کہانیاں یاد رہ جاتی ہیں

’’تم چھیلو، میں آتا ہوں…‘‘
بس اس ایک فقرے سے بہت بچپن میں اپنی دادی سے سنی ہوئی پوری کہانی یاد آجاتی تھی۔ چھیلنے کا ذمّہ اصل میں شہزادے کے سُپرد کیا گیا تھا۔ یہ اس کی آزمائش تھی۔ لیکن وہ ڈلیا وزیر زادی کے آگے رکھ کر یہ کہتا ہوا اگلے مرحلے کے لیے روانہ ہوگیا جہاں اُسے ایک شہزادی ملی۔ مگر مل کر کھوگئی اور پھر وہ شہزادی یہ پکارتی پھری کہ ’’میں نے پایا، میں نے کھویا…‘‘
اتنا تو یاد ہے لیکن باقی کہانی مجھ سے گم گئی۔ کہانی بھلا کیسے گم ہوسکتی ہے؟ کہانی وہ بچہ نہیں بھرے میلے میں جس کی انگلیوں سے ماں کا ہاتھ چھوٹ جائے۔ کہانی وہ نیا سکّہ بھی نہیں جو کھیت، منڈیر پھلانگتے بچے کی جیب کے پھٹے ہوئے کونے سے نکل کر گر جائے۔ میں نے وہ کہانی سنی اور میں بھول گیا۔ بہت دفعہ سنی تھی لیکن پھر یاد نہیں رہی ۔ کہانی ختم، پیسہ ہضم۔ نہ وہ بچپن رہا اور نہ جاڑے کی راتوں میں، لحاف کے اندر لپٹا کر کہانی سنانے والی دادی امّاں۔ یوں کہانی گم ہوگئی، کہانی یاد رہ گئی۔
کہانیاں گم کہاں ہوتی ہیں، کہانیاں یاد رہ جاتی ہیں۔ بلکہ جو یاد رہ جائے وہی کہانی ہے اور جو کہانی ہے، وہ دِل گم کر دہ کا مدعا:
دل کہاں کہ گم کیجیے، ہم نے مدعا پایا
دل ملے نہ ملے، دل کا مدعا کہانی بن جاتا ہے۔ یا کچھ لوگ ایسا بنالیتے ہیں۔ بھولی ہوئی کہانیوں کو یاد کرنے، دُہرانے، ان کی بازیافت کی تگ و دو سے ہم ایسے چند لوگوں کو لاکھ دلچسپی سہی، کہانیوں کا گم ہوجانا، شاید نہیں یقینا ناگزیر ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو یہ کام شعوری طور پر کرنا چاہیے۔ کہانیوں کو خود بھلا دینا چاہیے، صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینا چاہیے اور پھر کسی شہر ِ ستم کی طرح جلا کر ان کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے بعد بھی جو بچ جاتی ہے، وہ کہانی ہے۔بہت پہلے کسی کتاب میں پڑھی ہوئی اوسپ مینڈل اشٹام کی یہ ہدایت آتی ہے (جس کی سفّاکی سے ڈر کر اس پر عمل کرنے کی کبھی توفیق نہ ہوسکی):
"Destroy your manuscript, but save whatever you have inscribed in the margin out of boredom, out of helplessness, and, as it were, in a dream. These secondary and involuntary creations of your fantasy will not be lost in the world but will take their places belind shadowy music stands…..”
