Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم ۔۔۔ غالب عرفان

نظم ۔۔۔ غالب عرفان

ہم آج اپنے ہی خون میں
تر بہ تر کھڑے،
اک قبیح منظر کے سامنے ہیں
ندامتوں کا پہاڑ سر پر اٹھائے
اب تک نہیں تھکے ہیں
ہوس کے دلدل میں دھنس رہے ہےں
دلوں میںنفرت کی شعلگی سے
ہماری صورت پگھل رہی ہے
یہ کیسی آتش ہے؟
کیسا لاوا ؟؟
کہ ہر تعصب کی شکل،
سیل رواں میں ڈھل کے
ہماری را ہوں کے
نقش، سارے مٹارہی ہے
یہ کیسی وحشت ہے!
کیا جنوں ہے!!
جو دہشتوں کو فروغ دے کر
ہمارے مابین
فاصلوںکو بڑھا رہا ہے
ہمارے چہروں کو نوچتا ہے
کھروچتا ہے!
ہماری پہچان مٹ رہی ہے!

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *