Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » کیوبا کا سفرنامہ ۔۔۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

کیوبا کا سفرنامہ ۔۔۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

کیوبا سی ‘یا نکی نو ( کیوبا ہاں۔ امریکا نہیں) یہ نعرہ ایجاد ہونے سے پہلے کیوباCuba کے بارے میں ہم لوگ صرف اتنا جانتے تھے کہ وہاں بڑھیا سگار بنتے ہیں اور بہت سی شکر پیدا ہوتی ہے۔ پھر یکا یک دنیا بھر کے اخباروں میں کیوبا کی سرخیاں جمنے لگیں اور لیڈروں کی مجلسِ احرار فیشن ڈاڑھیاں دکھائی دینے لگیں۔ اُس کے بعد اکتوبر1962کی ایک صبح یہ کھلا کہ اُس دور دراز غیر معروف جزیرے میں ایک سیاسی انقلاب کے باعث روس اور امریکا اور ہم اور آپ سبھی ہست و نیست کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ جب سے مجھے تجسس تھا۔ غالباً آپ کو بھی ہوگا کہ یہ کیوبا اور اُس کا انقلاب کیا ہے اور کیوں ہے اور اُن سرخیوں اور ڈاڑھیوں اور ہنگامہ ہائے شادی وواویلا کے پسِ منظر میں کس نوع کی مخلوق رہتی ہے کیا سوچتی ہے اور کیا کرتی ہے ؟ گذشتہ ماہ کیوبائی انقلاب کی چوتھی سالگرہ کی تقریب پر مجھے اُس مخلوق سے تعارف کا اتفاق ہوا۔
لطیفہ مشہور ہے کہ کسی صاحب بہادر نے چڑیا گھر میں کوئی اوٹ پٹانگ افریقی جانور دیکھا۔ نہ جانے زرافہ تھا یا زیبرا اور کہنے لگے: ہٹاﺅ جی ایسی کوئی چیز نہیں ہے “۔ نئے کیوبا کو دیکھ کر سب سے پہلے کچھ اِسی نوع کا تاثر پیدا ہوتا ہے ۔سرمایہ دار ملک ،ا شترکی ملک، بادشاہتیں، آمرانہ حکومتیں، اُن سب کے بارے میں کوئی نہ کوئی تصور، کوئی نہ کوئی نقشہ ہم سب کے ذہن میں موجود ہے اور ایسے بہت سے ممالک ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔ کیوبا کا رنگ ڈھنگ اُس سب سے الگ ہے ۔ جہاں تک معلوم ہے اِس کے باوا آدم کا کوئی بدل ہمارے دور میں موجود نہیں۔ مثلاً پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں ہر کوئی گاتا ہے ۔ ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے گاتا ہے ؛ بیر ا کھانا لاتے ہوئے گاتا ہے ؛ لفٹ بوائے لفٹ نیچے لاتے ہوئے گاتا ہے ؛ لڑکی سودا بیچتے ہوئے گاتی ہے ؛ سپاہی پہرہ دیتے ہوئے گاتا ہے ۔ لڑائی میں تو دیکھا نہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ مشین گن چلاتے ہوئے بھی ضرورتا نیں اڑاتے ہوں گے ، لیکن اِس رنگیلے پن پر بھی آپ نہ جائیے کہ یہاں ہر شے مجموعہ ¿ اضداد ہے ۔ محفلِ شراب و نوش کے بیچ کسی کونے سے صدا بلند ہوتی ہے :”کیوبا“ ۔ اور یکا یک سب چہرے متغیر ہوجاتے ہیں۔ فضا میں بجلیاں سی کوند نے لگتی ہےں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف سَن سَن گولیاں چلنے لگیں گی یا یہ سب لوگ حال کھیلنے لگیں گے اور پھر ایسے ہی اچانک کوئی سانولی مطربہ نہایت دردناک آواز میں کسی پرانے عوامی گیت کا آغاز کرتی ہے۔
مجھے پیار کی تلاش ہے اور کوئی میری دل جوئی کو تیار نہیں
تم نے کل کا وعدہ کیا تھا اور انتظارمیں میری عمر گزر گئی
تم چاہے کیسا گہر انقاب پہن کر آﺅ میں تمہارے گیسوﺅں
کی رنگت سے تمہیں پہچان لوں گا
اِس پر ” مکرر“ اور ” واہ واہ“ کا شور بلند ہوتا ہے اور دوبارہ ساغر کھنکنے لگتے ہیں۔ یہاں گھڑی گھڑی اور قدم قدم پر ایسے ہی عجوبے ملتے ہیں اگر ابھی ابھی کوئی شوخ و شنگ حسینہ کوتاہ قبائی اور تنگ پیرہنی میں امریکن فلموں کو مات کرتی ہوئی آپ کے سامنے سے گزرتی ہے تو شام کو وہی لڑکی فوجی وردی پہنے برین گن سنبھالے ہوٹل کے دروازے پرپہرہ دے رہی ہوگی۔ دوپہر کی سب سے اہم تقریب فوجی پریڈ ہے تو سہ پہر کی مقابلہ¿ حسن۔ یہاں ہر پچاس قدم پر رقص گاہ یا شبینہ کلب ہے تو سو گز پر کسی انقلابی شہید کی یاد گار۔ کتاب کی دکان میں ” کارل مارکس “ کے ساتھ ایک طرف ” کام شاستر “ رکھا ہے تو دوسری طرف فیڈل کاسٹرو کی تصویر اور اس سے آگے انجیل کی دعائیں ۔ ایک محلے میں تجریدی آرٹ کی نمائش لگی ہے اور دوسرے میں انقلابی اشتہاروں کی۔ یہاں کی فوج میں میجر سے اوپر کوئی عہدہ نہیں ہے۔یہاں کی حکومت کا کوئی محکمہ اطلاعات نہیں ہے۔ یہاں امریکی ریاست کی بات پر ہر آنکھ سے شعلے نکلنے لگتے ہیں اور امریکی سگریٹ کے ذکر پر ہر دل سے آہیں۔ یہاں آپ ٹیکسی کی سواری چاہیں تو کیڈیلیک ، ڈاج اور لنکن سے کم درجے کی گاڑی مشکل سے ملے گی اور ریل کی سواری چاہیں تو بیش تر مال گاڑی میں سوار ہونا پڑے گا ۔ یہاں اِدھر فلک بوس محلات ہیں اور اُدھر خاک بسر بوسیدہ جھونپڑیاں اور دونوں محلوں میں ایک ہی طبقے کے لوگ مقیم ہیں، یعنی مزدور اور کاری گر۔ آج سے چند ہفتے پہلے اِس شاداب سرزمین پر موت کے سائے منڈلارہے تھے اور یہ خطرہ ابھی کسی طور ٹلا نہیں ہے۔ یہا ں ہر کوئی اس خطرے سے پوری طرح آگاہ ہے اور کلی طرح بے پرواہ ۔ یہ لوگ یکساں خوش طبعی سے ساغر اچھالنے کو بھی تیار ہیں اور سر اچھالنے کو بھی ۔ یہاں ہر مکان ہر دکان اور ہر زبان پر دو نعرے دکھائی یا سنائی دیتے ہےں:”وطن یا کفن“ اور ” ہم ظفر مند ہوکر رہیں گے“۔ یہ سب کچھ شاعری نہیں ہے، کیوبا کی تاریخ کا جزو ہے۔
تاریخی پس منظر
1492 میں کولمبس نے اِس سرزمین پر قدم رکھا اور اِسے جزیرے کے بجائے پورا برِ صغیر سمجھ کر اپنے شہنشاہ کو ایک طویل و عریض مملکت کی خوشخبری دےنے لوٹ گیا۔ چند برس کے بعد ہسپانیہ کی مسیحی فوج کیوبا میں اتری اور اگلے برس یہاں کے کوتاہ پیشانیوں اور سپاٹ سروں والے پس ماندہ بھولے بھالے باشندوں کو ثوابِ دار ین کی خاطر چُن چُن کر ٹھکانے لگا دیا، پھر یہ مہذب اور دین دار فرنگی افریقا سے بے شمار نیگر و غلام پکڑ لائے اور اُن کا خون پسینا ایک کرکے جنگل کٹوائے، زمینیں کاشت کیں اور شہر آباد کےے۔ بہت سے آقاﺅں نے غلاموں کی عورتیں بھی گھر میں ڈال لیں۔ اُ س اختلاط سے کیوبن قوم پیدا ہوئی لیکن کوئی ساڑھے تین سو برس تک اُن پر راج کرنے کے لےے گورنر اور افسر بہ دستور ہسپانیہ سے آتے رہے۔1865 میں اُن غلاموں نے علمِ بغاوت بلند کیا اور 1895 میں تیس برس کی طویل اور خوں ریز جدوجہد کے بعد امریکی فوجیں باغیوں کی کمک کو پہنچیں اور کیوبا میں ہسپانوی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوا کہ پنجابی محاورے میں کیوبا کی امریکی سہیلی آگ لینے آئی اور گھر والی بن کر بیٹھ گئی۔ دراصل امریکی حکمران اُس سے تقریباً نصف صدی پہلے کیوبا پر اپنی ہوس ِ تسلط کا اعلان کرچکے تھے۔ یہ1848 کی بات ہے جب امریکا نے دس کروڑ ڈالر کے عوض یہ جزیرہ ہسپانیہ سے خریدنے کی کوشش کی اور ہسپانیہ کے انکار پر امریکی اربابِ اختیار نے ایک بیان مشتہر کیا۔ اُس بیان میں یہ کہا گیا کہ جغرافیائی اعتبار سے کیوبا امریکی ریاست ہائے متحدہ کا جزو ہے۔ اگر ریاست ہائے متحدہ کو اُس کی خرید سے باز رکھا گیا تو ہر دینی اور دنیوی قانون کی رو سے ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم اُسے بہ زور ِ شمشیر فتح کرلیں۔ اِسی ” دینی اور دنیوی قانون“ کے ما تحت1899 میںامریکی بحری فوجیں کیوبا میں داخل ہوئیں اور کیوبا کے دستورمیں جبراً ایک نئی شق کا اضافہ کروایا ۔ اِس شق کا مفہوم یہ تھا کہ امن ِ عامہ یا امریکی مفادات کے تحفظ کے لےے امریکی حکومت جب چاہے کیوبا میں اپنی فوجیں اتار سکتی ہے۔ اِس اختیار کوسہولت سے برتنے کے لےے امریکا نے کیوبا میں ایک مستقل فوجی اڈہ قائم کرنے کا اجارہ بھی حاصل کرلیا ۔چنانچہ حصولِ آزادی کے بعد اہلِ کیوبا کو بار بار فوجی مداخلت کا سامناکرنا پڑا۔1899 میں پہلی بار امریکا نے فوج کشی کی۔ پھر 1909 اور1920 میں ، غرض جب بھی طبع بار برہم ہوئی اہلِ کیوبا کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑا اور اُن حزیمتوں کے داغ لوگوں کے دلوں پر اب تک نقش ہیں۔
بیرون در یہ صورت تھی اور درونِ خانہ یہ حال تھا کہ ہسپانوی گورنر رخصت ہوئے تو اُن کی بجائے مقامی امرا کا خود ساختہ جرنیل اور نو سر باز سیاست دان ملک کی دولت اور سیاست دونوں پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا۔جس کے ہاتھ میں فوجی طاقت کی لاٹھی آگئی یا امریکنوں نے تھما دی۔ اُسی نے دستور اور جمہور دونوں کو گائے بھینس کی طرح آگے لگا لیا اور من مانی کرتا رہا۔ سارجنٹ فل جنسیو بیتستاکی فوجی آمریت اس سلسلے کی آخری کڑی تھی۔ یوںیہ صاحب فوج کے بل پر 1934 سے پس پردہ اپنا کہا مختلف حکومتوں سے منواتے آئے تھے،لیکن1952 میں انہوں نے آئینی صدر بننے کی ٹھانی اور انتخابات میں امیدواری کا اعلان کردیا۔ دو اور امیدوار بھی میدان میں تھے ۔ یکم جون کو صدر کا انتخاب طے تھا۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں بعض مقامی اخبارات نے تینوں امیدواروں کے بارے میں رائے عامہ کے اندازے شائع کےے، جن سے پتہ چلا کہ بیتستا کا نمبر سب سے آخر میں ہے ۔10مارچ کو بیتستا نے فوج کی مدد سے دستوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور جملہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لےے ۔ فیڈل کاسٹرو کی انقلابی حکومت کے بارے میں شاید کچھ اختلاف ِ رائے کی گنجائش ہو ، لیکن اس بارے میں کاسٹرو کے دوست دشمن سبھی متفق ہیں کہ ظلم و ستم، بددیانتی اور بدقماشی میں بیتستا کی حکومت کا جواب کیوبا میں بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔
انقلابی تحریک
بیتستا کی آمریت قائم ہوئے چند ہفتے گزرے تھے کہ ایک پچیس سالہ وکیل ہوانا کی عدلتِ عالیہ میں پیش ہوا اور یہ درخواست گزاری کہ بیتستا اور اُس کے حواری ملکی قانون کی چھے دفعات کے تحت مجرم اور سزا وار ہیں ۔ اِس لےے اُن سے جواب طلبی کی جائے اور اگر الزامات درست ہوں تو انہیں حسبِ قانون ایک سو آٹھ برس قید تک کی سزا دی جائے۔
اُس نے کہا :” میری عقل کہتی ہے کہ اگر کیوبا میں ابھی تک عدالت برقرار ہے تو بیتستا کو اُس کے جرائم کی سزا ملنی چاہےے۔ اگر اُسے سزا نہیں دی جاتی اور اُسے کھلی چھٹی ہے کہ وہ بدستور حاکمِ ریاست صدر ِ مملکت ، وزیراعظم ، میجر جنرل ، عدلیہ اور انتظامیہ کا سر براہ ، ہماری جانوں اور زمینوں کا مالک و مختار بنا رہے تو پھر اِس ملک میں کوئی عدالت نہیں ہے ۔ سب عدالتیں برخاست ہوچکی ہیں۔ اگر یوں ہے تو آپ جلد از جلد اِس کا اقرار کیجےے ۔ اپنے قانونی لبادے اتار دیجیے اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیے“۔
یہ نوجوان وکیل فیڈل کاسٹرو تھا ۔ ظاہر ہے کہ اِس کی درخواست فوراً مسترد کردی گئی، لیکن یہ سر پھراشخص جان کی خیر منانے کی بجائے شنوائی کے اور وسائل ڈھونڈنے میں جٹ گیا۔ قومی اور سیاسی تحریکوں میں ہوانا کے طلبا ہمیشہ پیش پیش رہے ہےں۔1870میں کیوبا کی پہلی تحریک آزادی کے دوران سات طبی طلباءکو ہسپانوی حکم رانوں نے سرِ بازار گولی سے اڑادیا گیا تھا اور 1934 کے بعد ہوانا یونیورسٹی کی سیڑھیاں بار ہا طلبا کے خون سے لالہ زار ہوتی رہیں۔ اُن ہی طلباءمیں سے کاسٹرو نے رضا کار بھرتی کےے اور سال بھر کی خفیہ تیاری کے بعد 26 جولائی 1953 کی صبح کو کیوبا کے دوسرے سب سے بڑے شہر سنتیا گو دی کیوبا کی فوجی بارک مانساد ا پرہلہ بول دیا۔ یوں کیوبا کے انقلاب کی ابتدا ہوئی ۔ کاسٹرو کے ساتھ صرف 125نوجوان تھے اور دو لڑکیاں۔اُن کے پاس صرف ایک مشین گن تھی اور چند پرانی رائفلیں ۔ اُن کی عمریں اٹھارہ سے چھبیس برس تک تھیں اور اُن میں سے بیش تر کو شہر کے راستے بھی نہیں معلوم تھے۔ مانسادا بارک میں ایک ہزار سے اوپر مسلح فوج تھی۔ پہلے ریلے میں کاسٹرو کے ہر اول دستے نے بارک کی بیرونی چوکیوں پر قبضہ کرلیا، لیکن دوسرا دستہ شہر کی گلیوں میں راستہ بھول گیا۔اُن کی ایک گشتی فوجی رسالے سے مڈبھیڑ ہوگئی اور تھوڑی دیر میں اِس عجیب و غریب معرکے کا فیصلہ ہوگیا۔کاسٹرو کے کچھ ساتھی لڑائی میں کام آئے ۔ بہت سے پکڑے گئے جنہیں بیتستا کے سپاہیوں نے طرح طرح کے عذاب دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عوام کو سبق سکھانے کے لےے شہری قتلِ عام کا حکم ہوا اور بیسیوں بچے، بوڑھے، عورتیں ، مرد گولی سے اڑادئیے گئے۔ آخر سنتیا گو دی کیوباکے لاٹ پادری کی سفارش پر روپوش باغیوں کی جان بخشی کی گئی اور یوں فیڈل کاسٹرو اور اُس کے بچے کچھے ساتھی ملک الموت کے بجائے عدالت کے حضور پیش ہوئے۔ اُس عدالت میں فیڈل نے وہ طویل اور ہنگامہ خیز بیان دیا جو ” تاریخ میری شاہد ہوگی “ کے عنوان سے مشہور ہے ۔ اُس بیان میں کاسٹرو نے بغاوت کے اسباب و عوامل بیان کےے ۔ بیتستا کے مظالم اور جرائم گنوائے ۔ عوام کی نا گفتہ بہ غربت اور بے سروسامانی اور ملکی صنعت و زراعت کی پسماندگی پر روشنی ڈالی۔ پھر 26 جولائی کے معرکے کی تفصیلات بیان کیں اور اُن مظالم کا ذکر کیا جو اُس کے ساتھیوں پر ڈھائے گئے تھے:
” ایک سارجنٹ اور کچھ سپاہی ہماری بہادر ساتھی ہیدی سانت میریا کی جیل کوٹھڑی میں داخل ہوئے۔ سارجنٹ کی مٹھی میں ایک انسانی آنکھ تھی جس سے خون رس رہا تھا“۔
” دیکھو ! یہ تمہارے بھائی کی آنکھ ہے “۔ اُس نے کہا ۔ ” وہ ابھی تک اُس بیان سے انکار ی ہے ، اگر تم سب کچھ قبول جاﺅ تو ہم اُسے چھوڑدیں گے ۔ ورنہ ابھی ابھی تمہارے سامنے اُس کی دوسری آنکھ بھی پھوڑ دی جائے گی “۔ ہیدی نے جواب دیا ۔” اگر اُس نے تمہیں اپنی آنکھ دے دی اور زبان نہیں کھولی تو میں تم سے کیوں کلام کروں گی؟“۔
” یوں اِن فسطائیوں نے میرے ساتھیوں کی آنکھیں نوچ ڈالیں ۔
اُن کے اعضائے مردی کاٹ دئیے ، لیکن کسی نے اُن سے رحم کی درخواست نہیں کی۔ وہ ا ب بھی اُن نا مر دوں سے ہزار گنا زیادہ مرد ہیں“۔
اور پھر ججوں کو مخاطب کرکے کہا:
” یاد رکھےے !آج صرف ایک ملزم آپ کے سامنے فیصلے کے لےے پیش ہے ، لیکن آپ کی بار بار پیشی ہوگی اور آپ کے بارے میں بار بار فیصلے صادر ہوں گے۔ ہر بار جب لوگ آج کا دن یاد کریں گے آپ کی پیشی ہوگی۔ آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ ہزار بار دھرایاجائے گا ۔ اِس لےے نہیں کہ یہ میرے الفاظ ہیں بلکہ اِس لےے کہ انصا ف ازلی اور ابدی چیز ہے۔ عوام انصاف کا وہ بنیادی شعور رکھتے ہیں جسے قانونی موشگافیوں سے سروکار نہیں۔ کیوبائی عوام کے تصور میںانصاف ایک پاک دوشیزہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں ترازو ہے، دوسرے ہاتھ میں تلوار، اگر وہ ایک گروہ سے خائف ہوکر ترازو پھینک دے اور دوسرے گروہ پر بے دھڑک تلوار چلانے لگے تو پھر عوام کی نظر میں وہ انصاف کی دیوی نہیں ہے ، بازاری رنڈی ہے“۔ اِس کے بعد کاسترو نے چینی، ہندوستانی، یونانی ، رومن ، انگلستانی اور فرانسیسی حکما کے حوالے پیش کےے جن میں جابر، ظالم اور غیر جمہوری حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہ صرف جائز بل کہ واجب تسلیم کی گئی ہے اور آخر میں کہا:
” مجھے معلوم ہے میرے لےے قید اتنی ہی اذیت دہ ہوگی جتنی میرے ساتھیوں کے لےے ہے لیکن مجھے جیل کا خوف نہیں۔ مجھے اُس کمینے جابر کے غضب کا بھی ڈر نہیں جس کے ہاتھوں میرے ستّر ساتھی موت کی نیند سو چکے ہیں۔ مجھے شوق سے سزا دیجےے۔ تاریخ میری شاہد ہوگی“۔
فیڈل کاسٹرو کو پندرہ سال قید کی سزا سنا ئی گئی ۔ اُ س کے بھائی راول کاسٹرو کو تیرہ سال اور اُن کے باقی ساتھیوں کو پانچ سے دس سال تک ، لیکن فیڈل کاسٹرو کی تقریر اور اُن نوجوانوں کے شجاعانہ کارناموں کا ملک میں اتنا چرچا ہوا کہ دو برس کے بعد بیتستا کو مجبوراً عام معافی کا اعلان کرنا پڑا اور مئی1955 میں سب باغی رہا کردےے گئے۔ تین ماہ کے بعد یہ سب لوگ میکسیکو بھاگ گئے اور دوبارہ نبرد آزمائی کے منصوبے باندھنے لگے۔
یہ جنون ِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *