نہیں دکھاؤ گی۔”، اس بار اس کے لہجے میں تحکم کی آمیزش تھی۔

” سوری! میں نے اسے مکمل کرتے ہی اس کا موبائل سے امیج لیا اور سر شہزاد کو بھجوا دیا تھا۔ ”

“کیا؟ میرے دیکھنے سے پہلے ہی۔۔۔ اب اس کے بعد مجھے کبھی اپنی بنائی ہوئی کوئی چیز نہ دکھانا۔”

وہ شدید غصے میں وہاں سے چلا گیا۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتی تصویر کے پاس آئی اور اسے بغور دیکھنے لگی ایسا کیا تھا اس تصویر میں؟ ایک مرد و عورت کا ملاپ لیکن وہ جانتی تھی کہ تصور کو کس بات نے بے چین کیا تھا۔ عورت کے بازو دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کا ہر طرح کے احساس سے عاری چہرہ اور آنسووں سے لبریز آنکھیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھیں۔

“جب تم آئینہ دیکھو اور تمہیں لگے کہ تمہارا اپنا ہی امیج تمہاری نظروں میں بگڑ گیا ہے تو اس وقت پریشان ہونا اس سے پہلے نہیں۔ ”

وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور کچھ دیر کے لیے خود کو غور سے دیکھتی رہی۔ آئینے میں اس کا امیج ایک طمانیت بھری مسکراہٹ لیے ہوئے نظر آرہا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*