سنگت پوہ زانت ”آن لائن“

کورونا کی وجہ سے فزیکل اجتماعات چوں کہ فی الوقت ممکن نہیں رہے اس لیے سنگت اکیڈمی کی ماہانہ علمی و ادبی نشست بھی امسال مارچ سے نہ ہو سکی۔ بالآخر اکیڈمی کی مرکزی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک حالات نارمل ہوں تک تب آن لائن پوہ زانت کا انعقاد کیا جائے۔ اس کا آغاز پہلے سنڈے پارٹی سے ہوا اور پھر روز اتوار 28جون 2020کوسنگت پوہ زانت زوم ایپلی کیشن کے ذریعے آن لائن منعقد کی گئی۔ نشست کی صدارت مرکزی سیکریٹری جنرل پروفیسر جاوید اخترنے کی۔ان کے علاوہ شرکا میں شاہ محمد مری صاحب، ڈاکٹر عطاء اللہ، ڈاکٹر منیر رئیسانی،عابد میر،عابدہ رحمان، شاہ محمود شکیب، ڈاکٹر ضیااللہ، نجیب سائر، نواز کھوسو، راحب بلیدی، جہانگیر جبران اور سعدیہ مگسی شامل تھے۔

پوہ زانت کا آغاز اس سال وفات پانے والے ادیب، فنکار اور سیاسی سنگتوں کو یاد کرتے ہوئے کیا گیا۔سیکریٹری پوہ و زانت نجیب سائر کی غیرموجودگی کے باعث نظامت کے فرائض عابدمیر نیا نجام دیے۔

ڈاکٹر منیر رئیسانی نے کورونا وائرس اور حفاظتی تدابیر سے متعلق ہیلتھ فیکلٹی کی جانب سے طے کیے گئے اہم نکات سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجونے کورونا کے حوالے سے اپنا مضمون پڑھ کر سنایا۔انھوں نے انسانی بے حسی اورابھرتے ہوئے طبقاتی فرق کو بھی پیش کیا۔

اس کے بعد ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے بلوچ جدیدسیاسی تاریخ کے سو سال پورے ہونے سے متعلق اپنے مضامین کی سیریز کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔جس میں بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں انگریز سے ماوند شہر کو جلانے کی تاریخ سنائی۔

شاہ محمود شکیب صاحب نے رابعہ بصری کی فارسی میں لکھی نظم بھی سنائی۔

پوہ زانت کی متفقہ قراردادیں عابدہ رحمان نے پیش کیں:

۔1۔کورونا وائرس کو پاکستان میں تاجروں، ٹرانسپورٹروں، صنعت کاروں اور مولویوں کے دباؤ میں آ کر حکمرانوں نے ملک میں وبا کی صورت دی۔ اگر بروقت اور ڈسپلن کے ساتھ لاک ڈاؤن کیا جاتا اور ساتھ ہی شہریوں کو ضروریات بہم پہنچانے کا بندوبست کیا جاتا تو اتنے بڑے پیمانے پر اموات نہ ہوتیں اور ہسپتال و قبرستان نہ بھرتے۔ اس سلسلے میں حکومتی غفلت کی مذمت کی جاتی ہے۔

۔2۔اب جب کہ ریاست کے شہری مقدر اور وائرس کے حوالے ہیں تو ماسک پہننے، ہاتھ ملانے سے گریز کرنے، مناسب فاصلہ رکھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل ہی کیا جا سکتی ہے۔ سنگت اکیڈمی کی ہیلتھ فیکلٹی اس تاکید کو دہراتی رہے گی۔

۔3۔ہم بلوچستان میں کورونا سے ہوئی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ بالخصوص جو ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈیکس اس راہ میں امر ہو گئے ہیں، ہم انھیں عزت و تعظیم پیش کرتے ہیں۔

۔4۔ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ وفاقی اور بلوچستان میں صوبے کا بجٹ بھیک منگوں کا بجٹ ہے۔ حکومت کے پاس آمدنی اکٹھا کرنے کی سکت تک نہیں۔ جو دوچار پیسے موجود ہیں وہ بھی حکمران طبقات آپس میں بانٹ کر کھا جائیں گے۔ عوام کے لیے اور عوام کے پاس کچھ نہیں۔ ہم اس عوام دشمن بجٹ کو رد کرتے ہیں۔

۔5۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس بجٹ کے نتیجے میں بھیانک مہنگائی اور تصور سے بڑھ کر بیروزگاری سماجی انارکی پیدا کرے گی اور معاشرہ جو پہلے ہی بڑے ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے، اب چھوٹے چور اور ڈاکو بھی گلیوں، گھروں میں گھسیں گے۔ جس کا آغاز کیچ مکران میں ہونے والے واقعات سے ہو چکا ہے۔ ریاست کو ایسے غنڈہ گرد گروہوں کی پشت پناہی سے دست بردار ہونا چاہیے اور ان کی بیخ کنی کرنی چاہیے۔

۔6۔بلوچستان کے ایک وسیع حصے میں نہ بجلی ہے نہ انٹرنیٹ۔ یہ بنیادی انسانی حق مانگنے پر مہذب شہر کوئٹہ میں خصوصاََ گرلز سٹوڈنٹس کے ساتھ وہی غیرمہذب سلوک پولیس نے کیا جو ڈاکوؤں نے مکران میں معصوم بچی برمش اور اس کی ماں کے ساتھ کیا۔ اس فاشزم کی مذمت کی جاتی ہے۔

۔7۔سنگت اکیڈمی، امریکہ اور یورپ میں نسل پرستی کے خلاف جاری مقبول عوامی تحریک کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

۔8۔ ہم اردو کے معروف ادیب آصف فرخی، سندھی کے تاج بلوچ، پشتو کے عابد شاہ عابد، معروف شاعرہ ثروت زہرا کے والد اور بینا گوئندی کے والد، کوئٹہ کے معروف کتاب دوست پبلشر منصور بخاری سمیت رحلت کرنے والے سنگت اکیڈمی کے جواں سال رکن سید عطااللہ شاہ کی ناگہانی وفات پر تعزیت اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*