Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » وہ بیچارہ ۔۔۔ محمد جمیل اختر

وہ بیچارہ ۔۔۔ محمد جمیل اختر

اس کے پاوں کچھ عجیب سے تھے ایک پاوں بالکل ٹیڑھا اور گول تھا اور دوسراتھوڑا کم گول تھا۔ اتنی معذوری سے تو کچھ نہیں ہوتا۔
وہ دوڑنہیں سکتا تھا لیکن چل لیتا تھا ، جو پاوں کم ٹیڑھا تھا اس پر وزن دے کر آگے بڑھتا تھا ، اس کو اس کے بھیا نے بچپن سے سمجھایا تھا کہ پاوں خراب ہونے سے کچھ نہیں ہوتا اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی دونوں ٹانگیں نہیں ہیں ۔ لیکن دنیا نے اس کو بچپن سے سکھایا تھا کہ بھیا غلط کہتے ہیں۔
پہلی بار اسے معذور ہونے کا سبق اس کے استاد نے سکھایا ۔ 
سکول کا وہ پہلادن جب وہ اپنے بھائی کیساتھ گاو ں کے پرائمری سکول میں پہنچاتھا
’’استاد جی یہ میرا بھائی ہے سلطان احمد‘‘
’’تو پھر میں کیاکروں۔‘‘ استاد نے اس کے پاوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی وہ نا اسے بھی سکول میں داخل کردیں ۔‘‘ بھیا نے کہا
’’اوہ اچھا تو اب یہ بھی پڑھے گا۔ لیکن یہ معذوروں کاتو سکول نہیں ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر استاد جی ہنسنے لگ گئے اور بھیا پریشان ہوگئے
وہ اس وقت بہت چھوٹا تھا اسے سمجھ نہ آئی کہ استادجی کیوں ہنسے اور بھیا پریشان کیوں ہوگئے اور سب سے مشکل بات کہ وہ معذور ہے تو کیسے معذور ہے؟ اس کا نام تو سلطان احمد ہے تو پھر یہ معذور کون ہے اگر وہ معذور ہے تو پھر سلطان احمد کون ہے۔۔۔
کئی روز اسے سمجھ نہ آسکی کہ آخر وہ معذور ہے یا سلطان احمد؟ سکول میں استاد جی اسے معذور کہتے اور گھر میں اسے سلطان احمد ۔ پہلے وہ سمجھا سکول میں سب بچوں کو شاید معذور کہہ کر بلاتے ہوں لیکن استاد جی صرف اسے ہی معذور کہتے تھے۔ ایسا کیوں ہے ایک ہی سوال جس کا جواب اسے معلوم نہیں تھا۔
بھیا ، یہ معذور کیا ہوتا ہے؟
کیوں تم نے کیا کرنا ہے ؟
وہ استاد جی کہتے ہیں میں معذور ہوں۔
وہ جھوٹ کہتے ہیں ، تم معذور نہیں ہو، سمجھے؟
’’ جی سمجھ گیا‘‘ اور اس نے بھائی کی بات ذہن میں بٹھا لی کہ وہ سلطان احمد ہے اور یہ جو معذور ہے یہ کوئی اور ہے۔
اگلے روز استاد جی نے جب کہا ’’اوئے معذور ، ادھر آنا‘‘ ، تو سلطان احمد نے کھڑے ہوتے ہی کہا، استاد جی میں تو معذور نہیں ہوں 
’’کون کہتا ہے تم معذور نہیں ہو؟‘‘
بھیا کہتے ہیں 
اچھا تو پھر لنگڑا کر کیوں چلتے ہو؟
’’وہ تو جی میرے پاوں خراب ہیں ، معذور تو نہیں ہوں جی۔۔۔‘‘
’’اوئے کاکے تیرے بھیا نے یہ نہیں بتایا کہ جس کے پاوں خراب ہوں وہ معذور ہی ہوتا ہے۔‘‘
پر بھیا کہتے تھے کہ وہ معذور نہیں ہے ۔ اسے پورا یقین تھا کہ بھیا سچ کہتے ہیں وہ بچپن سے ہی بھائی کی انگلی پکڑکر چلا تھا۔ بھیا ہر سال اپنی جماعت میں پہلے نمبر پر آتے تھے سب کہتے تھے وہ بہت لائق ہے سو ایسا لائق بندہ جھوٹ کیونکر بولے گا۔
سو اس نے دنیا کو جھوٹا ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، وہ دل لگا کر پڑھتا کہ کہیں وہ فیل ہوگیا تو لوگ کہیں گے کہ یہ اس لیے فیل ہوا ہے کیونکہ یہ معذور ہے ۔جب وہ آٹھویں میں تھا تواس کے ہم عمر لڑکے اب کرکٹ گلی میں کھیلنے کی بجائے بڑے گراونڈ پر کھیلنے جاتے تھے گلی میں سلطان بھی کرکٹ کھیلتا تھا وہ رنزیں نہیں دوڑتا تھا وہ بس اپنی جگہ پرکھڑے کھڑے شاٹس مارتا کوئی کہتا کہ تم بھاگ نہیں سکتے تو اپنی معذوری کا بہانہ بنانے کی بجائے کہتا کہ’’ میں اصل میں ہٹر ہوں یہ ایک دو رنزکے لیے نہیں جاتا‘‘ ۔جب فیلڈنگ کی باری آتی تو وہ وکٹ کیپر بن جاتا اور دیوار کے سہارے کھڑا رہتا اور کہتا ’’میں اس لیے وکٹ کیپر کھڑا ہوتا ہوں کیونکہ میں اچھے کیچ پکڑتا ہوں۔ ‘‘
جب سب لڑکوں نے کہا کہ اب وہ بڑے گراونڈ پر کھیلنے جایا کریں گے تو وہ پریشان ہوگیا کہ وہاں کیسے جائے گا اگر جائے گا بھی تو کھیلے گا کس طرح ۔بڑاگراونڈ ایک تو تھا بہت دور دوسرا وہاں تو کوئی ایسی دیوار بھی نہیں تھی کہ جس کے سہارے کچھ دیر کھڑا رہاجائے۔ وہاں سارا وقت کھڑے رہنا تھا اور وہ بھی اپنے پاوں کے سہارے پر ۔لیکن وہ بڑے گراونڈ پر کھیلنے جاپہنچا۔اس کو ڈر تھا کہ اس کے دوست کہیں گے کہ بیچارہ معذور ہے سو اتنی دور کیسے آسکتا ہے لیکن اس کے بھیا جو ، اب شہر میں ایک کالج میں پڑھتے تھے ، جب بھی گھر آتے اسے یہ نصیحت ضرور کرتے کہ سلطان احمد ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا خود کو کبھی معذور نہ سمجھنا۔
شروع شروع میں تو اس کے پاوں میں ایسا شدید درد ہوتا کہ رات کو وہ چارپائی پر صرف پہلو ہی بدلتا رہتا اس کا جی چاہتا کہ زور زور سے رونا شروع کردے اور اگلے دن بالکل بھی بڑے گراونڈ پر نہ جائے لیکن وہ روتا نہیں تھا کہ کہیں کوئی اسے کمزور نہ سمجھ لے اور پھر اگلے روز سہ پہر کو لڑکے گراونڈ پر جارہے ہوتے تو یہ بھی ساتھ ہو لیتا کہ کوئی نہیں آج درد نہیں ہوگا لیکن درد نے اسکی کبھی نہیں مانی ۔
لیکن پھر وہ اس درد کا عادی ہوگیا اور اسے محسوس بھی نہ ہوتا کہ ٹانگیں درد کر رہی ہیں تو کیوں کر رہی ہیں ۔
اس نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا، اس کا خیال تھا کہ اسے بھی بھیا کے پاس لاہور جاناچاہیے لیکن سب نے کہا کہ لاہور بڑا شہر ہے وہاں کی زندگی بہت تیز ہے اور تم بہت آہستہ ہو سو تمہیں کوئی ہنر سیکھ لینا چاہیے۔لیکن ایسا بھلا کیسے ہو سکتا تھا، اس نے تو بھیا کی طرح بہت زیادہ پڑھنا تھا پھر یہ ہنر سیکھنا کہاں سے آگیا، لیکن سب کا ایک ہی خیال تھا کہ معذور آدمی لاہور جا کر مشکل ہی میں پڑے گا ۔لیکن اس نے کسی کی نہ مانی سارا دن گلی میں منہ لٹکائے بیٹھا رہتا اب وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا ،شام کو گراونڈ پر بھی نہیں جاتا۔ اسے یقین تھا صرف بھیا اس کی بات کو سمجھیں گے کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ ہی سے اسے ہی معذور نہ ہونے کا درس دیا تھا اور بھیا جھوٹ تھوڑی بولتے تھے ایسا لائق آدمی جھوٹ کیوں کر بولے گا۔ اسے بھیا کی چھٹیوں کا انتظار تھا ، جب وہ آئیں گے تو ضرور سب لوگوں کو سمجھادیں گے کہ اسے لاہور کیوں جانا چاہیے۔
پھر ایک روز بھیا گھر آگئے ، وہ بہت خوش تھا کہ اب سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔
’’بھیا آپ نے ہمیشہ مجھے کہا ہے کہ میں معذور نہیں ہوں ، میرے میٹرک میں نمبر بھی اچھے ہیں پھر بھی سب لوگ کہتے ہیں کہ مجھے آگے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کوئی ہنر سیکھنا چاہیے، اب آپ ہی سب کو سمجھائیے۔
بھیا تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر گویا ہوئے’’ دیکھو سلطان تم واقعی معذور نہیں ہو، اور نہ کبھی خود کو معذور سمجھنا، لیکن واقعی آجکل ہنر کی بہت اہمیت ہے میرا مشورہ بھی یہی ہے کہ تمہیں کوئی ہنر سیکھنا چاہیے۔
سلطان احمد نے پھر کوئی سوال نہ کیا بس اندر ہی اند ر کچھ ٹوٹ گیا تھا اور اندر کا ٹوٹنا کون دیکھتا ہے۔۔۔۔۔۔
اگلے روز وہ چپ چاپ رمضان درزی کی دکان پربیٹھا کپڑے سلائی کرنا سیکھ رہا تھا۔

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

One comment

  1. عجیب بات ھے کہ ھم نے ھر شخص پہ’ٹھپا لگا دیا ھے ۔ ۔ بہت اچھی تحریر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *