Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » نو آبادیات میں غریب ۔۔۔۔۔۔۔ شعیب شاداب

نو آبادیات میں غریب ۔۔۔۔۔۔۔ شعیب شاداب

عشاءکی آذان ہوچکی تھی اور گرج چمک کےساتھ بارش برس رہی تھی۔رات کی گُھپ چارسُو پھیلی ہوئی تھی۔آسمانی بجلی کی چمک، گرج دار آواز کے ساتھ لگاتار سمندرپر پڑرہی تھی اور ساحل پر ٹکرانے والی شورریدہ لہریں ماحول کے بھیانک میں اضافہ کررہی تھیں۔ دوسرے ملاح اپنی کشتوں کو ساحل پر باندھ کر کب کے گھر جاچکے تھے۔اپناشکار اونے پونے داموں بیچنے اور کشتی کو ساحل پر باندھنے کے بعد جوں ہی میں گھرپہنچاتو اچانک بیوی نے آواز دی ” مچھلیاں کہاں ہیں ؟ صبح سے بچے بھوکے ہیں اورآپ کے آنے کا انتظار کررہے ہیں، گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔دکان بھی بند ہوگئی ہے“۔ شکار بہت کم تھے ساحل پر بیچ دئیے۔ ابھی جاکر ساتھ والے گاو¿ں کی دکان سے دال خرید کرلاتاہوں۔ میں نے پگڑی سرپرپہن لی اورایک شال جسم پر لپیٹ کربائی سائیکل پر بیٹھ گیا ۔سٹرک مجھ سے تھوڑی دُور تھی اور میں اُس کی جانب جارہا تھا۔ وہاںسے میں نے دیکھا کہ چار موٹرسائیکلوں پر سوار کچھ لوگ تیزرفتاری کے ساتھ شہر کی جانب جارہے ہیں ۔ میں ایک جھاڑی کی اوٹ میں کچھ دیر کے لیے رُک گیا اور سڑک کی جانب دیکھتارہا اتنے میں انگریزفوجیوں کی ایک ٹرک بھی تیز رفتاری کے ساتھ شہر کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیا۔جس میں فوجیوں کے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔
میں فوراً سمجھ گیا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیںاسی لیے سٹرک سے جانے کا ارادہ ترک کردیا اوربارش میں بھیگتا، پگڈنڈیوں اور نالوں سے ہوتا ہواساتھ والے گاو¿ں روانہ ہوگیا۔ اتنے میں دکاندار، دکان بند کرنے والا تھا کہ میں پہنچ گیا اور دال لے کر جلدی اپنے گاو¿ں کو روانہ ہوگیا۔ میرے کپڑے بھیگے ہوئے تھے اور سردہوائیں جسم میں اس قدر پیوست ہورہی تھیں کہ میں کانپ رہاتھا۔ سوچا کہ اب سڑک پر چلوں تاکہ جلدی گاو¿ں پہنچ سکوں اور دیر ہونے کی صورت میں بچے بھوکے پیٹ نہ سوجائیں۔
گرچ چمک کے ساتھ بارش جاری تھی۔گاو¿ں سنسان تھا اور گھروں کی کھڑکیوں سے ہلکی ہلکی سی روشنی نظر آرہی تھی ،میں ایک گلی سے گزررہاتھا کہ اچانک ایک کتے نے بھونکنا شروع کردیا اور گلی کی نکڑپر بجلی کی چمک سے ایک انگریز سرپرٹوپی اورلمباسابرساتی کوٹ پہنے کھڑا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر میں چونک گیا۔ اُس نے دُورسے آواز دی ” وہیں پر رُک جاو¿ اور سائیکل سے نیچے اترو“۔ ڈرکے مارے میں رُک گیااور سائیکل سے نیچے اُتر گیا۔ ٹارچ لگا کراُس نے زوردار آواز دے کر پوچھا ”کون ہو تم“؟
میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔
صاحب ! میں ساتھ والے گاو¿ں میں رہتا ہوں، دال خریدنے آیا تھا۔اپنے گاو¿ں کی دکان بند تھی، صاحب!
اُس کے زور سے بندوق کی لاک کھولنے پر میں چونک گیا اوروہ آہستہ آہستہ میری جانب بڑھ رہا تھا۔ میں نے ڈرکے مارے دوسری گلی میں دوڑنا شروع کردیا کہ اچانک اُس کی گولی کی آواز سے میری بھیگی پگڑی سرسے اُڑکرمکان کی دیوار پر جالگی اورمیں زمین پر گِر گیا،ساتھ ہی گولیوں کی ایک قطاردیوار میں پیوست ہوگئی۔میں اٹھا اوربھاگتاہوا اُس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔اس کے پاو¿ں کی آہٹیں بارش کے پانی کے ساتھ میرے کانوں میں پڑرہی تھیں۔میں نے بھاگتے ہوئے خود کو گاو¿ں کی آخری گلی تک پہنچا دیااور ایک دیوار کے ساتھ کھڑاہوکراپنی مجبوری اور بیوی بچوں کی یادمیں رونے لگا،اتنے میں بجلی زور سے چمکی اور سامنے ایک دیسی شخص دکھائی دیا۔ اب میں مزیدگھبراگیا، اور وہ میری جانب بڑھ رہاتھا، میں بھاگنے ہی والا تھا کہ اُس نے آواز دی” رُک جاو¿“۔
میں رُک گیا اور ڈرنے لگا۔ اُس نے پوچھا ”کون ہو تم اور یہاں پر کیا کررہے ہو“؟
میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔
صاحب ! میں مقامی ہوں،ساتھ والے گاو¿ں میں رہتا ہوں، دال خریدنے آیا تھا۔اپنے گاو¿ں کی دکان بند تھی،صاحب!
”کس کے لیے مخبری کرتے ہو“؟اُس کی آواز میں خوف تھی۔
مخبری نہیں کرتاصاحب! دال لینے آیا تھا۔ میں نے عاجزی سے جواب دیا۔
اچانک اُس نے بندوق کی لاک زور سے کھول دیا اور میری جانب بڑھنے لگا۔ میں نے گھبراکر بھاگناشروع کردیا ، وہ میرے پیچھے دوڑکرآواز دے رہاتھا اور اچانک اُس کے بندوق سے نکلی گولی میرے ہاتھ میں پکڑے دال کے تھیلے کو چیرتی ہوئی نکل گئی جس سے میرا ہاتھ ہلکا ہوگیااورسارا دال بارش کے پانی میں بہہ گیا۔ میں دوڑتا ہوا نالے میں کود پڑا اور گاو¿ں سے تھوڑا دُور سڑک پر پہنچ گیا۔ اچانک گاو¿ں کی جانب دو طرفہ فائرنگ کی آواز فضا میں گونجنے لگی اور پھر بندہوگئی۔
میراشال نالے میں بہہ گیا تھا اورسردی کے مارے میرا سارا جسم کانپ رہاتھا،سڑک پرتھوڑی دُور چلنے کے بعد پیچھے سے لائٹ کی روشنی نظر آنے لگی ، میں نے مڑ کر دیکھا تو دو موٹرسائیکلوں کے لائٹ کی روشنیاں کچھ فاصلے سے میری جانب بڑھ رہی تھیں۔ اب میں مزید دوڑنے لگااور سمجھ گیا کہ وہ میرا پیچھا کررہے ہیں۔ میرے گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیااور مجھ میں چلنے کی ہمت بھی باقی نہیں رہی۔ یہاں میں نے اپنی موت کویقنی جانا اوراس امید سے سڑک کے کنارے کھڑا ہوکر اپنی جانب بڑھنے والے موٹرسائیکلوں کی روشنیوں کو دیکھ کر سوچتارہاکہ کل صبح شہرجانے والی پہلی گاڑی کو میری لاش مل ضرور مل سکے گی۔موٹرسائیکلیں میری جانب بڑھ رہی تھیں اور میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ،کہ اچانک گولی کی رفتار سے پہلا موٹر سائیکل میرے قریب سے گزرا اور سڑک پر پھیلے سارے کیچڑ میرے کپڑوں اور چہرے پرآکر لگے۔میں نے قمیض کے دامن سے اپنا چہرہ صاف کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو اُس کی لائٹ کی روشنی بارش کے قطروں میں پیوست ہوکر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اتنے میں دوسرا موٹر سائیکل میری جانب بڑھ رہا تھا اور میرے خوف میں اضافہ کررہاتھا۔ اُس نے دُورسے مجھے دیکھ لیا اور موٹر سائیکل کی رفتار کم کردی اب میں کانپ رہاتھااور وہ میرے قریب آ کر رُک گیا۔ بارش برس رہی تھی,موٹرسائیکل کی تیزلائٹ کی روشنی میرے چہرے پر لگی ہوئی تھی اور اُس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔میں اُسے معصومیت کے ساتھ دیکھ رہا تھااور ڈرتے ڈرتے کہنے لگا۔
صاحب ! میں مقامی ہوں،ساتھ والے گاو¿ں میں رہتا ہوں، دال خریدنے آیا تھا۔اپنے گاو¿ں کی دکان بند تھی، صاحب!
مخبری نہیں کرتاصاحب! دال لینے آیا تھا۔
اُس کے موٹرسائیکل کی لائٹ میرے چہرے پر برابرلگی ہوئی تھی اور وہ مجھے حیرانگی سے تک رہاتھا۔
”ک±نڈملیر میں؟ کس کے بیٹے ہو“؟ اُس نے پوچھا۔
صاحب! مرحوم مچھیراذکری رسول بخش مید کا بیٹاہوں۔
”کیا کام کرتے ہو“؟ اُس نے پھر سوال کیا۔
”ملاح ہوں !صاحب۔حاجی ابراہیم سنگھورکی چھوٹی سی کشی ہے میرے پاس“۔ میں نے عاجزی سے مکمل شناخت بتادیا۔
”تمہارے دال کہاں ہیں“؟ اُس کے سوالات کا تسلسل برقرار تھا۔
کسی نے فائرنگ کردی ،دال زمین پربکھرگئے۔صاحب!
میں نے بہتے اشکوں کے ساتھ جواب دیا۔
”آو¿ بیٹھ جاو¿ تمہیں گاو¿ں چھوڑ دیتاہوں۔میں چاکر کلمتی کا بیٹا ہوں ،آپ کومجھ سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“۔ا±س نے تعارفی کلمات کے ساتھ کہا۔
موٹر سائیکل تیزبارش کا مقابلہ کرتا اورسڑک پر پھیلے کیچڑکواُڑاتاہواآگے بڑھ رہا تھا اور ہم سرد ہواو¿ں کی وجہ سے ٹھٹھررہے تھے۔ ”شام کو شہرسے نکلاہوں بارش رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ راستے میں پنکچروالے کی دکان پر تھوڑا رُک گیا ورنہ اتنی دُور تک بارش میں موٹرسائیکل چلانا میرے بس میں نہیں، اور آج علاقے کے حالات بھی بہت خراب ہیں، وہاں آل انڈیا ریڈیو سے خبر نشر ہورہی تھی کہ جنوبی بلوچستان کے ساحلی علاقوںمیں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔کوئٹہ سے ایجنٹ ٹو دی گورنرجنرل آف بلوچستان کے نمائندے نے خبر دی ہے کہ آج رات شہر سے آئے ہوئے چارموٹر سائیکلوں پر سوار آٹھ چھاپہ مار باغیوں نے ساحل پر قائم انگیریزفوجیوں کی ایک کیمپ پر دیسی بمبوں سے حملہ کردیا ہے اور فرار ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں سات فوجی ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی پولٹیکل ایجنٹ کے مطابق ساحل کی قریبی بستیوں میں اُن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں“۔وہ باتیں کررہاتھا اور میں خاموشی سے س±ن رہاتھا کہ اتنے میں اُس نے مجھے ”ک±نڈملیر“ کی پہلی گلی کے نکڑ پر اُتار دیا اوراپنے گاو¿ں کی جانب روانہ ہوگیا۔ اچانک میرے منہ سے بڑی مشکل سے نکلا ،صاحب! میرے گھر چلو بارش بہت تیز ہے۔ لیکن میری یہ صدا بارش کی آوازسے اونچی نہ تھی اور اُس کے کانوں تک نہ پہنچ سکی۔
سمندرکی لہریں ساحل سے تسلسل کے ساتھ ٹکرارہی تھیں جن کے شورسے گاو¿ں کی فضاءپرخوف کا منظرطاری تھا۔میں گلی سے ہوتا ہوا اپنے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک کتابھونکتاہوا میری جانب بڑھنے لگا۔ میں نے ایک پتھر اُٹھا کر اُس کی جانب پھینک دیا تو اُس نے ایک زور دار چیخ نکالی اور دیوار پر چڑھ کر دوسری جانب چھلانگ لگادی۔جب میں اگلی گلی کی جانب م±ڑا تو سرپر ٹوپی اور لمبا سابرساتی کوٹ پہنے کھڑے ایک انگریز کی ٹارچ کی روشنی میرے چہرے پر پڑی۔”ہاتھ اوپر کرو اورادھر آکر تلاشی دو، بھاگنے کی کوشش کی تو گولی مادوں گا“ اُس کی آواز میں خوف تھی۔
میں نے ہاتھ اوپر کیے اور اُس کی طرف بڑھا“
”یہ کیاہے؟“ اس نے میرے جیب سے فرمائش بیڑی کی گیلی ڈبی نکالی اور پوچھنے لگا“۔
بیڑی ہے۔ صاحب!
”بیڑی پیتے ہو“اُس نے غصے سے ایک ایسا زوردار دھکا دیا کہ میں زمین پر کیچڑ میں گِر گیا۔اور اس نے میرا سب کچھ لیا اور کہا ”دفع ہوجاو¿آئندہ رات کو دکھائی دئیے تو اُٹھا کر لے جاو¿ں گا“اُس نے دہشت دکھایا اورمیری بیڑی کی ڈبی کوٹ کے جیب میں ڈال دی۔
میں لڑکھڑاتاہوا اُٹھا اور گھر کی جانب د وڑنے لگا۔ پورا گاو¿ں سنسان تھااور اندھیرے میں ڈوباہواتھا۔گھروں کی کھڑکیوں سے چراغوں کی روشنیاں بھی نظرنہیں آرہی تھیں۔ایک ادھیڑعمرکے عورت کی ذکر کی دل خراش اور مدھ±ر آواز دھیمی سی لے میں بارش کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر ماحول میں ضم ہورہی تھی۔اس بھیانک اور ڈرو¿انے کیفیت میں آہستہ آہستہ میںنے گھر کا دروازہ کھولا، تو چراغ کی مدھم روشنی گھر میں پھیلی ہوئی تھی جب میری نظر نیند میں ڈوبے بیوی اور بچوں پر پڑی توآہستہ آہستہ میں نے اندرسے گھر کا دروازہ بند کردیا۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *