Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » مین سٹریم بنے رہنے کا نشہ

مین سٹریم بنے رہنے کا نشہ

ہمارے وطن اور اس کے اردگر مہیب و گھمبیر درد موجود ہیں۔پہاڑ جتنے ، بے انت، عمیق اور ناقابلِ بیاں طور پر دردناک درد۔ ایسے فکری و جسمانی زخموں کا درد جو مند مل ہونے کا نام نہیں لیتے۔ لاشوں میتوں کا غم جنہیں گیدڑوں نے مارا اور لومڑیوں نے کاٹ کھایا، آنسوﺅں کا درد جو دکھ کم نہیںکرسکتے ، آہوں کا درد جو سات آسمان پہ جاکر بھی بے جواب لوٹ آتی ہےں۔ روٹی ‘کا غم جو محنتِ شاقہ کے بعد بھی قریب نہیں آتی ۔ احترام کا دکھ جو سماج سے روٹھ چکا ہے ۔ تحفظ جو‘اب رہا ہی نہیں…….. اور آزادی کا دکھ جو نہ بولنے لکھنے میں موجود ہے اور نہ تنظیم کاری میں۔ فاشزم کا نافذ کردہ خوف جس نے انسانوں کو اصطبلوں کا بنا کر رکھا ہے ……..قعرِ مذلت میں پڑے پورے سماج کی بیماری کا دکھ جسے کوئی حکیم اور فلاسفر ٹھیک نہیں کر پارہا ہے۔
ذمہ داریوں اور احساسِ ذمہ داری کے انبار موجود ہیں۔ سماج، اپنے ہر ممبر سے اِس گھمبیر معاشی سیاسی سماجی بحران کے دلدل سے اُسے نکالنے کے تقاضے کررہا ہے۔
ہمارا بالائی معاشی و سیاسی طبقہ بالکل بے پرواہ ہے، اُسے اپنی املاک کے نقصان کا ذرا بھی شائبہ نہیں، اُسے کوئی خدشہ کوئی احتمال اور خطرہ نہیں ہے ۔وہ تو خود خوف پیدا کرنے ‘بحران کو جنم دینے ‘والا کارخانہ ہے۔
اسی طرح سماجی شعور سے مبرا اور تنظیم کاری سے عاری نچلا محنت کش طبقہ اپنے روزمرہ کے مسائل و مصائب میں اس قدر غرق ہے کہ اُسے بطور طبقہ ڈرانا جگانافی الحال نا ممکن لگتا ہے۔سرمایہ داروں نے اُس کے بہلانے (الجھانے) کو ہزار ترکیبیں کردی گئی ہیں۔ اُس طبقہ کوایک ایسا مفلوج عضو بنا دیا گیا ہے جس سے بس،فارغ اوقات میں فرقہ واریت کے جلوس ہی نکلوائے جاسکتے ہیں۔ بورژوا اور رجعتی بورژوا پارٹیوں نے اپنے اپنے لیبر ونگ بنا کرمزدوروں کو لیڈروں کے سالگرہ کیک پر ٹوٹ پڑنے پر لگا رکھا ہے۔
رہ گیا ہمارا مڈل کلاس ،تو یہ طبقہ خوف، حساسیت ، عدم تحفظ اور غیر یقینی کے بحرالکاہل میں غرق رہتا ہے۔خوفیں، جوبہت ہی پست معیار کی ہیں ۔اس طبقہ میںٹی وی چینلوں کے موقع پرست، اور مالکان کے ترجمان اینکرشامل ہیں ۔ اس طبقہ سے وابستہ بہت سارے جعلی اور نیم جعلی ڈگریوں کے سہارے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی پکی نوکریوں اور کچھ نہ کرنے والے چوغہ بردار پروفیسروں کا ایک جمِ غفیر بھی شامل ہے،یہ طبقہ بدترین رجعت میں غرق وکیلوں ججوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اوریہ طبقہ دادوتحسین کی بھوک میں پیدا شدہ بہت سارے شاعروں مصنفوں اورٹیکنوکریٹوں سے لے کر سیاست دانوں تک پھیلا ہوا ہے۔سائنس دان، دکاندار، مولوی، شیخ، شاعر ، ادیب اور دانشور مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مڈل کلاس لگتا ہے، بنا ہی خوف کے گارے پانی سے ہے۔سٹیٹس کو سے اس طبقے کا مجرمانہ کمپرومائز اور دبک جانے سے ایسی خاموشی چھاگئی جس کے بوجھ سے شعور و عقل کے درو بام کی کمر دوہری ہوچکی ہے۔
غیر یقینی کی ابدی کیفیت میں غلطاں اِس بے چارے طبقے کے اندر جو سب سے خوفناک خوف موجود ہے ، وہ ہے مارجنلائزہونے کا خوف، اکیلے رہ جانے کا خوف ، آئی سو لیشن کا خوف۔ اُس کے لےے یہ خوف ملک الموت سے بھی بڑھ کر ہے۔ وہ اگرانقلابی ہے بھی تو ہمہ وقت سسٹم کے اندر رہ کر انقلاب کرنا چاہتا ہے ۔اور چونکہ اِس نے ہر صورت میں ” عوام کے ساتھ “ ہونا ہے اس لےے وہ جہالت کی ظاہری صورت اوڑھ لیتا ہے ۔وہ تو عوام کی ذہنی سطح کی باتیں ہی نہیں دھرتا بلکہ،کندھے پرایک چادر اوڑھے چوبیس گھنٹے ایک لمبی تسبیح جسے وہ پڑھتا نہیں ۔
وہ نہ صرف رجعت پھیلاتا ہے بلکہ اُس کی مختلف صورتوں کے فرقے بنانے میں بھی خوب مدد دیتا ہے ۔ پھر اُن فرقوں کے نعرے تراشتا ہے، منشوریں بناتا ہے ۔ وہ نہ صرف بدمعاش کو ہیرو بناتا ہے اور قاتل کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے بلکہ جہالت کی باتوں کو‘ بہت سارے واہموں کو کبھی بھی خارجی قرار نہیں دیتا۔ وہ انہیں اپناتا ہے ۔ وہ دہشت اور دہشت گردوں کو glorify کرتا ہے۔ اُن پر فخر کرواتا ہے ، دوسروں کو انہیں اپنانے کا موجب بنتا ہے۔
تنہا رہ جانے کے خوف سے بچاﺅ کے لےے یہ بے چارہ طبقہ بہاﺅ کے ساتھ ساتھ بہتا چلا جاتا ہے ۔ وہ دوڑ دوڑ کر اِس بہاﺅ کے سب سے آسان اور مزیدار مظہر، این جی او میں پناہ لیتا ہے ،وہاں وہ جمہوریت، انقلاب، سیکولرزم، لیفٹ ونگ ،اور لبرل جیسے سرمایہ داری والے مجہول و مبہم و موہوم عنوانات پہ سیمےناریں کرتا کراتا ہے۔ وہ اپنے ریسرچ، قلم اور مہارت کے ضمیر و خمیر کی قربانی کی قیمت پہ اسی مین سٹریم سے چپکا رہتا ہے۔ یہ بے پیندا طبقہ ہر طرح کی جدوجہد اور تنظیم سے کنی کترا کترا کر خود کوسول سوسائٹی کہلواتا ہے، اور اُس کے مقرر کردہ سامراجی ٹائم ٹیبل پہ چلتے ہوئے کارپوریٹ کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ کبھی ایک جھاڑی کے تھپیڑے کھاتا ہے کبھی کسی ہوا کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے۔چونکہ اس طبقے نے عوام الناس کی اخلاقی اور سیاسی پوزیشنوں کو ترک کیا ہوتا ہے اِس لےے سماج کا عمومی روشن فکر میدان اچھے خاصے کٹاﺅ کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمارے خطے کے مڈل کلاس کوبے وزن و بے مقصد انگریزی الفاظ و ٹر منالوجی (اصطلاحات) کے بے جا استعمال نے بربادی کے کھڈے میں ڈال رکھا ہے۔اصطلاحات ، جو کارپوریٹ دنیا کے پروپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ سے نئے نئے ماڈل کی طرح تسلسل اور جدت کے ساتھ برستی رہتی ہےں۔ جونہی چٹخاروں میں لپٹی کوئی مردم دشمن اصطلاح مارکیٹ میں درآئی ہمارا عادی نشئی مڈل کلاس جوتے چپلی بھول کر اُس کی جانب لپک پڑتاہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ طبقہ پی پی پی ، اے این پی اور ایم کیو ایم جیسی دائیں بازو کی پارٹیوں کو بھی بائیں بازو میں بھرتی کر جاتا ہے(بایاں بازو خود بھی تو دایاں باز و ہوتا ہے ، سرمایہ داری نظام میں بایاں بازو)۔
یہ ” مین سٹریمی“ مڈل کلاسےے جب کبھی کوئی کتاب چھپوائیں گے تو انتساب کے لےے ڈھونڈ کر کسی شہرت طلب سڑی ہوئی بااثر منافع بخش شخصیت کا نام لگادیں گے۔ وہ اپنی کتاب خفیہ سودا بازی میں پلّے سے پیسے دے کر سب سے مرغن پبلشر سے ملائی جیسے کاغذ پہ شائع کروائیں گے۔کتاب کی رونمائی کے بغیر تو سمجھو اُن کا حلالہ ہی نہیں ہوتا۔ اور یوں وہ کسی فائیوسٹار ہوٹل میں اُس کی رونمائی کروائیں گے۔چیف منسٹر مہمانِ خصوصی نہ ہو تو مین سٹریم کی گویا سند یا فتگی ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا انا ، خودی، اورعزت ِ نفس گروی ڈال کر دھاندلی سے بیٹھے وزیراعلیٰ کے سورکنی بدرقہ و سٹاف کی آمد یقینی بنا دی جاتی ہے۔
ایک طبقاتی معاشرے میںمین سٹریم انسان کون ہوتا ہے ؟۔ ایک پالتو ترین جانور جس کے اندر خواہ کوئی بھی اشرف انسانی جذبہ انڈیل دیں، مگر اُس کے منہ میں لگام ہمیشہ فائیو سٹار ہوٹل اور سہ لفافائی دعوتی کارڈ کی پڑی رہتی ہے ۔ایک طرف سسکتی انسانیت کے لرزہ خیز مسائل ہیں اور دوسری طرف یہ نام نہاد حساس مگر اصل میں جامد و ساکت پتھر روحیں ہیں۔ اتنے اداکار کہ جب چاہیں انقلابی بن جاتے ہیں اور جب چاہیں رو دیتے ہیں۔مشاعرہ، سیمینار،ویزا،سفارت خانہ، ٹکٹ، جہاز اور شیڈول جیسی منحوسات ہمارے مین سٹریمی مڈل کلاسےے کی زندگی کا مکروہ لباس بن جاتی ہیں۔ وہ اُن کی مزاحمت کرہی نہیں سکتا۔ ایسے الفاظ سن کر ہی اُس کے ضمیر کے منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے۔…….. ٹیلیفون اور ای میل پہ اُس کی آمد، ایئر لائن کا نام ،ریسونگ اور سی آف کی تفصیلات طے ہوتی ہیں…….. اور پھر کہیں آخر میں اتمامِ حجت کے بطور”موضوع ِ گفتگو“ کی بات ” بھی “ ہوگی۔ اورموضوع بھی کیا ہوگا؟:موجود سے بے تعلق ، عوامی ضرورت و خواہش سے ماورا ،مہمل و مبہم کا مجموعہ موضوع۔ اور موضوع خواہ جو بھی ہو اِس مین سٹریم زدہ دانشوروادیب نے داداآدم کے زمانے سے لکھے ہوئے کمپوٹر میں محفوظ واحدمضمون کے پیراگراف ہی الٹ پلٹ کروانے ہوتے ہیں۔ صرف اوپر نیا موضوع پیسٹ کرواناہے…….. اللہ اللہ خیر صلاّ۔ویسے بھی ” سٹیٹس کو“ کی برقراری کے لےے متعین ملازموں کوانسانی موضوع اورمغز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس لگڑ بھگڑوں کا جاری و ساری ایک ”گیٹ ٹو گیدر کلب “ہے جو کبھی اِس شہر میںمنعقد ہوتا ہے کبھی اُس دارالخلافہ میں ۔
ہاں، بس جس شہر میں کارپوریٹ دنیا اپنے خرچ پہ یہ ”مین سٹریمی “منعقد کروارہی ہوتی ہے، اُس شہر میںموجود شناساﺅں کو ایک آدھ فون اور ایس ایم ایس سے مطلع کرناضروری ٹھہرتا ہے۔ تاکہ شاپنگ سنٹرز میں شاپنگ اشنان، تفریحی جگہوں کا مٹر گشت اور مروت سے خالی ثروت والوں کا طواف یقینی ہوسکے ۔پھر وہاںروانگی کے وقت، بڑے بڑے ناموں والے بے علموں سے لکھوائے گئے فلیپوں والی اپنی واحد لاشریک کتاب کی نیم درجن کاپیاں اٹھانا، وزٹنگ کا رڈ کا پورا ڈبہ سامان میں رکھنا اور پھر …….. سوٹ کیسوں پر سے پچھلے جہازی سفر کے ٹیگ اتارکرنیا ٹیگ لگا کر چل پڑنا ”مین سٹریم“ کی طرف ‘جہاں کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے باڈی سپرے سے اٹے ہوئے جسموں، صدر نشینی کے امیدوار بدروحوں، لغو و مہمل باتوں کے سالار علاّموں، ٹھگی اور شعبدہ بازی کے مجسم لفاظوں، خودنمائی کی جیتی جاگتی زنبیلوں، ابن الوقتی کے چالو کھلونوں،قیمتی کریم سے مرغن پلاسٹکی چہروں اور فروخت شدہ روحوں سے سجی” مین سٹریمی دائمی مسکراہٹوں“ کی منحوس ایسڈ،رین کی برسات ہے۔ایک آدھ سیشن میں تشریف فرما ہوئے، باقی میں سے سلپ ہو کر سکپ ہوگئے اور دیگر”مین سٹریمی“ کاموں کو نکل پڑے ۔ جن میں سیر سپاٹا، یہاں موجود فیصلہ سازوں میں تحفے بانٹنا، اور واپسی میںپیچھے موجود بااثر افراد کے لےے تحفے تحائف خریدنا لازمی ہےں تاکہ نئے سفر کے لےے سدا بہارراہیں ہموار رہیں…….. ”واپسی پر ایک سفر نامہ، یا ایک کالم، یا شاعری کا ایک ٹکڑا”ہو“ جاتا ہے۔ اور سی وی موٹا کرنے کے لےے اگلی کتاب میں ” کہاں کہاں کا سفر کیا ؟“ کے خانے میں ایک ملک کا اضافہ کرنے کی بے ضمیر بڑھک کا سامان ہوجاتا ہے۔
سرمایہ داری کے اندر مین سٹریم میں درست راستہ ہوتا ہی کہاں ہے ؟۔ کچھ بھی کرو، بدبخت مارجنلائزیشن کا خوف دور ہی نہیں ہوتا۔ ہر شہر میںایسے فنکشنوں کے سدا بہار انتظام کارموجود ہوتے ہیں ۔ وہ ڈھونڈڈھونڈ کرشکار شدہ ‘شہرت طلب اورپالتو بنائے ہوئے صوبائی سیکرٹریوں ، ڈی سی اوز کو ہانک کرہا ل کی اگلی نشستوں میں دھنسادیتا ہے اور یوںوہاں ٹائٹانک جہازوں کو ہڑپ کرجانے والے،اور،سوٹوں،ٹائیوں اور کافوروں میں مدفون زندہ مُردوں کا اضافہ کرتا ہے۔ہاں ہندوستان سے کسی سامراج دشمن عوامی لیڈر کا پوتا بھانجا ”مین سٹریم “مہمان کا آنا لازمی ہوتاہے۔ علاوہ ازیں اِس ” نمائندہ“ اجتماع میں ملک کے اندر سے تلاش کر کرکے نام و مقام کے متلاشی ”سیکولر “یا ” روشن فکر“ بھٹکے ہوئے دانشمندوں کا کوٹہ بھی پورا کیا جاتا ہے جنہیں بھی پنج ستارہ ہوٹل کی چکا چوندگی کی لت ڈال دی جا چکی ہوتی ہے ۔
اس سارے یاترا بازیوں کے لےے کس قدر کف گیری ، چاپلوسی، چرب زبانی، رشوت و تحفہ گیری اوربہت کچھ پیش کرنے کی ضرورت پڑتی ہوگی؟۔اُس ” سب کچھ“کو وہ لوگ ” پی آر“ کہتے ہیں۔
مین سٹریم شدہ یہ نیم انسانی بے خیر و بے مراد مخلوق کو ایک بات کا پتہ چل گیا ہے۔ وہ اب عوام کے ہیروﺅں کو بے ضرر بنا کر پیش کرسکتی ہے ۔ چنانچہ حسنِ آفاق سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت سے محروم ، اپنے من میں موجود منوں گندگی کی موجودگی کا اندازہ لگانے تک کی بصیرت سے عاری یہ مجمع دو تین دن تک ہمارے ہیروﺅں میں سے کسی ایک کی فکری میت کو اپنے غلیظ و غیر مہذب کرگسی چونچوں پنجوں سے خوب ادھیڑتا رہتا ہے ۔ اور پھر اگلی میت پہ اِنہی اُجلے کفنوں میں ملبوس مُردار خور لوگوں کے جلد باہم ملنے کے قول و قرار اور تاکید و التماس پہ یہ سیمینار بکھر جاتا ہے……..
اور اگلی میت کسی یوسف عزیز مگسی، بزنجو، کاکاصنوبر حسین ، گل خان نصیر، فیض ، جالب، فراز اورکسی شیخ ایاز کی ہی ہوگی۔ایسے معصوم لوگوں کی میت جو زندگی بھر” مین سٹریم تھیوری“ پہ تھوکتے رہے……..
باوقار درد سے ناآشنا یہ مین سٹریم ادیب و دانشور!!

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ شمارہ ’’عورت ایڈیشن ‘‘نہیں ہے

ایک اتنا اچھا اور خوشگوار عمل ہوا کہ ہم نے اپنی ہی روایت توڑ ڈالی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *