نظم

بے پر کی تیتری کی بوڑھی آنکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظار کی دہلیز پر پڑی یہ بوڑھی آنکھیں
برسوں سے انتظار میں ہیں
انتظار!
جو خود بھی بوڑھا ہو چُکا ہے
اِک ایسی کل کے انتظار میں
جو
اب تک نہیں آئی!
اور اسی کل کے انتظار نے
بچپن کے ہاتھوں سے
سارے رنگ برنگے غُبّارے چھین لیئے
اور
جوانی کے آنگ آنگ میں پھوٹتے
سارے نغمے چُرا لیئے
مستی بھری آنکھوں سے
وصل کی رنگین راتوں کے
خوابوں کے پھولوں کی
ساری پتّیاں بھی نوچ ڈالیں
خوابوں پہ پابندی لگا کر
تیتری کا اِک پر بھی نوچ ڈالا
اپنے صدمے کو سینے میں دبائے
آنکھوں میں نیا اِک خواب سجائے
یہ بے حال تیتری اِک پر سے بھی مائلِ پرواز ہوئی
تو تمہاری خواہش کے بدمست ہاتھی نے
میرے اُس خواب کو جو لہو بھری آنکھ
ابھی ٹھیک سے دیکھ نہ پائی تھی
سولی چڑھا دیا
اور بندوق کی گولیوں سے مجھے لہو لہان کر ڈالا
اندھی خواہش کا بد مست ہاتھی پھٹ گیا
تو بے پر کی تیتری کمزور ٹانگوں سے لگی چلنے
پھر تمہارے چالاک ہاتھوں نے مکّاری سے
میرے ہاتھوں میں بیساکھیاں تھما دیں
جب چاہا گرا دیا اور جب چاہا اُٹھا دیا
دُنیا سمجھتی ہے میں چلتی ہوں
پر میں
میں تو تمہارے اشاروں پہ ناچتی ہوں
جب بھی موسم بدلے گا
تو یہ بیساکھی مجھ سے چھین لو گے
کسی اور رنگین تیتری کو تھما دو گے
کیونکہ
تُم جانتے ہو
بے رنگ آنکھوں کو رنگ بھاتے ہیں
پر
اِک ایسی کل بھی آئے گی
جب بندوق کی ہر گولی زنگ آلود ہوگی
میں نہ رہوں گی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*