مینڈل اشٹام شاعر تھا (اور کیا ہی رسیلا شاعر، ذہن کے تاروں اور دل کی رگوں سے تنا ہوا!) مگر اس کی نثر کانٹے کے تول کی ہے۔ روسی انقلاب، اسٹالن کی ہجو، پھر سیاست کے غیض و غضب کا نشانہ بن کر جلاوطنی اور قیدیوں کے کیمپ میں کس مپرسی کی لاوارث موت… اس کی کتنی ہی نظمیں گم ہوگئیں مگر اس کے مداحوں کے چھوٹے سے حلقے نے انھیں زبانی یاد کرکے محفوظ رکھا۔ شاعر تو شاعر، میں تو اسے نثر نگاری کا ایسا آدرش سمجھتا ہوں جس کو کسی ستارے کی طرح چھولینے کی بس تمنّا کی جاسکتی ہے۔ مینڈل اشٹام کا احوال مجھے یاد آیا جب کہانی کے نام پر فاطمہ حسن نے مجھے ایک ڈائری تھما دی۔ کونے مڑے تڑے، تحریر بھی بدلی ہوئی… اس ڈائری کی تاریخیں بھی بہت پرانی ہوچکی تھیں۔ جاپانی باغوں کے ساکت منظر، پنکھیاں، گل دائودی، چائے کی رسوم، سفید و سرخ نقاب دار چہروں کی تصویروں کے درمیان سادہ رہ جانے والے صفحوں میں چند کہانیاں بکھری ہوئی تھیں۔ پورے پورے صفحے خالی یا ان پر وہ نام، پتے، ٹیلی فون نمبر لکھے ہوئے جو کب کے بدل چکے ہوں گے… اور حاشیے پر کہانیاں۔ گھبراہٹ یا بے زاری کے مارے تیز تیز، بے طرح اُتاری ہوئی۔ یہ تھیں فاطمہ حسن کی کہانیاں جو گم ہونے سے رہ گئیں۔
یہ بھی محض اتفّاق ہوگا کہ یہ کہانیاں بچ گئیں۔ بعض دفعہ کہانیاں غائب ہو جاتی ہیں مگر حاشیے پر ایک ضمنی اندراج رہ جاتا ہے جس سے پوری کہانی کا سراغ مل جاتا ہے۔ کہانی کا جانا بھی ایک سانحہ ہے اور اس کی بھی اپنی ایک کہانی ہے خوں کیا ہوا دیکھا اورگم کیا ہوا پایا… یہ شگوفہ اس وقت کھلا جب فاطمہ حسن نے ایک دن اپنی ایک گم کی ہوئی کہانی کے بارے میں بتایا۔ نہیں، اس کہانی کا ذکر انھوں نے تب کیا جب عذرا عباس نے، جو خود ان دنوں اپنی کہانیاں جوڑ جاڑ کر جمع کر رہی تھیں، ایک دن اچانک … بالکل جس طرح کہانیوں میں ہوتا ہے… کہا کہ کہانی تو وہ تھی جو فاطمہ حسن نے لکھی تھی۔ پھر نہ تو وہ چھپی، نہ لوگوں نے سنی۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہوگئیں اور میں نے سوچا کہ لکھنے والی سے ہی پوچھ کر دیکھوں کہ سارے فسانے میں جس بات کا ذکر نہ تھا، وہ کیا تھی۔ دراصل، فاطمہ حسن سے میری ملاقات جن حوالوں سے ہے، ان میں ادبدا کر کہانی ضرور آتی ہے۔ اب سے ایک کہانی بھر زندگی پہلے، انھوں نے میری بالکل ابتدائی کہانیوں میں سے ایک، اُس رسالے میں شائع کی تھی جس کی وہ مدیر تھیں۔ ان ہی زمانوں اور ایسے ہی رسالوں میں، میں نے ان کی ایک آدھ کہانی کی جھلک بھی دیکھی تھی اور ان کا ذکر محترمہ خالدہ حسین سے بھی سُنا تھا جو افسانہ نگار ہونے کے باوصف کہانی کی بہت اچھی پارکھ بھی ہیں۔ مگر ان دنوں ادبی حلقوں میں فاطمہ حسن کا نام سامنے آرہا تھا تو شاعری کے حوالے سے اور ایک تازہ حیرت میں ڈھلی ایسی نظمیں اس نقش کو گہرا کر رہی تھیں:
گہری ہوتی شام
لان کی خالی کرسیاں
اور ادھوری لڑکیاں
(نظم ’’شاخوں سے دور‘‘، مشمولہ ’’بہتے ہوئے پھول‘‘)
اس وقت یہ آبی رنگوں کی تصویر معلوم ہوئی تھی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اس کی بنت میں کئی ایک کہانیاں ہیں، ادھوری، گم کردہ کہانیاں۔ کہیں یہ خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ تو نہیں رہ گئیں؟
شاخوں سے دور مگر جڑوں سے قریب۔ یہ لڑکیاں پوری ہوتی ہیں تو کہانیوں میں۔ راستوں اور رشتوں کی پہچان، سوال کرتی ہوئی آنکھیں اور بڑھتے ہوئے ہاتھ، زمین سے بچھڑنے کے دُکھ اور نئی سمتوں کی بے یقینی… اس طرح کی کئی ایک کیفیتیں ان کہانیوں میں اپنی جھلک دکھاتی ہوئی گزر جاتی ہیں:
’’جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا، اپنے گرد رنگوں کی ایک فضا تخلیق کرلی تھی۔ پیڑوں کا رنگ، زمین کا رنگ، آسمان کا رنگ، پھول تتلیوں، بیر بہوٹیوں، جھاڑ پر لگی بیریوں اور امّاں کے دو پٹّوں کا رنگ۔ کتنے ہی رنگ تھے جو اس کے گرد بکھرے ہوئے تھے…‘‘ (’’ٹھہری ہوئی یاد‘‘)
نہ رنگ ٹھہرتا ہے نہ کہانی۔ ایک آن کی آن میں یہ جا وہ جا، دونوں ہوا ہوجاتے ہیں۔ جس طرح پتّوںکے رنگ بدلنے میں ایک پورے موسم کا اشارہ ملتا ہے اسی طرح ان کہانیوں میں وہ کن مناہٹ سی ہے جس کی تفصیل میں اگر جائیں تو پورے کے پورے رومانوی ناول اور افسانے بن جاتے ہیں۔ یہاں جھلمل ہے، برکھا بہار نہیں۔
’’اس میں ڈسکر پشن زیادہ ہوگیا ہے، یہ کہانی مجھے پسند نہیں‘‘ فاطمہ حسن نے اس کہانی کے بارے میں مجھ سے یہ کہا جس کا اقتباس اوپر درج ہے۔ (یہ کہانی گم نہیں ہوئی، لکھنے والی نے خود ہی چھوڑ دی تھی۔) مجھے ان کی بات سے ہزار اختلاف سہی، اس سے بطور افسانہ نگار ان کا عندیہ مل جاتا ہے کہ وہ اشاریت کی قائل ہیں۔ اور یہی ان کہانیوں کا وصف کہ وہ بعض ایسے جذبوں کو سمیٹ لیتی ہیں جن کا فاطمہ حسن کی اس دور کی شاعری سے گمان ہی نہیں ہوتا۔ یہ جذبے تخلیقی شخصیت کی کسی گہری، دبی ہوئی تہہ سے اُبھر کر آئے ہیں اور ان کہانیوں میں بھی half-realized سے ہیں۔
ان کہانیوں میں سرکشی کا رنگ ہے، بغاوت نہیں۔ خود اعتمادی ہے، احساسِ برتری نہیں۔ بچپن کے کھیلوں میں اس لڑکی کو اپنے ’’چارم‘‘ کی جستجو ہے (اور ایک ادھورا سا اندازہ بھی) اور اس کا سامنا دُنیا کی نظروں سے ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک کہانی جس کا رنگ تیکھا تھا، اس پر شاید کراچی کے کسی بزرگ دانشور نے ٹوک دیا۔ پھر ممنوعہ چوتھی کھونٹ کے سفر میں اٹھے ہوئے قدم آدھے راستے سے پلٹ آئے۔ فاطمہ حسن کہتی ہیں، ان سے وہ کہانی گم ہوگئی۔
شاید ایسا ہوا ہو، شاید ایسا نہ ہوا ہو۔ کہانی گم ہو کر جائے گی بھی کہاں؟ بڑی بوڑھیاں کہا کرتی تھیں کہ وقت نا وقت کہانی کہنے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ کون راستہ بھول گیا، مسافر کی کہانی؟ وہ کہانی کار گم ہوگیا۔ یا گم ہوتے ہوتے اس شاعر میں ضم ہوگیا جس کی حیثیت سے فاطمہ حسن نے ادبی ساکھ قائم کرلی۔ کہیں ایساتو نہیں کہ یہ جھوٹی شہرت ہو اور وہ اصل میں کہانی کار ہوں، خود ایک کھوئی ہوئی کہانی؟ مگر نہیں، ان کی شاعری اور افسانہ نگاری ایک دوسرے کو کاٹتی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں بھی شاعرانہ رمز و ایمائیت ہے (اس قسم کی نقلی اور کھوکھلی بلند آہنگی نہیں جسے نثر کی خرابی چھپانے کے لیے ’’شاعرانہ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے)۔ ان کی ابتدائی کہانیوں میں دھیمی دھیمی رومانویت ہے تو بعد کی کہانیوں میں حکائی رنگ اور کہیں خواب کا سا بیان۔ ایک بچے کا مختصر سا ڈسکریپشن (بجائے خود غور طلب) ایک ورکنگ وومن کی مصروف زندگی کو خواب کے نیم اندھیرے سے جوڑ دیتا ہے اور یوں خارجی زندگی کی تکمیل اندرونی زندگی کے بیان سے جڑ کر مختصر سے نثر پارے میں ڈھل جاتی ہیں جو ایک مختلف ذائقے کا حامل افسانوی تجربہ ہے۔ ابھی تو ہم خواب میں ہیں، جب آنکھ کھلے گی تو کیا شاعرہ کہہ سکے گی کہ یہ خواب خواب افسانہ گم ہوگیا؟ اور کیا گم ہوجانے سے کہانی ٹل سکتی ہے؟
ایسی کہانیوں کو بڑی کوشش سے گم کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی ان کی یاد ایک پھانس کی طرح رہ رہ کر چبھتی ہے جب کوئی اچانک کہہ اٹھتا ہے، ’’کہانی تو وہ تھی…‘‘
یاد کرنے والوں سے کہانی کون چھین سکتا ہے؟ جو گم ہو کر بازیاب ہوجائے اور حافظے سے مٹائے نہ مٹ سکے، وہی تو کہانی ہے، کہانی جس کے ہونے میں ہم بھی داخل دفتر ہیں…
جنوری ۲۰۰۰ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*