Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » پولٹیکل اکانو می  ۔۔۔ پوہیں مڑد

پولٹیکل اکانو می  ۔۔۔ پوہیں مڑد

سماجی زندگی اشیائے ضرورت کی پیدا وار کے بغیر نا ممکن ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے خوراک ،پو شاک اور دوسری ماد ی اشیا ء کی ضرورت ہے ۔اور خواک اور پو شاک اوردوسری ضرورتو ں کو پوراکرنے کے لیے انہیں کا م کر کے اپنی محنت سے ان اشیاء کو پیداکر نا پڑتا ہے ۔ اور انسان ان اشیاء کی پیداوار ہمیشہ اور ہر حالت میں مل جل کر کرتے ہیں ۔
اشیا ء کی پیداوار اور مادی دولت کی پیدا وارکے لیے مندرجہ ذیل عوامل کا ہو نا ضروری ہے ۔
1۔ انسان محنت
2 ۔ ذرائع پیداوار
3 ۔ آلاتِ محنت
جب تک یہ تینو ں مو جو د نہ ہوں پیداوار کا عمل جا ری نہیں ہو سکتا ۔
انسانی محنت
انسان کا وہ با مقصد عمل ہے جس کے دوران وہ قدرتی ذرائع پیداوار کو اس طر ح تبدیل کر تا اور گھڑتا ہے کہ اُن سے اپنی ضروریات زندگی کی تسکین کر سکے ۔انسانی زندگی کی بقا ء کیلئے محنت لازمی شے ہے۔ اس کے بغیر انسانی زندگی کی بقاممکن نہیں ہے ۔انسان اپنی محنت سے خام مال کو تیار مال کی صورت میں تبدیل کرتا ہے ۔خام مال وہ اشیا ء ہیں جنہیں انسان اپنی محنت سے قدرتی وسائل میں سے حاصل کر تا ہے ۔مثلاوہ جنگل سے لکڑی کا ٹ کر لا تا ہے ، کھیتو ں میں کپاس اگاتاہے ،اور پہا ڑو ں سے معدنیا ت نکالتاہے ۔عمارتی لکڑی اور کانو ں سے نکالی ہو ئی معدنیات اور کھیتو ں میں پیدا کی ہو ئی کپاس وہ خام مال ہے جسے وہ اپنی محنت سے مو ٹرو ں ، کپڑو ں اور فرنیچر کی صورت دیتا ہے ۔
آلا تِ محنت
یہ پیدا واری آلا ت ہیں جن کی مددسے انسان قدرتی وسائل سے خام مال اور پھر خام مال سے تیار ما ل حاصل کر تا ہے ۔ان میں پیدا واری عمل کو جا ری کر نے کے لیے جس زمین اور عما رت کی ضرورت ہے وہ بھی اس میں شامل ہیں ۔ وہ گو دام بھی شامل ہیں جہا ں خام ما ل اور تیا ر ما ل رکھا جا تا ہے ۔اور سڑکیں ریلیں ، نہریں بھی شامل ہیں جن سے ایک جگہ سے دوسری جگہ وہ منتقل کیا جا تاہے۔ ان سب میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار پیداوری عمل میںآلاتِ پیداوارکو حاصل ہے۔ آلاتِ پیداواروہ آلا ت ہیں جنہیں انسان پیداوری عمل میں اپنے کام میں لا تا ہے ۔
ذرائع پیداوار ، آلات پیداوار اور وسا ئل پیداوار ازخو د پیدا وار نہیں کر سکتے ۔ پیداوار کیلئے وہ انسانی محنت کے محتاج ہیں ۔اور جب تک انسانی محنت آلاتِ پیداوار کو حرکت میں نہیں لا تی وہ بیکا ر رہتے ہیں ۔ان دو نو ں کا ملا پ ہی حر کت پیدا کر تا ہے ۔
انسانی محنت آدمی کی کا م کر نے کی جسمانی اور ذہنی استعد اد کو کا م میں لاکر ہی انسانی ضرورت کی چیزیں پیدا کر سکتی ہے ۔ پیداوار کے لیے اصل قو ت انسانی محنت ہے جو ذرائع پیداوار کو حرکت میں لا تی ہے ۔ انسا ن نے آلاتِ پیداوار بنائے ہیں ۔ اور ان آلات کو بنانے اور کا م میں لانے کے عمل میں اس کے کام کر نے کی صلاحیت ، استعداداور ہنرمندی میں تر قی ہو تی ہے ۔ اس کی عادات بدلتی ہیں ۔ اور اس کے نظریا ت اور تصورات بدلتے ہیں ۔
آلاتِ پیداوار اور ان کوکام میں لا کر اشیا کو پیدا کر نے والے انسان یعنی محنت کش (مزدور اور کسان ) ہی سماج کی پیداواری قو تیں ہیں اور انسانی سما ج کے تما م ادوار میں محنت کش ہی اس کی بنیادی قوت رہے ہیں ۔
انسان پیداواری عمل میں ایک دوسرے سے منسلک ہو جا تے ہیں ۔ اور یہ تعلقات اور رشتے ’’پیداواری رشتے ‘‘کہلاتے ہیں ۔ان رشتو ں میں وہ ایک دو سرے سے بند ھ جا تے ہیں ۔
پیداواری رشتو ں کا کر یکٹر جاننے کے لیے یہ دیکھنا ہو گا کہ ذرائع پیداوار کا مالک کو ن ہے ۔ کیا ذرائع پیداوار انفر ادی ملکیت میں ہیں ؟۔ یا تمام سما ج کی ملکیت میں ہیں ؟ ۔پہلی صو رت میں ذرائع پیداوار کا ما لک طبقہ اپنی ملکیت کے سہارے محنت کو لوٹتاہے ۔اور دوسری صورت میں ذرائع پیداوار کو تمام انسانو ں کی مادی اور ثقافتی ضروریات کی تسکین کے لیے کام میں لا یا جاتا ہے۔پیداواری رشتو ں کے کر یکٹر سے پیداوار کی تقسیم کا کر یکڑبنتا ہے ۔ اگر ذرائع پیداوار نجی ملکیت میں ہوں گے تو ان کی پیداوار نجی ہاتھو ں میں جائے گی اوراسے منافع خوری کے لیے کام میں لایا جائے گا ۔اور اگر ان کی ملکیت سماجی ہو گی تو پیداوار کی تقسیم سب انسانو ں میں ہو گی ۔
پیداوار کی تقسیم جوپیداواراوراستعمال کے درمیان ایک کڑی ہے،اس کی کا کریکٹرپیداواری رشتو ں کے کر یکٹر جیساہو تا ہے ۔اگر پیداواری رشتو ں پر نجی ملکیت ہو گی تو پیداوارکی تقسیم پر بھی اس کی چھاپ ہوگی ۔
پیداوار دو کا مو ں کیلئے استعمال میں آتی ہے: ذاتی استعما ل میں،اور پیداواری استعما ل میں ۔انسان پیداوار کو ذاتی استعما ل لا کر اپنی خوراک ،پوشاک اور دوسری ضرورتیں پو ری کر تا ہے اور پیداواری استعمال میں لا کر مزید مادی دولت پیداکر تا ہے ۔
سر مایہ داری سماج میں ذرائع پیداوار پر سرمایہ داروں کی نجی ملکیت ہو تی ہے۔ اس لئے پیداوار کے بھی وہی مالک بن جاتے ہیں۔ مزدور ذرائع پیداوار سے محروم ہو نے کی وجہ سے بھو ک سے مجبو ر ہو کر سرمایہ داروں کے ہاتھ اپنی محنت اور قوتِ محنت فروخت کرتے ہیں۔ سرمایہ دار اُن کی قوتِ محنت سے پیداکی ہو ئی پیداوار کو ہتھیالیتے ہیں ۔اس کے بر عکس کمیونسٹ سماج میں ذرائع پیداوار کی سماجی ملکیت ہوتی ہے اور مزدورجو کچھ اپنی قوتِ محنت سے پیداکرتے ہیں اُسے لو ٹنے والا کو ئی نہیں ہو تا۔ وہ خو د ہی اس کے مالک ہو تے ہیں ۔
اشیاء کی پیداوار ،تقسیم ،تبادلہ اور استعمال میں پیداوارکو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے ۔تقسیم ،تبادلے اور استعمال کی صورتیں پیداوار پر ضروراثر اندازہو تی ہیں۔کبھی یہ صورتیں پیداوار کی ترقی کا سبب بنتی ہیں اور کبھی اس کی ترقی میں مزاحمت کر تی ہیں ۔
سماج کا معاشی ڈھانچہ پیداواری رشتے ہیں جو سماج کی بنیاد ہیں ۔اس بنیاد پر قانو نی اور سیاسی جماعت بنتی ہے۔ اور اس سماجی شعورکی مختلف صورتیں اس کے مطابق بنتی ہیں ۔ یہ اوپری عمارت (ڈھانچہ ) ایک دفعہ وجو د میں آنے کے بعد سماج کی معاشی بنیاد پر اثر اندازہو تاہے۔ یعنی یا تو معاشی تر قی میں مددگار ہو تا ہے یا اس کی مزاحمت کرتا ہے ۔
پیداوار کے دورخ ہیں ۔ایک فنی اور دوسراسماجی ۔فزکس،کیمسٹری، اور انجنئیر نگ اس کے فنی پہلو سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور پو لیٹیکل اکانومی اس کے سماجی پہلو سے۔
پولیٹیکل اکانو می کا تعلق پیداوار سے نہیں بلکہ اس کا تعلق پیداوار ی عمل کے دوران آد میو ں کے درمیان قائم ہو نے والے پیداواری رشتو ں سے ہے ۔
کسی ملک کا نظامِ پیداوار دو چیزو ں سے مل کر بنتا ہے : پیداواری طاقتو ں اور پیداواری رشتو ں سے۔ ان دونو ں میں سے پیداواری قوتیں زیادہ متحر ک اور توانا ہو تی ہیں ۔ آلا تِ پیداوار میں تبدیلی ہی سے پیداوار میں ترقی ہو تی ہے۔ پیداواری قو تو ں میں تبدیلی اور ترقی پیداواری رشتو ں کے اندر ہو تی ہے ۔ لیکن ایک منزل پر پہنچ کر پیداواری قوتیں پیداواری رشتو ں سے آگے بڑھ جاتی ہیں اور پیداواری رشتے ان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ قدیم پیداواری رشتے ٹو ٹ جاتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے پیداواری رشتے لے لیتے ہیں اور سماج کی معاشی بنیاد بدل جا تی ہے۔ معاشی بنیاد میں تبدیلی آجانے سے سماج کی اوپر ی عمارت (ڈھانچہ )بھی بدل جاتی ہے ۔
سماج کی ترقی کا معاشی قانو ن پیداواری قوتوں سے پیداواری رشتو ں کی جبری مطابقت ہے ۔
طبقاتی سماج میں پیداواری قوتو ں اور پیداواری رشتو ں کا تصادم طبقاتی جدوجہد کی صورت اختیار کر تا ہے۔ اور پرانے نظامِ پیداوارکی جگہ نیانظامِ پیداوار سماجی انقلاب سے قائم ہو تا ہے ۔
ہر نظامِ پیداوار کے اپنے معاشی قوانین ہیں جو انسان کی مر ضی اور منشاسے آزاد ہو تے ہیں ۔انسان انہیں دریافت کر سکتا ہے اور سماج کی ترقی کے تقاضو ں کو پو راکر نے کے لئے کام میں لاسکتا ہے۔ لیکن جب تک معاشی نظام قائم ہے ان قوانین کو کا لعدم نہیں کیا جا سکتا ۔
اب تک انسانی سماج پانچ نظام ہا ئے پیداوار سے گزراہے یعنی :
1۔قدیم کمیونسٹ نظام پیداوار
2۔ غلام داری سماج کا نظام پیداوار
3۔جاگیر داری کا نظامِ پیداوار
4۔سر مایہ داری نظامِ پیداوار
5۔کمیونسٹ نظامِ پیداوار

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *