Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » پروفیسر سلطان نعیم قیصرانڑیں ۔۔۔ غلام نبی ساجد بزدار

پروفیسر سلطان نعیم قیصرانڑیں ۔۔۔ غلام نبی ساجد بزدار

سلطان نعیم قیصرانڑیں یکم جون1945 کو قبیلہ کے نہایت معتبر اور مہمان نواز خاندان وڈیرہ گامنڑ خان کے ہاں پیدا ہوا ۔ ابتدائی تعلیم پرائمری سکول پھگلہ سے حاصل کی اور پھر ہائی سکول بارتھی سے سکینڈری سکول تک پڑھا۔ اور یو نیورسٹی آف بلوچستان سے دورانِ ملازمت ایم اے۔ ایم ایڈ کیا۔ سلطان قیصرانڑیں نے اپنی پوری عمر تعلیم حاصل کرتے اور علم دیتے گزار دی ۔ضلع ژوب میں مدرس ، پشین، میںEDOاور اگروٹیک کالج میں بی ایڈ کے ٹرینر اور پھر ماڈل ہائی سکول نوشکی میں ایک عرصے تک بطور پرنسپل خدمات سرانجام دینے کے بعد2005 میں ریٹائر ہوا۔ سلطان صاحب کا شمار میرے نہایت شفیق استادوں میں ہوتا ہے۔ ایک پسماندہ اور قبائیلیت زدہ معاشرے میں ہونے کے سبب درد بھی مشترک رہے۔ وہی ذہنی اور اقتصادی پسماندگی اُس پر پُرکھوں کی روایت کو زندہ رکھنے کا عزم۔۔۔۔۔۔ سلطان صاحب ایک فکر کا نام تھا جس میں سرقبیلوی نظام اور علاقائی انتظامیہ کی ریشہ دوانیاں ایک چیلنج تھے۔ نوجوانوں میں فکری اعتبار سے ایک تبدیلی پیدا کرنے اور ہر جبر، نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں علاقائی پولیس نے قتل کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا۔ سلطان صاحب ڈیرہ غازی خان سنٹر جیل میں تھا جب مجھے ایک نہایت نفیس انسان سے ملاقات شرف نصیب ہوا ۔یہ 1980کے اوائل کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔ اپنی سمجھ ۔ کے مطابق چند کتابیں پیش کیں تو مسکرا کر فرمایا ’’ شکر ہے کہ میری محنت رنگ لائی ، کوئی تو ہے جس نے اس ٹرائبلClash کے دنوں میں کارتوس، اور بندوق کے بجائے کتابیں بھی پیش کیں‘‘۔
سلطان صاحب وہ پہلے مفکر تھے ، جنہوں نے بلا خوف و خطر احباب میں ، مجالس میں اور یہاں تک کہ ہفت دسمبر کے عوامی جلسوں میں کھل کر یہ بات کی کہ ہمارے تمام تر دُکھ دراصل اس پیچیدہ سرداری نظام کی وجہ سے ہیں۔ گل خان نصیر کی طرح سلطان صاحب بھی ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے کہ سردار اور سرکار کی گٹھ جوڑ لوگوں کو باہم دست و گریباں رکھے ہوئے ہے۔ انہیں یقین تھا کہ اگر بلوچ قبائل میں باہمی منافرت ، بُعد اور Clash کے فضا پر قابو پایا جائے تو سردار وڈیرہ اور سرکاری گماشتے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔۔۔۔۔۔
سلطان صاحب عمر خیام کی رباعیات کو بلوچی میں منظوم ترجمہ کررہے تھے۔ اللہ بخش بزدار اور کریم بخش کدن جو فارسی زبان پر سند مانے جاتے ہیں بھی کوئٹہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ اتوار کی صبح اُن رباعیات کا ترجمہ زیر غور رہتے تھے ۔
وہ عبداللہ جان جمالدینی کے ہاں ہر اتوار کو دیرتک دوستوں کی محفل میں موجود ہوتا۔۔۔۔۔۔ کمال فنکار اور علمی مہارت سے اپنی بات کرتا ۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی اختلاف رائے پر سیخ پا نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔ جو ایک عالم کی پہچان ہے ۔۔۔۔۔۔ میں نے جب بھی کوئی پسندیدہ شعر، خیال Shareکیا تو ایک نہ بھولنے والا فقرہ ارشاد فرماتا جو آج تک کانوں میں گونجتی ہے۔’’ دوستوں کی پسند، اچھی اور لاجواب ہی ہوتی ہے ‘‘ ۔ہم جونیئر ساتھیوں کا ہمیشہ حوصلہ بڑھاتا اور لکھنے، لکھانے کی ترغیب دیتا۔۔۔۔۔۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ہم دوست اپنے اپنے برادرانِ یوسف کے رویوں کا دکھڑا لے کر سلطان صاحب کے ہاں جاتے ۔۔۔۔۔۔ نہایت خوبصورت سامع ہونے کے ساتھ، بہت خوبصورت حل بتانے کی مہارت رکھتے تھے ۔۔۔۔۔۔ لیکن : اب وہ درد کا تاجر دکان چھوڑ گیا ہے ۔سلطان صاحب دنیا سے کیا گیا۔۔۔۔۔۔ ایک عہد، ایک نظریہ اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔۔۔۔ ایک دوست نے کیا خوب کہا۔۔۔۔۔۔ پانچ، چھ لوگ تھے، مشرقی بلوچستان سے ۔۔۔۔۔۔ اُن میں سے بھی سلطان صاحب داغ مفارقت دے گیا۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ انہیں رحمتوں اور بخشوں سے نوازے۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *