Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » کہانی کار ۔۔۔ شہباز اکبر الفت

کہانی کار ۔۔۔ شہباز اکبر الفت

آئل پینٹ میں بنی وہ تصویر دو حصوں پر مشتمل تھی، ایک حصے میں ریستوران کا منظر تھا جہاں ایک چہرے مہرے سے متمول نظر آنے والے شخص کے سامنے انواع و اقسام کے کھانوں سے بھری میز موجود تھی جبکہ دوسرے حصے میں ایک بوڑھی عورت گھر کے کچے صحن میں چولہے پر روٹیاں پکاتے ہوئے ایک ہاتھ سے آنکھوں پر چھجا بنائے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی
یہ ایک ڈائجسٹ کے آنے والے شمارے کا سرورق تھا جس پر اسے کہانی لکھنا تھی
وہ ایک بڑا اورکام یاب قلم کار تھا، اس کی کہانیوں کی بہت مانگ تھی، ہر ڈائجسٹ اس کی کہانیاں شائع کرنا فخر محسوس کرتا، ہر کہانی کا اسے منہ معاوضہ ملتا تھا، زندگی سے کشید کی ہوئی اس کی کہانیوں میں حقیقت نگاری کا عنصر اس کی ہر تخلیق کو شہ کار بنا دیتا تھا، ایک سچے کہانی کار کی حیثیت سے اس کا بھی سب کچھ کہانیاں ہی تھیں، اس کے لگڑری اپارٹمنٹ میں جہاں وہ تنہا مگر آسودہ اور خوشحال زندگی بسر کر رہا تھا، ہر طرف کہانیاں بکھری ہوئی تھیں، اس کا کھانا پینا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، اوڑھنا بچھونا سب کچھ کہانیوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا، لفظ تو گویا ہاتھ باندھے اس کے آگے کھڑے رہتے، کردار اس کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے، اس کی کہانیوں کا آغاز ہمیشہ چونکا دینے والا اور اختتام اتنا غیر متوقع ہوتا کہ پڑھنے والا داد دیئے بغیر نہ رہ پاتا اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی
زندگی اس کے لئے کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہی تھی، کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لئے اس نے بھی ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی تھی، وہ ان پر آشوب دنوں کو کبھی بھول نہیں پایا تھا جب ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں اس نے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا
رات کو دیئے کی ٹمٹماتی لو میں جب اس نے اپنے مریض باپ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا کہ علی الصبح وہ شہر چلا جائے گا تو اچانک ہی کھانسی کے شدید دورے میں ایک مجبور باپ کی آہوں اور سسکیوں نے دم توڑ دیا، ماں کا تو چہرہ ہی فق ہوگیا تھا
صبح صادق کے وقت جب وہ سب کو سوتا چھوڑ کر آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے سپنے سجائے گھر سے نکلا تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ سفر کتنا طویل ہوجائے گا، اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ جب تک وہ کچے رستے پر چلتا ہوا شہر جانے والی پکی سڑک تک نہیں پہنچا، بالکونی میں کھڑی اس کی ماں زیرلب دعاؤں کے ساتھ اس کے گرد حفاظتی حصار بناتے ہوئے اداس نظروں سے اس کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی تھی
شہر کے سینے میں ماں کا دل نہیں ہوتا کہ بانہیں پھیلا کر سینے سے لگالے، شہر والوں کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں، اپنا ہی ایک تمدن، ایک طرز زندگی ہوتا ہے، شہر میں رہنے کے لئے شہر والوں جیسا بننا پڑتا ہے، شہر کی تیز رفتار زندگی میں جو زرا سا بھاگ کر تھک جائے وہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے، اتنا پیچھے کہ واپس جانے کے قابل بھی نہیں رہتا، شہر نے اس کے ساتھ بھی روایتی سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا، وہ ہراساں نظروں سے اپنے ارد گرد کے سفاک ماحول کو دیکھتا رہا جہاں لالچ تھا، خود غرضی تھی اور مفاد پرستی کا دور دورہ تھا، اس کا کل اثاثہ وہ چند سو روپے جو باپ نے اس رات بستر لیٹنے سے پہلے اس کی جیب میں اڑس دیئے اور خود آنکھیں بند کرکے ساری رات جاگتا رہا تھا، ایک بیگ میں دو تین کپڑوں کے جوڑے اور چند رسالے تھے جس میں اس کی کہانیاں چھپی تھیں اور جن میں ایک رسالے کے مدیر نے اسے خط لکھ کر یقین دلایا تھا کہ اگر وہ شہر آجائے تو وہ اس کے لئے نوکری کا بندوبست کرنے کی پوری کوشش کرے گا
مدیر صاحب نے اس سے دو تین کہانیاں لکھوائیں اور تھوڑے دن بعد رابطہ کرنے کو کہا، اس نے کئی چکر لگائے مگر وہ خوش قسمت دن کبھی نہ آیا جب مدیر صاحب اسے نوکری کا مژدہ جانفزا سنا دیتے، اس کی کہانیاں چھپ گئی تھیں لیکن معاوضہ دینا تو اس ادارے کی پالیسی میں ہی نہیں تھا، نوکری کی تلاش میں اس کی جوتیاں گھس گئی تھیں، گزر اوقات کے لئے اسے ہوٹلوں، ورکشاپوں اور پٹرول پمپوں پر بھی کام کرنا پڑا، اس نے کئی راتیں پارکوں اور فٹ پاتھوں پر بھی گزاری تھیں، ایک رات پارک کے ایک سنگی بنچ پر لیٹے ہوئے اس نے تاروں بھرے آسمان کو دیکھا تو اسے اپنے گاؤں کی چاندنی راتیں یاد آگئیں اور اس نے حسرت سے سوچا کہ کیا اس کی قسمت کا ستارہ بھی کبھی چمکے گا یا وہ شہاب ثاقب کی طرح اچانک ہی پھسل کر تیزی سے جلتا ہوا راکھ ہوجائے گا؟
بے سروسامانی کے اس کڑے وقت میں اس نے زندگی کی تلخیوں اور بدلتے رویوں کو بہت قریب سے دیکھا، انسانی نفسیات کو پرکھا اور پھر اس کی کہانیوں میں حقیقت کا رنگ جھلکنے لگا، لوگ اس کی کہانیوں کا انتظار کرنے لگے، اس کے نام پر رسالے بکنے لگے، اس کی کہانیوں کی ڈیمانڈ بڑھی تو معاوضہ بھی ملنے لگا، پہلے وہ کچی آبادی کی ایک بیٹھک میں رہتا، حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تو پہلے اس نے ایک مکمل گھر کرائے پہ لیا اور پھر ایک گاڑی اور لگڑری اپارٹمنٹ.. اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھر بھی باقاعدگی سے پیسے بھجوا رہا تھا، زندگی بہت سہل اور آرام دہ ہوگئی تھی بس ایک قلق تھا کہ وہ مصروفیت کی دلدل میں ایسا دھنسا کہ شدت کے ساتھ چاہنے کے باوجود دوبارہ گھر نہیں جاسکا تھا
یہ زندگی میں پہلا موقع تھا کہ سرورق کے مطابق کہانی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی، وہ تصویر اس کے ذہن سے چپک کر رہ گئی تھی، اس نے کہانی بنانے کے لئے کئی موضوعات پر طبع آزمائی کی، کئی صفحات لکھ کر پھاڑ دیئے، بات کچھ بن نہیں رہی تھی، آخر زچ ہوکر اس نے لکھنے کی کوشش ترک کر دی، باہر موسم ابر آلود تھا، دور کہیں بجلی چمک رہی تھی اس نے برساتی پہنی اور باہر نکل آیا، اس کا پسندیدہ ریستوران قریب ہی تھا، وہ پیدل ہی چل پڑا، اس کے خدشے کے عین مطابق راستے میں بارش شروع ہوگئی، اس کی نظر چاروں طرف گھوم رہی تھیں، چوک سے مڑتے ہی اسے خالی پلاٹ پر جھگی والی بھٹیارن نظر آئی جو بارش میں نہاتے اپنے بچوں کو پکڑنے کے لئے پاگلوں کی طرح دوڑتی پھر رہی تھی، اس نے ایک لمحے کے تصور کی آنکھ سے دیکھا کہ کیا یہ اس کہانی کا کردار ہوسکتی ہے؟ اس کے زرخیز کہانی کار دماغ نے فورا نفی کر دی
ریستوران کے باہر اس نے ایک بھکارن کو دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے اور وہ ان کی بھوک مٹانے کے لئے ہر آنے جانے سے بڑی لجاحت کے ساتھ پیسے یا کھانا مانگ رہی تھی، اسے اس عورت پر صرف اتنا ترس آیا کہ اس نے بٹوے سے چند کرنسی نوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیئے اور وہ اسے دعائیں دیتی ہوئی اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ گئی ، یہ تو اس سرورق کی کہانی کا بالکل بھی کردار نہیں ہوسکتی تھی ، ایسی عورتوں کی وہ بہت سی کہانیاں لکھ چکا تھا اور اس بار کچھ نیا لکھنا تھا اس نے کھانے کا آرڈر دیا تو اسی دوران اس کے موبائل کی بیل بج اٹھی، اس نے موبائل نکالا، اسکرین پر اس کے باپ کا نمبر جگمگا رہا تھا، اس نے کال اٹینڈ کی تو لائن کے دوسری طرف اس کی ماں تھی، وہ ماں سے باتیں کرنے لگا، اس کی ماں بتا رہی تھی کہ اسے پیسے مل گئے، اس کے باپ گھر کی ڈیوڑھی پکی کروا دی ہے، چھوٹے بھائی نے میٹرک پاس کرلیا ہے، ماموں کے بیٹے سے اس کی بہن کا رشتہ پکا کر دیا ہے، باپ کی دوائی بھی آگئی ہے، اس کی سادہ سی ماں سادگی سے اسے بتا رہی تھی پھر اچانک وہ بولی ” پتر تم کب گھر آؤگے؟” “ماں ابھی کچھ پتہ نہیں، بہت مصروف ہوں” اس نے صاف گوئی سے کام لیا “اتنے مصروف ہو کہ ماں کے لئے بھی وقت نہیں” ماں نے تڑپ کر کہا
“ایسی بات نہیں ہے ماں جی، میں بہت جلد آپ کے پاس آجاؤں گا”
“مجھے پتہ ہے تم نہیں آؤگے، تمہیں اکیلے رہنے کی عادت ہوگئی ہے، تم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہو، تمہیں اب ماں کے ہاتھ کا کھانا کہاں پسند آئے گا” ماں کی آواز بھیگ گئی تھی ” تم ایک مدت سے گھر نہیں آئے اور پتہ نہیں کب آؤ، لیکن میری نظریں شام ہوتے ہی دروازے پر لگ جاتی ہیں کہ شاید آج تم آجاؤ، تمہارے لئے روٹی پکا کے رکھتی ہوں کہ اگرتم اچانک واپس آگئے تو تمہیں بھوکا نہ سونا پڑے”
اس بڑے کہانی کار کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا، بے ساختہ ہی آنسو چھلک پڑے، سارا منظر واضح ہوگیا، ساری کڑیاں مل گئیں، وہ بوڑھی عورت کا روٹیاں پکاتے دروازے کو تکتے رہنا، وہ ریستوران میں بے فکری سے کھانا کھاتا ہوا شخص دوسروں کی کہانیاں لکھتے لکھتے وہ آج خود ایک کہانی بن گیا تھا

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *