Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » گل خان نصیر کی اردو شاعری ۔۔۔ عابد میر

گل خان نصیر کی اردو شاعری ۔۔۔ عابد میر

میر گل خان نصیر نے اردو میں نہایت مختصر لیکن جامع اور زبردست شاعری کی ہے۔ ’بلوچستان میں اردو شاعری‘ نامی تحقیقی کتاب لکھنے والے آغا محمدناصر، گل خان کی اردو نظموں اور غزلوں کی کل تعداد ۷۴ بتاتے ہیں(۱)، جب کہ ۱۱۰۲ءمیں ان کے شائع ہونے والے اردو فارسی مضموعہ کلام میں کل۹۳ اردو نظمیں اور غزلیں شامل ہیں(۲)۔ البتہ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں ان کا جو انتخاب ِ کلام شامل کیا ہے، اس میں سے تین نظمیں ایسی ہیں جو ان کے اردو مجموعے میں شامل نہیں؛(’اٹھ کے اب دنیا میں پھر جینے کا ساماں کیجیے‘، ’غیروں سے شکایت یہ میرا کام نہیں ہے، اور،’اٹھ اے قوم بلوچی بہ اندازِ دل آرائی‘)۔ یوں اس لحاظ سے گل خان کی اب تک کی مطبوعہ اردو شاعری کی تعداد۲۴(نظمیں اور غزلیں) بنتی ہے۔البتہ انٹرنیٹ پہ گوگل سرچ میں دو مزید ایسی نظمیں ہاتھ آئیں جو ان کے مجموعہ کلام،نیز آغا ناصر کی کتاب میں بھی شامل نہیں(۳)۔ یوں مطبوعہ کلام کی تعداد۴۴ کو جا پہنچتی ہے۔
آغا ناصر نے ان کے تعارف میں گل خان کی اردو شاعری کا دورانیہ ۳۳۹۱ءسے ۰۵۹۱ءکے درمیان بتایا ہے(۴)۔ جب کہ مطبوعہ مجموعہ کلام میں پہلی نظم (آ گیا وقتِ امتحانِ بلوچ) پہ ۵۲ فروری ۴۳۹۱ئ(۵) اور آخری نظم (بیادِ غلام محمد شاہوانی) پہ ستمبر ۸۵۹۱ءکی تاریخ درج ہے۔ (۶)
یہ بات دلچسپ ہے کہ بلوچستان کے اکثر اکابرین کی طرح گل خان نصیر نے بھی شاعری کا آغاز اردو سے ہی کیا ، لیکن پھر بہت جلد ہی بلوچی کی طرف مائل ہو گئے، اور یوں اس زبان کو مالا مال کر دیا۔شاہ محمد مری کے بقول،
”میر گل خان نصیر بلوچی زبان کے ملک الشعرا تو ہیں ہی، انہوں نے اردو اور فارسی میں بھی اچھی اور خوب صورت شاعری کی ہے۔ بلوچی شاعری تو انہوں نے بہت بعد میں شروع کی ۔ ابتدا تو اردو سے ہوئی تھی۔ اور انہوں نے یہ کام ۰۳۹۱ءکی دَہائی کے اوائل سے شروع کیا تھا ۔“ (۷)
اس دوران انھوں نے براہوی اور فارسی میں بھی کچھ شاعری کی۔ گل خان کے مختصر اردو اور بے تحاشا بلوچی کلام کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اردو میں ہی شاعری کرتے(جو نہ کر کے انھوں نے بلوچی پہ احسان کیا) تو اردو کے چند صف ِ اول کے شعرا میں شمار ہوتے۔
جس زمانے میں گل خان نے اردو میں شاعری شروع کی، کم از کم ہمارے خطے میں ان کے پائے کا کوئی شاعر موجود نہ تھا۔ اقبال کے اثرات ضرور موجودتھے، لیکن ہمارا قاری یوسف عزیز اور محمد حسین عنقا سے ہی واقف تھا۔
گل خان نصیر کی اردو شاعری اس سے پہلے مختلف اخبارات و رسائل میں انتخاب کی صورت شائع ہوتی رہی، لیکن مجموعے کی شکل میں یہ پہلی بار ۱۱۰۲ءمیں چھپی۔
ہمارا مطالعے کا دائرہ کار ان کے اب تک کے مطبوعہ کلام سے متعلق ہے۔
زبان و بیان
شاعری کی زبان پہ بحث کرتے ہوئے دانتے نے لکھا تھا؛
”….جو کوئی بھی نظم لکھتا ہے، اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اپنی نظم اور اس کی زبان زیبائش کرنی چاہیے، کیونکہ کوئی چیز ایسی زیبائش بہم نہیں پہنچاتی جیسی یہ ممتاز بولی پہنچاتی ہے۔“(۸)
میزانِ تنقید میں، کسی شاعر کے فن کو پرکھنے کا ایک پیمانہ یہ بھی مقرر کیا گیا ہے کہ اُس شاعر نے اپنے عہدکی زبان کو کس طرح برتا ہے؟آیا اُ س نے اس میں کوئی اضافہ کیا ہے؟ جس زبان میں شاعر اظہار کر رہا ہے، اُس کے ساتھ اُس کا برتاو¿ کیسا ہے؟ وہ زبان کو خیال کے ساتھ کس ساتھ پہ منسلک کرتا ہے، اور اسے کتنی اہمیت دیتا ہے؟
گل خان نصیر کی اردو شاعری کو اس میزان پہ پرکھنے سے قبل ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا ہو گا کہ ایک تو اردو گل خان کی مادری زبان نہ تھی، دوم‘ اُس زمانے میں اردو کے ایوان میں اقبال کا طوطی بول رہا تھا۔ اقبال نے زبان کو جس طرح پر پہنچا دیا تھا، وہاں سے اسے آگے لے جانا یا اس ہمسری کرنا کارِ سہل نہ تھا۔البتہ اپنے محدودات میں زبان کا برتاو¿ قابلِ غور ضرور ہے۔ اقبال نے پورے خطے پر گہرے نقوش چھوڑے تھے۔ لگ بھگ ہمارا ہر لکھنے والا کسی نہ کسی سطح پراقبال سے ضرور متاثر تھا۔ اس لیے ان کے ہاں اقبال کی زبان کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔(دوسری طرف دلچسپ طور پر، ان میں نظریاتی بعدالطرفین بھی پایا جاتا ہے!)
گل خان نصیر نے دانتے کے بقول، اپنی نظم اور اس کی زبان کی زیبائش میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان کا کلام موضوعاتی سطح پر اکہرا ہونے کے باوجود زبان و بیان کی ایسی رنگینیاں لیے ہوئے ہے کہ قاری اُس سے بیک وقت فکری ،نظری و جمالیاتی حِظ لے سکتا ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ یہ اس زمانے کی عام زبان تھی یا گل خان نے اس پہ خصوصی عبور حاصل کیا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ گل خان کی شاعری زبان و بیان کے معاملے میں کہیں بھی سطحیت کا شکار نہیں ہوتی۔ یہ بولی بیک وقت دلکش بھی ہے، اس میں زبان کی چاشنی بھی ہے اور یہ عام فہم بھی ہے۔ ماسوائے ہندی لفظیات کے جو شاید بلوچستان میں اردو شاعری کے عمومی قاری کے لیے اس قدر عام فہم نہ ہوں۔
آغا محمد ناصر نے گل خان کی نظموں میں ’بعض فنی و لسانی خامیوں‘ کا تذکرہ توکیا ہے (۹)، لیکن ایسی کوئی نشان دہی نہیں کی، جس سے ان نظموں میں زبان یا فن کی کوئی غلطی سامنے آ سکے۔ کم از کم مجھے گل خان کی پوری اردو شاعری میں زبان کی ایسی کوئی غلطی نظر نہیں آئی، جسے لسانی کمزوری کہا جا سکے، صرف ایک آدھ جگہ ضرورتِ شعری کے تحت لفظ کی تذکیریا تانیث بدل دی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ شاعری اپنے فنی استحکام کا ثبوت اپنی قرا¿ت سے خودہی فراہم کرتی ہے۔
زبان و بیان کی سطح پر گل خان نے اس قدر متنوع تجربات کیے ہیں، جو بلوچستان میں اردو کے کم ہی شعرا نے کیے ہوں گے۔ بلوچستان میں اردو کے سب سے بڑے شاعر عطاشاد کے اولین اردو مجموعہ کلام ’سنگاب‘ کے تعارف میں اردو کے نام ور ادیب اور نقاد ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ایسی تراکیب کا ذکرکیا ہے جو عطا شاد نے اپنے کلام میں استعمال کیں(۰۱)۔ ان کے بقول ان میں سے درجنوں تراکیب ایسی ہیں جو عطاشاد کی وضع کردہ ہیں۔ واضح رہے کہ اس مجموعے میں عطاشاد کی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ دوسری طرف گل خان نصیر کے محض ۴۴ نظموں اور غزلوں پہ مشتمل اردو مجموعہ کلام ’کارواں کے ساتھ‘ میں، میرے مطالعے کے مطابق دو سو سے زائد تراکیب استعمال ہوئی ہیں، جن میں نصف سے زائد ایسی ہیں جو نہ صرف گل خان نصیر کی وضع کردہ ہیں، بلکہ نہ ان سے قبل یہ تراکیب کسی نے استعمال کیں، نہ ان کے بعد آج تک کم از کم بلوچستان کا کوئی اردو شاعراستعمال کر پایا ہے۔
مثال کے بطور یہ چند تراکیب دیکھئے:
آموزشِ آدمِ نو….اسپید عمامہ ءبرف طلعت….جاگیردارِجونک خو ….قتیلِ عشوہ ءمنصب…. معدنِ ناموس و غیرت….مولہ ءپُر پیچ…. نصیر ِجگر تفتہ
اسی طرح سو سے زائد مرکبات استعمال ہوئے ہیں، جن میں سے روزمرہ کے مرکبات سے لے کر گل خان کے وضع کردہ خصوصی مرکبات بھی شامل ہیں۔تراکیب و مرکبات کا اس وسیع سطح پر استعمال، گل خان نصیر کی زبان دانی کا واضح مظہر ہے۔ دوسری طرف ہندی لفظیات کا زبردست استعمال بھی گل خان کی زبان پر دست رس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محاورات کا استعمال گل خان کی زبان دانی کا ایک اور مظہر ہے۔ وہ اشعار میں محاورات کا یوں برجستہ استعمال کرتے ہیں کہ محاورہ، شعر کا لازمی حصہ معلوم ہوتا ہے۔ محاورات کے ساتھ، ساتھ وہ بہ ضرورت تلمیحات کو بھی اشعارمیں سموتے رہتے ہیں ۔محاورات و تلمیحات کا استعمال کم سہی لیکن کہیں بھی غیر ضروری محسوس نہیں ہوتا۔ فہرست میں آپ دیکھیں گے کہ نوشکی کے اس بلوچ شاعر نے اردو کے وہ محاورے استعمال کیے ہیں جو شاید اہلِ زبان کے استعمال میں بھی کم ہی آتے ہیں۔
تشبیہات، استعارات اور علامات بھی گل خان خان کی شاعری میں خوب خوب استعمال ہوئی ہیں۔ حالانکہ گل خان کی شاعری پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ ’براہِ راست ‘لکھتے ہیں، شعری جمالیات کو بروئے کار نہیں لاتے۔لیکن محض چالیس نظموں کے مجموعے میں میں چالیس سے زائد استعارات، تشبیہات اور علامات کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شاعری کو شعری جمالیات کے تحت مطالعے کے لیے درخورِ اعتنا سمجھا ہی نہیں گیا ۔
ہم نے زبان و بیان کے ان تمام مظاہر کی تفصیلات جمع کی ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ گل خان کا اب تک سرسری طور پر مطالعہ کیا گیا ہے۔ میں آپ کو بتاو¿ں کو زبان و بیان کے مذکورہ عناصر کی تلاش کے لیے میں نے جتنی بار اس کلام کو مطالعہ کیا، ہر بار کوئی نئی ترکیب، کوئی نیا مرکب، کوئی نئی علامت، یا استعارہ نکل آتا۔ اس لیے مجھے یہ اعتراف ہے کہ میری مرتب کردہ فہرست کسی طور حتمی نہیں۔ ممکن ہے قارئین اس کلام کے مطالعے سے مزید کچھ نئی چیزیں اخذ کر لیں۔ ایسی نشان دہی کرنے والے قاری میرے تشکر اور ثواب کے حق دار ہوں گے۔
……..٭……..
تشبیہات، استعارات و علامات
ذیل میں ہم ان تشبیہوں،استعاروں اور علامتوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو گل خان کے کلام میں جستہ جستہ استعمال ہوئے ہیں۔یہ فہرست گل خان کے کلام کی ترتیب سے ہی ترتیب وار مرتب کی گئی ہے۔یعنی جس ترتیب سے ان کے مجموعے میں کلام شامل ہے، اسی ترتیب سے ہر نظم میں موجود تشبیہ، استعارے اور علامت کی نشان دہی کی گئی ہے۔
۱…. نظم ’جرگہ ‘میں جرگے کو تلوار سے تشبیہ دی گئی ہے؛
سر اڑانے کے لیے شمشیر ہے جرگہ
۲…. نظم ’شہادت خان محراب خان‘ میں میر محراب کے لیے تاج دار، ثانی اسفندیار، سکند، خسرو ودارا، تابِ ملت دار، اور شہریار کے استعارے استعمال ہوئے ہیں؛
نہ دیکھا میں نے تھا پہلے وطن کا تاجدار ایسا
سخی ایسا، دلیر و ثانیِ اسفند یار ایسا
سکندر، خسرو و دارا، تابِ ملت دار ایسا
سخی پال و یتیم پرور، خداترس، شہریار ایسا
۳…. اسی نظم میں فرنگی فوج کو شیطان سے منسوب کرتے ہوئے اسے ’شیطان کی صورت‘ سے تشبیہ دی ہے؛
فرنگی راہزن و ڈاکو جو تھے شیطان سے منسوب
تم آئے ہو یہاں شیطان کی صورت دغا بن کر
۴….آگے اسی نظم میں فرنگی فوجی کے لیے ’سگ صفت جرنیل‘ کی زبردست و سدا بہارتشبیہ استعمال ہوئی ہے؛
جوابِ تلخ پا کر سگ صفت جرنیل غرایا
۵…. بلوچ سپاہیوں کو ’آتش کے پرکالے‘ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے شیر کی تشبیہ استعمال کی ؛
بمثلِ شیرِ دُراں ہر فرنگی پر جھپٹتے ہیں
۶…. اسلم اچکزئی کی یاد میں لکھی گئی نظم میں آزادی کو شمع سے اور اسے(اسلم کو) پروانے سے تشبیہ دی؛
ہوا قرباں وطن پہ شمعِ آزادی کا پروانہ
۷…. عبدالصمد اچکزئی اور عبدالعزیز کرد کی رہائی پر لکھی گئی نظم میں انھیں گلاب سے تشبیہ دی؛
مثلِ گلاب صدر نشینِ چمن ہے آج
۸…. سرداروں کو خون چوسنے والی جونک سے تشبیہ دی ہے؛
بمثلِ جونک سرداروں نے ہم کو چوس رکھا ہے
(از ، ’رہیں گے ہم گرفتارِ بلائے آسماں کب تک)
۹…. نظم ’جیونی بندر‘ میں جگر کے لیے شمع اور دل کے لیے بتی کا استعارہ استعمال کیا ہے؛
تمہارے وعدوں کو یاد کر کے جگر کی شمعیں جلا رہا ہوں
رہِ طلب میں خراب ہو کر میں دل کی بتی جلا رہا ہوں
۰۱…. نظم ’ندامت کے آنسو‘ میں غدارِ وطن کے لیے ’قتیلِ عشوہِ منصب‘ جیسا بلیغ استعارہ استعمال کیا؛
اے قتیلِ عشوہِ منصب، امارت کا غلام
۱۱….نظم اٹھ’ اے بلوچ نوجواں‘ میں استحصالی قوتوں کے لیے ’بتانِ سومنات‘ اور ’لات و منات‘ کے استعارے استعمال ہوئے ہیں؛
۲۱….نظم ’تصویرزیست‘ میں وطن کے لیے ’سرد رویائے آفریں، جنت نشاں‘ کی علامات استعمال ہوئی ہیں۔
۳۱…. اسی نظم میں محنت کش کی ثمر آور نہ ہونے والی محنت کے لیے ’سعی ءنامشکور‘ کا استعارہ استعمال ہوا ہے۔
۴۱…. مذکورہ نظم میں ہی جاگیر دارکو جونک، اور اس کی جاگیر کو ظلم کے گہوارے سے تشبیہ دی گئی ہے؛
اور وہ جاگیردارِ جونک خو
ظلم کا گہوارہ یا جاگیر ہے
۵۱…. اسی نظم میں آگے چل کر ایک جگہ سرمایہ دار کی روح کو مردہ خور پرندے سے تشبیہ دی؛
روح اس کی طائرِ مردہ خوار (خور)
۶۱…. نظم،’میرے دیس کے نوجواں سو رہے ہیں‘ میں وطن کو باغ سے تشبیہ دی ہے؛
کہ باغِ وطن میں خزاں ہی خزاں ہے
۷۱…. ’راج کرے سردار ‘ میں جرگے کو جونک سے تشبیہ دی ہے؛
جونک بنے اور خون نچوڑے….جرگے کا ہتھیار
۸۱….نظم’اے میرے پیارے وطن‘ میں زندگی کو بوجھ سے تشبیہ دی ہے؛
زندگی بوجھ ہے جو مجھ سے اٹھائے نہ اٹھے
۹۱…. اسی نظم میں ’نرگسی آنکھوں‘ کی خوب صورت اصطلاح اور تشبیہ استعمال ہوئی ہے؛
نرگسی آنکھ سے ٹپکے ہوئے رنگیں آنسو
۰۲…. نظم’کیسے مانوں‘ میں سرمایہ داروں کو فرعون سے تشبیہ دی ہے؛
….فرعون بنے بیٹھے ہیں زردار وہی
۱۲….نظم’تلوار‘ میں دنیا کو خاک داں سے تشبیہ دی گئی ہے؛
اس خاک داں میں قوموں کا سرچشمہءحیات
شمشیرِ آب دار کے دھارے پہ ہے رواں
۲۲….نظم،’کون چلے یہ چال‘ میں دنیا کو کشتی سے تشبیہ دی ہے؛
جیون نَیا جگمگ ڈولے، آشا ہوں پامال
۳۲…. نظم ’ایثارِ رائیگاں‘ میں خوشی کے لمحات کے لیے ’خمارِ مئے گل‘ کا استعارہ استعمال ہوا ہے؛
میری آنکھوں میں خمارِ مئے گل رنگ نہ دیکھ
۴۲….نظم،’ندائے ملت‘ میں وطن کو اجڑے گلستان سے تشبیہ دی ہے؛
اس اجڑے گلستاں کو آباد کرنے
۵۲…. نظم’حلف نامہ ءآزادی‘ میں محراب خان کے لیے ’غازیِ باطل شکن‘ کا استعارہ استعمال کیا؛
قسم اس غازیِ باطل شکن کے جذبہ و غیرت کی
۶۲….نظم’میرا دیس پیارا‘ میں پہاڑوں پہ ہونے والی برف باری کے لیے ’فضلیت کی پگڑی‘ جیسی حسین اور وسعت کی حامل تشبیہ استعمال کی ہے۔
۷۲….غزل،’تاثیر ِ سوزِ دل سے سدا بے قرار ہوں‘ میں وطن کو شمع سے اور خود کو پروانے سے تشبیہ دی ہے؛
پروانہ پروار شمعِ وطن پہ نثار ہوں
۸۲….اسی غزل میں پھر خود کو شمع سے تشبیہ دیتے ہوئے ہستی ناپائیدار قرار دیا؛
مہمان ایک شب کا ہوں میں شمع کی طرح
دنیا میں ایک ہستیءناپائیدار ہوں
۹۲…. نظم’ساتھیو عزم جواں لے کے اٹھو‘ میں امرا اور حکمرانوں کو ’فسوں ساز‘ سے تشبیہ دی ؛
یہ جو ہیں اپنے امیرانِ وطن، فسوں ساز و پرانِ وطن
۰۳…. نظم ’بیارِ غلام محمد شاہوانی‘ میں دنیا کے لیے کارگاہِ ہستی کا استعارہ استعمال کیا؛
غضب غضب کہ اٹھا کارگاہِ ہستی سے
وہ نوجوان جسے قوم کا سلام ملا
……..٭……..
تراکیب، مرکبات و ہندی لفظیات
اب ذکر ان تراکیب،مرکبات اور ہندی لفظیات کا جو گل خان نصیر کے کلام میں استعمال ہوئے ہیں۔ ذیل میں ترتیب وار، اِن کی فہرست دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ فہرست حروفِ تہجی کی ترتیب سے مرتب کی گئی ہے۔
تراکیب
آ
آزادی ءوطن،آسمانِ بلوچ،آسمانِ پیر،آموزشِ آدمِ نو،
آن بانِ بلوچ
ا
ابنائے وطن،    احساسِ سودو زیاں،احساسِ قومی،اسپید عمامہ ءبرف طلعت، اشکِ خونیں، افکارِ پریشاں،التہامِ غم،     امتِ پاک،امتحانِ بلوچ،امیرانِ وطن،اندازِ جہاں داری،
اندازِ مردانہ،    انقلابِ آتشیں،اہلِ دل،اہلِ مجلس،اہلِ وطن
ب
باعثِ عزت،باغِ وطن،ببانگ ِ کارفرمائی،بتانِ سومنات،
بختِ بد،بزمِ وطن،بساطِ تند و تیز،بسرِ چشمِ حیات،بمثلِ جونک،بمثلِ شیرِ دُراں،بند ِ غلامی،بند ِ قید و دام،بوقت ِ تنگ دستی،بہ اندازِ دل آرائی،بے نیازِ انتقامِ ما وتو،بے نیازِ کفر و ایماں
پ
پاسبانِ بلوچ،پرانِ وطن،پر ِ پرواز،پرتوئے بلوچ،پرتوئے حسیں،پیرویءدرسِ قرآں،پیر ِ فرتُوت،پیروِ خلیل، پیغامِ نصیری،پیکرانِ ذات،پیکرانِ وطن،
ت
تابِ ملت،تاثیر ِسوزِ دل،تپشِ مہر،تختِ سیوا،تعمیرِ جہانِ نو،تفریقِ بلوچی،تلوارِ بے نیام،تیغِ جوہردار،تیغِ خون آشام،تیر ِ غم،تیشہ ءسردار
ث
ثانیءاسفند یار
ج
جانِ بلوچ،جاگیردارِجونک خو،جامِ بقا،جامِ مئے وحدت،جہانِ فانی،جوابِ تلخ،جوانِ بلوچ،جوانِ کامگاز
چ
چاکِ گریباں،چوکھٹِ شاہی،چہرئہ پُر ہول،
ح
حاتمِ ثانی،حبِ وطن،حکمِ خدا
خ
خاکِ پستی،خاکِ مذلت،خالقِ اکبر،خانِ عالی شان، خانِ والا،خدمتِ جام و سبو،خدمتِ وطن،خرمنِ ہستی،خلعتِ فاخرہ،خمارِ مے گل،خوفِ زیاں،خونابہ ءدل،خونِ بے زباں،خونِ جگر،خونِ دہقاں،خونِ عبداللہ
د
دادِعشرت،داغِ سیاہ،دامنِ دل،درسِ آزادی،دُرہ ءبولان،دستِ قضا،دستورِ کہن،دشتِ ناپیدا کنار،دشمنِ آئین و قانونِ شریعت،دشمنانِ قوم،دلِ اندوہ گیں، دلِ مضطر،دلِ ناشاد،دہانِ گرگ،دنیائے فانی،دورِ جہاں
ر
راہِ راست،رزمِ حریفاں،رند ِ کہن،روحِ آزادی،روحِ مقدس،روئے وطن،رہِ وطن
ز
زبانِ بلوچ،زرِ سر،زرِ شاہ،زنجیر ِ باطل،زورِ بازو،زورِ باطل،زہر ِ ہلاہل،زیبِ داستاں،زینت ِ سرو سمن
س
ساحلِ مکران،سرِدار،سرد رویائے آفریں،سر رشتہ ءتکفیر، سر رشتہ ءکار،سعی ءآزادی،سعی ءنامشکور،سوئے عدم، سیلِ اشک
ش
شاعرِ دل گیر،    شاغاسی ءبد افعال،شانِ مسیحائی،شانِ بلوچ، شاہانِ جہاں نباں،شکوہِ جورِ عزیزاں،شمعِ آزادی،شمعِ وطن، شمشیرِ آب دار،شہابِ ذات،شہہِ شاہاں،    شہید ِ قوم،شیشہ ءدل
ص
صاحبِ ایماں،صاحبانِ جاہ و دولت،صدر نشینِ چمن، صحرائے وطن،صحیفہ ءقرطاس
ض
ضیغمِ بلوچ
ط
طالع برباد،طالع بیدار،طائرِ مردارخور،طبقہ ءاہلِ دل،طفلِ ناداں،طوفانِ ہلاکت خیز
ظ
ظلم ِ ناروا
ع
عزمِ جواں،عہدو پیمانِ وفا،عہد ِ وفا
غ
غازی ءباطل شکن،غلامِ صاحبِ تاج و نگیں، غمِ دوام، غولِ بیاباں
ف
فرشِ درخشندہ و رنگیں،فریبِ ایفائے عہد،    فضلِ یزداں، فوجِ جہاں سوزو جہاں آشوب،فوجِ فرنگی
ک
کارگاہِ ہستی،کبیرانِ وطن،کشتی ءبے بادباں،کشورِ ایران، کمانِ بلوچ،کنجِ عدم،کنارِ دریائے جیونی،کوہِ غم،کوہِ ماراں و چلتن
ق
قتیلِ عشوہ ءمنصب،قسمت ِ خوابیدہ،قصر ِ جمشیدی،قطرہ ءبے مایا،قوتِ بازور،قوتِ عمل،قولِ محمد،قومِ صحرائی،قومِ مردہ،قہر ِ آسماں،قید و بند ِ جاں گسل
گ
گراں باری ءامروز،گردشِ سرمایہ،گرفتارِ بلائے آسماں،     گم کردہ ءراہ،گوہر ِ مقصد،گیسوئے دہر
ل
لطف ِ دوستی،لقمہ ءتر
م
ماتم ِ یوسف،مارِ آستیں،مایوسِ جاں،متاعِ حیات،مثالِ پیشوا،مثلِ گلاب،مجاہد ِ ملت،محنت ِ پیہم،محو ِ حیرت،مردانِ جنگی،مردانِ سلف،مردِ کارزار،مردِ مجاہد،مردِ مسلم،مرگِ ناگہانی،مشعلِ راہ،مشقِ سخن،مشیرانِ وطن،مصروفِ شعر و شاعری،معدنِ ناموس و غیرت،مولہ ءپُر پیچ
ن
ناصحِ مشفق،ناکامِ محبت،نامِ شریعت،نخلِ آزادی،نذرِ خزاں،نصیر ِ جگر تفتہ،نظامِ دنیا،نعرئہ تکبیر،نغمہ ءتازی،نقد ِ جاں،نقشِ کہن،نوائے پریشاں،نوائے درد و فرقت،نوجوانانِ وطن،ننگ ِ وطن،نورِ ایماں
و
وردِ زباں،وفورِ غم،وقت ِ امتحانِ بلوچ
ہ
ہجومِ افکار،ہستی ءناپائیدار،ہم رنگ ِ زمیں،ہم رنگِ گلستاں
ی
یادِ رفتگاں
مرکبات
آ
آہ و فغاں،آئین و قانون
۱
امن و امان،امن و رفاہ،امیرو شیخ،اہلِ دل و ایمان
ب
بار وکلب،بادہ وپیمانہ،بے باک وجنگجو،بے کس ونادار، بے کسی و خستہ حالی،بھوک و خستہ حالی
پ
پیرو جواں
ت
تاج و نگیں،تفنگ و توپ،تند و تیز،تیرہ و تار،تیغ و خنجر
ج
جاہ و دولت،جاہ و حشم،جاں نثاورسرفروش،     جدوجہد و رستخیز،
جذبہ و غیرت،جرگہ و جرمانہ،جنگ و جدل،جوئبار و سبزہ، جہاں سوز و جہاں آشوب
ح
حسرت و یاس،حمد و ثنا،حکم و فرماں
خ
خاک اور خون،خشک و بے مہر،خون اور خاک
د
درد و فرقت،در و دیوار،دلیر و جاں نثار،دولت و ثروت،     دین و ایماں
ر
رنج و الم،رنج و محن،رنگین و دل کش، رنگین و فریب دار، رہزن و ڈاکو
ز
زر و دولت،زمین و آسمان
س
سبزہ ِ گل،سرسبز و شاداب،سخی پال و یتیم پرور،سگ صفت جرنیل،سنگ و آہن،سنجاب و سمور،سود وزیاں
ش
شاہد ومئے خانہ،شام و سحر،شب و روز،شجا ع و شہسوار، شعرو شاوعری،شوروشغب
ص
صبر و قرار،صبو و جام،صلوٰة و صوم
ض
ضعیف و ناتواں،
ظ
ظاہر و باطن،ظلم و ستم،ظلم و غارت
ع
عطر و عنبر،عمارات و قصور،عزم و توکل،عزم و شجاعت،عہد و پیماں،عیش و طرب
غ
غاصب و راہزن،غم و رنج،غیو و باطل،غیور و باعمل
ف
فکر وعمل
ک
کرو بیاں،کون و مکاں،کوہ بیاباں،کوہ و دمن
ق
قادر و غفار،قلب و جگر،قوس و قزاح،قوم و وطن،قید و بند،     قید و دام
گ
گرد و غبار،گورو کفن
ل
لیل ونہار،لب و ولور
م
ماو تو،مال و دولت،مرغ و ماہی،محفل و دربار،ملک و مال،     ملک و ملت،مونس و غم خوار،میر و وزیر
ن
ناز و نعم،ناموس و غیرت،نغمہ و مے خواری،نشاط و عیش
و
وعدہ و اقرار
ہ
ہلاکت خیزو خوں افشار
ہندی لفظیات
ہندی الفاظ        مفہوم
آشا        اُمید
اَ ن داتا        مالک ِ کُل
اَنیائے        نا انصافی
اوتار        دیوتا
بُدھی        عقل،فہم،دانش
بھاگ        نصیب
بِھکشا        بھیک
بھگوان        خدا
پاپی        گنہ گار
پالن ہار        پالنے والا
پران        زندگی،سانس
پُرجا        رعیت، رعایا
پریت        پیار،الفت
تُمرا        تمھارا
تیاگنا        چھوڑ دینا،دے دینا
ٹھاکر        زردار، سردار
جَنتا        عوام
جونس        منحوس
جے کار        گونج
چُوٹ        چھوٹ،کھلے عام
داتا        مالک
داس        غلام
دُشٹ        نااہل، بے کار
دھنوان        دولت مند
دیش        وطن
راج        سرکار، حکومت
راج مکھیا        سربراہ،بڑا
رکشک        رکھوالا
رِیت        رسم
سپنا        خواب
سجنوا        محبوب
سجنی        محبوبہ
سوراج        فتح
سیوک        خدمت گار
شرارا        شعلہ
کرپان        خنجر
لاج        عزت
لال        اولاد، بچے
لیک        لکیر
ماتر بھومی        جائے پیدائش، آبائی علاقہ
مورکھ        بانصیب، قسمت والا
مہاراج        سربراہِ اعلیٰ، بادشاہ
ناو¿        کشتی
نربل        غریب، بے چارا
نربودہ        نالائق، احمق
نَیا        کشتی
نیر        اشک، آنسو
نین        آنکھ
وِیر        ساتھی،سنگت
……..٭……..
محاورات
آگے پیش ہیں گل خان کے کلام میں آنے والے اردو کے محاورے اور ان کا مفہوم۔ میں نے احتیاطاً ان نظموں کے عنوانات بھی درج کر دیے ہیں، جن میں مذکورے محاورے استعمال ہوئے ہیں، تاکہ سند رہے اور بہ وقت و بے وقتِ بے ضرورت کام آئے۔
مذکورہ فہرست بھی بلحاظِ حروفِ تہجی مرتب کی گئی ہے:
محاورات        مفہوم
آتش کے پرکالے    آگ سے بھرے ہوئے
یعنی جنگ جو، لڑاکا
آستیں چڑھانا    تیار ہونا، چڑھائی کرنا
سیلابِ اشک    بے تحاشا رونا
بجلی گرانا        تکلیف پہنچانا،مصیبت دینا
بیخ اکھاڑنا        جڑ سے ختم کرنا
پھولوں کی سیج        آرام دہ، سہل انگیز
جاروب پھیرنا    جھاڑو پھیرنا، صفایا کرنا
جوبوو¿ گے سو کاٹو گے    جیسا عمل ہوگا ویساہی نتیجہ
چکنی چپڑی سنانا    باتوں میں پھنسانا،پھسلانا
چُلو میں ڈوب مرنا    شرم آنا، شرمندگی کا احساس
خاک ہونا        فنا ہونا، ختم ہونا
خانماں برباد        تباہ حال
خوش کلام        اچھی باتیں کرنا
خون رنگ لانا    صلہ ملنا
خون کی ندیاں بہنا    جنگ کا سماں، شدید لڑائی
درو دیوار پہ حسرت برسنا    افسو س کا اظہار
ڈنکا بجنا        فتح مندی،اعلان،چھا جانا
زمین ہلا دینا        انقلاب، جدوجہد،ہلچل
سانچ کو آنچ نہیں    اچھائی کی جیت ہو گی
سر بکف ہونا        سر ہتھیلی پہ، سرفروش،بے خوف
سکہ بٹھانا/جمانا    خود کو منوانا،طاقت کا اظہار
غم کا اژدھام    غم کا طوفان‘ہجوم، شدید غم
فضا میں آگ برسنا    مصیبت کا،غم کا عالم
کنی کترانا        دامن بچانا، جان چھڑانا
قبا چاک ہونا        راز کھل جانا، خاتمہ ہونا
گردشِ آسماں    مصائب، رنج و الم
گھر بار لٹانا        قربانی، ایثار،خلوص،جدوجہد
گھٹنے ٹیکنا        ہار مان لینا
گیسوئے دہر سنوارنا    حالات کا مقابلہ کرنا
لٹو ہونا        فدا ہونا، ہوش گنوا دینا
لکیر پیٹنا        افسوس کرنا، پچھتانا
مردِ کارزار        باہمت، حوصلہ مند
نظریں بچھانا        خوش آمدید کہنا، دل میں جگہ دینا
وقت کے ٹٹو        لالچی، خود غرض،مفاد پرست
……..٭……..
تلمیحات
شاعری میں صنعتِ تلمیح کا استعمال کم لیکن نہایت بامعنی ہوتا ہے ،نیز یہ خصوصی مہارت اور مطالعے کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر آپ مذکورہ واقعہ کے پس منظر سے درست یا کلی طور پر آگاہ نہ ہوں تو اس کے غلط استعمال سے شعر کا مفہوم بدل سکتا ہے۔تلمیحات اکثر کلام میں زورِ بیاں پیدا کرنے اور تفہیم میں سہولت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ گل خان کے کلام میں موقع کی مناسب سے کہیں کہیں تلمیحات کا استعمال بھی ہوا ہے، جو مقدار میں کم لیکن نہایت بامعنی ہے۔ جو ہمیںان کے تاریخی شعور سے بھی آگاہی فراہم کرتا ہے۔
ذیل میں ایسی ہی کچھ تلمیحات اورگل خان کے کلام کے حوالے سے ان کا مختصر پس منظر دیا جا رہا ہے۔یہ ترتیب کلام کی طباعت کی ترتیبِ فہرست کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے۔
خسرو و دارا، سکندر و شہر یار
یہ تمام تلمیحات نظم’شہادت میر محراب خان‘ میں خانِ اعظم کے لیے بطور تشبیہ بھی استعمال ہوئی ہیں۔ خسرو پرویز، داریوشِ اعظم اور شہریار قدیم ایرانی سلطنت کے بادشاہ ہوگزرے ہیں۔ جو اپنے عدل و انصاف اوررعایا پروری کے باعث معروف تھے۔ جب کہ سکندرِاعظم(الیگزنڈر دِی گریٹ) کے نام سے تو سبھی واقف ہیں، جو اپنی بین الاقوامی فتوحات سے معروف ہیں۔
پیروئے خلیل
یہ تلمیح نظم ’جھک نہ جائے یہ عَلم‘ میں استعمال ہوئی ہے۔ خلیل اللہ حضرت ابراہیم کا لقب تھا۔ جن سے یہ روایت منسوب ہے کہ نمرود نے پیغامِ حق کی ترویج کی پاداش میں انھیں آگ میں پھینکوا دیا تھا۔ یہ آگ بحکمِ خداسرد پڑ گئی اور حضرت ابراہیم سلامت رہے۔ گل خان نے راہِ حق کی کٹھنائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ’پیروئے خلیل‘ کی تلمیح استعمال کی ہے، یعنی اس راہ پہ وہی ہمارے ساتھ آئے جو خلیل اللہ(حضرت ابراہیم) کی طرح آگ میں کودجانے کی ہمت رکھتا ہو۔
بلال، خالد ، فاروق
اسلم اچکزئی کی یاد میں لکھی گئی نظم’یادِ اسلم‘میں مذکورہ انبیا و صحابہ کا تذکرہ کرتے ہوئے گل خان نے اپنے دوست کو ان جیسے ایمان کا مالک قرار دیا ہے۔ حضرت بلال وہ حبشی صحابی تھے جنھیں صحرا کی تپتی ریت میں لٹا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اپنے ایمان پہ ڈٹے رہے۔ حضرت خالد بن ولید نے پیغامِ حق کی تشہیر کے لیے سپہ سالار کا کردار ادا کیا۔ جب کہ حضرت عمر فاروق اپنے ایمان کی پختگی اور اس کی ترویج کے لیے معروف ہیں۔گل خان نصیر ایمان و راہِ حق کے لیے ان شخصیات کی قربانیوں کے پیش نظر انھیں بطور تلمیحات بروئے کار لائے ہیں۔
لات و منات، بتانِ سومنات
نظم’اٹھ اے بلوچ نوجواں‘ میں نوجوانوں کو انقلابی جدوجہد کی ترغیب دیتے ہوئے گل خان نے مذکورہ تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ لات و منات ،اسلام سے قبل کعبے کے معروف و سب سے برتر بت ہوا کرتے تھے۔ جنھیں اسلام کے غلبے کے بعد وہاں سے ختم کر دیا گیا۔ دوسری تلمیح بتانِ سومنات میں ہندوستان کے علاقے سومنات میں واقع ان بتوں کی جانب اشارہ ہے، جنھیں محمود غزنوی نے ڈھا دیا تھا۔ گل خان اپنی نظم میں سرمایے داروں، سرداروں اور استحصالیوں کو ان بتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو ان کے خاتمے پہ اکساتے ہیں۔
فرعون
فراعینِ مصر، وہ قدیم باشادہ تھے، جو نہایت طاقت ور ہوا کرتے تھے، جنھیں اپنی بے تحاشا دولت اور طاقت پہ زعم ہوا کرتا تھا۔ لیکن پھر یہ سب تاریخ میں عبرت کی مثال بن کر رہ گئے۔ گل خان نصیراپنی نظم’کیسے مانوں‘ میں اس تلمیح کو بروئے کار لاتے ہوئے عہد حاضر کے سرمایہ داروں کو فرعون سے تشبیہ دیتے ہیں۔

حواشی

۱۔ بلوچستان میں اردو شاعری،ص:۸۹
۲۔ میر گل خان نصیر،’کارواں کے ساتھ‘
۳۔google/images/mirgulkhannaseer
۴۔محمد ناصر،آغابلوچستان میں اردو شاعری، ص©©:۸۹
۵۔میر گل خان نصیر،’کاروواں کے ساتھ‘
۶۔ ایضاً
۷۔ کارواں کے ساتھ(پیش لفظ)، ص:۸
۸۔جمیل جالبی، ڈاکٹر،ارسطو سے ایلیٹ تک، ص:۸۲۲
۹۔ بلوچستان میں اردو شاعری، ص:۸۹
۰۱۔افضل مراد(مرتب)کلیاتِ عطا شاد، ص:۲۲

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *