Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم ۔۔۔ سحر علی بلوچ

نظم ۔۔۔ سحر علی بلوچ

سچ او ڈھ لو
کپکپاتے ننھے پرندے نکل گئے
آشیانے سے
صُبح کی آنکھ پر
تمیں خبر ہے؟
آنکھ کی پنگھڑی تمھارے شہر پہ کھل گئی
اب ایک کتاب لکھا جائے گا
اگلے کچھ دنوں کی
یہ ہلچل کیوں مچی ہے؟
چاند سورج کو چوم رہا ہے
اس سورج کو جو تاریک پگڈنڈیوں پر بھاگتا رہا
محبت پرندے کی پرواز ضرور رکھتی ہے
پر
صدیاں لگ جاتی ہیں اُسے بے ساکھی کا آشیانہ پانے میں
یہ آئینہ پکار رہاہے تمیں
روپ صیاد کے ساگر پہ جھوم رہا ہے
اُسے نکال کر نچوڑ دے
وقت کا دھارا اب تمھارے ہاتھ میں آگیا
غم سوگ جلادو
آس کی ند ی بھر گئی ، ناری کی جگ مگ کر کے
جیون کو سینگار دو
رات کے کا جل سے
چاند سانولی گوری کو گھور رہا ہے
اپنی رنگت سمجھ کر
مٹی کے سپنوں میں تمھاری تصویر چھپی ہے
اچھا موسم ہے ، پھول کھلے ہیں
سوچ کا آوارہ بادل بوندیں برسائے جارہا ہے
پیا س تو بجھ گئی
آج چاند کے منڈ یر پر
اب تو بینائی بھی لوٹ آئی تری
وصل کے سمندر میں
تھکن کے مراحل تم پار کر چکے ہو
قوس قزح کی تصویر کا نیا رخ
اب سات ستاروں میں افشا ہے
تدبیر
حسین روپ دھار چکا ہے
ساحل کی گیلی ریت پر نام لکھنا چھوڑ
لوگ تو بھیڑئیے بن گئے
اسے قتل کیسے کرو گے؟
یہ اک کہانی ہے
جو کبھی ختم نہیں ہوگی
تم اپنا بے جان سا گھروندہ کیسے ٹھونک دوگے
بے رنگ تیروں میں
تمھیں کیسی فکرہے؟
نر مل امید یں جھونک رہے ہیں ترے سرہانے
اٹھو
ان کو اپنا نیا سویرا دے دو

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *