Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » وطن کہاں ہے؟….تخلیق و ترجمہ: میر گل خان نصیر

وطن کہاں ہے؟….تخلیق و ترجمہ: میر گل خان نصیر

دلدار کہاں ، وطن کہاں ہے

گلزار کہاں ، چمن کہاں ہے

جہاں بہادر نوجواں پر ورش پاتے

اور پروان چڑھتے تھے

اب وہ گاﺅں کہاں اور وہ قبیلے کہاں ہیں

سب کچھ گردوغبار کی تاریکیوں میں چھُپا ہوا ہے

وہ کوہسار کہاں اور وہ پہاڑیاں کہاں ہے

نسیم سے اب تو خون کی بوآرہی ہے

عطریات اور سمن زاروں کی خوشبو کہاں ہے

شبنم آنسوﺅں کی جھڑی بہار ہی ہے

یہ عدن کے در ِ شہوار کہاں ہیں

پہاڑ ، دشت اور صحرا تو جَل چُکے ہیں

اناج کے ذخیرے کہاں

اب تو روٹی بھی میسر نہیں آتی

یہ تو وہ سڈل جسم ہیں

جو اپنے خون سے رنگین ہوچکے ہیں

ان جسموں پر کشیدہ کاڑھا ہوا

یہ بلغار کا سرخ بخملیں لباس کہاں ہے

آدھی راتوں کو ہماری بے چینیاں دُور کرنے والے

اور ہمیں تسکین دلانے والے

وہ اشعار اب کہاں ہیں

خون سے بھیگی ہوئی یہ زمین ہماری ماں ہے

اب اس میں سلامتی کہاں اور وہ دوست کہاں

جن کی دیدار کو ہم ترستے ہیں

ہمارے گھر اور ہماری قیام گاہیں

کالے زندان بنے ہوئے ہیں

ان دامانوں میں اب وہ خیمے

اور اُن کی خمیدہ چوب کہاں ہیں

ان غمزدہ جسموں کے لےے

اب جوتے کہاں او رپیرہن کہاں ہیں

وہ ستارے جو ہماری رہنمائی کرتے تھے

گہرے کُہر میںاب بُجھے بُجھے سے لگتے ہیں

ہمارے وہ غمخوار اب کہاں

اور وہ دوست اب کہاں ہیں

دھکّم دھکّوں اور ہاتھا پائیوں میں سب گر چکے ہیں

اب وہ دستار کہاں

اور وہ بڑے بڑے لوگ کہا ںہیں

وطن کی غیرت اور ناموس اب ہمیں پکار رہی ہے

ہمارے کٹار کہاں اور کفن کہاں ہیں

اے پیارے ساتھیو!

نصیر جو ایک شاعر تھا اب کہاں ہے

اور اُس کے ساتھ کئے ہوئے وہ عہد و پیمان کہاں ہیں

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *