Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » میرا بیٹا مہدی ۔۔۔ امر جلیل/عظیم انجم ہانبھی

میرا بیٹا مہدی ۔۔۔ امر جلیل/عظیم انجم ہانبھی

میں اندھیرے میں نگاہیں جمائے اپنے کچے گھر کے پکے دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے باہر گلی میں ایک مردہ سا زرد بلب میونسپلٹی کی صلیب یعنی پول پر لٹک رہا تھااور ہماری زندگی کی طرح ٹمٹما رہا تھا۔ بلب بھوندو تھا، کبھی بجھ جاتا تو کبھی جل پڑتا،لیکن ہمارے کچے گھر میں اندھیرا تھا۔باہر اندھیرے میں مفلس روشنی کی کرنیں ٹھوکریں کھاتی پھر رہی تھیں۔
’’کچھ کرو گے یا یونہی بیٹھے رہو گے؟‘‘ حمیداں خوبصورت آواز میں بولی۔
میں تین ٹانگوں والی کرسی پر بیٹھا تھا۔قریب ہی بان کی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر میری گھر والی حمیداں لیٹی ہوئی تھی۔میری گھر والی حمیداں جب باہر والی تھی یعنی مجھ سے شادی کے بندھن میں ابھی تک نہیں بندھی تھی تب میں اس سے محبت کرتا تھااور اسے حمیدہ پکارتا تھا۔ جب سے وہ باہر والی سے تبدیل ہو کر میری گھر والی ہوئی تھی تب سے حمیدہ سے حمیداں بن گئی تھی ۔اس نے مجھے عددِ واحد اولاد جنسِ مذکر پیدا کر کے دی ہے جس کا نام ہم نے مہدی رکھا ہے۔آج کل مہدی حسن گائیک مشہور ہے لیکن ہم نے اس کا نام امام مہدی کی نسبت سے رکھا ہے۔
حمیداں کے پہلو میں میرا بیٹا مہدی سویا ہوا تھا اور اس کی سریلی آواز بند تھی۔اس وقت مہدی کی عمر چھ ماہ، چھ دن، چھ گھنٹے اور چھ منٹ تھی ۔منٹ غم کی رات کی طرح بڑھتے ہی رہے لیکن وقت پہاڑ کی مانند دھرتی سے چمٹا ہوا تھا۔
حمیداں دوبارہ بولی، ’’کچھ کرو گے یا یونہی بیٹھے رہو گے۔‘‘
میں بولا،’’کچھ کر ہی تو رہا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’انتظار‘‘
’’ہونہہ‘‘
’’ پگلی دیکھ نہیں رہی کہ کتنی دیر سے اندھرے میں آنکھیں جمائے انتظار کر رہا ہوں۔‘‘میں بولا، ’’انتظارکے عذاب سے بڑا کوئی عذاب تمہارے اللہ نے انسان کے لئے ایجاد کیا ہے بھلا؟‘‘
’’تمہارا توگویا ہے ہی نہیں؟‘‘
’’میری تمہارے اللہ کے ساتھ لگتی ہی نہیں۔‘‘
بولی، ’’دیکھو اگر ایسی باتیں کرو گے تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔‘‘
’’دل اور دل کے عقیدے ٹوٹ جاتے ہیں حمیداں، نکاح بچارا کیا ٹوٹے گا۔‘‘ میں بولا،’’اور اگر نکاح چپل کی طرح ٹوٹ بھی گیا تو جا کر کسی موچی سے جُڑوالیں گے۔‘‘
’’بس بس۔‘‘ حمیداں نے ناتواںآواز میں کہا، ’’تم سے شادی کر کے میں نے اپنا منہ سفید کیا ہے۔‘‘
’’اچھا کیا ہے۔‘‘ میں بولا، ’’ میں نے تو تمہیں پیشگی بتا دیا تھا کہ مجھ سے شادی کرکے ایسے مزے اٹھاؤگی۔‘‘
حمیداں روہانسی ہوگئی۔ بولی،’’ تمہارے لئے اپنے ماں باپ چھوڑے، بھائی بہن چھوڑے، اس لئے تاکہ تم مجھے بھوکا مارو یا کافر بناؤ؟‘‘
میں نے کہا،’’ میری پیاری حمیداں، محبت میں انسان کافر سے مومن اور مومن سے ملحد ہو جاتا ہے۔لیکن انسان محبت میں بھوک کا عذاب برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘
حمیداں نے منہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔
حمیداں کو عزیز و اقارب نے بہتیرا سمجھایا تھا۔ مجھ سے شادی ٹالنے کے لئے اسے میرے خطرناک ہونے کے ایک سو ایک دلائل دیتے ہوئے کہا تھا ، ’’یہ کالج کا چھورا ، مُوا لاوارث ، یتیم، بھک منگا، جو کالج پڑھنے اور روٹی کھانے کے لئے حیدرآباد کی گلیوں میں سائیکل پہ سوار اخبار بیچتا پھرتا ہے، بڑا خطرناک ہے۔ پولیس اور سی آئی ڈی کو سیکڑوں کیسوں میں مطلوب ہے۔ انٹیلی جینس ڈیپارٹمنٹ کا خیال ہے کہ یہ ہٹلر کا گمشدہ ساتھی فیلڈ مارشل رومیل ہے۔
لوگوں کی باتیں جب حمیداں نے مجھے بتائیں تو میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا تھا ’محبت کے معاملہ میں رشتہ دار ہمیشہ ولن کا کردار ادا کرتے ہیں اس لئے تم ان کی باتوں کو لفٹ نہ دو۔ پولیس اور سی آئی ڈی کو میں کسی بھی جُھوٹے کیس میں مطلوب نہیں ہوں، کیونکہ ان کو مجھ کنگال سے ہٰذا من فضل ربی کے بدلے ان اللہ مع الصابرین ملے گا۔ تم اللہ کا نام لے کر مجھ سے شادی کر ڈالو۔‘
حمیداں نے اللہ کا نام لیکر مجھ سے شادی کر ڈالی۔شادی میں میری طرف سے اس کو زندگی کا زہر ملا ہے۔نکاح کے کچھ دیر بعد اس کا ماموں، جس کے دونوں کان خرگوش کی طرح بڑے اور حیرت انگیز تھے، اسے تنبیہہ کرنے آیا تھا ۔ مجھ پہ کان کھڑے کرتے ہوئے حمیداں سے کہا تھا، ’’کہے دے رہا ہوںیہ لاوارث یتیم تمہیں بھوکوں مارے گا۔‘‘ حمیداں نے اسے جواب دیا تھا ، ’’دانے دانے پہ کھانے والے کا نام لکھا ہوا ہے۔ جو دانہ پانی اللہ کی طرف سے نصیب میں لکھا ہوگا، ضرور ملے گا۔‘‘ ایساایمان افروز جواب سن کر اس کا ماموں اپنے حیرت انگیز کان چُھپا کر بھاگ لیا تھا۔
’’آخر کر کیا رہے ہو؟‘‘ حمیداں کی آواز سے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
کہا،’’انتظار کر رہا ہوں۔‘‘
’’کس کا؟‘‘
’’دانے کا۔‘‘
’’دانے کا!‘‘حمیداں چونک اٹھی۔پوچھنے لگی، ’’کیسا دانہ، کاہے کا دانہ؟‘‘
میں نے کہا،’’میں اناج کے اس دانے کا انتظار کر رہا ہوں جس پہ تمہارے ،میرے اور مہدی کے نام کی مہر ثبت ہوگی۔‘‘
وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئی اور ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگی۔
میں نے کہا، ’’میرا خیال ہے چونکہ میری تمہارے اللہ کے ساتھ نہیں لگتی اس لئے ایسا دانہ ہرگز نہیں آئے گا جس پہ میرے نام کی مہر ہو۔مہدی ابھی شِیر خوار ہے ۔بے شک اس کے نصیب کے دانے اعتقاد کے بینک میں سُود سمیت بڑھتے رہیں۔باقی تمہارے نصیب کا دانہ ضرور آئے گا ۔ تم اللہ لوک ہو۔مل جل کر ایک دانہ ہی کھالیں گے۔‘‘
حمیداں نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا،’’ کہیں تم بھوک سے پاگل تو نہیں ہو گئے؟‘‘
’’پاگل ہو جاتا تو ایمان کے بدلے تمہیں اور مہدی کو نہ کھا جاتا !‘‘میں نے جواب دیا۔’’ میں اندرونی پر پورا سالم اور بقائمی ہوش و حواس ہوں اور اس دانے کے آنے کا انتظار کر رہا ہوں جس پر تمہارے نام کی مہر ہو گی۔‘‘
حمیداں نے بات نہیں کی۔ کچھ دیر بعد میں نے سسکی کی آواز سنی۔
میں نے حیرت سے اس سے پوچھا، ’’یہ آنسو کہاں سے لائی ہو حمیداں، آج کے دن کے لئے بچا رکھے تھے کیا؟‘‘
حمیداں نے جواب نہیں دیا۔روتی رہی۔میں تین ٹانگوں والی کرسی سے اٹھ کر حمیداں کے پاس جا کھڑا ہوا۔اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے کہا، ’’ابھی تو عذاب کی شروعات ہے۔ابھی سے ہی دل ہار کے بیٹھ گئی ہو۔‘‘
میرے سینے میں منہ چھپاتے ہوئی بولی، ’’ تمہارے لئے میں سات جنم بھوکی مرنے کو تیار ہوں ۔لیکن، لیکن تم دیکھتے نہیں بھوک میں نڈھال ہو کے میرا دودھ خشک ہو گیا ہے۔صبح سے مہدی کو دودھ بھی نہیں پلایا۔‘‘
میرا دل مٹھی میں آگیا۔ حمیداں کو بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا،’’ کچھ آنسو مجھے بھی دو حمیداں ۔ آنکھوں کا زم زم مجھے بھی دو تا کہ میں بھی رو سکوں۔
دل کے دوزخ پر چھینٹے مار سکوں۔‘‘
اس نے سسکیوں میں جواب دیا ، ’’اخبار بیچنے کے بدلے پولیس والے اگر خرچہ مانگتے ہیں تو تم انہیں دے کیوں نہیں دیتے؟‘‘
میرے حلق میں نفرت تیرنے لگی۔ میں نے کہا، ’’اور اگر کل کلاں کو پولیس والے اخبار بیچنے کے بدلے رشوت میں مجھ سے تمہارا جسم مانگیں تو پھر؟‘‘
اس سے پہلے کہ حمیداں کو ئی جواب دیتی ،کھُلے دروازے کی کنڈی بجی۔ہم دونوں نے چونک کر ایک دوجے کی طرف دیکھا۔
ذرا دیر بعد دروازہ پھر بجا۔حمیداں نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔اس کی خوفزدہ آنکھیں اندھیرے میں چمکنے لگیں۔میں نے اس سے کہا، ’’میرا خیال ہے تمہارے نام کا دانہ آیا ہے۔‘‘
میں واپس آکر تین ٹانگوں والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دروازے پر تیسری بار قدرے زور سے دستک ہوئی۔
میں نے اونچی آواز میں کہا ،’’چلے آؤحمیداں کے نصیب کے دانے، دروازہ کھلا ہے۔‘‘
دروازے کے باہر ملجگی روشنی میں ہلچل ہوئی۔ میں نے کہا، ’’چلے آؤ دانے، ہم تمہارے منتظر ہیں۔‘‘
ایک بوری اندر چلی آئی۔ میں نے سوچا حمیداں بڑی قسمت والی ہے کہ ایک دانے کے بدلے دانوں کی بوری چلی آئی ہے۔
بوری ستون کے پاس آکر گھٹا ٹوپ اندھیرے میں رک گئی۔
میں نے اسے آواز دی، ’’اے دانوں کی بوری، شرماؤ نہیں چلی آؤ۔‘‘ بوری آگے چلی آئی۔
میں نے کہا، ’’ تم نے بہت انتظار کرایا ہے اے دانے، میرا مطلب ہے دانوں کی بوری۔‘‘
آواز آئی، ’’ابے !بڑے ہی بدتمیز ہوکوئی۔‘‘
میں تین ٹانگوں والی بوری سے اٹھ کھڑا ہوا اور خوف و حیرت سے پوچھا، ’’تم کس قسم کے دانے ہو کہ بات کر رہے ہو۔‘‘
’’مجھے نہیں پہچانا؟‘‘ بوری آگے بڑھی۔اندھیرے میں ہلتی ہوئی چیز جب باہر سے آنے والی ملجگی روشنی کی زد میں آئی تو اسے دیکھ کر مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ سامنے الحاج سیٹھ نیک محمد کھڑا تھا۔میں نے اسے سلام کرتے ہوئے کہا، ’’معاف کرنا سیٹھ صاحب،میں اندھیرے میں آپ کو۔۔۔۔‘‘
وہ میرا جملہ کاٹتے ہوئے وہ بولا، ’’اندھیرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔کوئی کسی کو پہچان نہیں پاتا۔‘‘
میں نے تین ٹانگوں والی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’تشریف رکھیں۔‘‘
وہ کرسی پر بیٹھنے لگا۔ میں نے فوراً کہا، ’’خیال سے بیٹھئے گاسیٹھ صاحب، اس کرسی کی ایک ٹانگ ’ون یونٹ ‘ ہوگئی ہے۔‘‘
سیٹھ بڑی احتیاط سے کرسی پر بیٹھ گیا۔کرسی کے جوڑ سول ہسپتال کے مریضوں کی طرح تڑپنے لگے۔
میں نے اس سے پوچھا، ’’آج کیسے تکلیف کی سیٹھ صاحب۔ پھر الیکشن * میں کھڑے ہوئے ہیں کیا؟‘‘
’’کھڑے ہونگے، کھڑے ہونگے، کیوں نہیں کھڑے ہونگے۔‘‘ سیٹھ صاحب نے خوش ہوتے ہوئے کہا، ’’عوام کے بیحد اصرار پر میں یہ الیکشن لڑ رہا ہوں۔‘‘
’’ پھر تو ملک کا مستقبل روشن ہی ہوگا۔‘‘
’’بالکل روشن۔‘‘
’’بلا مقابلہ آرہے ہیں کیا؟‘‘
’’ ان منافقین میں اتنا شعور ہی کہاں ہے کہ ہم جیسے عوام دوست خدمتگاروں کو بلا مقابلہ آنے دیں۔‘‘سیٹھ صاحب نے سخت لہجے میں کہا، ’’ایک بزدل بیرسٹر مقابلے میں آیا ہے۔ باہر سے پڑھ کے آیا ہے۔سالے کا دماغ خراب ہو گیا ہے، مَت کا مارا، جائے کوئی وکالت مکالت کرے۔ دیکھ لیناسائیں ۔ حرامخور کی ضمانت ضبط نہ کرا دی تو میرا نام بھی الحاج سیٹھ نیک محمد نہیں ۔‘‘
’’صحیح فرما رہے ہیں سائیں۔‘‘ میں بولا، ’’بھلا پڑھے لکھے آدمی کا الیکشن سے کیا واسطہ‘‘
اس نے اچانک پوچھا ، بھئی بتاؤ تو ذرا، کوئی تکلیف وغیرہ تو نہیں ہے؟‘‘
حمیداں نے مجھے کہنی مارتے ہوئے سرگوشی کی، ’’اسے کہو ناں کہ یہ تمہیں کوئی نوکری دلائے۔‘‘
میں نے بھنبھناہٹ بھرے لہجے میں کہا، ’’ببول سے بیر مانگوں؟‘‘
حمیداں نے آہستگی سے کہا، ’’ضد مت کرو۔بھوکے مر رہے ہیں ۔‘‘
میں نے سیٹھ سے کہا، ’’دراصل پیٹ تو بھرا ہوا ہے سیٹھ صاحب۔ یوں سمجھئے کہ آجکل ضرورت سے سے کچھ زیادہ ہی دانہ پانی مل رہا ہے ۔‘‘
’’ الحمدللہ‘‘،سیٹھ آسمان کی طرف ہاتھ سیدھے کرتے ہوئے بولا۔ ’’مولا رزاق اور رحیم ہے۔اپنے بندوں کو ہرگز نہیں بھولتا، سبحان اللہ ۔‘‘
’’ بالکل، بالکل‘‘، ،میں نے اونچی آواز میں کہا۔
سیٹھ خود پر پھونک مارتے ہوئے بولا، ’’خداوند تعالیٰ کی شان ہے کہ مجھ جیسے گنہگار کو ایسی حیثیت عطا کی ہے کہ محلے میں تیسری مسجد بنواچکا ہوں۔‘‘
سیٹھ صاحب نے دم لینے کے لئے بولنا بند کیا۔
میں نے حمیداں سے سرگوشی میں پوچھا، ’’اب بولو مُلّانی۔سُود کے پیسوں سے بنوائی ہوئی مسجد اور خیرات کی جگہ میں سے کونسی شے بہتر ہے؟‘‘
حمیداں نے مجھے پیٹھ پہ چٹکی کاٹی۔ میرے منہ سے سسکی نکل گئی۔
سیٹھ کی گفتگو شروع ہوگئی۔اس نے کہا، ’’ آج رات آٹھ بجے عزت مآب اعلیٰ حضرت جناب وزیر مالیات مسجد شریف کا افتتاح فرمائیں گے۔ امّا بعد، اسکے بعد فقیروں، غریبوں کے لئے غریبانہ لنگر تقسیم ہوگا۔ لنگر کے بعد چھوٹے صالح محمد قوال، جو یورپ اور افریقا میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے حال ہی میں لوٹے ہیں، نذرانہء عقیدت پیش کرینگے۔اس کارِ خیر اور کارِ ثواب میں شرکت کے لئے اہلِ محلہ کو دعوت دینے میں خود نکلا ہوں ۔ مہربانی کر کے مسجد محمدی کی افتتاحی تقریب کے فنکشن میں شریک ہو کر ثوابِ دارین حاصل کریں اور مجھ گنہگار کی ہمت افزائی فرمائیں، امّا بعد۔‘‘
فٹبال کی مانند گول اور اناج کی ادھ بھری بوری سا ٹھگناالحاج سیٹھ نیک محمد تقریر جھاڑ کر رخصت ہو گیا۔
میرے ننھے منے بیٹے مہدی نے قہقہہ لگایا اور خاموش ہو گیا۔
حمیداں حیرت کے انداز میں مہدی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، ’’اتنے چھوٹے بچے بھی قہقہہ لگاتے ہیں کیا؟‘‘
’’ یہ قہقہہ نہیں تھا میری پیاری حمیداں،‘‘ میں نے اسے سمجھایا، ’’یہ بھوک کی پکار تھی۔‘‘
مہدی نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔
حمیداں بولی ، ’’قہقہہ سن رہے ہو ! کہیں لڑکے میں کوئی جن تو نہیں گھس گیا؟‘‘
’’ تم تو بالکل ہی گئی گذری ہو۔‘‘ میں اسے بانہوں میں گھیرتے ہوئے کہا، ’’بھوک کے مارے دکھی لوگ جن تو کیا خدا سے بھی زور ہوتے ہیں۔ بھلاجن کی شامت آئی ہے کہ وہ مہدی میں آ بسیرا کریگا؟‘‘
حمیداں غور سے مجھے دیکھنے لگی۔
میں نے پوچھا، ’’کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
اس نے جواباًپوچھا، ’’تم ملحد تو نہیں ہو؟‘‘
میں نے کہا، ’’تم فکر مت کرو،میں مومن مسلمان ہوں۔تمہارا میرا نکاح ہمارے غموں کی طرح ہمیشہ برقرار رہے گا۔‘‘
حمیداں بولی، ’’مہدی کی ہنسی میں ضرور کوئی راز ہے۔‘‘
’’راز بھلا خاک ہے۔‘‘ مجھے غصہ آگیا۔
حمیداں منہ پھیر کر لیٹ گئی۔میں خیالات کے جلتے ہوئے پہاڑ سے منہ نہ پھیر سکا۔ان گنت خیالات ، بھانت بھانت کے وہم ذہن کو تقسیم کرتے رہے۔ سوچ ساتویں آسمان پر بھٹکنے لگی۔تصور تخیّل کے نخلستان میں رُلتا رہا۔سوچ و بچار شعور کے کھنڈرات میں کھرے اور کھوٹے کی جستجو میں مگن رہے۔تب، کہیں پڑھا ہوا ایک جملہ یاد آیاکہ ’ہر انسان اس دنیا میں کسی خاص مقصد کے لئے بھیجا گیا ہے۔‘ اس رات خیالات کی آگ میں بھسم ہوتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں ، حمیداں اور ہمارا بیٹا مہدی افسر شاہی آمریت کے بھوت کے آگے قربانی کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ہم پولیس اسٹیٹ کے جوتے کھانے کے لئے دنیا میں آئے ہیں۔
نجانے کب حمیداں چارپائی سے اٹھی اور کب میرے پیروں میں آبیٹھی۔چہرہ میرے گھٹنوں کے درمیان ڈال دیا ۔ بھرائی ہوئی آواز میں مجھ سے بولی، ’’کہیں سے بھی دو نوالے روٹی مجھے لا دو۔چھاتی تر ہو تو مہدی کودودھ پلاؤں۔‘‘
میں نے کرب سے جواب دیا، ’’میں کہاں سے لاؤں؟ انتظار کرو شاید تمہارے نصیب کا دانہ گھومتا گھامتا ادھر آنکلے۔‘‘
وہ بولی، ’’ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’کیا برداشت نہیں ہوتا؟‘‘
اس نے جواب نہیں دیا، رونے لگی۔
میں نے اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا، ’’آؤ کہ خودکشی کر لیں۔ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔‘‘
’’ پتہ ہے یہ قول کس کا ہے؟‘‘
’’ میرے دوست کا ہے۔ اس نے بھی پولیس اسٹیٹ کی افسرانہ آمریت سے بیزار ہو کر یہ الفاظ کہے تھے۔‘‘
میں نے پوچھا،’’ کیا خیال ہے ، کریں تینوں با جماعت خود کشی؟‘‘
وہ بولی، ’’ خود کشی گناہ ہے۔‘‘
’’ اور بھوک سے مرنا تو شاید کارِ ثواب ہے !‘‘ میں نے کہا، ’’آؤ کہ صبر کرتے ہوئے بھوکے مر کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔‘‘
ننھے مہدی نے چھوٹا سا قہقہہ لگایا ، پھر مبہم سی بھنبھناہٹ شنید میں آئی۔
حمیداں فوراًچارپائی چھوڑ کر کھڑی ہوگئی۔عجب حیرت اور پریشانی میں بولی،’’ مہدی کے ابا، سنو، مہدی کی باتیں سنو۔‘‘
’’بھنبھنانے اور بولنے میں فرق ہوتا ہے۔‘‘
’’ نہیں نہیں، ہمارے مہدی نے بات کی ہے۔‘‘
پریشانی میں بولی، ’’ہو سکتا ہے ہمارا مہدی، امام مہدی ہو۔‘‘
میں نے اسے سمجھایا ، ’’اسلام پسند امام مہدی زہرہ فونا** کی ناف کے پاس ایک ٹیپ ریکارڈر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ہمارا ولی عہد خدانخواستہ اما م مہدی نہیں ہے۔‘‘
حمیداں نسوانی ضد کرتے ہوئے بولی، ’’میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ ہمارا مہدی، امام مہدی ہے۔ ‘‘
’’ تم تو بالکل ہی بھولی ہو ۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے ہر ایک نبی مشرقِ وسطیٰ یعنی مڈل ایسٹ میں پیدا ہوا تھا۔اسی لئے اس بار بھی امام مہدی عربستان میں پیدا ہوگا۔ہماری کیا مجال کہ نبی جَن سکیں۔‘‘
’’ ایک تو ویسے ہی تمہارا حافظہ کمزور ہے اوپر سے بھوک نے تمہیں حواس باختہ کر دیاہے۔‘‘ حمیداں بولی، ’’امام مہدی نبی نہیں بلکہ آخری امام کے طور پر پیدا ہوگا، سمجھے۔‘‘
’’ چلو ٹھیک ہے، دس نمبر کٹ گئے۔‘‘
’’اب تو یقین آگیا ناں کہ ہمارا مہدی امام مہدی ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’ بھلا بتاؤ تو، ہمارے مہدی نے کس زبان میں بھن بھن کی ہے؟‘‘
سوچتے ہوئے بولی، ’’میں سمجھتی ہوں سندھی میں بات کی ہے۔‘‘
’’ تو پھر تم سے بھول ہوئی ہے پگلی ۔‘‘ میں نے کہا، ’’امام مہدی اگر پاکستان میں پیدا ہوئے تو یقین مانو کہ اردو بولیں گے۔سندھی بول کر بھلا پگلائے ہیں کہ اپنی امامت خطرے میں ڈالیں گے۔‘‘
یہ بات شاید حمیداں کے دل کو لگی۔ مہدی کے پہلو میں لیٹ گئی۔کچھ دیر تک مہدی کو لوری سناتی رہی۔پھر چہرہ گھما کربولی، ’’مجھے مسجد سے چاول لا دو۔‘‘
’’ کونسی مسجد، الحاج سیٹھ نیک محمد کی مسجد محمدی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’خیرات کے چاول کھاؤ گی؟‘‘
حمیداں نے بے چینی سے پہلو بدلا، بولی، ’’کیسی خیرات! سیٹھ صاحب ہمیں دعوت دے کر گئے ہیں۔‘‘
’’ہونہہ۔‘‘ میں بولا، ’’سیٹھ نے گذشتہ اتوار کو انٹرکانٹی نینٹل میں جو دعوت کی تھی اسکے لئے تو ہمیں دعوت نہیں دی تھی۔‘‘
حمیداں روہانسی ہو کر بولی، خداجانتا ہے کہ میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگ رہی۔ میرے پیٹ میں دو نوالے پڑیں تو چھاتی تر ہو۔ دیکھتے نہیں مہدی بھوک سے بے حال ہو کر برف کی مانند ٹھنڈا ہو گیا ہے۔‘‘
مہدی نے قہقہہ لگایا۔
میں نہیں لیکن حمیداں چونک پڑی۔میں نے حمیداں سے کہا، ’’ ہمارا مہدی بھی شایدخیرات کھانے کے موڈ میں ہے، جا کے لے آتا ہوں۔‘‘
میں گھر سے باہر نکلا۔ گلی میں بڑی رونق تھی۔لڑکوں کی ایک ٹولی نعرے لگاتی میرے قریب سے گذر گئی ، ’’ ماریں گے مر جائیں گے، اسلامی نظام لائیں گے۔‘‘
کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔میں نے مڑ کر دیکھا،ماسٹر عاقل تھاجس کی حالات نے مَت مار دی ہے۔ بولا، ’’ سن رہے ہولڑکے کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’اسلامی نظام کے لئے نعرے لگا رہے ہیں۔‘‘
ماسٹر عاقل خان نے قہقہہ لگایا، بولا، ’’تم بھی گویا اسسٹنٹ ڈپٹی انسپیکٹر آف سکولز ہو۔ابے یہ لڑکے نظام کے لئے نعرے لگا رہے ہیں۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’ کونسا نظام۔‘‘
جواب آیا، ’’نظام سقہ، جس نے ہمایوں بادشاہ کو جمنا ندی میں ڈوبنے سے بچایا تھا۔‘‘
میں نے حواس باختہ نظروں سے ماسٹر عاقل خان کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا، ’’ہندوستان کی رنگین تاریخ مجھے انگلیوں پہ یاد ہے۔میں ماسٹرہوں۔ اسسٹنٹ ماسٹران دی پے اسکیل آف RS. 175-10-250, EB 15-350 *** ایسی باتیں ہم ماسٹروں کو بر زبانی یاد ہیں۔‘‘
مجھے عاقل خان سے وحشت سی ہونے لگی۔میں نے کھسکنا چاہا لیکن اس نے مجھے بازوؤں سے کس کے پکڑ لیا۔میرے چہرے پر نگاہیں جما کر کہنے لگا، ’’یُو، لا ابائیڈنگ سٹیزن آف اسلامک ری پبلک آف پاکستان، ٹیل می۔ مجھے بتاؤ، چودہ افراد کے لئے اسسٹنٹ ماسٹر کی تنخواہ میں کتنا آٹا، کتنا کپڑا اور کتنا (۔۔۔) مل سکے گا؟ ٹیل می۔ پلینٹی، پلینٹی۔ بہت زیادہ، بہت زیادہ۔‘‘
میں نے ماسٹر عاقل خان سے کہا، ’’ماسٹر، وہ اپنا الحاج سیٹھ نیک محمد ہے ناں۔‘‘
’’ کونسا نیک محمد؟ وہ ولایتی شراب کا بڈھا بیوپاری ،عربی سونے کا اسمگلر! وہ نیک محمد۔‘‘
’’ جی۔‘‘
’’ اللہ کو پیارا ہو گیا کیا؟‘‘
’’ وہ اور اس جیسے دوسرے بندے اللہ کو ہمیشہ پیارے رہتے ہیں ماسٹر عاقل خان۔خسرہ تو میرے تمہارے جیسے برے بندوں کو نکلتا ہے۔‘‘
’’ اچھا!‘‘ ماسٹر نے کہا، ’’لگتا ہے آسمان پر بھی کسی اسسٹنٹ ڈپٹی انسپیکٹر آف اسکولز کا راج ہے، کاغذ گم۔‘‘
ماسٹر کو لائین پہ لاتے ہوئے میں نے کہا، ’’ماسٹر، الحاج سیٹھ نیک محمد نے محلے میں تیسری مسجد بنوائی ہے۔اسی خوشی میں مسجد کے پاس لنگر پکوایا ہے، کھاؤ گے؟‘‘
’’ لنگر بندر کھاتے ہیں، میں انسان ہوں۔‘‘ ماسٹر عاقل خان آسمان کی جانب ہاتھ لہراکر قہقہے لگانے لگا۔محلے کے بچے اسے گھیر گھار کے لے گئے۔وہ عاقل خان کو دائرے میں گھیر کر تالیاں بجاتے ہوئے ہم آوازہو کر بولنے لگے، ’’ماسٹر عاقل خان، اسسٹنٹ ماسٹر ان دی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، گورنمنٹ آف پاکستان، پاکستان زندہ باد۔‘‘
ماسٹر عاقل خان بچوں کے بیچ میں جھُمر کھیلنے لگا۔میں مسجد کی جانب روانہ ہوگیا۔
تیسری گلی میں مسجد محمدی کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔اس گلی تک پہنچنے کے لئے آوازوں اور نعروں کے گھمسان میں سے گذرنا پڑا۔انتخابات کا آغاز تھا۔ہرایک گویاسیاسی راکھیل کے چکر میں تھا۔کوئی اسے مسلمان کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا، اور کوئی اسے سوشلسٹ بنانے کی کوشش میں ۔ کسی نے اسے نام و نسب تو کسی نے اثر و رسوخ سے، کسی نے بزورِتلوار تو کسی نے بزورِخنجر اسے رجھانے کے طریقے آزمائے تھے، لیکن وہ چکنی مچھلی کی طرح لوگوں کے ہاتھوں سے پھسلی جا رہی تھی۔
میں تین گلیاں عبورکر کے مسجد محمدی کے پاس پہنچ گیا۔
مسجد محمدی کو خوب سجایا گیا تھا۔
ننھے منے رنگا رنگ قمقمے اتنے ٹانگے گئے تھے جتنے آسمان میں تارے۔بڑے قمقموں سے آنے والی روشنی آبشار بنا رہی تھی۔مسجد کو اندر اور باہر سے یوں سجایا اور سنوارا گیا تھا کہ مجھ جیسے کتنے ہی قلاش اپنے پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے اور خراب حال دیکھ کر احساسِ کمتری کی وجہ سے مسجد سے دور جا کھڑے ہوئے تھے۔
مسجد کے باہر خیرات کے لئے پچاس کے قریب دیگیں لا کے رکھی گئی تھیں۔ خیرات کی سن گن پا کر حیدرآباد کے جملہ کنگلوں نے مسجد کے آس پاس ڈیرے ڈال دئیے تھے۔وہ سب پلکیں جھپکائے بغیردیگوں کی جانب للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے جا رہے تھے۔میرے پہنچنے سے ذرا ہی پہلے جناب وزیرِ مالیات مسجد کا افتتاح کر کےٍ وینس سینما میں پاکستان کے برادر اسلامی ملک مصر کی حسین بیلے ڈانسر کے شو کا افتتاح کرنے چلے گئے تھے۔
مسجد کے باہر پولیس کا معقول انتظام تھا۔بیس کے قریب سپاہی ہاتھوں میں ڈنڈے تھامے اور منہ میں سگریٹ دابے ہم پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔
میں نے اپنے جیسے ایک شخص سے پوچھا، ’’دیگوں کے منہ سچل سرمست کھولے گا کیا؟‘‘
اس نے جواباً کہا ، ’’مولانا نبی احمد دہلوی جب تک لنگرکی دیگوں پر فاتحہ و درود نہیں پڑھے گا تب تک دیگیں نہیں کھُلیں گی۔‘‘
’’اور مولانا نبی احمد دہلوی کہاں ہے؟‘‘
’’مسجد کے حجرے میں مرغ مسلّم اور چنگیزی بکرا تناول فرما رہا ہے۔‘‘
’’ تم دونوں کسی شرارت کی منصوبہ بندی تو نہیں کر رہے؟‘‘ ایک سپاہی نے میرے منہ پر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے پوچھا۔
میں نے نہایت ادب سے جواب دیا، ’’نہیں مائی باپ، ہم ایمان کے بھروسے ،زہر جیسی زندگی گذارنے کے لئے خود کو کندن بنا رہے ہیں۔ ‘‘
’’ شاباش۔‘‘ سپاہی آگے بڑھ گیا۔
لنگر کے انتظارمیں بھوک کا احساس بڑھتا چلا گیا۔سب حسرت بھری نگاہوں سے مسجدکے سجے ہوئے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
مسجد کے دروازے سے دکھائی دینے والا نظارا روح پرور تھا۔برآمدے کا فرش سفید موزیک کا تھااور روشنی کی آبشار میں سنگ مرمر کی طرح چمک رہا تھا۔ برآمدے کے ستونوں کے پاس مسجد کے اندرونی سمت کے ایک حصے کی جھلک نظر آرہی تھی جہاں قیمتی قالین بچھائے گئے تھے۔الحاج سیٹھ نیک محمد کے بیٹے اور پوتے و نواسے ستونوں کی اوٹ میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔انہوں نے کمخواب کے قیمتی کوٹ اور اطلس کے چست پائجامے پہنے ہوئے تھے۔لوبان اور اگربتی کے پراسرار دھویں میں وہ آسمانی مخلوق لگ رہے تھے۔مجھے اپنا بیٹا مہدی یاد آگیا۔
مسجد کے دروازے سے نگاہیں ہٹا کر میں نے ہجوم کی طرف دیکھا، ان کے صبر کا جذبہ دیکھ کر پاکستانی قوم کی عظمت کا قائل ہوگیا۔
ایک شخص نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا سمجھتے ہو، ذوالفقار علی بھٹو ملک کی معاشی حالت سدھارے گا ناں۔‘‘
’’ بے فکر رہو، گھر بیٹھے روٹی فراہم کرے گا۔‘‘
میرا جواب اس کو نہ بھایا۔ بولا، ’’تم ضرور جماعتِ اسلامی کے گماشتے ہو۔‘‘
مجھے ہنسی آگئی، بولا، ’’جماعت اسلامی والوں نے گویا مجھے کولہو میں پسوانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
اس شخص نے پاس کھڑے دو تین آدمیوں سے سرگوشی میں بات کی، ان میں ایک بولا، ’’تم دھوبی کے کتے ہو، گھر کے نہ گھاٹ کے۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’میں میونسپلٹی کا کتا ہوں۔‘‘
میں نے انہیں نظر انداز کیا۔ان میں سے ایک کو سی آئی ڈی والوں جیسی بے چینی تھی۔ اس نے پوچھا، ’’تم وہی تو نہیں جو تیسری گلی میں رہتا ہے۔‘‘
’’ ہو سکتا ہے۔‘‘
’’ اور اخبار بیچتے ہو۔‘‘
’’ بیچتا تھا۔‘‘
اس نے سرگوشی کے اندازمیں اپنے ساتھی کو اچھی خاصی انفارمیشن دی جس کا مفہوم یہ تھا کہ یہ شخص کٹر سندھی ہے اور کمیونسٹ ہے اور امریکی سامراجیوں کا ایجنٹ ہے۔پولیس کا خیال ہے کہ یہ شخص تخریب پسند عناصر ہے اور اخبار بیچنے کے بہانے حیدرآباد شہر میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا رہا ہے۔
اسی شخص نے چہرہ گھما کر مجھ سے پوچھا، ’’تم نوکری کیوں نہیں کرتے۔‘‘
میں نے اس سے پوچھا، ’’نوکری دلواؤ گے؟‘‘
وہ شخص حیران ساہو گیا، بولا، ’’ میں معمولی باربر ہوں، میں تمہیں کونسی نوکری دلوا سکتا ہوں۔‘‘
’’ تم باربر یعنی نائی ہو!‘‘ میں نے اسے بازوؤں سے پکڑتے ہوئے کہا، ’’ میری بیوی، میرا بیٹا مہدی اور میں، میری بیروزگاری کی وجہ سے بھوک سے مر رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں نائیوں کا راج ہے۔ مجھے کوئی نوکری دلواؤ۔‘‘
وہ بدمزگی سے بولا،’’ خود جاکے ڈھونڈو ۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’ ہمارا ملک سفارش کا عالمی چیمپیئن ہے۔نوکری تو کیا، موت اور زندگی بھی سفارش سے ملتے ہیں۔‘‘
وہ اور اس کے ساتھی مجھے گھور کر دیکھنے لگے۔ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا، ’’تم کس قسم کے مسلمان ہو۔‘‘
’’ میں اتفاقیہ مسلمان ہوں‘‘، میں نے جواب دیا، ’’میں مسلمان اس لئے ہوں کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہواہوں۔سکھ کے گھر میں جنم لیتا تو سکھ ہوتا، کرسچن کے ہاں پیدا ہواہوتا تو عیسائی ہوتا۔‘‘
نائی نے اپنے ساتھیوں سے کہا، ’’پولیس کا خیال غلط نہیں ہے ۔ یہ شخص واقعی خطرناک ہے۔اس کے قریب کھڑا ہونابھی کفر ہے۔‘‘
وہ تینوں کھسک لئے۔
کچھ دیر بعد اپنے فٹبال جیسے پیٹ پر ہاتھ گھماتا، ڈکار لیتا ، ’رازق رب رحیم ‘ کا ورد کرتا مولانا نبی احمد دہلوی مسجد کے سجے ہوئے دروازے سے باہر آیا۔ الحاج سیٹھ نیک محمد اس کے ہمراہ تھااور ہوبہو فرشتوں جیسا دکھائی دے رہا تھا۔وہ دونوں دیگوں کے پاس جا کھڑے ہوئے۔مولانا دیگوں پر کچھ پڑھنے لگا۔اس دوران پولیس والوں نے ڈنڈے دکھا کر ہمیں قطار میں کھڑا کر دیا۔مولانا نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔مولانا نے ہاتھ نیچے کئے۔پھر جب دیگوں کے منہ کھلے،تو ہم سب قطاریں توڑ کر دیگوں پریوں ٹوٹ پڑے گویا دیگیں مقناطیس اور ہم سب لوہے کے بیکار بے فائدہ ذرے تھے۔
الحاج سیٹھ نیک محمد اور مولانا نبی احمد ذرا پرے ہو کر نظارے سے لطف اندوز ہونے لگے۔دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے اور گاہے گاہے چھوٹے چھوٹے قہقہے لگا رہے تھے۔
مٹی کا کٹورا تھامے گرتا پڑتا، دھکے کھاتا میں ایک دیگ کے پاس پہنچا۔ مٹی کے کٹورے میں چاول لئے تو عقب سے آئی، ’’اسے زیادہ چاول دو۔‘‘
میں نے چہرہ گھما کر دیکھا، مولانا نبی احمد چلتے چلتے دیگ کے پاس آ پہنچا تھا۔میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھاکہ مولانا مجھے ایسی خراب حالت میں بھی پہچان لیگااور پہچاننے پر بدلہ لے گا(مولانا کے پاس مجھ جیسے منہ پھٹ لوگوں کی لسٹ تھی)۔
چاول بانٹنے والے نے میرے کٹورے کو چاولوں سے بھر دیا۔ذرا ہی پیچھے ہٹا تھا کہ مولانا نبی احمد نے کہا، ’’دیکھ لو اسلامی نظام کے آثار۔‘‘
جی میں آیا کہ چاولوں سے بھرا کٹورا مولانا کی توند پہ دے ماروں مگر اچانک ذہن میں حمیداں اور مہدی کا خیال آیا تو میں نے زہر کا گھونٹ پی لیا۔
مولانا نبی احمد میرے سامنے آکھڑا ہوا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا، ’’بتاؤ بھلا ، کیا کہتا ہے تمہارا جدید معاشی و اقتصادی نظام ! مانتے ہو کہ تمہارے محنت کش آدمی کا وجود فریب ہے۔‘‘
بادلِ نخواستہ میں نے جواب دیا، ’’مولانا دھرتی سے جھاڑیاں، سرکنڈے،برگد اور تھوہر خودبخود اگتے ہیں۔کبھی اناج کو خودبخود اگتے دیکھا ہے! جب تک محنت کش کا ہاتھ دھرتی کو نہ چھوئے، اناج پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
مولانا نبی احمد نے جھپٹ کر چاولوں سے بھرا کٹورا مجھ سے چھین لیا،دور سے کٹورا دکھاتے ہوئے پوچھا، ’’اب کرو بات، روزی خدا کے اختیار میں ہے یا انسان کے۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’ روزی خدا کے اختیارمیں ہے نہ انسان کے۔سرِدست روزی تمہارے اختیار میں ہے۔‘‘
مولانا نبی احمد آگ بگولا ہو گیا۔کٹورا گھما کے زمین پر دے مارا۔شور شرابے سے لوگوں کا حجوم اکٹھا ہو گیا۔نائی آگے بڑھ کے بولا، ’’ہم تو اسے فوراً ہی پہچان گئے تھے، بڑا پھڈے باز ہے۔‘‘
میں نے حسرت سے ٹوٹے ہوئے کٹورے اور پھر مولانا کے فٹبال نما پیٹ کی طرف دیکھا۔آنکھوں کے سامنے حمیداں کا سوکھا چہرہ اور ڈرادینے والی آنکھیں تیرنے لگیں۔مولانا کو مارنے کا ارادہ ترک کر کے دوبارہ دیگ کا رخ کیا۔ایک مسکین سے مٹی کا کٹورا چھین لیا۔ابھی چاول لئے ہی تھے کہ زنانہ آواز کان میں پڑی۔آواز حمیداں کی تھی۔وہ حجوم میں راستہ ڈھونڈتی آوازیں لگاتی بڑھتی چلی آرہی تھی، ’’مہدی کے ابا، مہدی کے ابا ۔۔۔۔ کہاں ہو مہدی کے ابا۔‘‘
حمیداں کی بانہوں میں مہدی تھا۔چہرے پر بیحد پریشانی کے آثار تھے، بال بکھرے ہوئے تھے۔مہدی کو اس نے بانہوں میں جکڑ رکھا تھا۔وہ دیوانوں کی طرح حجوم کو چیرتی دوڑتی چلی آئی۔کچھ دیر کے لئے سب کا دھیان چاولوں سے ہٹ کر حمیداں کی جانب کھنچ گیا تھا۔میں چاولوں کے کٹورے سمیت حمیداں کی طرف بڑھا۔مجھے یاد آیا، کہتے ہیں بھوک دائمی عقلمند کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہے۔اس کے مصداق حمیداں دیوانی ہو گئی تھی شاید۔
مجھے دیکھتے ہی حمیداں نے مہدی کو میری بانہوں میں دے دیا، ہانپتے ہوئے بولی، ’’مہدی کے ابا، مہدی بات کر رہا ہے۔‘‘
میں نے دکھ میں کہا، ’’بھوک میں سوکھنے کے بعد پیٹ کے ساتھ ساتھ کانوں میں بھی چوہے دوڑنے لگتے ہیں۔آؤ چاول کھاؤ۔‘‘
حمیداں نے کٹورا پرے دھکیلتے ہوئے کہا، ’’میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، مہدی نے صاف آواز میں بات کی ہے۔‘‘
چاول کے کٹورے اٹھائے لوگ ہمارے ارد گرد جمع ہو گئے۔
میں نے مہدی کی طرف دیکھا۔ وہ اپنی بجھتی ہوئی معصوم چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ننھے ہونٹ خشک ہو کر پپڑی بن گئے تھے۔گلاب کی پنکھڑیوں جیسا نازک سا بدن کملا کر بے رنگ ہو گیا تھا۔پیٹ کمر سے جا لگا تھا۔چھوٹی سی ناک میں سے آتی جاتی سانسوں کا سلسلہ آہستہ آہستہ مدھم پڑ تا جارہا تھا۔میں نے محسوس کیا ، میرے مہدی کا آخری وقت تھا۔ منہ نیچے کر کے میں نے اسکے رخسار پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔ روح تک چھائی غم کی چبھن ہونٹوں تلے دفن ہوگئی۔تب اچانک ہی میرا انگ انگ کانپ اٹھا۔مہدی کے اندر سے ایک کانپتی ہوئی دھیمی وکمزور آواز آتی ہوئی محسوس ہوئی، ’’ بابا بھوک لگی ہے، بابا بھوک لگی ہے۔‘‘
میں نے اپنا چہرہ اوپر کر کے حیرت سے مہدی کی طرف دیکھا، مہدی کے ننھے ہونٹ ہل رہے تھے۔میں نے دوبارہ منہ نیچے کرکے اپنے ہونٹ مہدی کے رخسار پر رکھ دئیے۔آواز سنی، ’’بابا بھوک لگی ہے۔‘‘
میں نے چاولوں بھرے کٹورے سے انگلی پر چاول اٹھاتے ہوئے کہا، ’’مہدی میرے بیٹے، خیرات کے چاول کھاؤ گے؟‘‘
مہدی نے اپنے ہونٹ سکیڑ لئے۔
حمیداں نے کہا، ’’ میں سمجھتی ہوں کہ یہ سچا امام مہدی ہے۔‘‘
حمیداں سے بھیگی آنکھیں چھپاتے ہوئے میں نے کہا، ’’اگر یہ سچ مچ امام مہدی ہے تو پھر اتنی جلدی کیوں سفرِ آخرت کے لئے پر تول رہا ہے؟‘‘ میری آواز بھرا گئی۔میں نے کہا، ’’یہ امام مہدی نہیں ہے۔یہ ہمارا مہدی ہے، تمہارا اور میرا مہدی ہے۔‘‘
حمیداں کی آنکھوں میں ذبح ہوتی ممتا ،کربلا کی شام جیسا منظر پیش کرنے لگی۔
مہدی کی آواز آئی، ’’بابا بھوک لگی ہے۔‘‘
میں نے پیار سے کہا، ’’مہدی میرے بچے، ساری خلقِ خداخیرات کے ان چاولوں کے چکر میں سرگرداں ہے ۔تمہاری ماں کا دودھ خشک ہوگیا ہے، تم یہ چاول کھاؤ۔‘‘
مہدی میرے بازوؤں میں تڑپا، بجھتی ہوئی آنکھیں میری آنکھوں میں ڈا ل دیں۔میں نے اپنا چہرہ آہستگی سے اس کے ننھے سینے پر رکھ دیا۔اسکی سانس کا ابابیل ہڈیوں کے قفس سے اڑنے کے لئے پر تول رہا تھا۔مہدی نے ڈوبتی ہوئی آواز میں کہا، ’’مجھے خون پسینے کی کمائی کھلاؤ بابا، خیرات کے چاول کھاؤں گا تو تڑپ تڑپ کے مر جاؤں گا‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* 1970-71 کے انتخابات۔
** انڈونیشی عورت جس نے 1970 میں دعویٰ کیا تھا کہ اسکے پیٹ میں بولنے والا مہدی ہے۔اکثر ممالک میں اس کا خیر مقدم کیا گیاتھا اور اسکے پیٹ آتی ہوئی آواز کو سنا گیا تھا۔آخر کارراز کھُلا کہ اس نے اپنی ران کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر باندھ رکھا تھا۔
*** 1970کی دہائی کا پے اسکیل۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *