Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم ۔۔۔۔ دانیال طریر

نظم ۔۔۔۔ دانیال طریر

دل زدہ شہر کے آلام کو پر لگ جائیں

مے کدے ناچ اٹھیں جام کو پر لگ جائیں

تیز کرتے ہیں سفر لوگ مکانوں کی طرف

جب پرندوں کی طرح شام کو پر لگ جائیں

دل تمناں کی تخلیق پہ مامور رہے

اور اس کوشش ناکام کو پر لگ جائیں

یہ طلسمات کی دنیا ہے یہاں کیا معلوم

ایک دن مصر کے اہرام کو پر لگ جائیں

لوح افلاک پہ بادل مجھے خوش خط لکھیں

تو پکارے تو مرے نام کو پر لگ جائیں

یہ نہ ہو جاگ اٹھے مجھ میں لپک اڑنے کی

یہ نہ ہو گھر کے در و بام کو پر لگ جائیں

آسمانوں پہ کہیں اگلا خدا تو ہی نہ ہو

کیا خبر کب مرے اوہام کو پر لگ جائیں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *