ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جون 2020

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

پرندے اُجلے دن کی پہلی ساعت سے بھی پہلے جاگ جاتے ہیں رسیلی ، میٹھی تانیں چھیڑتے ، کھڑکی بجاتے ہیں پرندے نیند کی گاگر الٹ کر مسکراتے ہیں مرے گھر سے نکل کر دور جاتے راستے پر پھیلی تنہائی کی شاخیں توڑتے ہیں ۔۔۔ کھلکھلاتے ہیں ہوائوں کو جھُلاتے ...

مزید پڑھیں »

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں

تم خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور ...

مزید پڑھیں »

اُمید

چودہ ماہ جیل، اور چار تفتیشوں کے بعد 13 فروری 1897 میں لینن کوتین سال کے لئے مشرقی سائبیریا میں جلا وطنی گزارنے کی سزا دی گئی۔ وہ دنیا کے جہنم کے لیے ”دراز سفری ٹرین“میں بیٹھا۔ اسے اب تک معلوم نہ تھا کہ برفانی وسیع وعریض سائبیریا میں اس ...

مزید پڑھیں »

’نوری جام تماچی‘: عجز و نیاز کا استعارہ

شاہ عبداللطیف بھٹائی بنیادی طور پر صوفی شاعر ہیں اور شیخ ایاز کے الفاظ میں تصوف پرست ہیں۔ صوفی شاعر ذات سے کائنات تک ہر شے میں اپنے محبوبِ حقیقی کو موجود پاتا ہے۔ عشق کے اِن مدارج کو لکھنے کے لیے شاہ نے اُن کرداروں کی تمثیل گری کی ...

مزید پڑھیں »

مصری خان کھیترانڑ، باکو کانفرنس

                بلوچ سامراج دشمنی کو انگیخت و انگیز کرنے میں سب سے اہم عنصریہ تھا کہ یہاں  نیم فیوڈل، ماقبل فیوڈل پیداواری رشتے تھے۔ ایک طرف مصیبت زدہ مظلوم عوام الناس تھے اور دوسری طرف استحصال کے فیوڈل صورتوں کے ساتھ ساتھ اُن کے اتحادی کے مسلط کردہ کالونیل کپٹلسٹ ...

مزید پڑھیں »

محراب

دیوتابپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں کالی جبینیں،ناتریشیدا بال اپنے اپنے شبدوں کی تسبیحاں کرتے دندناتے چوڑی چھاتیاں لیے تکبر کے خمیر میں گندھے فتووں کی تلاش میں کوشاں ادھر تو جبیں موحد ہے دل جھکتا نہیں روح تڑپتی نہیں قدم مستقیم ہیں ہتھیلیاں سلی ہوئی۔ مگر وہ دیوتا اپنی بدبوگار غلیظ ...

مزید پڑھیں »

آخر یہ غربت ہے کیا چیز؟

نہ جانے مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ آج اگر “غربت” نام کی کسی چیز کا وجود نہ ہوتا تو ہماری یہ دنیا زیادہ پرامن اور آسودہ حال ہوتی۔ زندگی زیادہ آسان اور پرکشش ہوتی۔ پھولوں کی رنگت زیادہ نکھرتی۔ معطر خوشبوؤں اور مسحورکن موسیقی سے فضا زیادہ مہکتی۔ اپنے ...

مزید پڑھیں »

ایک نثری نظم

کیسی لگے گی یہ دُنیا کرونا کے بعد ، یہ عقدہ کون کھولے گا ؟ پھیلتی جارہی ہے وبا کی دہشت صدی کی سب سے بڑی آفت نے اچانک ہی ہمیں آلیا قدموں تلے زمین سرکتی جارہی ہے ہوائیں مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑیں دیکھو! عظیم قومیں ،کس ...

مزید پڑھیں »