Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم ۔۔۔۔۔ دانیال طریر

نظم ۔۔۔۔۔ دانیال طریر

میں پھول چومنے آگے بڑھا تو پھول نہ تھا
وہ باغ کیسے طلسمات کا بنا ہوا تھا

شجر نہیں تھا وہ گوتم کھڑا تھا رستے میں
اور اس کا سایہ سوالات کا بنا ہوا تھا

میں جل پری کے لےے جل تلاش کرنے گیا
پلٹ کے آیا تو برسات کا بنا ہوا تھا

کوئی سوائے بدن ہے نہ ہے ورائے بدن
بدن میں گونج رہی ہے ابھی صدائے بدن

عجب ہے شہر مگر شہر سے بھی لوگ عجب
ادھار مانگ رہے ہیں بدن برائے بدن

جہاں ٹھٹھرتی تمنا کو آگ تک نہ ملے
وہاں پہ کون ٹھہرتا ہے اے سرائے بدن

کہیں چمکتی ہوئی ریت بھی دکھائی نہ دی
کہاں گیا وہ سمندر سراب کھائے بدن

چراغ بن کے چمکتے ہیں روز شام ڈھلے
ہمارے پہلو میں سوئے ہوئے پرائے بدن

ہر ایک راہ میں بکھرے پڑے ہیں برگ نفس
یہاں چلی ہے بہت دن تلک ہوائے بدن

وہ اپنی قوس قزح لے گیا تو کیا ہو گا
طریر غور طلب ہے تری فضائے بدن

 

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *