Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » پانی دو بجلی دو۔۔۔ نئے سال کی پُرانی کہانی ۔۔۔ ناصر رحیم۔ گوادر

پانی دو بجلی دو۔۔۔ نئے سال کی پُرانی کہانی ۔۔۔ ناصر رحیم۔ گوادر

1958 سے قبل عمانی دور میں گوادر میں پانی کی فراہمی کنوؤں کے ذریعے ہوتی تھی۔ پائپ لائن سے میٹھے پانی کی فراہمی کا آغاز نیپ کے دور حکومت میں ہوااوراس کے ساتھ ہی پہلے ’’ پانی د و ‘‘ بن گیااور پھر کچھ ہی سالوں بعد بجلی بھی ’’ دو ‘‘ہوگئے اور ہر طرف ’’ پانی دو بجلی دو ‘‘کی صدائیں گونجنے لگیں جو آج تک رکنے میں نہیںآتیں۔
1970 کی دھائی میں گوادرکو پانی کی فراہمی کے لئے آنکاڑہ ڈیم نمبرایک بنا۔ بھٹو کے سات سالہ دور حکومت کے بعد جنرل ضیا نے ملک کا انتظام سنبھالا۔قومی منظر نامہ بدلا۔ ملک میں نظام مصطفی ،نفاذ اسلام اور بحالی ء جموریت کے نعرے گونجے مگرگوادر پانی دو ، بجلی دو کے گرداب سے نہ نکل سکا۔ غیر جماعتی الیکشن ہوئے، جونیجو وزیر اعظم بنا، گوادر کو پہلا سینیٹر ملامگر پانی اوربجلی ’’ دو ‘‘ ہی رہے۔
1988 آیا تو ، بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں جمہوریت کی گاڑی چلی، گوادر فش ہاربر کا افتتاح ہوا، آنکاڑہ ڈیم نمبر دو بنا، مگر گوادر کی دیواریں پانی دو اوربجلی دو کے نعروں سے سرخ، سبز اورسیاہ ہوتی رہیں۔ پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہوا۔غلام اسحاق خان کی جگہ فاروق لغاری امپائر بنامگر کھیل میں کوئی خلل نہیں پڑا ۔نواز شریف کی دوسری اننگز میں وفاقی اورصوبائی وزرا ء کی ایک ڈیزرٹ سفاری کراچی سے بذریعہ کار کچے راستوں سے ہوتی گوادرپہنچی اور کراچی ٹو گوادرکوسٹل ہائی وے کامنصوبہ زیر بحث آنا شروع ہو،ملک ایٹمی طاقت بن گیامگر گواد ر پانی اور بجلی کے آسیب سے نکل نہ پایا ۔
1999 میں قومی منظر نامہ پھر بدلا۔جنرل پرویز مشرف آیا اور اپنے ساتھ کیا کچھ نہیں لایا۔ میگا پراجیکٹس؛ مکران کوسٹل ہائی وے، گوادر ڈیپ سی پورٹ، میرانی ڈیم وغیر ہ وغیرہ۔ تاریخ میں پہلی بار گوادر کے لئے مخصوص ادارے بنے ؛گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی۔ لہڑی صاحب خود تو پیر و مرشدنہیں تھا مگر ضرور کسی پہنچے ہوئے سے گوادر کی نحوست کا توڑ معلو م کرآیا تھا۔ اور پھر اس کی سر براہی میں ڈیسالینیشن پلانٹس کا فیشن چل نکلا۔ بات گراب ہاؤسنگ اسکیم سے شروع ہوئی اور کارواٹ تک پہنچی۔ لوہے کی چادریں بنانے والے سمندرکے پانی کومیٹھا کرنے لگے۔ ۔ خشک اوربنجر زمینوں سے سونا اُگلنے لگا۔ خواب حقیقت بننے لگے، کراچی کا دودن کا سفر آٹھ گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ لوگ بال بنانے اور ڈنر کھانے کراچی جانے لگے ۔ریگستانوں میں سڑکیں اور عالی شان عمارتیں بنیں اوربن کر خاک ہوئیں۔گوادر برانڈ نیم بن گیا مگر پانی اور بجلی ’’ دو ‘‘کے ’’ د و ‘‘ رہے۔
وقت نے پھر کروٹ لی۔ عدلیہ سر گرم ہوا۔ بے نظیر قتل ہوئی۔ زرداری کے بعد نواز شریف کا تیسرا دورآیا۔ بلوچستان میں پہلی بارمکران کو وزارت اعلیٰ نصیب ہوئی۔چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے عظیم الشان منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوا اور گوادراربوں ڈالر کے اس منصوبے کی ماتھے کا جھومرٹہرا۔لوگ چینی زبان سیکھنے کی تیاریوں میں جُت گئے مگر نہ پانی ایک ہوا اور نہ ہی بجلی۔
28ستمبر 2015 کو گوادر کے پاکستان بننے کی 57 ویں سالگرہ کے وقت سے ہی پانی کی ممکنہ قلت اور بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی کے شدید بحران کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ گذشتہ پانچ سالوں میں قلت آب کا یہ دوسرا بڑا اور شدید بحران ہے۔ ان پانچ سالوں سے قبل میرانی ڈیم بن چکاتھا، سوڈ اور شادی کور ڈیم کے منصوبے شروع ہوچکے تھے، کارواٹ سمیت، بی ڈی اے، بی سی ڈی اے اور جی ڈی اے ڈیسالینیشن اور آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے خرچ کرچکے تھے مگر پھر بھی وہ ہو کر رہا جس کے ہونے کا سب کو یقین تھا۔
بہت سال پہلے میرے ایک دوست نے ہمارے سدا بہار نعرے یعنی پانی دو بجلی دو کی تشریح ذرا مختلف انداز میں کی تھی؛ بجلی دو یعنی دو عدد ایک غریب غرباء والی بجلی جس کاکوئی بھروسہ نہیں ،اور دوسر ی بجلی و ہ جس پر لوڈشیڈنگ کا اثر نہیں ہوتا۔اسی طرح پانی بھی دو، ایک وہ جس کے لئے دن گننے پڑتے ہیں، وال مین کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، اور دوسری وہ جو ٹینکیاں بھرنے کے بعد باغبانی کے لئے استعمال ہوتی ہے یا لان میں چھوڑ دی جاتی ہے۔
خوش قسمتی سے صورتحال تھوڑی سی تبدیل ہوئی ہے، اب ہمارے لئے پانی دو کی جگہ تین ہوچکے ہیں؛ ڈیسالینیشن پلانٹ کا پانی جو بے حدمہنگاہونے کے باوجود پینے کے قابل نہیں، ٹینکروں کا پانی جس کی کوالٹی اور سپلائی کے انتظام پر کوئی خوش نہیں اور کنوئیں یا بورنگ ک�أکھارا پانی جس کے لئے کوئی کسی کا محتاج نہیں۔
ستمبر1958سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے، سوائے پانی کے۔ گوادر اورگرد ونواح میں روزمرہ استعمال کا پانی تب بھی کنوؤں کا ہوتا تھا اورآج بھی کنوئیں اور بورنگ شہر میں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *