دھند

چاچا خیر دین آج بہت افسردہ بیٹھا ہوا تھا، بات بھی پریشانی کی تھی، صبح سے رات ہوگئی تھی مگر پچھلے دو دن کی طرح آج بھی کوئی گاہک نہیں آیا تھا ۔۔۔ چاچا خیردین یہی سوچ رہا تھا کے کاش اگر ایک بھی گاڑی صاف ہونے والی آجاۓ تو میرے پاس ڈیڑھ سو روپیہ آجاۓ گا،رات گھر والے کھانا کھا سکیں گے، وہ اسی سوچ میں تھا کے ایک لمبی سی نئی کار آ کے رُکی دو بچے اور میاں بیوی گاڑی سے نکلے، چاچا خیردین بھاگتا ہوا ان کے پاس پہنچا اور بولا "صاحب میں آپکی گاڑی صاف کردوں، بہت اچھی کروں گا صاحب "… صاحب نے ایک نظر چاچے پہ ڈالی اور کہا ” اچھا کردو مگر مٹی کا ایک زّرہ بھی نظر آیا ناں تو پیسہ نہیں ملے گا”۔۔۔ چاچا خیردین ایک دم روشن ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ بولا ” بالکل صاحب آپ فکر ہی نہ کریں”… صاحب اور فیملی ریسٹورنٹ کی سیڑھیاں چڑھ گئے اور چاچا خیردین جلدی سے بالٹی بھر کے لے آیا، اور رگڑ رگڑ کے گاڑی صاف کرنا شروع ہوا۔۔۔دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کے ڈیڑھ سو روپے ملیں گے تو ایک کلو آٹا ، کچھ سبزی، ٹماٹر ، مرچ۔۔۔ہممم۔۔۔ یہ سب لے کے بھی میرے پاس دس روپے بچ جائیں گے، اُس سے میں مُنی کے لیے پانچ کے چپس اور پانچ کی ٹافی لوں گا، کتنی خوش ہوگی وہ اور پیار سے میرے ساتھ لپٹ جاۓ گی، اُس کا باپ اور میرا بیٹا جو چار ماہ پہلے انجان گولی لگنے سے مر گیا تھا ، بوڑھے باپ کا واحد سہارا تھا ، اُس کے غم کو بھی شاید کچھ دیر کیلئے مُنّی بھول جائے اور ہو سکتا ہے میرے بیٹے کی روح بھی کچھ سکون میں آجاۓ۔۔۔
اسی دوران صاحب اور بیگم صاحبہ بیف سٹیکس کھا کے فارغ ہو چُکے تھے، بچے بھی برگرز اور پیزا ختم کر چُکے تھے اور اُن کو اگر رات میں بھوک لگ جائے تو اُس کیلئے ساتھ میں پیک بھی کروا چکے تھے ۔۔۔ صاحب نے سات ہزار کے بِل کے ساتھ ایک ہزار ٹِپ بھی دے دی اور خوشی خوشی گاڑی کی طرف چل پڑے۔۔۔
اُن کو آتا دیکھ کے چاچا خیر دین جلدی سے کھڑا ہوگیا، اور فخریہ کہنے لگا ” دیکھیں صاحب جی ایک بھی زّرہ نہیں ہے مٹی کا”… صاحب نے گہری نظر سے گاڑی کا جائزہ لیا اور بولے ” ہونہہ۔۔۔ صحیح ہے۔۔۔ کتنے پیسے ہوگئے؟”۔۔۔ چاچا خیر دین بولا ” جناب بس ڈیڑھ سو روپے”… صاحب تو یہ سنتے ہی آگ بگولا ہوگئے ” ہیں ۔۔۔کیا ڈیڑھ سو روپے۔۔۔ دماغ تو ٹھیک ہے ؟۔۔۔ دس منٹ کا کام اور یہ زرا سی بالٹی پانی کی اور باتیں سنو ڈیڑھ سو روپے۔۔۔ڈیڑھ لاکھ نہ دے دوں ميں تمھیں؟ اندھیر نگری ہے، پھر کہتے ہیں سرکار سہی نہیں ہے حرام کھانے کی عادت ہوگئی ہے سب کو،،، ۔۔۔ چاچا خیردین خالی خالی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ صاحب نے جیب میں ہاتھ ڈالا پچاس کا نوٹ نکال کے تھماتے ہوئے بولا۔۔۔ "یہ بھی زیادہ دے رہا ہوں عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے چلو اب۔۔۔” یہ کہہ کے وہ گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔۔۔ چاچا خیر دین کھڑا صرف یہ حساب لگا رہا تھا کے اگر اس سے دو روٹیوں کا آٹا لے لوں تو تب بھی سبزی کیلئے پیسے نہیں بچتے،،، اُسے یتیم مُنی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کا خواب ٹُوٹ جانے کی سب سے زیادہ تکلیف تھی، ۔۔۔ اسی حساب کے دوران اُس کی خالی آنکھیں۔۔۔ آنسوؤں سے بھر چُکی تھیں اور سواۓ دُھند کے اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔نصیب کی دُھند، بھُوک کی دھُند اور لوگوں کے روّیوں کی دھُند۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*