Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم ۔۔۔۔۔۔۔ سرفراز سخی

نظم ۔۔۔۔۔۔۔ سرفراز سخی

ہزاروں دام میں بیٹھا
معمے راکھ سُلجھائے
کہیں ایسی کشش نہ تھی
جو اپنی سمت اسے کھینچے
اِسے پرواز سے روکے
اِسے دانوں میں اُلجھائے
بہت بے باک پنچھی ہے
گریباں چاک ہے اِس کا
مکانی عشق کا ہے اور
جہاں افلاک ہے اِس کا
نہیں ممکن اِسے کہ تم
کبھی بھی قید کر پاﺅ
سُنو یہ امن کا پنچھی
سدا آزاد رہتا ہے
تم اِس کی تاک میں نا خوش
مگر یہ شاد رہتا ہے
چلو دل کو تسلی دو
نئے پھر جال بن لو تم
ہزاروں کوششیں کرلیں
ہزاروں اور بھی کرلو
تمہارا بخت ہے رونا
سو آﺅ اور بھی رو لو

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *