خود سے باہر

تب پھر میں نے ایک ہی جست میں
اپنے بدن کو چھوڑ دیا تھا

یہ کل شام کی بات ہے
جب ان دیواروں کو گھورتے گھورتے
ساتواں دن بھی بیت چکا تھا
سات زمینیں ، سات جہان یا۔۔۔
سات جنم اور سات قبیلے
سب کچھ جیسےگڈ مڈ ہو کر
سانس کی نوک پہ آن رکا تھا
دل کی گہرائی میں کوئی روتے روتے
دھیان کی گرہیں کھول رہا تھا
کومل نرم دھویں کی صورت میں نے خود سے باہر آ کر
اپنے آپ کو دیکھ لیا تھا
ہنستے کھیلتے منظر ، تھوڑی آگ ، ذرا سے رنج کی ڈھیری
خوشبو ، گیت ، سمندر ، پنچھی ،
صحرا ، دھوپ ، جزیرہ ، بارش
کیا سادہ ترکیب تھی میں نے
واپس جانے سے پہلے اک رنگ ملا کر
شور مچاتی ، کُرلاتی مٹی کو پھر سے گوندھ لیا تھا

تھوڑی دیر میں آسمان سے آدھی ادھوری شام کا منظر گزر گیا تھا
اگلے روز مجھے تو اس کی بابت کچھ بھی یاد نہیں تھا۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*