Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » پروفیسر نا در قمبرانڑ یں کی یادیں ۔۔۔ جاوید اختر

پروفیسر نا در قمبرانڑ یں کی یادیں ۔۔۔ جاوید اختر

پر وفیسر نا در قمبر انڑ یں بر اہو ئی کے ان ادیبو ں اور شا عر وں میں سے تھا ، جنہو ں نے بر اہوئی ادب کو جد ت ، تر قی پسند ی ، مز احمت پسند ی ، جمہو رت خواہی ، اور قو م پرستی کی اقدارو روایا ت سے رُو شنا س کر ایا ۔
پر وفیسر نا در قمبر انڑ یں نے اپنی نصف سے زائد صد ی پر محیط زند گی میں ہمیشہ ترقی پسند اقداروروایا ت کو فر وغ دیا اور اس کے لئے فکر ی و عملی جد و جہد کی جس کی پا داش میں اس نے با رہ بر س جلا و طنی کا ٹی اور دیا ر غیر (افغا نستان ) میں رہ کر بھی اپنے عوام کے اقتصا دی سیا سی اور ثقا فتی حقو ق کے لئے جد و جہد جا ری رکھی ۔ اور بعد میں اپنے وطن واپس آکر اس جد و جہد کو جا ری رکھا ۔ اس نے تر قی پسند اقدارو روایا ت کی داغ بیل بر اہو ئی ادب میں ڈالی اور تادم مر گ اپنے ترقی پسند مو قف پر قا ئم رہا ۔
پر وفیسر نا در قمبر انڑ یں سے میر ی ملا قا ت محترم ڈاکٹر شا ہ محمد مری کے طفیل ہو ئی ۔ جب ہم پر و فیسر عبداللہ جا ن جمالد ینی کے گھر اس کی عیا دت کے لئے گئے ہوئے تھے کیو نکہ اس وقت وہ علیل تھا ۔ اور ہمارا معمول تھا کہ ہم کچھ احباب ڈاکٹر خدا ئے داد مر حو م کی معیت میں اس کی مز اج پر سی کے لئے اس کے ہا ں کے روز جایا کر تے تھے۔
ہمارے ہا ں اشتر اکی دانشو ر، با ئیں با ز و کی سیا سی جما عتیں اور نا م نہا د تر قی پسند دانشو ر اُس زما نے کے مارکسزم مخالف پر و پیگنڈ ے سے مغلو ب ہو کر بو رژوا صفحو ں میں شا مل ہو گئے، ما یو س ہو گئے ۔ اس وقت بلو چستا ن میں ایک ایسی آواز تھی ، جو ما رکسزم کی نا کامی سے انکا ر کر کے اس کے سا ئینسی امکا نا ت کا بر ملا اعلا ن کر رہی تھی ۔ وہ ڈاکٹر شا ہ محمد مری کے تر قی پسند ما رکسی گر وہ کی تھی ، جو ما ہنا مہ ’’نو کیں دَو ر ‘‘ کو ئٹہ کے ذریعے بلند ہو رہی تھی ۔ اس کے بعد ما ہنا مہ ’’سنگت ‘‘ نے یہ جگہ لے لی جو آ ج تک اپنی فکر ی تب و تاب سے جا ری و سا ری ہے ۔ لہذ ا ما ہنا مہ ’’سنگت ‘‘ نے بھی ما رکسزم کی صد ا بلند کی۔ نتیجہ یہ کہ اس کی ہمنو ائی ہر طر ف سے سُنا ئی دینے لگی ۔
یہی گر وہ جب تعطیل کے روز ڈاکٹر خدائے داد کے گھر میں جمع ہو کر پر و فیسر عبد اللہ جا ن جما لدینی کے گھر منتقل ہو ا ۔ میں اس کی مز اج پر سی کے لئے جا یا کر تا تھا۔ وہا ں پہلے سے کچھ لو گ مو جو د ہو تے تھے ، جن میں پر وفیسر نا د ر قمبر انڑ یں بھی شا مل ہو تا ۔ اس سے بھی ملا قا ت رہتی ۔ اس وقت وہ جا معہ بلوچستا ن کوئٹہ میں صد ر شعبہ فا رسی تھا۔ میں نے ایک رو ز اس سے اس خو اہش کا اظہا ر کیا کہ میں ایم اے فارسی میں داخلہ لینا چا ہتا ہو ں تو اس نے بڑی فیاّ ضی سے کہا کہ وہ مجھے اپنے شعبہ فا رسی زبا ن و ادب میں داخلہ دینے کو تیا ر ہے ۔ اور مجھے اگلے روز جا معہ بلو چستا ن آنے کو کہا ۔ چنا نچہ میں اگلے روز صبح جا معہ بلو چستا ن کو ئٹہ کے شعبہ فا رسی میں گیا ۔ پر و فیسر نا در قمبر انڑ یں سے ملا قا ت ہو ئی ، میں نے داخلہ فا رم بھر ا ، اور داخلہ کے لئے انٹر و یو دیا ۔ دوران ملا قا ت پر وفیسر نا در قمبر انڑ یں نے مجھے کچھ کتا بیں بطور تحفہ پیش کیں ، جن میں زیب مگسی کی کتا ب، ’’زیب نامہ ‘‘ (فا رسی )، میر عبد ا لر حمن کر دکی کتا ب شف گر و خ ( براہو ی ) اور کچھ فا رسی رسا ئل تھے۔ جب میں رخصت ہو کر و اپس لو ٹنے لگا تو اس نے مجھ سے کہا ٹہر و میں بھی با زار کی طر ف جا رہا ہو ں ۔ آپ کو لے چلو ں گا۔ اس نے با ہر نکل کر اپنا مو ٹر سا ئیکل نکالا جو خا صا خستہ حال تھا۔ بہر حال اس پر ہم دو نو ں سو ار ہو کر چل دئیے۔
اس کے بعد پر و فیسر نا د ر قمبرانڑ یں سے میر ی ملا قا توں کا ایک سلسلہ شر و ع ہو گیا میں جب بھی قلا ت سے کو ئٹہ آتا ، اُس سے جا معہ بلو چستان جا کر ملتا اور اکتسا ب فیض کر تا اور تقر یباً ہر ہفتہ وار تعطیل کے روز پر و فیسر عبد اللہ جا ن جمالد ینی کے گھر اس سے دیگر احبا ب کے ساتھ ملا قا ت کر تا ۔ دوران ملا قا ت دنیا و ما فیہا کے مو ضو عا ت ، مسا ئل اور امو ر زیر بحث آتے ۔ دو ران ملا قا ت گھنٹو ں بحث و تمحیص کر تا ، اس مو ضو ع کے تما م ما لہ و ما علہیہ پر کما حقہ سیر حاصل گفتگو کر کے سا مع کی علمی تشنگی کو سیر ا ب کر دیتا ۔ میں نے ایک مر تبہ اس سے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں براہو ئی زبان دراوڑ ہے یا آریا ئی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ بر اہو ئی زبا ن نہ تو دراوڑ ہے اور نہ ہی آ ر یا ئی ہے بلکہ سا قا ز با نو ں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اسے انگر یز وں نے غلط طو ر پر اپنے سیا سی مقا صد کے تحت دراوڑ زبا ن قر ار دیا ۔
پر وفیسر نا در قمبر انڑ یں ایک مر تبہ 1994 کے مو سم گر ما غالباً جو لا ئی کی تعطیلا ت میں اپنے بچو ں کے ہمرا ہ قلا ت تشر یف لا یا ۔ تو وہ کالی مند ر میں اپنی بچیو ں کو بھی لے آیا وہا ں اس سے میر ی ملا قا ت ہو گئی اور بلوچ مائتھا لو جی پر خوب با تیں ہو ئیں اور دوسری مر تبہ وہ 2002 میں ہمارے ادبی پر و گرام میں قلا ت تشر یف لا یا ۔ تقر یب کے بعد اس سے تفصیلی ملا قا ت ہو ئی اس نے دوران گفتگو مجھے سے کہا کہ مجھے قلا ت آکر بہت خوشی ہو ئی ہے ۔ کیو نکہ آپ کی صو رت میں کو ئی تو ہمارا نظر یا تی ساتھی مو جو د ہے ۔ یہ اس کا قلا ت کا آخر ی دورہ تھا ، اس کے بعد وہ پھر کبھی یہاں تشر یف نہیں لا یا ۔ بہر حال میں جب کبھی کو ئٹہ جا تا تو اس سے ضر ور ملتا اور اکثر ٹیلی فون پر گفتگو ہو جا تی ۔
پروفیسر نادر قمبرانی نہایت شریف النفس، خلیق، ملنسار، ہنس مکھ ، باغ و بہار اور شائستہ و سادہ شخصیت کا مالک تھا۔ اس میں تکبر و غرور اور نمود و نمائش نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ وہ وسیع المشرب، صاحبِ علم اور اعلیٰ شعری و ادبی ذوق کا حامل تھا۔ اور یہی چیزیں اس کی شعری و نثری تحریروں میں نمایاں ہیں اس نے براہوئی شاعری میں نت نئے مضامین، ترقی پسند اور مزاحمتی اقدار و روایات اور جدید اصناف کو فروغ دیا اور نثرمیں اعلیٰ پائے کی تحقیق، تنقید اور استدلال سے کام لیا۔ اس نے اپنے ایک مضمون ’’ میر گل خان نصیر کی براہوئی شاعری‘‘ میں ترقی پسند نقطہ نظر سے میر گل خان نصیر کی شاعری کا ارتقاء کو واضح کرتے ہوئے اس کی براہوئی شاعری کے مطالعے کو لازمی قرار دیا اور نقادوں کو مندرجہ ذیل الفاظ میں مشورہ دیا ہے۔
’’ میر گل خان نصیر کی شاعری کے تدریجی ارتقا کا جائزہ لینے کے لیے جب کوئی نقاد قلم اُٹھائے تو سب سے پہلے اُن کی براہوئی شاعری کا مطالعہ ضرور کرے کیونکہ میر صاحب نے شاعری کی ابتدا براہوئی زبان سے کی ہے ‘‘۔
’’ براہوئی مزاحمتی شاعری‘‘ میں اس نے ملا محمد حسن ، ریکی اور ملا فراز کی شاعری سے لے کر موجودہ عہد کے شعراء کی شاعری تک، سے مزاحمتی جذبات ، افکار اور خیالات کو اجاگر کیا جو انہوں نے ظلم و جبر، اور استحصال کے خلاف شاعر انہ پیرائے میں پیش کئے۔ یہ مضمون نہایت جامع اور معلومات افزاء ہے۔ اس نے اپنے ایک اور مضمون ’’ براہوئی زبان‘‘ میں براہوئی زبان کی قدامت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں واضح کیا ہے ۔
’’موہن جودڑو کے کھنڈرات سے جو کتبے اور مُہریں دستیاب ہوئی ہیں ان کو سمجھنے کی کوشش جاری ہے ۔ پھر بھی ماسکو اور کوپن ہیگن کے ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ ان کتبوں اور مُہروں پر جو زبان کنندہ ہے وہ یقیناًبراہوئی زبان ہوگی کیونکہ اس خطے میں براہوئی واحد زبان ہے جیسے کہ سندھی زبان میں موہن جودڑو کے معنی ہیں (مُردوں کے کھنڈرات) اور براہوئی زبان میں اس کو کہتے ہیں ( مہنا تا دڑو) یعنی اسلاف کے کھنڈرات اس طرح ہمیں پختہ یقین ہے کہ موئن جو دڑو کے تاریخی کتبے، سکوں اور مُہروں کی زبان جب پڑھی جائے گی تو وہ دوسری زبانوں کی نسبت براہوئی زبان سے زیادہ قریب ہوگی ‘‘۔
پروفیسر نادر قمبرانی نے براہوئی زبان میں ایک کتابچہ رابعہ خضداری پر بہ عنوان ’’ بلبل خضدار‘‘ تحریر کیا ہے ۔ جس میں اس نے حضرت شیخ ابوسعید ابوالخیر کے تذکرے ’’ مجمع الصنعا‘‘ اور شیخ فرید الدین عطار کے تذکرے ’’ الٰہی نامہ‘‘ کے حوالے سے اس کی شخصی زندگی اور شاعرانہ شخصیت کے ان گوشوں کو عیاں کیا ہے جو بلوچستان کے عوام سے اوجھل تھے۔ یہ شاعرہ جو مسلکِ عشق سے تعلق رکھتی تھی، فارسی زبان کی اولین شاعرہ تھی اور اس کا تعلق خضدار سے رہا ہے ۔ اس کتابچے کے مندرجات میں تعارف، داستان اور آخر میں اس کی فارسی غزلوں کے متن کے ساتھ ساتھ ان کا براہوئی شاعری میں ترجمہ بھی شامل ہے۔
یہ مختصر سا کتابچہ اپنے اندرمعلومات کا ایک سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ براہوئی زبان میں پہلا کتابچہ ہے جو رابعہ خضداری کو متعارف کراتا ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد ایسی کوئی تحریر براہوئی زبان میں نہیں پائی جاتی ہے۔
پروفیسر نادر قمبرانی کے مختلف مضامین رسائل و جرائد اور اخبارات میں منتشرہیں اور اب تک ان مضامین کا کوئی مجموعہ شرمندۂ اشاعت نہیں ہوا ہے۔ ان سب مضامین میں اس کا تحقیقی و تدقیقی نکات ملتے ہیں جو اس کے اعلیٰ علمی، ادبی اور تحقیقی ذو ق کا پتہ دیتے ہیں۔اس نے براہوئی نثر کو نہ صرف جدید موضوعات سے لیس کیا بلکہ اسے ایک نئے ترقی پسند اندازِ تنقید و تحقیق سے بھی روشناس کرایا۔ اس کے اندازِ تنقید و تحقیق سے براہوئی نثری ادب سطحی و تاثراتی سطح سے ابھر کر فکری، ادبی اور تحقیقی بلندیوں تک پہنچ گیا۔ اس نے براہوئی زبان کے لسانی مطالعے اور تحقیق صرف و نحو، نشووارتقا ء اور دیگر السنہ سے لسانی روابط سے لے کر اس کے جدید رسم الخط کے خدوخال کی وضاحت تک اس نے موثر کردار ادا کیا۔
پروفیسر نادر قمبرانی نے براہوئی زبان میں افسانے بھی تحریر کیے ہیں، جن میں نیم قبائلی و نیم جاگیرداری براہوئی سماجی تشکیل کی فرسودہ اقدار و روایات کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے ۔ اور اس میں عورت کی مظلومیت کو واضح کیا گیا ہے ۔ اس کے افسانے ’’ حنام بندی‘‘ میں لب کو سودا قرار دیا گیا ہے جیسے کہ پیسوں کے بدلے بھیڑیا بکری کا سودا کیا جاتا ہے ۔ اس کے اپنے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:۔
’’ او تینا زندگی نا سنگتی کن دیرے گچین کرلیس او نیا مٹی دیر ہوا رتما دیر ارا ہزار روپئی ’’ لب‘‘ اود بہاٹ ہلک، او نا بت سودا مَس مگہ او نا ساہ اونا جان سودا مفک ۔ اوتینا سودائے بفیستے نہینا سودائے ۔موت توں قبرتوں او تینا اُست ٹی پاریکہ ‘‘۔ (10)
اسی طرح اس کے افسانے ’’ سیاہ کار دیرے ‘‘ میں سیاہ کاری ایسی رسمِ بد کو نشان�ۂ تنقید بنایا گیا ہے ، جس کی بھینٹ کتنے معصوم اور بے گناہ چڑھ جاتے ہیں۔ اس افسانے کا مندرجہ ذیل اقتباس اس رسمِ بد کے جعلی پن کی کلی کھولتا ہے ۔
اس افسانے میں جہاں سیاہ کاری کی فرسودہ رسم بد کو بے نقاب کیا گیا ہے وہاں سرداروں اور نوابوں کے کردار کو کبھی واضح کیا گیا ہے ۔ پروفیسر نادر قمبرانی کے ایک اور افسانے ’’ اٹ مَٹ‘‘ میں بھی سردار کے طبقاتی کردار کا پردہ فاش کیا گیا ہے نیز سردار اور اسکے بزغروں ( کسانوں) کے مابین طبقاتی تفریق کو بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔
پروفیسر نادر قمبرانی نے شاعری کو کلاسیکی بندھنوں سے آزاد کرکے اس میں جدت، ترقی پسندی، عوام دوستی، قوم پرستی اور مزاحمت ومقاومت کو رواج دے کر براہوئی شاعری میں ایک نئی روایت کی اساس رکھی ۔ اس کی مشہور نظمیں ’’ سوہو‘‘ ، لالہ غلام جان شاہوانی نایات ٹی ، ‘‘ ’’ مونا ہنوک‘‘، ’’ گُل زمین‘‘، ’’ اللہ ہتینے ‘‘ ، ’’ گام گام مونا ہنوک ‘‘ اور دیگر کئی نظمیں اس کی بلوچ قومی تحریک سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بلوچ قومی تحریک جس کی بنیادیں میر احمد اول (1666۔۔۔۔۔۔1696) کے اتحادِ اقوامِ بلوچ کے نظریے اور نوری نصیر خان کے اتحادِ اقوام بلوچ اور اسلامی حنفی شریعت پر مبنی قبائلی قوم پرستی پر استوار تھیں۔1839 میں ریاست قلات پر برطانوی قبضے اور میر محراب خان کی شہادت کے وقت اس میں برطانوی سامراج دشمنی کا عنصر شامل ہوگیا ۔ بعد ازاں ریاستِ قلات کے پاکستان کے ساتھ جبراً الحاق کے وقت بلوچ قوم پرستی مسلح جدوجہد میں تبدیل ہوگئی۔1950 ء اور1960 کے عشروں میں ایوبی فوجی حکومت اور ون یونٹ کے دران یہ ایک نئی شکل میں اُبھری ۔1970 کی دہائی میں جب نیپ ( نیشنل عوامی پارٹی) کی قوم پرست حکومت نو ماہ بعد بلوچستان میں غیر قانونی طورپر تحلیل کردی گئی تو اس میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی جو ضیائی فوجی حکومت کے عہد تک جاری رہی۔1990 کی دہائی میں سوویت یونین کی تحلیل اور افغان ثور انقلاب کی رد انقلاب میں تبدیلی کے وقت یہ مایوسی اور قنوطیت کے اندھیرے میں داخل ہوکر سرد پڑ گئی۔ کیونکہ اس پر اشتراکیت پسندی ماؤ ازم اور چی گویرا کے نظریات کا گہرا اثر تھا۔
یہی وہ دور تھا، جس میں عالمی سرمایہ داری ایک نئے تاریخی بحران سے دو چار ہوئی۔ پیداوار اور کھپت کے درمیان تضاد، اور توانائی کی قلت نے نئی منڈیوں کی ضرورت کو پیدا کیا لہٰذا 9 نومبر کو عالمی تجارتی مرکز کی تباہی کو بہانہ بنا کر عالمی سرمایہ داروں نے امریکہ کی رہنمائی میں افغانستان پر حملہ کردیا ملا عمر کی طالبان حکومت جو پاکستانی آئی ایس آئی اور اسامہ بن لادن کی حمایت یافتہ تھی، کو ختم کرکے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کردی گئی۔ اس سارے ناٹک کے پس پردہ وسطی ایشیا نہ افغانستان اور بلوچستان کی منڈیوں، معدنی وسائل ، سستی محنت اور گوادر بندرگاہ کا حصول کا ر فرما تھا ۔ اس سارے کھیل میں عالمی سرمایہ داروں، اور اُن کے سرخیل امریکہ کے ساتھ پاکستانی فوج اور جنرل مشرف شامل تھے ، لہٰذا بلوچستان پر جبر و استبداد اور فوجی کاروائیوں میں اضافہ ہوا نتیجتاً بلوچ قومی مزاحمت پیدا ہوئی ، جو پہلے کے ادوار کی نسبت زیادہ گہری، منظم اور ہمہ گیر تھی ۔ جس کا نظریاتی اظہار بی ایس او کے 17 ویں کونسل سیشن میں اور عملی مظاہرہ نواب اکبر خان بگٹی کی کوہلو میں شہادت کے بعد ہوا۔
اس تناظر میں پروفیسر نادر قمبرانی کی قوم پرست براہوئی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں اس کے دو مرحلے دکھائی دیتے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں اس کی قوم پرستی میں ایک جوش و ولولہ دکھائی دیتا ہے جو اس کی مذکورہ بالا نظموں میں عیاں ہے ۔ اس مرحلے میں اس نے بہت سی قربانیاں دیں، جس میں اس کی افغانستان میں بارہ سالہ جلا وطنی بھی شامل ہے۔ اور دوسرے مرحلے میں اس کی قوم پرست قیادت جو نوابوں اور سرداروں پر مشتمل تھی، سے مایوسی اور شکستِ ہائے خواب کی کیفیت دکھائی دیتی ہے، جس کی طرف اس نے خود اپنی کتاب کے دیباچے ‘‘ زند نا ندارہ ‘‘ میں اشارہ بھی کیا ہے ۔
پروفیسر نادر قمبرانی کی قوم پرستی قبائلی حدود و قیود تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنے جوہر میں بین الاقوامی تھی، جس میں دنیا بھر کی مظلوم اقوام کی حق خودارادیت بشمول علیحدگی کی جدوجہد کی حمایت اور عالمی پرولتاریہ کی تحریک کے ساتھ ساتھ مقامی پرولتاریہ کی طبقاتی جدوجہد کی وکالت بھی شامل تھی کیونکہ کسی بھی قوم پرستی کی تحریک آزادی میں جب تک یہ عناصر شامل نہ ہوتو وہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے اور بُری طرح شکست فاش سے دو چار ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا وہ مزدوروں اور کسانوں کی محنت کے نغمے بھی الاپتا رہا اس کے مندرجہ ذیل اشعار اس کا بین ثبوت ہیں:۔
’’ بزغر و پوریا گراک
بیوس و بے آسراک
باریتہ و لاغراک
شیر نرو بہادراک
بشتے مبو سنگتاک
مچ مَبو بے سیوتاک ‘‘۔(15)
پروفیسر نادر قمبرانی نے عمر کے آخر ی حصے میں بلوچ قومی تحریک آزادی کے عروج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو بلوچستان کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ذریعے اس نقطے پر پہنچ چکی تھی، جہاں اس کی سابقہ قیادت جو سرداروں اور نوابوں پر مشتمل تھی، اس سے بہت ہی پیچھے کھڑی تھی۔ اب حالات نے اُسے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ جزوی طور پر اپنی سابقہ قیادت کو مسترد کرکے اپنی نئی عوامی قیادت کو تلاش رہی ہے ۔ اور یہی نئی قیادت ہی اس کی اصلی نجات دہندہ ثابت ہوگی۔
بلوچ قومی تحریک آزادی کے محرکات دراصل بلوچستان میں ہر طرف پھیلی ہوئی محرومی ، غربت، پسماندگی ، جہالت اور بیماری ہیں جو مرکزی حکومت پر قابض و غالب قوم کی نو آبادیاتی حکمتِ عملی ہے ، جو اس نے 1947 سے لے کر اب تک بلوچستان میں روارکھی ہوئی ہے۔ اسی قومی اقتصادی استحصال کا ردِ عمل بلوچ قومی تحریک آزادی کی شکل میں نمودار ہوا ہے۔
پروفیسر نادر قمبرانی کو جب 2005 میں صدارتی انعام کے لیے نامزد کیا گیا تو اس نے ’’ نہ صلے کی تمنا ستائش کی پرواہ‘‘ کے مصداق بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر احتجاجاً اسے ٹھکرا دیا۔ اس کی موت نہ صرف بلوچستان کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ اس سے براہوئی ادب کا بھی ایک روشن باب بند ہوگیا ہے۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *