Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » گلبانگ کی دعا ۔۔۔۔۔۔۔تخلیق : میر گل خان نصیر، تبصرہ : ڈاکٹر سلیم کرد

گلبانگ کی دعا ۔۔۔۔۔۔۔تخلیق : میر گل خان نصیر، تبصرہ : ڈاکٹر سلیم کرد

” گلبانگ “ بلوچی کے ملک الشعرا ءمیر گل خان نصیر کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔ جو 1951 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا۔” گلبانگ “ میر گل خان نصیر کی شروعات کی شاعری شامل ہے جو زیادہ تر 1930 اور 1940 کی دہائیوں میںلکھی گئی ہیں۔
” گلبانگ “ کی ابتدا ءایک دعا سے ہوتی ہے۔یہ دعا ان عظیم فلسفیوں ، شاعروں اور دانشوروں کے خیالات ، افکار اور دلی خواہشات کا تسلسل ہے جنہیں انسانوں کی بھلائی و بہبود اور جبر واستحصال سے پاک خوشحال سماج کے لےے ہر دور اور ہر زمانہ میں اچھے انسانوں کی تلاش رہی ہے۔ گلبانگ کی دعا میں التجاعی کلمات میر گل خان نصیر کی نفسیات اور اس کے نظریات کے عکاس ہیں ۔میر گل خان نصیر کے ذہن میں پھیلنے و پھولنے والے یہ نظریات ایک ایسے عہد کے ماخذ ہیں ۔ جب عظیم اکتوبر انقلاب1917 کے بعد سماجی تبدیلی کے لئے متحرک روشن خیال ، وسیع النظر تحریکات کی کونپلیں کُرہ ارض کے وسیع حصے میں پھوٹ چکی تھی ۔ بنیادی و کیفیتی تبدیلی کے ان نظریات نے ہر شعبہ زندگی کی طر ح فکر و ادب پر بھی اپنے گہرے اثرات مرتب کےے۔روشن خیالی، وسیع النظری کی اس تحریک نے دیگر قومی ادبیات کے ساتھ ساتھ ” بلوچی ادب“ میں بھی اپنی جڑیں پیوست کیں۔
” گلبانگ “ کی یہ ابتدائیہ دعا انہی نظریات کا آئینہ ہے۔ اس دعا میں گل خان نصیر کو غلامی، جہالت ، قبائلیت سے نجات دلانے کے لئے جن انقلاب آفرین انسانوں کی تلاش ہے ان غیر معمولی خصلتیں رکھنے والے انسانوں کے اوصاف اس دعا میں تفصیل سے بیان کےے گئے ہیں۔ اس دعا کی ابتداخدائے بزرگ و برتر کی بار گاہ میں التجاعی اشعار سے ہوتی ہے۔
ترجمہ:
اے خداوند کریم! کردے بلوچوں کو عطا ، جو ہر کسب وفا
پر دفاع و جانثار وز زندہ دل روشن خیال
میر گل خان نصیر اطراف میں رونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظریں منعکس کےے ہوئے اس عہد کے لوازمات کو خاطر میں لاتے ہوئے ایک مخصوص طرز اظہار اپنا کر بارگاہ خداوندی میں اپنی قوم کے لےے ایسے افراد کے ظہور کے لےے دست بدعا ہے جو اپنے اذہان میں شرف انسانیت کے وسیع تصور لےے جانثاری ، زندہ دلی و روشن خیالی کی عمدہ مثال ہوں۔
ترجمہ:
فکر جن کی ہو معطر ، مثل صبح کی ہوا
عقل جن کی نیل ساگر، پر شکوہ جاہ و جلال
میر گل خان نصیر اپنے عہد کے رونما ہونے والے روشن خیال انقلابی تحریکات سے متاثر ہے ۔ وہ اس دعا میں بلوچ سماج کومتحرک کرنے کے لےے فکری لحاظ سے ایسے باصلاحیت و باکمال انسانوں کا متلاشی ہے اور ان کے لےے دعا گو ہے ، جن کی سوچ و فکر بہار کی وہ پر کشش و خوبصورت پہلا پھول ہو جو اپنی رنگ و بوسے آنے والے بہار کے رنگ و روپ کے معطر ہونے کی نوید سناتا ہو ، اور جو نسیم سحر کی ٹھنڈک کی طرح تحریک کو ”جذیٹ“ کرے اور جو عقل میں نیلے سمندر کی طرح ہو۔ جس کی مست موجوں سے شان و شوکت ، جاہ و جلال ٹپکتا ہو۔
ترجمہ:
ذہن جن کے ہوں مبرا عہد کہنہ کی ریت سے
” مسکراہٹ“ رنج میں بھی جن کے ہونٹوں پر بحال
گل خان نصیر نے اپنی اس دعا میں مہاقوم پرستانہ نظریات ،ذات پات، علاقائی و نسلی تعصبات اور نفرتوں سے بالا تر قی پسندانہ خصلتیں رکھنے والے قوم دوست، وطن دوست انسانوں کو اہمیت دی ہے جن کے دماغ قدامت پسندانہ رسم و رواجوں سے مبرا ہو ں ۔اپنے عہد کے احساسات ، سماجی، معاشی اور تاریخی محرکات کے ترجمان ہوں۔ اجتماعی خوشیوں کے حصول کی جدوجہد میں بھی زمانے کے حوادث و آلام جن کی ہونٹو ں سے مسکراہٹ نہ چھین سکیں۔
ترجمہ:
دل ہو باہمت ، قوی ہو جیسے ساگر میں چٹان
تھرتھراہٹ خوف ہو دل سے پرے بادشمال
ایسے باہمت و باحوصلہ افراد جن کے دل سمندری چٹان کی مانند ہوں ، وہ سمندری چٹان جس سے طوفان کی تند و تیز ٹھاٹیں مارتی ہوئی موجیں ٹکرا کر زندگی کی بحر بیکراں میں واپس جاتی ہیں۔ ایسے افراد جن کا طوفانی موجیں ، زمانے کے حالات و واقعات آلام و حوادث کچھ نہ بگاڑ سکیں اورجو بزدلی ، تھرتھراہٹ اور بادشمال کے خوف کو اپنے دل سے دور رکھے ۔
ترجمہ:
اے خداوند ! بلوچوں کو جہاں میں زندہ رکھ!
دشمنوں کو شکست و ریخت دے شرمندہ رکھ!
دعا کے آخر میں گل خان نصیر خداوند کریم سے بلوچوں کی بقا اور وجود کو زندہ رکھنے کے لےے دست بہ دعا ہے اور ان کے دشمنوں کو گم و گار کرنے ، شکست و ریخت دینے اور ان کی دلی خواہشات کو شرمندہ رکھنے کا طلب گار ہے۔
میر گل خان نصیر کی یہ دعائیہ کلمات جو آج بھی اپنی تازگی کے ہمارے دور کے لوازمات سے جدلی طور پر مربوط ہیں۔

Check Also

jan-17-front-small-title

غدار ۔۔۔۔ مبصر : عابدہ رحمان

مصنف: کرشن چندر ’غدار‘ کرشن چندر کا وہ شاہکار ناول ہے جو ہندوستان کی تقسیم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *