Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » میاں محمود احمد ۔۔۔ شاہ محمد مری

میاں محمود احمد ۔۔۔ شاہ محمد مری

ابھی ماضی قریب میں پاکستان کے اندر کمیونسٹ سیاست کی مست جوانی دیکھنی ہوتی تو میں آپ کو فیصل آباد جانے کا کہتا۔ وہاں کچہری بازار میں ’’ گلی وکیلاں‘‘ نام کی ایک تنگ گلی ہے۔ ایک سادہ مگر کشادہ دو منزلہ مکان میں ادھیڑ عمر کا ایک شخص، چھڑا چھانگ رہتا تھا۔ شادی شدہ مرد حضرات کی زنِ مریدیوں پر قہقہے لگاتا ہوا یہ شخص اپنے شہر کا مشہور وکیل تھا۔ چھوٹا قد، فربہ جسم، سر تقریباً گنجا، چھوٹے ہاتھوں پہ چھوٹی انگلیاں، کلین شیو۔۔۔۔۔۔ یہ تھا ہمارے انقلاب کا ہیڈ ماسٹر۔ غصے میں ہوتا تو اس کا پورا بدن کانپتا ، خوش ہوتا تو گول چہرے پر وسیع مسکراہٹ ، آنکھیں چمک اُٹھتیں ۔ تکیہِ کلام تھا ’’ لالے‘‘۔ یا ، پھر پیار بھرا لفظ’’ بے ایمانا‘‘ اور ، یا ’’ اوئے کمینے‘‘۔ کبھی کبھی ’’ اوئے ملتانی ‘‘ یا ’’ جااوئے بلوچی‘‘ کہہ ڈالتا ، اِس صورت میں کہ آنکھوں میں چمکدار پانی بھر جاتا، چہرہ ہلکی سرخ سے منورہوجاتا اور ایک وسیع مسکراہٹ چہرے پر پھیل جاتی ۔۔۔۔۔۔ اِس افق سے اُس افق تک ۔۔۔۔۔۔ میاں محمود احمد۔
وہ طالب علمی کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوا اور اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک ایک غیر متزلزل کمیونسٹ ہی رہا۔وہ سی آر اسلم کا ایسا دست و بازو رہا کہ یک جان و دوقالب والی بات مکمل طور پر صادق آتی تھی۔ سماج کی جس تبدیلی کو اُس نے اپنا مقصد و مرکزِ حیات بنا رکھا تھا اُس کی تکمیل ابھی تک تشنہ ہے ۔ وہ پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنانا چاہتا تھا ۔ اس کے نزدیک جمہوریت کوئی مبہم لفظ نہ تھا۔ وہ جمہوریت کو دو باتوں سے مربوط مشروط سمجھتا تھا۔ ایک تو سامراج سے نجات کی شرط تھی کہ پاکستان ایک غلام ریاست کی حیثیت سے کبھی جمہوری بن نہیں سکتا ۔ اس لیے کہ جمہوریت ہوتی ہی آزاد ملک میں ہے۔ جمہوریت کے لیے دوسری لازمی شرط و ہ جاگیرداری اورسرداری کے خاتمے کو سمجھتا تھا۔ یہ دونوں باتیں ، یہ دونوں فریضے ابھی باقی ہیں۔
اور، جس جمہوریت میں ہمیں مبتلا کردیا گیا وہ تو بہت بڑا فراڈ ہے۔ اصل میں آئی ایم ایف اپنے قرضوں کی وصولیابی کے لئے پاکستان میں اپنے نائب مقرر کرتا رہتا ہے۔ کبھی ڈنڈے برادر فوجی نائب اور کبھی ووٹ کا ڈرامہ سجا کر ’’ منتخب‘‘ نائب۔ میاں محمود نے لیاقت علی خان سے لے کر پرویز مشرف تک سب امریکی نائبوں کو بھگتا۔ وہ ایوبی دور میں جیل گیا، ضیاء الحقی زمانے میں جیل گیا اور بقیہ ادوار میں جسمانی و نظریاتی مصیبتیں جھیلیں۔ حالیہ زمانے میں امریکہ کی نائب بے نظیر بھٹو تھی۔ اس نے امریکہ کے قرض کی وصولی اور اُسے بھجوانے کے فریضے کی تکمیل کے لئے بڑی عرق ریزی اور بڑی جاں فشانی سے محنت کی ۔ اس نے پرائیویٹائزیشن کے نام پر عوامی املاک کی فروخت شروع کی، مگر سود درسود والے قرضوں کی ایک قسط تک ادا نہ ہوسکی ۔ تب آئی ایم ایف نے اس کو برخاست کیا اور دوسرا نائب مقر کردیا،نواز شریف کے نام کا‘تاکہ اس کے قرضوں اورسود کی ادائیگی کی سیوریج لائن کھلی رہے۔ اس نے بھی اس ڈیوٹی کی بجاآوری میں اپنی چالاکی،بازاری مہارت اور کاروباری تجربات والی ساری صلاحیتیں جھونک دیں مگر ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ بری طرح ناکام ہوا اورقرض کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ چنانچہ اُسے بھی برطرف کردیا گیا اور جنرل پرویز مشرف عنانِ حکومت پہ قابض ہوا۔ چہرے ایک بار پھر بدل گئے۔ الفاظ،فقرے،اصطلاحات بھی بدل گئیں۔ کرپشن،غنڈہ گردی اور افراتفری کی نوعیت بدل گئی۔ مذہب اور فرقہ کے نام پہ قتل،قتال کا سلسلہ کبھی کم کبھی زیادہ ہوتا رہا۔گھٹن اوربنیاد پرستی بھی چلتی رہیں مگر اولین ترجیح وہی کی وہی رہی۔ آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل۔ چنانچہ احتساب شروع ہوا اور احتساب سے حاصل کردہ رقوم کو قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنے کے اعلانات ہوئے۔ جنرل سیلز ٹیکس نافذ ہوا،بجلی ،پیٹرول،ڈیزل،گھاسلیٹ،گیس اور ٹیلی فون کے ریٹ بڑھے،لاکھوں افراد کو بے روزگار بنایا گیا اورمختلف انتخابی و انتظامی اصلاحات کے اعلان ہوئے۔ یہ سارے اقدامات آئی ایم ایف کے ماحول اور کلچر کی مطابقت میں لئے گئے۔
آئی ایم ایف سے عقل،منطق،استدلال،انسانیت اور دور اندیشی کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ قرضوں کی غلامی کا یہ تسلسل میاں محمود کے اس تصور کی ضد تھی جس کے تحت پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہوتا،اور جس کے لئے اس نے زندگی بھر جدوجہد کی۔ اس کا نظریہ تھا کہ پاکستان ہی کو ’ یک طرفہ طور پر‘ قرضوں کی ادائیگی سے انکار کرنا ہوگا۔
سامراجی قرضوں سے انکار کرنے والے جس کام کابیڑہ میاں محمود احمد نے ربع صدی قبل اُٹھایا تھا وہ اب دنیا بھر کے مدبروں دانشوروں کے سمجھ میں آگئی ہے۔ یہ اب ایک عالمی تحریک بن چکی ہے،ایک عوامی ،پاپولر اور زندگی موت کے مسئلے کی تحریک۔ اس تحریک کی کامیابی ہرشریف انسان،ہر عقل سلیم کے مالک فرد کا فریضہ ہے۔
میاں محمود احمد کی زندگی اور جدوجہد کا دوسرا بڑا محور کسانوں کی آزادی تھی۔ وہ کسانوں کو منظم کرنے،ان کی کمیٹیاں بنانے اور ان کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا ہمہ وقتی کام کرتا رہا۔ وہ کسانوں کی زندگی کے مصائب سے بہت واقف تھا اور اس بڑی اکثریت کی نجات اور ترقی کو پاکستان بھر کی آزادی اور نجات گردانتا تھا۔ اس طرح وہ جاگیرداری نظام کا بدترین مخالف بن گیا جو کسانوں کی لوٹ اور استحصال کی سب سے بڑی وجہ اور سبب ہے ۔ اس کا استدلال تھا کہ سندھ،سرحد،پنجاب اور جنوبی بلوچستان میں ہزاروں ایکڑ نہری زمینوں کے مالک جاگیردار کسی صورت بھی اپنے کسانوں اور بزگروں کو آزادی نہیں دیں گے۔ لاکھوں کروڑوں کی یہ آبادی معاشی دست نگری کا ہی شکار نہیں ہے بلکہ یہ تو سماجی اور سیاسی طور پر بھی جاگیردار کے تابع ہے۔ اس طرح جمہوریت کا پورا تصور ان جاگیرداروں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ میاں محمود ان زمینوں پہ بلا معاوضہ قبضہ کرکے انہیں بے زمین کسانوں میں مفت تقسیم کرنا چاہتا تھا ۔ اس طرح وہ جاگیرداری نظام کے معاشی سیاسی اور ثقافتی اثرات سے پاک معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا جہاں کسان آزاد ہو ،اس کا ضمیر آزاد ہواور ضمیر کی رائے آزاد ہو،اس کا ووٹ آزاد ہو۔ 
وہ جاگیرداری اور سرداری نظام کی موجودگی میں ہر طرح کے الیکشن کو SHAM الیکشن اور SHAM جمہوریت کہتا تھا۔ مشرف کی فوجی حکومت نے جاگیرداری نظام کے بارے میں وہی چپ، سادھ رکھی تھی جو پچھلی فیوڈل حکومت نے اپنا رکھی تھی۔ اس حکومت کا خیال تھا کہ جب تک چاقو چھریوں سے لیس ،ہانپتے،غصہ سے لرزتے ہوئے،جنگ پہ آمادہ لوگ جاگیرداری کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتے اور جب تک ان کے مطالبات اور قوت سے حکومت کو خطرہ لاحق نہ ہوجائے اُس وقت تک جاگیرداروں اور ان کے نظام کو کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم یہ حکومت جاگیرداری نظام کو ختم نہیں کرے گی اور نہ ہی بنیادی زرعی اصلاحات کرے گی۔ اور وہ یہ اقدام نہ کرکے ایک اور SHAM اور جعلی جمہوریت قائم کردے گی۔ پاکستانی عوام کے دونوں بنیادی مسئلے یعنی سامراجی بالادستی اور جاگیرداری اسی طرح برقرار رہیں گے۔میاں محمود کی زندگی اُن دو باتوں کے خاتمے پر وقف تھی۔
ذاتی زندگی میں بھی وہ مجسم انقلابی انسان تھا ۔ آپ آنکھیں بند کرکے کسی ’’ سخی‘‘ کا تصور کرلیں، میاں محمود کی تصویر خود بخود اُبھرے گی۔ میاں محمود بھرپور یاری کرتا تھا ۔ شفاف، مکمل، اور استقامت بھری یاری۔۔۔۔۔۔ پیسہ ، محبت سب کچھ جھونک دیتا تھا دوستی میں۔ مگر یار میں اگر اُسے معمولی بھی کھوٹ ، ہلکی سی بھی ملاوٹ نظر آجاتی تو نہ صرف دھڑلے سے دوستی توڑ ڈالتا تھا بلکہ اس شخص سے اتنا دور بھاگتا تھا جتنا کہ ہندو گائے کے گوشت سے۔ پھر خواہ وہ شخص سوچیؔ کاروح افزا پانی سو سال تک بھی پیتا، کریملن کے بڑے شخص سے نیکی کا سرٹیفیکیٹ بھی لاتا اور مست توکلی سے آئندہ کی نیک چلنی کی ضمانت بھی لے آتا، میاں محمود اس شخص کو سچا، اچھا سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ کمیونزم میں تو معمولی سی ملاوٹ کرنے والا بھی اس کا کٹر مخالف ہوتا۔ وہ کسی گوربا چوف، کسی پریسٹرائیکا اور کسی گلاسنوسٹ کو برداشت کرنے پر تیار نہ تھا۔ اتنا کھرا، اتنا سچا اور اٹل شخص تھا میاں محمود۔
میاں محمود احمد فیصل آباد میں تین جولائی2002 کو 70برس کی عمر میں انتقال کرگیا ۔وہ لدھیانہ کے وکیل گھرانے میں پیدا ہوا۔ کالج کا زمانہ لدھیانہ میں گزارا اور وہیں انقلابی خیالات سے روشناس ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد میاں محمود احمد کا گھرانہ لائلپور میں آکر آباد ہوگیا۔ یہاں آنے کے بعد میاں صاحب نے یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا۔ قانون کی تعلیم کے حصول کے دوران اس نے طلباء سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر وہ کمیونسٹ پارٹی کے قریب آگیااور1949 میں اس کا ممبر بن گیا۔50سال تک میاں محمود نے بھرپور طور پرانقلابی سیاست کی اور آخری سانس تک عہدِ و فا کو نبھائے رکھا ۔ پارٹی مقاصد کے حصول کے لیے اُس نے نہ کبھی اپنے تن کی پروانہ کی نہ من کا خیال رکھا اور نہ دھن کو بچایا۔ اس کو انقلابی آدرش سے اتنا عشق تھا کہ اس نے اپنا کنبہ بھی نہ بسایا۔وہ کارکنوں کو ہی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا تھا۔ وہ ایک سچا مارکسسٹ اور عظیم انقلابی تھا اور اسے مارکسی فلسفے کی حقانیت پر آخری دم تک یقین رہا۔
جب 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی تو اُس نے کسان فرنٹ میں زور وشور سے کام جاری رکھا۔1957 میں نیشنل عوامی پارٹی بنی تو وہ اُس کے بنانے والوں میں شامل تھا۔1960 کی دہائی کے آخر میں نیشنل عوامی پارٹی بٹ گئی۔تو اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاشانی کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھی۔1971 میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی تشکیل کے وقت اُس کے تاسیسی ممبروں میں شامل رہا۔ پارٹی کی تنظیم بنانے اور اسے عوام میں روشناس کرانے کے لیے اُس نے خیبر سے کراچی تک شہر شہر نگر نگر جا کر پارٹی بنائی۔وہ کسانوں ،مزدوروں اور کارکنوں کی کانفرنسوں کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ 1970 کی عظیم الشان ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں اس کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔1970 کی دہائی میں کئی کسان اور مزدور کانفرنسوں کو کامیاب بنانے میں اس کا اہم کردار رہا۔
میاں محمود کی کار موٹر تو سوشلزم کیلئے گدھا گاڑی بن چکی تھی۔کاش پاکستانی انقلاب کے کسی چوک پرمیاں محمود کا ایک مجسمہ ہوتا ‘اور اس کی موٹر کارانقلابی میوزیم میں رکھی جاتی ۔۔۔۔۔۔مارکس کے پاس اینگلز تھا،سی آر کے پاس میاں محمود تھا۔
