Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم….دانیال طریر

نظم….دانیال طریر

شہر سے کیا گئی جانب دشت زر زندگی فاختہ

بین کرنے لگی آ کے شام و سحر ماتمی فاختہ

مر گیا رات کو برف اوڑھے ہوئے ایک فٹ پاتھ پر

وہ جو کہتا رہا لفظ دو عمر بھر، شانتی، فاختہ

کیسی کیسی ہوائیں چلیں باغ میں کون آیا گیا

ساری تبدیلیوں سے رہی بے خبر بانوری فاختہ

وہ نگر چاند کا ہے وہاں تیری کرنوں کی خواہش کسے

اس طرف تیرگی ہے یہاں لاکے دھر طشتری فاختہ

بے اماں شہر میں کیسی دہشت سے گزری تھی میں کیا کہوں

جب عدو دیکھتی اپنے ہی بال و پر نوچتی فاختہ

وہ جو آنکھوں میں تھی کوئی دنیا الگ تھی، جہاں سے جدا

میرے خوابوں میں تھے امن کا راہبر، روشنی، فاختہ

میں تھا شاعر مجھے شہر آشوب لکھنے تھے لکھتا رہا

تیری قسمت مےں لکھے گئے کیوں کھنڈر سندری فاختہ

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *