Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نژادِ نو ۔۔۔۔ مجید امجد

نژادِ نو ۔۔۔۔ مجید امجد

برہنہ سر ہیں ، برہنہ تن ہیں، برہنہ پاہیں

شریر روحیں،

ضمیر ہستی کی آرزوئیں

چٹکتی کلیاں

کہ جن سے بوڑھی ، اُداس گلیاں

مہک رہی ہیں

غریب بچے، کہ جو شعاعِ سحر گہی ہیں

ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں

وہ منزلیں، جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں

ترس رہی ہیں

انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں

حسین خوابوں

کی دھندلی دنیائیں جو سرابوں

کا روپ دھارے

ہمارے احساس پر شرارے

انڈیلتی ہیں

انہی کی آنکھوں میں کھیلتی ہیں

انہی کے گُم سم

اُداس چہروں پر جھلملاتے ہوئے تبسم

میں ڈھل گئے ہیں ہماری آنسو، ہماری آہیں

طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اِک دن

ہمارے سائے

اس اپنی دُنیا کی لاش اٹھائے

تو سیل دوراں

کی کوئی موجِ حیات ساماں

فروغِ فردا

کا رُخ پہ ڈالے مبین پر دا،

اچھل کے شاید

سمیٹ لے زندگی کی سرحد

کے اس کنارے

پہ گھومتے عالموں کے دھارے

یہ سب جا ہے ، بجا ہے لیکن……..

یہ تو تلی نو خرام روحیں، کہ جن کی ہر سانس انگبیں ہے

اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں نازِ بالیدگی نہیں ہے

تو بہتی ندیوں

میں آنے والی ہزار صدیوں

کا یہ تلاطم

سکوتِ پیہم کا یہ ترنم

یہ جھونکے جھونکے

میں کھلتے گھونگھٹ نئی رُتوں کے

تھکی خلاﺅں

میں لاکھ اَن دیکھی کہکشاﺅں

کی کاوشِ رَم

ہزار نا آفریدہ عالم……..

تمام باطل،

نہ ان کا مقصد نہ ان کا حاصل

اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں نازِ بالیدگی نہیں ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *