Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » میر گل خان نصیر کی براہوئی شاعری ۔۔۔ وحید زہیر

میر گل خان نصیر کی براہوئی شاعری ۔۔۔ وحید زہیر

جہاں قبائلی کش وبگیر ہو، کشمکش ءغریب وامیر ہو ، ظلم جاگیر ہو، اخلاقیات سے بغاوت باعث توقیر ہو، شرافت کے مشکیزے کے نشانے پر جہالت کا تیر ہو، ہرشخص خوف کا اسیر ہو، قتل یا خودکشی گلو خلاصی سے تعبیر ہو۔ تب ادب وفن اور علم کی سچائی سے بغل گیر ہونے میں ہی عافیت ہے۔ وقت اور حالات سے روگردانی سے مزید بھانت بھانت کے مظالم ومسائل میں اضافہ ہوگا۔ میں ماضی ، حال اور مستقبل کے آثار کو میرگل خان نصیر کی شخصیت اور شاعری کے ساتھ کرید کر دیکھتاہوں تو مجھے کہنا پڑتا ہے کہ محبت، بھائی چارہ اور یکجہتی کا حمایتی و حامی ،بلوچی، براہوئی ،اردوشاعری اور تاریخ کے سوامی ، فرنگی کش میر محراب خان کی سلامی ،عزت، ناموس اور توقیر آدمیت کا خلاصہ شادکامی ، ناواقف آداب غلامی، شعور وانقلاب کے نام اور اظہار میں عوام کا ایک بڑے منظر نامے میں گل خان نصیر اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی شاعرتھا۔ اس کی بیٹی گوہر ملک کہتی ہے کہ (1) “دادی جان بابا کے بارے میں فرماتیں۔ گل خانن پیدائشی شاعر ہیں جب پانچ سال کے تھے میں نے بلوچی دری بنوانے کےلئے ایک عورت بلائی۔ جس کا نام تاجی تھا۔ میں نے کچھ کجھوریں گل خان کو دی کہ جاکر تاجی کو دیں ۔ وہ کجھور لے کر تاجی کے پاس گیا اور کہا،
“بلہ تاجی ہرف دا نا باجی”
ترجمہ۔ نانی تاجی یہ لو اپنا حصہ۔
ماہو، نوکرانی کو ایک دن میں روٹیاں دے رہی تھیں ، چار چپاتیوں کے اند ر ایک چپاتی رکھ کر دی تو گل خان نے فلبدیہہ کہا،
چار چپٹی کپ تل ٹی
ایتے ماہو نا بغل ٹی ۔        ص۔ 33
ترجمہ۔ چار چپاتیاں تہہ بہ تہہ ۔ جا ماہو کو تھمادے۔
اس شاعرنامدار کی طرح ہربڑا شاعر کہتا ہے وطن ہے جتن ہے ۔۔چمن ہے سخن ہے ۔۔ حسن ظن ہے تو امن ہے ۔۔ او ر روح کی بالیدگی ہی میں قوت بدن ہے زندگی کا یہ کلیہ مکمل کرنے کےلئے میر گل خان نصیر سے دوستی کرنی ہوگی ، بے غرض ہو کر ہاتھ ملانا ہوگا، بقول ان کے سچ پر مبنی سیاست میں ہی منزلوں کی تعبیر ہے ،ظلم سے امن کشید کرنا ہی زندگی کی تفسیر ہے، انسانی اقدار کے مطابق احترام آدمیت کا شعور بیدار کرنا ہی اہل علم و دانش کی جاگیر ہے ۔۔۔ میر گل خان نصیر اور ان کے جذبات واحساسات میں پوشیدہ محبت کے اظہار پر آگے چل کر روشنی ڈالنی ہے ۔ اگر شعور کی آنکھ ، کان سمیت دل کی دھڑکن کو سچائی سے پرکھنے کا حوصلہ نہ ہو تو زندگی پر منافرت اور تعصب کا غلبہ ہوگا۔ گل خان نصیر کے ہمعصر وں کو کاش مخالفین کی جانب سے تنقید برداشت کرنے کا یارا ہو تا تو حالات اس طرح دگر گوں نہ ہو تے۔
ذرا سوچئے ایک پانچویں جماعت کا طالب علم براہوئی میں شعر گوئی کی ابتداءکرتا ہو ، وہ بھلا عشق و محبت سے کیسے غافل رہ سکتاہے ۔اس کی محبت اور سچے جذبات پر حالات نے ایسا شب خون مارا کہ وہ اپنی معصوم خواہشات کو چھوڑ کر انقلابیوں کے صف میں شامل ہوا اور آٹھویں جماعت کی دہلیز پار کرتے ہی براہوئی زبان میں “مشہد نا جنگ نامہ”منظوم کیا ، سینے میں عوامی درد رکھنے والا یہ نوجوان وقت و حالات کی کشمکش میں عہد جوانی کی محبت سے کوسوں دور نکلا اور فیض احمد فیض، حبیب جالب، بابو عبدالرحمان کرد، نادر قمبرانی کی طرح ظالم حکمرانوں کےلئے چیلنج ثابت ہوا ، فیض احمد فیض نے محبت کے گیتوں پر ظلم کا سایہ بڑھنے کے بعد ایک موقع پر مجبور ہو کر کہا :
“مجھ سے پہلی سے محبت میرے محبوب نہ مانگ”
گل خان نصیر کی کتاب “مشہد نا جنگ نامہ “1981ءمیں براہوئی اکیڈیمی کے زیراہتمام چھپ کر منظر عام پر آئی، کتا ب کے مقدمہ میں میر گل خان نصیر یوں رقمطراز ہیں (2)”میرا ارادہ تھا کہ فردوسی اور شاہنامہ کی طرح تاریخ بلوچستان کو مکمل نظم کروں مگر حالا ت نے ایسا پلٹا کھایا کہ مجھ سے براہوئی شاعری ہی چوٹ گئی حالانکہ میر ی براہوئی شاعری کا ذخیرہ بھی کافی تھا مگر سیاسی معاملات کے الجھا¶ کی وجہ سے جو میں چاہتا تھا ایسا نہ ہو ا، لہذا اس مباحثے کو میں کسی اور وقت کےلئے موخر کرتا ہو ں”ص9
1982ء،میں ڈاکٹر تاج رئیسانی کے اولین برا ہوئی افسانوی مجموعہ “انجیر نا پھل”کی تقریب رونمائی کے موقع پر تقریب شروع ہو نے سے قبل قلات پریس کے بک شاپ پر مرحوم زمرد حسین اور نادر قمبرانی کی موموجودگی میں ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ “جذباتی ہونا او ر جذبات میں بہہ جانے کے فرق کو محسوس کرنے کا ہمیں موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا لیکن نوجوانوں سے میر ی درخواست ہے کہ وہ ہمیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے عہد کی سیاسی بدانتظامی پر مبنی حکمرانی کے بارے میں ضرور جانکاری رکھیں “۔ایک ایسے نابغہ روزگار شخص کو جو بیک وقت شعر بھی کہتا ہو ، تاریخ نویسی پر بھی مامور ہو ، جیل یاترا بھی اس کا مقد ر ٹہرا ہو اس کی زندگی کے نشیب و فراز کو سمجھنے کی واقعی ضرورت ہے ۔عوام کے لئے لڑا¶ اور حکومت کرو حکمرانوںکا ایک حربہ ہے اور اہل علم و دانش کےلئے جذباتی کر و، الجھا¶، تھکا¶، بھگا¶، دبا¶، غلط فہمیاں پیدا کرو ، کردار کشی کرواور پھر مارو جیسے حربے استعمال ہو تے ہیںلیکن باہمت ، جرات مند، عہد ساز شخصیت ساز لوگ کسی کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔(3) 1933ءمیں لاہور میں بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے اپنے اعزا ز میں دےے گئے عصر انہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر میر گل خان نصیر نے اپنی وہ براہوئی نظم پڑھی جو انہوں نے میر یوسف خان مگسی کی قومی خدما ت سے متاثر ہوکر بحیثیت طالب علم کہی تھی جس کا پہلا شعر یوں ہیں ۔
ارک نی ہمت ئے دا مرد نا دا مردے میدا ن نا
مگسی قوم نا فرزند نواب یوسف علی خان نا     ص۔ 51
ترجمہ۔ دیکھ ذر ا اس باہمت نوجوان اور مرد میداں کو۔ جو مگسی قوم کے نواب یوسف علی خان مگسی کے فرزند ہیں۔
ماضی میںکوتاہ بینوں نے اپنے حقیقی محسنوں کے ساتھ یہی کیا ۔ جس کی وجہ سے آج لوگ تعصب، بیگانگی اور لاتعلقی کا شکار ہیں افراد او ر خاندانوں تک ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں اس کے بعد دیواروں پر گالم گلوچ ، بیہودہ تفاخر پر مبنی تحریروں ، کردار کش جملوں نے کتاب اور قلم کے مقدس رشتے کی جگہ لے لی ، اور ساتھ ہی دیواروں پر ظاہر و پوشیدہ بیماریوں پر قدرت رکھنے والے حکماءکے اشتہار جعلی حروف میں لکھنے کا رواج پڑا جس سے یہ ظاہر ہو نے لگا کہ پوری قوم بیماریوں کا شکارہے ۔ ہمارے ہاں مصوروں کو لینڈ اسکیپ کا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ کینوس پر جگہ کی تنگی کا ہے برش کی بے ترتیبی ہے خزاں اور بہار کو سمجھنے میں حواس خمسہ سے محرومی ہے جس معاشرے میں ہیروئن فروش ،بدکرداربااعتبار بااختیار ہوں وہاں علم پر تو حملے ہوں گے ۔ گل خان نصیر اور فیض احمد فیض جیسے لوگ غدار وطن کہلائیں گے۔جس کے بعدیوسف عزیز مگسی اور لالہ غلام محمد شاہوانی لاعلمی میں آخرکار مارے جائیں گے اور معاشرے کے مخلص سنجیدہ لوگ فراموش ہوں گے ۔ پوشکن نے کہا تھا “موم بتیاں مہنگی ہو گئیں ۔ اندھوں کو کیا فکر”
میر گل خان نصیر بلوچی و براہوئی ادب کے کوہ چلتن تھے، انصاف پر مبنی نظام کے خواہشمند تھے نو ر ثقافت کے انجمن تھے جس خطے کو قدرت نے چارموسموں سے نوزا ہو اس کا شاعر غیر فطری سوچ کا حامل کیسے ہو سکتا ہے وہاں بسنے والے محبت ، اخوت کی وراثت سے کیے نابلد رہ سکتے ہیں ہاں انہیں محروم کرنے کے عمل میں شدت کے خلاف جذباتی ہو نا اپنے ردعمل کا اظہا ر کرنا فطری خیال کیا جاتا ہے ملک بھر میں ایسے سیاستدانوں ، ادیبوں کو دھتکارنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سکندر نامی شخص اسلام آباد کو آٹھ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھتا ہے خود کش حملوں کا رواج پروان چڑ ھتا ہے ہر طرف احتجاجی کنٹینر سجنے لگتے ہیں کنٹینروں ہی سے چلتے پھرتے دیواروں کا کام لیا جانے لگا ہے اور کنٹینر وں میں معیشت پر سکرات طاری ہے سرکاری عمارتوں پر حملے کرنا، آکسفور ڈ ڈکشنری میں ایک لفظ گلو کریسی کے اضافے کےلئے گلو بٹ کا اخلاقیات کو دا¶ پر لگانا اجتماعی آبروریزی ، تیزاب گردی نہ جانے کیا کیا ہو نے لگا ہے اسی لئے میر گل خان نصیر نے کہا تھا کہ
(4)    اراسیٹی کہ داوڑ انتشار ے
ہمیش ٹوھو کنیک اونا کشارے
ارے ماندہ قلم انت کائے مستی
زبان مستی اننگان کیک سستی     (ص92)
ترجمہ۔”جب کسی گھر میں انتشار ہو گا ۔ حکمران ہی بھوک و افلاس کا باعث بنیںگے ۔ اہل علم کو پابند سلاسل کرنے سے مقدس زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں “۔
اس دورمیں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل ایک قومی سیاسی پارٹی نیپ کے نام سے وجود میں آئی تھی جس کے پرچم تلے لوگ یک زبان ہو کر انصاف پر مبنی نظام کے متمنی تھے مگر وقت کے آمروں کی ہٹ دھرمی سے ملک دولخت ہو ا، اس کے باوجود حکمرانوں نے زبان ، نسل ، علاقے اور برادری کی بنیاد پر لڑا¶ اور حکومت کرو کی پالیسی کو قائم و دائم رکھا ، آج براہوئی کہاوت کی طرح ہر شخص دوسرے کو کہہ رہا ہے “جاپان مرک”یعنی دفع ہوجا¶، میری نظروں سے اوجھل رہو، صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں اراکین آستینیں چڑھاکر داخل ہو تے ہےں طالب علم صبح قلم اور کتاب اٹھانے سے پہلے کمر پر پستول باندھ کر جانے کی تیاری کر تے ہےں ڈاکٹر اپنے کلینک اور پروفیسر اپنے درس گا¶ں پر واپسی کی ضمانت دیئے بغیر ر وانہ ہو تے ہیں۔ لوگ نظریات پر گفتگو کی بجائے بجلی کے بلوں ، ریلوے اور پی آئی اے کے کرا یوں ، مہنگائی اور کرپشن پر بولتے ہوئے ملتے ہیں ۔
اگلے ڈرون مار رہے ہیں ہم ڈرون ٹی وی کوریج پر اترا رہے ہیں ۔ غالباً کسی ایسے موقع پر گل خان نصیر انتہائی مایوس ہوکر کہتا ہے ۔(5)        سلوکے قوم نئے ہم قوم دار ی
نہ شار ئس قائمے نہ شارداری
اے وختا قوم اسے اتفاق ئس
نہ دن اینو امبار بے اتفاق ئس(ص91)
ترجمہ۔ “نہ ہی باہمی رشتے باقی رہے اور نہ ہی دکھ درد بانٹنے کا فطری جذبہ رہا، جب لوگ اپنے سچ پر قائم و متفق تھے تو وہ اس طرح منقسم بھی نہ تھے” اورحبیب جالب نے بھی کہا تھا
(6)        میرا ہم قفس بزنجو میرا رہنما بزنجو
کہاں اب سرے زمانہ میر ی جاں ایسا حق گو
یہ جو تخت پر ہیں بیٹھے تمہیں ذلتیں ہی دیں گے
جو سجاہے ان کے رخ پر یہ تمہارا خوں ہے لوگوں
دیکھئے دانشوروں کی پیش بینی او ر حق گوئی ملک الشعراءمیر گل خان نصیر نے اس وقت شاعری کی جب تحریر و تقریر پر پابندی تھی اس کے باوجود وہ اپنے جذبات کی کھتار سس کر تے رہے اگر سیاست سے ہٹ کر ان کےلئے شعری میدان سجتا تو وہ یقینا دیگر صوفی شعراءکی طرح ایک پھیلا¶ کے ساتھ شاعر ہفت زبان کہلاتے ، براہوئی کے ان کے کہے یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔
7)) استے ہشا کہ جان اٹی شاغاکہ خاخرئس
حیران مسوٹ ای خدا دا وا ہرا کا بس
خرن خیال ء اونا پیشانی نا نیامٹی
جلدی کرے کنے او گرفتار دامٹی
ترجمہ۔” دلربا کی دلربائی سے بدن میں ایک آگ سی لگتی ہے میں حیران ہوں وہ آج پھرسے اچانک کیوں آئی ہے ۔ اس کے ماتھے پر سبز تل نے مجھے دام محبت میں گرفتار کررکھاہے ۔”
ایک یونانی حکیم کا قول پیش کر تا ہوں ۔”خیالات کی اینٹوں کو جذبات کے چونے سے ہی جوڑ ا جاسکتاہے ۔”
گذشتہ روز علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے موقع پر کسی ادبی تقریب کا انعقاد تو نہیں ہوسکا البتہ اسی روز خبروں میں پہلی خبر قاتل عاشق نامراد کی خبر، بھٹہ مزدور ،میاں بیوی کو زندہ جلانا،سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب کی تبدیلی اور شادی پر مجبور کرنا ، تھر میں بھوک و افلاس کا واویلا اور بجلی کی بندش سے چار معصوم بچوں کی انکیوبیٹر میں اموات، کراچی میں قتل و غارت گری و دیگر جرائم کی خبریں بالترتیب سننے کو ملی، اس سے اندازہ لگائیں کہ علم کی روشنی سے محروم معاشروں کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔ لہذا میر گل خان نصیر و دیگر ادباءو شعراءکے کلام کو پڑھنے اور پڑھانے کا جس قد ر زیادہ اہتمام ہو گا دہشت کے جنا ت پر زمین تنگ ہوگی ۔ آخر میں گل خان نصیر کے اس وقت کے خدشات پر مبنی حبیب جالب کے لئے ” ساتھی” کے عنوان سے کہے گئے نظم کے ایک حصے کو رقم کرتا ہوں ملاحظہ ہو۔
(8)    اے سخن دان جالب
اے میرے دل وجان سے پیارے ساتھی
آ¶ کہ تم اس تاریک زنداں میں
مثل ماہ تاباں ہو
آ¶ اور اپنے پرسوز اشعار سے
میرے دل کے تاروں کو چھیڑو
آ¶ جمہویت کے پاسباں
ان سرفروش نوجوانوں کو دیکھو
جن کے جسم لاٹھیوں کی ضربوں سے نیلے پڑگئے ہیں
اور جن کی آنکھیں الوان کی طرح سرخ ہیں
جو خزاں کے زرد پتوں کی طرح
خاک پر بکھرے پڑے ہیں
لیکن اس باوجود وہ پروانوں کی طرح
تمہارے چاروں طرف جمع ہورہے ہیں
آ¶ کہ اس کے بعد
شاید کبھی تم ایسے پیارے ساتھی نہ دیکھ سکو    ص785
حوالہ جات
1۔ادباءکی چا¶ں میں۔ پبلشر میر گل خان نصیر و چیئر جامعہ بلوچستان کوئٹہ۔ 1914ئ
2۔ مشہد نا جنگ نامہ۔ پبلشر براہوئی اکیڈیمی 1981ئ
3۔ادباءکی چا¶ں میں۔ پبلشر میر گل خان نصیر و چیئر جامعہ بلوچستان کوئٹہ۔ 1914ئ
4۔مشہد نا جنگ نامہ۔ پبلشر براہوئی اکیڈیمی 1981ئ
5۔مشہد نا جنگ نامہ۔ پبلشر براہوئی اکیڈیمی 1981ئ
6۔بلوچی دنیا ملتان۔ بزنجو نمبر 2014ئ
7۔ہفت روز ہ تلار کوئٹہ۔شمارہ نمبر 25تا 31، اکتوبر 2014ئ
8۔ کلیات گل خان نصیر(تیرگال) پبلشر بلوچی اکیڈمی کوئٹہ

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *