Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » کہانی کا نقطہ ِ انجماد ۔۔۔۔۔ احمد شہر یار

کہانی کا نقطہ ِ انجماد ۔۔۔۔۔ احمد شہر یار

ہوا منجمد ہو
مکاں بند ہوجائیں سورج کی کرنیں
اداسی بھری گنگ لہریں
…….. یہ پایا ب لہریں ……..
اگر خاک مردہ میں ڈوبیں
…….. اگر ڈوب جائیں……..
تو شاخوں پہ
پھولوں پھلوںکی جگہ
کونپلوں کی جگہ
پھپھوندی نکلتی ہے

پھر آہستہ آہستہ
خوابیدہ آنکھوں پہ دستک سے بچتے بچاتے
خود اپنی ہواﺅں میں گم
اور اپنی ہی کرنوں میں، لہروں میں آسودہ
سوچوں پہ
یوں راکھ بُنتی ہے
جیسے
پرانی حویلی
میں بوسیدہ لکڑی
پہ بے انتہا بھوکی مکڑی
کے جالے کی تہہ میں ضیافت پہ آئی ہوئی
دیمکوں کی المناک قبروں
سے اٹھتی ہوئی سبز خوشبوئیں
مکڑی کو اپنے جبلی ہنر
…….. جالا بُننے……..
سے بیزار کردیں!

کہانی سے نکلو
فریبِ حروف و معانی سے نکلو
ہر اک لفظ کے ساتھ بے جان پڑتے ہوئے
سرد اور وہم پروردہ پانی سے نکلو

نکل کر دوبارہ نئی سانس لو
پھر یقیناً ہوا چل پڑے گی
صدادے کے سورج کی ناراض کرنوں کو واپس بلاﺅ
ادھر اپنے اشکوں کی رسی سے لہروں کو باہر نکالو
حقیقت میں کرنوں کا ، لہروں، درختوں کو پھر اُن کے پھل پھول لا دو!

کہانی سے نکلو
کہ یوں بھی ابد تک طلسمات کا تیز دریا
خود اپنی روانی میں بہتا رہے گا
کہانی میں بہتا رہے گا!

 

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *