اک پھل موتیے دا

تانی تنی ہے
وسیب اپنے کی،
دل میں رونق جمی ہے
ماہیوں کی،ٹپوں کی لے ہے
دوہڑوں کی،ہاڑوں کی تانیں
روحیں پگھلتی ہیں،کھنچتی ہیں جانیں
"بازار( دے وچ) وکاندی نیں چھریاں”
"(ماہی وے)عشقے دی چوٹاں نیں بریاں”
"بازار( دے وچ)وکاندی اے لوئی”
"ترے باجھ( ماہی او) دردی نہ کوئی”

میں اپنی جڑوں سے جڑے گیت کے،
لحن داودی پر
مٹی کی خوشبو سے نم آنکھ سے
دیکھتی ہوں
کسی ہاتھ کی رحل پر
اس بدن کا صحیفہ
نہیں کوئی تصحیف ممکن نہیں ہے
وہی ہجر ہے اوروہی وصل ہے
عشق اور حسن کی بھی وہی ہے کہانی
مگر اس کہانی کے رانی و راجہ بدلتے رہیں گے
کسی بھی زباں کا
کوئی گیت بھی اب
مجھے تو نہیں سننا مائے!
میں مانوں گی صحنک
اگر گیت میرے لیے کوئی
ایسا ہی گائے!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*