1971 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس ختم ہونے پر جب کرسیوں اور خیموں کا کرایہ باقی تھا، تو میاں محمود ، جو اپنی ساری پونجی اس کانفرنس کی کامیابی پر پہلے ہی قربان کرچکا تھا ، تعجب میں پڑ گیا کہ یہ پیسہ کیسے ادا ہو۔ وہیں اُس بڑے انسان نے اپنی کار موٹر بیچ دی، بقایا جات اداکیے اور خود بس میں بیٹھ کر فیصل آباد آیا۔
لاہور کے دل یعنی میکلوڈ روڈ پر ایک عمارت خرید کر انقلابی پارٹی کے بطور وقف کرنا اسی ’’ نوذ بندغ‘‘ سخی کی جیب سے عمل میں آیا تھا۔
میاں محمود پارٹی کے بیرونی رابطوں کے لیے اکثر و بیشتر، بیرون ملک کے دورے کرتا اور محنت کشوں کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شریک ہوکر پارٹی کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس سے پارٹی کو عالمی حالات اور فکر و عمل سے آگہی رہتی۔
وہ وکالت میں ٹیکسیشن لاء کی پریکٹس کرتاتھا۔اس کا بنیادی حلقہ اثر فیصل آباد کے مزدور اور ضلع فیصل آباد اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کسان تھے۔ وہ دوبارفیصل آباد کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر بنا۔ پنجاب بار کونسل کا فنانشل سیکرٹری بھی رہا۔ 
اس نے نصف صدی قبل جس راستے کا انتخاب کیا آخر دم تک ثابت قدمی سے اسی پر گامزن رہا۔ اس کو یقین تھا کہ ہر سیاسی کارکن کی شخصیت افکار اور عمل کا انحصار اسی تاریخی عہد پر ہوتا ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ اس نے سیاسی و معاشی دنیا کو آگے لے جانے والے قوانین کو سمجھ لیا تھا۔ اس کی جدوجہد کا مقصد سماج میں موجود انقلابی طبقات کے شعور کوتیز کرکے انہیں ایسی منزل تک پہنچاناتھا، جہاں ان کی نجات ہوجائے اور سماج آگے بڑھ سکے۔ سچ ہے کہ بڑا آدمی وہ ہے جو ان معروضی قوانین کو سمجھ لے اور ان پر عمل پیرا ہوجائے۔
میاں محمود احمد ایک ہر دلعزیز اور محبوب انسان تھا۔ ایثار و قربانی کی یہ مجسم مثال نام و نمود اور شہرت سے بہت دور رہتا تھا۔ وہ سچا اور کھرا انسان تھا۔ اس کے یہ سارے اوصاف اس کے نظریات ہی کی بدولت تھے۔ اسے انسان اور بالخصوص غریب انسان سے بے حد وابستگی تھی۔ اس کا شخصی دشمن کوئی تھا ہی نہیں،سوائے ان لوگوں کے جو غریبوں کے دشمن تھے۔ میاں محمود اپنی پارٹی کے ساتھیوں پر تو جان دیتا ہی تھا مگروہ اپنی پارٹی سے باہربھی ہر ترقی پسند جمہوری سیاسی ورکر کا ہر دلعزیز ساتھی تھا ۔ وہ خود دار اورباوقار شخص تھا، اپنے نظریات کی طرح پاکیزہ،منظم،واضح‘ کھلا ڈالا اور اٹل انسان۔
میاں محمود جیسا خوش خوراک شخص شاید ہی کوئی ہوگا۔ مگر وہ خوش خوراک صرف اُس وقت تھا جب کوئی مہمان ساتھ ہوتا۔۔۔۔۔۔ اور بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ بغیر مہمان کے ہو۔ خواہ لاہور کے چوبر جی والا’’ خان بابا‘‘ ہوٹل ہو، لاہور کے چائنیز ہوں یا پھر لاہور میں پنجابی کلچر کا شاہکار ولیج ہوٹل ہو، میاں محمود اپنے دوستوں کے جلو میں یہاں نظر نہ آتا تو سمجھیں وہ لاہور آیا ہی نہیں ہوا۔
ضیاء الحق کمیونسٹوں سے سخت چڑتا تھا ۔ سختیاں ، مار کُٹائی، کوڑے، جیلیں، موت ۔۔۔۔۔۔ یہ سب چھکے چوکے ضیاء مارتا رہا، دائیں بائیں ، افغانستان میں ،ایران میں، کشمیر میں اور خود پاکستان میں۔۔۔۔۔۔ اور اس پورے دور میں جتنے بھی کمیونسٹ اجتماعات ہوئے، جتنی بھی کسان کانفرنسیں ہوئیں، جتنے بھی ٹریڈ یونین جلسے ہوئے، جتنے بھی افغان ثور انقلاب کی حمایت اورمارشل لاء کی مخالفت میں میٹنگیں ، جلوس اور ریلیاں ہوئیں، ان سب کے پیچھے میاں محمود ہی کا کھڑ پیچ والا رول ہوتا تھا۔ وہ ان محفلوں کا آرگنائزر ہوتا تھا۔ پیسہ پانی کی طرح بہاتا تھا ۔ بھاگ دوڑ کاموؔ کی طرح کرتا تھا ۔ گاری، پٹرول ، نعرے، بینر، قرارداد سبھی کچھ وہی مانیٹر کرتا تھا ۔ مگر خود سٹیج کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہمیشہ جلسہ گاہ کے کسی کونے میں کھڑا انتظامات ، سیکورٹی ، اورڈسپلن کو یقینی بنانے کے لیے اپنی عقابی آنکھیں گھماتا رہتا۔۔۔۔۔۔ لیڈری سے اس قدر دور بھاگنے والا لیڈر ۔ پارٹی اور اُس کی عوامی تنظیموں کی کانفرنسوں میں میاں محمود ضرور بالضرور موجود ہوتا ۔ اسی زمانے میں پارٹی کے منچلوں کا یہ نعرہ بہت مقبول ہو تھا ’’ ہر جگہ موجود، میاں محمود ۔۔۔۔۔۔ میاں محمود‘‘۔ میاں صاحب واقعتاً عالمی سوشلسٹ انقلاب کا ہول ٹائمر تھا ۔ شہرت کے لیے باؤلا ہونے والے لیڈروں والے ملک میں اتنی ’’ بے لیڈری‘‘ سے بھرپور شخصیت صرف اور صرف میاں محمود احمد کی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ضیاء الحق کے مارشل لاء دورمیں دوسرے پارٹی لیڈروں کے ساتھ اُسے بھی پابند سلاسل کیا گیاتھا ۔ جیل میں رہ کر بھی اسے پارٹی کارکنوں اوران کی بہبود کا خیال رہتا تھا۔ وہ نوجوان سیاسی کارکنوں کو ہمیشہ انسپائر کرتا اور انہیں ڈسپلن کی پابندی سکھاتا۔ وہ ان کی ہر طرح سے دلجوئی بھی کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کارکنوں میں بہت ہردلعزیز تھا۔
اسی زمانے میں سوویت یونین سے اپنی ہی خوشحالی آبادی دیکھی نہ جاسکی اور بلا کسی وجہ کے محنت کرنے والے انسانوں کی حکومت والے اس اخلاقی سپر پاور نے خودکشی کرلی۔ میاں محمود احمد کو سوویت یونین کے ختم ہوجانے کا بہت صدمہ ہوا ۔ وہ بہت دلبرداشتہ اور نڈھال ہوگیا اور سچی بات یہ ہے کہ وہ پھر کبھی سنبھلا ہی نہیں۔ محبوب نہ رہے تو زندگی کی رمق ختم ہی ہوجاتی ہے۔
میاں محمود احمد عمر کے آخری حصے میں بہت بیماریوں کا شکار رہا ۔ وہ عرصے سے بلڈ پریشر اور شوگر کا مریض تھا ۔ پھر گردے فیل ہوگئے ۔۔۔۔۔۔ بستر مرگ پر بھی وہ ہر وقت پارٹی اور اس کے کارکنوں کی بہبود کے بارے میں فکر مند رہتا ۔ اور آخر وہ3 جولائی2002 میں ہم سے جدا ہوگیا۔ 
میاں محمود احمد فوت ہوگیا ، اتنا بڑا صدمہ ’’ یار رکھنے والوں ‘‘ کو نہ ملے شالا۔ بے برکت دھرتی کے اُجاڑ شہروں میں سے ایک نمونہ، ایک آئیڈیل فوت ہوگیا ۔ کس یار نے اپنے دو آنسو اُس پہ نہیں وارے ہونگے( کسی نے مجمعے میں، کسی نے کونے میں، کسی نے دل کی اتھاہ گہرائی میں)۔ یہ آنسو ، یہ بزدلی، یہ ماتم انہی لوگوں کے حصے میں آئی جو میاں محمودکے پیروکار تھے۔ جس دوست کو بھی اس کی موت کی خبر ہوئی، ایک وقت کا چولہا نہیں جلا اس کے گھر میں، اُس پہر کا کھانا نہیں گزرا اس کے حلق سے۔ کون کس سے تعزیت کرے؟۔ کون کہاں فاتحہ پڑھے، کہ محمود تو ہر گھر کا فرد تھا، ہر شخص اس کے غمناک گھرانے ہی کا تو تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ جس شخص نے بغیر ڈگمگائے، بغیر پھسلے، بغیر’’ اگر مگر‘‘ کیے اپنی زندگی کے مسلسل60 برس انسان کی خیر خواہی کے نظریے کی نذر کردیے ہوں، اُس بڑے انسان کا فاتحہ ایک شخص، ایک گھر، ایک فیملی میں ہوبھی نہیں سکتا، پورے سماج ، پوری آبادی کے ساتھ تعزیت کی جائے۔ لہٰذا مزدورو کسانو، جمہوریت پسند و، آزادی کے متوالو! ہماری طرف سے میاں محمود کی تعزیت قبول کرو۔۔۔۔۔۔ تمہاری طرف سے ہم قبول کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمارا سانجھا چلتن گرگیا۔۔۔۔۔۔ بڑا انسان مرکر بڑی خلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم زندگی بھر ہر برس اس کی برسی منائیں گے۔
میاں محمود احمد کی مقدس یادیں اس کے شاندار نظریات کی طرح ابدی ہیں۔ اس کی یاد انقلابی عمل کے لئے ایک قوت متحرکہ ہے۔ اس کے دوست سینکڑوں ہزاروں ہیں۔ اس کے پیروکار انہیں بھولے نہیں ہیں۔ اور جب بھی اس کی یاد ڈنگ مارتی ہے تو اس کے دوست سامراجی زور آوری اور جاگیرداری نظام کے خلاف اپنی جدوجہد تیز کرتے ہیں۔ جی ہاں ،یہی کرتے ہیں میاں صاحب کے ساتھ وفا اور دوستی نبھائے رکھنے کی قسم کھائے ہوئے لوگ۔میاں محمود کی پیداکردہ خالی جگہ شاید ایک دو افراد سے بھری نہ جاسکے۔ ایک مجمع، ایک اجتماع چاہیے اہلیانِ فیصل آباد کو ہماری یہ جائز خواہش کی تکمیل کے لیے کہ ۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے مزدوروں، کسانوں، انقلابی دانشوروں اور انسان دوست انسانوں کو میاں محمود چاہیے، فیصل آباد سے ۔۔۔۔۔۔ ہاں، وہی میاں محمود جو ڈاک سے موصول شدہ ’’ سنگت‘‘ کا نیا شمارہ پڑھ کر کوئٹہ فون کرکے شفقت سے بھری ، مگر ہیڈ ماسٹری آواز میں کہے’’ اے کی لکھیائی کمینے‘‘ ، یا پھر مسرت سے مرتعش آواز میں کہے’’ بہت اچھا شمارہ ہے، لالے‘‘۔

Check Also

April-17 front small title

انگئی؛ مزاحمتی نسوانی چیخ ۔۔۔ بارکوال میاخیل

جس طرح ایک استحصالی طرز حکومت میں برسراقتدار طبقہ اپنے عوام کا استحصال کرتا ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *