Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » پاکستانی اردو افسانہ سیاسی و تاریخ تناظر میں ۔۔۔ تبصرہ: شاہ محمد مری

پاکستانی اردو افسانہ سیاسی و تاریخ تناظر میں ۔۔۔ تبصرہ: شاہ محمد مری

نام کتاب: پاکستانی اردو افسانہ
سیاسی و تاریخ تناظر میں
محقق: طاہرہ اقبال
تبصرہ: شاہ محمد مری
سال: 2015
صفحات: 740
قیمت: 1500 روپے
پبلشرز: فکشن ہاؤس

طاہرہ اقبال کی کتاب ’’ پاکستانی اردو افسانہ‘‘740 صفحات کی اتنی موٹی کتاب ہے کہ کسی کے سر پرمارو تو ہسپتال بہ مشکل پہنچے۔ مگر کتاب کا موٹاپاکہیں آپ کو اس غلط فہمی میں نہ ڈال دے کہ اس کی مصنف بھی اتنی صحت مند اور موٹی تازی ہے ۔نہیں، نہیں۔طاہرہ خود بہت ہی لاغرخاتون ہے ۔ قحط زدگی کی حد تک پتلی۔
اُس نے اِس تحقیقی کتاب کے علاوہ چار افسانوی مجموعے لکھے ہیں: سنگ بستہ، ریخت ، گنجی بار اور ، زمیں رنگ۔اُس کے ناولٹ کا نام ہے : مٹی کی سانجھ ۔ دوزیر طبع ناول ہیں: گراں، نیلی بار۔ ایک اورتحقیقی تنقیدی کتاب ہے جس کا نام ہے: منٹو کا اسلوب ۔ نگیس گم گشتہ ، کے نام سے سفر ناموں کی ایک کتاب بھی ہے۔
نرم گرفتار مگر گرم اور گرمجوش قلم۔ بلوچوں سے ہمدردی رکھنے کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کی بے گناہی ثابت کرنے کا روایتی پنجابی عَلم بلند کیے طاہرہ وہاں سے ہر طرح کی ون یونٹی زیادتیوں سے انکار کرتی جاتی ہے۔ اقرار کرے گی بھی تواُسے ایک فرد کی خطا کاری قرار دے کر بقیہ پانچ دریاؤں کو بَری قرار دے گی ۔۔۔۔۔۔
طاہرہ اقبال ایک روشن فکر افسانہ نگار ہے ۔ اُسے سماج بالخصوص دیہی سماج پہ مسلط فیوڈل ازم کی چیرہ دستیاں بیان کرنا آتا ہے۔ وہ اِس نظام سے نفرت کرتی ہے ۔ اسے تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتی ہے ۔ ہمارے ماہنامہ سنگت میں اُس کا ہر بھیجا ہوا افسانہ معزز و محترم جگہ پاتا رہا ہے۔ اُس کے حج پہ جانے اور اُس کے بعد پی ایچ ڈی مقالے کی تیاری اور اشاعت کے سبب گو کہ اب یہ سلسلہ سست رفتار ہوگیا ہے ۔ ہم قارئین کے مطالبات بھگت رہے ہیں اور طاہرہ اقبال ’’ جیسے یہ نہ جانتی ہو ‘‘ کی مکمل تصویر بنی ہوئی ہے ۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ ’’سنگت‘‘ کے بلوچستان میں طاہرہ اقبال کو خوب پڑھا جاتا ہے اور اُس کی تکریم کی جاتی ہے۔جو انسان اس قدر اچھے افسانے لکھ سکتی ہے وہ افسانہ کی پرکھ پہچان میں کس قدر ماہر ہوگا۔
کتاب کے کل پانچ ابواب ہیں اور ہر ایک باب میں اوسطاً چار فصل ہیں۔
پہلے باب میں1900 سے 1947 کی تقریباً نصف صدی کے دورانیے میں افسانے کی حالت کا تذکرہ ہے۔ جس کی ذیلی فصلوں کے عنوانات یوں ہیں: تمھیدی مباحث ، تاریخ وسیاست سے ادب کا تعلق، پاکستان کی تاریخ کا مختصر پس منظر اور ، قیام پاکستان سے پہلے اردو افسانے میں تاریخی و سیاسی حالات کی ترجمانی۔اس باب کے آخر میں164 حوالہ جات دیے گئے ہیں۔
شروع کا یہ حصہ جو ’’ تمھیدی مباحث‘‘ نام رکھتا ہے غیر ضروری دُم لگتا ہے ۔ سیاست کیا ہے، تاریخ کیا ہے، تاریخ اور سیاست سے ادب کا تعلق۔ ایک تو یہ موضوعات معلوم باتیں ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ یہاں مصنفہ خود کھل کر کچھ نہ بولی۔ جن لوگوں کے حوالوں سے وہ بات کرتی رہی وہ بس مین سٹریم کے جگالی کنندگان ہیں جو بات کو اتنا گوندھتے ہیں کہ بات کی حرمت اور قدر گم ہوجاتی ہے۔
اردو لکھنے والوں کی ایک عمومی بیماری یہ ہے کہ وہ جب بھی برصغیرکی بات کررہے ہوتے ہیں تو یک دم ساری تاریخ کو کندچھری سے دو حصوں میں کاٹ دیتے ہیں:ہندوؤں اور مسلمانوں میں ۔اس موضوع پر ساری روشن فکری مسلمان بن جاتی ہے ۔ پھر محمد بن قاسم اور ،راجہ داہر کی بیٹیاں رہ جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی آمد در آتی ہے۔ مسلمانوں کی حکومت کا ہزار سالہ دور انہیں یاد آجاتا ہے (وہ مغل، ترک، غزنوی، اور غوری حکمران کو’’ مسلمانوں کا دور‘‘ کہتے ہیں)۔ انہیں گنگا جمنی کے علاوہ کوئی دریا سوجھتا ہی نہیں۔ کس حسرت سے ’’ مسلمانوں کے طویل اقتدار کا خاتمہ ‘‘ کا تذکرہ ہوتا ہے۔
چونکہ طاہر ہ اقبال بھی مکمل طور پر ملا عبدالعزیز کا برقعہ پہن کر یہ باب لکھتی رہی ہے اس لیے اُسے انگریز اور مسلمان کے اصطلاحات یاد رہتے ہیں۔ ایسا دانشی جرات وہ نہیں کرتی کہ اگر وہ انگریز تھا، عیسائی نہیں تو یہ بھی لکھ دیتی کہ یہاں اس کا مقبوضہ بلوچ، سندھی پنجابی تھا مسلمان نہیں۔ مگر وہ بھی اُسی سازش کا شکار ہوجاتی ہے جس طرح دوسرے اردو لکھاری۔ بھئی سیدھا عیسائی مسلمان لکھو۔ نہیں۔ سنڈیمن بدمعاش محض انگریز ہے اور بہادر شاہ ظفر بدمعاش ہوتے ہوئے بھی ترکمن نہیں بلکہ مسلمان ہے۔ (جب تک اللہ اِن لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اُس وقت تک ہم مٹی کے ڈھیر کے نیچے پڑے ہوں گے!)۔
پھر جب بھی انہیں کسی مصلح و انقلابی کی تلاش ہوتی ہے تو اِن سب کی نظریں محراب خان شہید ،ہو شو شیدی، کاکا جی صنوبر حسین پہ نہیں پڑتیں بلکہ اُن کے ڈیلے انگریز ایجنٹ ’’ سر سید احمد خان میں پھنس جاتے ہیں‘‘۔’’ہندوستان کے مسلمان، ہندوستان کے مسلمان‘‘، ’’ علی گڑھ تحریک‘‘۔ طاہرہ آزادی کی ہماری تلخ و طویل جنگ کو تحریک نہیں کہتی ، احمد خان کے یک نفری کام کو تحریک کہتی ہیں۔
سر سید سے نکلتی ہے تو بالکل شب کور ہوجاتی ہیں اور وہ سیدھا1947 تک آجاتی ہے۔ درمیان میں اسے کوئی نظر نہیں آتا ۔ نہ میامی کی جنگ، نہ نفسک و ساڑتاف ،گمنبد و ترک و گوخ پروش کی جنگیں۔۔۔۔۔۔ کیسے دانشور ہم نے پال رکھے ہیں۔ اسے ترنگزئی، غفار خان، یوسف عزیزمگسی ، امین کھوسہ ، صمد خان اچکزئی، عبدالعزیز کرد، عنقا کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔
لہٰذا یو پی سی پی، لدھیانہ، مسلم لیگ ، سیالکوٹ ہی تاریخ اور تاریخ کا جغرافیہ ہے اور ۔۔۔۔۔۔ پھر پاکستان بن جاتا ہے ۔ کسی جنگِ آزادی، کسی شہید کا ذکر تذکرہ نہیں۔ لہٰذا جیسا پہاڑو یسے جانور کے مصداق وہ انہی افسانہ نگاروں کا تذکرہ کریں گی جو سرسیدی پہاڑکے جانور ہیں۔
دوسرا باب ’’ نوزائیدہ مملکتِ پاکستان کے مسائل اور اردو افسانہ‘‘ ہے۔ یہ 1947سے 1958 تک کا دور ہے جس میں اُس نے پاکستان کے ابتدائی مسائل ، ہجرت کا موضوع اور اردو افسانہ، مسئلہ کشمیر اور اردو افسانہ، مسئلہ فلسطین اور اردو افسانہ کے موضوعات سے زبردست کُشتی لڑی ہے۔یہاں اردو افسانہ زیادہ تر پنجاب اور ہندی مہاجروں کے اُن مصائب پر مشتمل ہے جو تقسیم ہند کے دوران فسادات پر مبنی ہے۔
نیا ملک بھی انہی دو کمیونٹوں کی تمناؤں کے ٹوٹنے کے واقعات جنم دیتا رہا ۔ کلیم، لوٹ مار، بے یقینی اور چھینا جھپٹی اُسی روز سے اِن دونوں کمیونٹیوں کی نفسیات میں یوں گھل مل گیا کہ آج تک بقیہ پاکستان اُس کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔
259 حوالہ جات سے مزّین اِس باب میں عرق ریزی اور محنت اپنے عروج پہ ہے۔
کتاب کا تیسرا باب’’ اردو افسانہ پر مارشلا اور جنگوں کے اثرات‘‘ پر مشتمل ہے جو کہ 1958 سے 1971 تک کے درد ناک زمانے کا احاطہ کرتا ہے ۔
مارشل لا کھل کر بات کرنے کہاں دیتا ہے۔ لہٰذا اب افسانہ الفاظ اور فقروں سے ایسی آنکھ مچولی میں لگ گیا کہ ابلاغ کا ایک بالکل ہی نیا اور متبادل نظام سامنے آگیا ۔ علامتی بات، تجریدی بات، گرفت سے بچنے والی بات ۔۔۔۔۔۔ چونکہ مارشل لا ہمیشہ اسلام لاتا رہتا ہے اس لیے اسلامی باتیں افسانہ کا جزوِ لانیفک ٹھہریں۔ اوپر سے فلسطین اور کشمیر کے المیوں نے انسانی کی بجائے پنجاب اور کراچی کے درمیانہ طبقے میں مذہبی رنگ اختیار کی ۔ لہٰذا افسانہ میں الفاظ، اصطلاحات،اور استعارے مذہبی لغات والے در آئے ۔ اسی زمانے میں پاکستان ہندوستان جنگیں ہوئیں۔ چنانچہ مذہبی رنگ والی حب الوطنی کا ادب تخلیق ہو نا فطری بھی تھا اوراسٹبلشمنٹ کی مرضی بھی۔
واضح رہے کہ اس باب میں قیام بنگلہ دیش ( جسے مصنفہ’’ سقوط مشرقی پاکستان‘‘ کے معنی خیز نام سے یادہ کرتی ہے ) کا عرصہ بھی شامل ہے۔بنگال کا بنگلہ دیش ہوجانا گو کہ دو قومی نظریہ کا حقارت کے ساتھ باطل ثابت ہونا ٹھہرا، اور کچھ افسانے اس واقعہ سے سبق لینے کا اشارہ بھی کرتے ہیں مگر عمومی مزاج تو سیٹ ہوچکا تھا، اُس میں کم ہی تبدیلی آئی ۔ جمہوریت ، بھٹوئی نعرے بازی، بلوچستان میں فوج کشی جیسے بڑے واقعات بھی ادبی قلعے کو ہلانہ سکے ، جسے ریاست نے بہت استادی سے حصار بنا دیا تھا۔
تین فصلوں پر مشتمل اس باب میں274 تحقیقاتی حوالہ جات موجود ہیں۔
چوتھا باب1977 سے لے کر 1988 کے برسوں پہ محیط ہے جسے طاہرہ ’’ شدت پسندی کا عہد‘‘ کہتی ہے۔ یہاں مردِ مومن کے مارشل کا فصل ہے، بھٹو کی پھانسی دوسرا فصل ہے اور ’’ سند ھ کے نسلی و لسانی مناقشات میں اردو افسانہ‘‘ کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ شہروں کے مڈل کلاس میں ضیا کے مارشل لا کی مقبولیت زبردست تھی۔ ڈیرہ غازی خان ہائی سکول سے لے کر پنجاب یونیورسٹی تک طلباء، اساتذہ ، کلرک سب جماعت اسلامی کے قبضے میں تھے ( اور آج تک ہیں)، اور جماعت اسلامی ضیا کے ساتھ تھی۔ مگر جب ضیا ذرا زیادہ طویل ہونے لگا تو خواتین، وکلا اور سیاسی پارٹیوں کا ایک حصہ محرومیت کو محسوس کرنے لگا۔ بالخصوص بھٹو پھانسی نے( اُس کی پارٹی لیڈر شپ کو چھوڑ کر )ورکرز اور عوام الناس کو جھنجوڑ ڈالا۔ اس قدر کہ لگتا تھا کہ انقلاب ہی آئے گا مگر انقلاب، یہاں کی بجائے افغانستان میں آیا۔ پاکستان رجعتی اسٹبلشمنٹ نے یک دم اُس کی مخالفت میں امریکہ اور یورپ کو ساتھ لیا، مشرقِ وسطی کے شاہوں شیخوں کے پنجوں کی گرفت والی ریاستوں سے پیسے لیے اور ہر محاذ پر سوشلزم کے خلاف لڑائی شروع کی۔ مذہبی شدت پسندی اور جنونیت سرکاری ترانہ، نعرہ ، افسانہ ، ناول،صحافت کا موضوع رہیں۔
فہرست کے صفحہ نمبر اور اصلی صفحہ نمبروں میں فرق والے اس باب میں کل297 حوالہ جات سے استفادہ کیا گیا ہے۔
آخری پانچواں باب 1991 سے 2015 تک ہے جسے اس نے ’’ دہشت گردی کا موضوع اور اردو افسانہ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہیں اسلامی ایٹم بم دھماکے پر، ایٹمی سائنس کے پی ایچ ڈی سائنسدان چاغی کے دوستیں وڈھ کی سنسانی کو نعرہِ تکبیر کی صداؤں سے گونجواتے رہے ۔ شروع میں افسانے نے خیر مقدم کہا بعد میں آنکھیں کھلیں تو ’’ غلط غلط‘‘ کی مدہم آوازیں بھی آنے لگیں۔
سوویت یونین روس بن گیا۔ نجیب، چوک میں پھانسی چڑھا۔ ملا عمر نواز شریف کی تشنہ آرزو پر پانی پھیر کر خودامیر المومنین بن گیا۔ داڑھیاں ناپی جانے لگیں، گلے کٹنے لگے، بم پھٹنے لگے۔ الغرض جو کچھ حکمرانوں نے بویا تھا وہ اب انہیں مل رہا تھا۔ گو کہ پنجاب پھر بچ گیا اور خیبر پشتونخوا ہ برباد ہوا۔
’’ بلوچستان کا مسئلہ اور اردو افسانہ بھی اسی باب میں شامل ہے ، پتہ نہیں کیوں؟ ۔اِس اچھی انسان کی نیت پہ ہم کیوں شک کریں۔بلوچستان رجعتی لکھاریوں کوتو متفق کرگیا جنہوں نے اسے ہمیشہ را ، خاد کے حقیر تناظر میں دیکھا۔ مگر عوام پسند لکھاریوں کو اپنی طرف مائل نہ کرسکا۔ محض ’’ چند‘‘ بلوچ اور ’’ بہت ہی چند‘‘ غیربلوچ ادیب بلوچ درد کو سمجھ سکے۔ مگر وہ بھی بہت مشروط طور پر ، اگر مگر سے پُر۔
اس باب کے بقیہ تین فصلوں میں ایٹمی دھماکے اور اردو افسانہ، مشرف مارشل لا، اور، نائن الیون کے پس منظر کا اردو افسانہ شامل ہیں۔
225حوالہ جات کے اس باب کے بعد نو صفحات پر مشتمل ماحصل دیا گیا ہے۔

Check Also

jan-17-front-small-title

غدار ۔۔۔۔ مبصر : عابدہ رحمان

مصنف: کرشن چندر ’غدار‘ کرشن چندر کا وہ شاہکار ناول ہے جو ہندوستان کی تقسیم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *