ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جون 2020

جدید سندھی ادب کا دیومالائی کردار "سوجھرو” کا مدیر "تاج بلوچ”

صحتمند چہرہ جسم بھرا بھرا، سیاہ چمکتی ہوئی آنکھیں، پیٹ ذرا سا آگے کو نکلا ہوا، اعضا میں پھرتی اور دید و دل کی تمام رعنائیوں سے شخصی اور ادبی طور پر مالا مال ایک جفاکش مصنف، بیباک نقاد، بہترین مترجم، غزل و نظم کا عمدہ شاعر، ایڈیٹر، دانشور، مقرر ...

مزید پڑھیں »

ٹی پارٹی، شوگر مافیا اور ٹڈی دل

امریکہ میں ٹرمپ کے نمودارہونے سے قبل کئی برسوں تک نام نہاد Tea Partyکا بہت ذکر رہا۔ اس نام کی تاریخی وجوہات بیان کرنا شروع ہوگیا تو آج کے موضوع پر توجہ نہیں دے پائوں گا۔فی الوقت محض یہ یاددلانا کافی ہوگا کہ ایک خودمختار ملک بن جانے سے قبل ...

مزید پڑھیں »

اک پھل موتیے دا

تانی تنی ہے وسیب اپنے کی، دل میں رونق جمی ہے ماہیوں کی،ٹپوں کی لے ہے دوہڑوں کی،ہاڑوں کی تانیں روحیں پگھلتی ہیں،کھنچتی ہیں جانیں "بازار( دے وچ) وکاندی نیں چھریاں” "(ماہی وے)عشقے دی چوٹاں نیں بریاں” "بازار( دے وچ)وکاندی اے لوئی” "ترے باجھ( ماہی او) دردی نہ کوئی” میں ...

مزید پڑھیں »

غزل

اے تحیّرِ عشق سُن میری طرح سے خواب بُن یہ جو دماغِ ہست ہے اس کو لگ نہ جائے گُھن جا تُو بھی کچھ سمیٹ لے تُجھ پہ برس رہا ہے ہہن توڑ دیا ہر آئنہ کسکی لگی ہوئی ہے دُھن شب تو اپنا جواب دے صبح تو اپنا سوال ...

مزید پڑھیں »

’’اندر کی باتیں‘‘ اور عمران خان کی فیصلہ سازی

رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران کابینہ کا ایک اجلاس ہوا تھا۔ اس میں موجود وزراء کی ایک بڑی تعداد وزیر اعظم سے شکوہ کرتی رہی کہ ’’اندر کی باتیں‘‘ صحافیوں تک پہنچادی جاتی ہیں۔کوئی بات خفیہ نہیں رہی۔ اس ضمن میں چند وزراء کے نام بھی لئے گئے جو ...

مزید پڑھیں »

پٹرول کا بحران

عمران حکومت ’’اشرافیہ‘‘ اور ’’مافیا‘‘ کا مقابلہ کرنے کو صف آرا ہوچکی ہے۔ گزشتہ برس چینی کا جو بحران پیدا ہوا تھا اس کے ذمہ دار افراد کی نشان دہی ہوچکی۔ اتوار کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔حکومت کے لئے عموماََ یہ چھٹی کا دن ہوتا ہے۔اخبارات ...

مزید پڑھیں »

سطور

انگلیوں کی پوریں لمس کو پہچانتی ہیں وبا کو نہیں محبت آسمان سے بارش کی مانند نازل ہوتی ہے ہر خشک و تر پہ اور مٹی اپنی اپنی تاثیر کے مطابق گل بوٹے اگاتی ہے یا کیچڑ بنتی ہے محبت کے قرطاس پر سات سطریں ہوتی ہیں پانچ جو روح ...

مزید پڑھیں »

غزل

روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں در سے اُٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے پھر تو بازار کے بازار سے لگ ...

مزید پڑھیں »

خود کلامی

عارفہ نے مجھ اگا ہے پیڑ نیا ایک خودکلامی کا نموپذیر ہیں شاخیں بدن کو چیرتی ہیں کٹار کونپلیں ہیں چھیدتی رگ وجاں کو نہ کوئی دھن ہے نہ ہی ساز اور نہ آوازیں بدن رکھیل ہے پوروں کا ناچ جاری ہے گڑے ہیں پاوں مرے،ریت سے نکلتے نہیں کسی ...

مزید پڑھیں »

فہمیدہ ریاض

تم بالکل ہم جیسے نکلے فہمیدہ ریاض (یہ نظم اس بہادر دانشور نے ہندوستان میں لکھی تھی اور وہیں سنائی تھی ) اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مْورکھتا، وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار تمہارے ارے بدھائی، بہت بدھائی پریت دھرم کا ...

مزید پڑھیں »