Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم —- دانیال طریر

نظم —- دانیال طریر

نئی نئی صورتیں بدن پر اُجالتا ہوں
لہو سے کیسے عجیب منظر نکالتا ہوں

وہ دل میں اترےں تو ایک ہو جائیں روشنی دیں
دھنک کے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں ڈالتا ہوں

زمین تلوو¿ں سے آ چمٹتی ہے آگ بن کر
ہتھیلیوں پر جب آسماں کو سنبھالتا ہوں

ہوا میں تھوڑا سا رنگ اترے سو اس لیے میں
گلاب کی پتیاں فضا میں اچھالتا ہوں

کوئی نہیں تھا جو اس مسلسل صدا کو سنتا
یہ میں ہوں جو اس دیے کو سورج میں ڈھالتا ہوں

طریر سانسوں کا رنگ نیلا ہوا تو جانا
خبر نہیں تھی ےہ سانپ ہیں جن کو پالتا ہوں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *