Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » مولوی محمد شریف بزدار ۔۔۔ خالد شریف بزدار

مولوی محمد شریف بزدار ۔۔۔ خالد شریف بزدار

دنیا میں کئی لوگ آئے اور جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ اِن میں کسی کسی کے نقش رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ کئی بے نام ہوکر رخصت ہوئے۔ کئی لوگوں نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے وقف کیے رکھا اور اپنی ساری زندگی بجائے مال و دولت جمع کرنے کے یا دنیا کے عیش و آرام حاصل کرنے کے غریب بے بس اور لا چار لوگوں کی مدد کو اپنا شیو ہ بنایا۔
مولوی محمد شریف بزدار ایک ایسی ہستی کا نام ہے جس نے اپنی ساری زندگی غریبوں کی مدد کی خواہ وہ صحافت کا میدان ہو یا مدرسہ کی دینی تعلیم ہو۔ وہ کہیں سماجی ورکر کی طرح نظر آئے تو کہیں عالم با عمل کی شکل میں ۔ کہیں صحافت میں میدان مارا تو کہیں نواب و سردار کے سامنے سینہ سپر ہوئے۔مولوی محمد شریف بزدار1920 میں بلوچستان کے ضلع کچھی تحصیل بھاگ کے گاؤں بڈہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اسی گاؤں سے حاصل کی مزید دینی تعلیم کے لیے ہندوستان کے مشہور مدرسہ دیو بند چلے گئے مدرسہ دیو بند سے فاضل کی سند حاصل کی۔ آپ کو عربی اور فارسی پر مکمل عبور حاصل تھا۔ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیدائشی گاؤں بڈہ میں ایک عالی شان جامع مسجد تعمیر کرائی اور کافی عرصہ تک اسی گاؤں میں دینی تعلیم دیتے رہے۔ یہ جامع مسجد آج بھی موجود ہے اس کے بعد بستی بزدار( سبی کے نزدیک) میں بھی ایک مسجد تعمیر کرائی اور کافی عرصہ تک اسی بستی بزدار میں امامت اور درس و تدریس میں مشغول رہے ۔ امامت اور درس کے فرائض اپنے شاگرد مولوی محمد مراد ( مرحوم) کو سونپ کر صحافت اختیار کی ۔1950میں ضلع کچھی کے قدیمی شہر بھاگ سے ایک ہفت روزہ اخبار ’’ حقیقت‘‘ کا اجراء کیا جو حقیقت پسندی اور حقائق لکھنے کی وجہ سے عوام میں خاصہ مقبول ہوا۔
مولوی محمد شریف بزدار نے اس وقت صحافت میں قدم رکھا جب بلوچستان میں لا شعوری عام تھی اخبار یا کوئی ادبی جرائد شائع کرنے یا پڑھنے پر سخت پابندی تھی۔ انگریز سامراج نے عوام میں خوب خوف و ہراس پھیلایا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی جب ہفت روزہ حقیقت عوام میں شعور اجاگر کرنے لگا تو اس پر پابندی لگائی گئی۔ اور مولوی محمد شریف بزدار کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
1968میں قلات ڈویژن کے مرکزی شہر خضدار سے ہفت روزہ شائع کیا جو آج تک شائع ہورہا ہے۔ 1950میں جو ادیب و دانشور اور نامور صحافی آپ کے جرائد سے وابستہ تھے یا آپ کے ساتھ مکمل تعاون کیا ان میں سے ملک محمد رمضان گل محمد ایروی، میر خدائیداد خان مرغزانی، میر عطا محمد مرغزانی، سید کامل القادری، میر عبدالرحمن غور، عطاء اللہ بخاری، مولوی عبدالباقی ، محمد عثمان قابل ذکر ہیں۔
انہی عظیم صحافیوں ادیبوں اور دانشوروں کی بدولت سبی سے کئی اخبارات کا اجراء ہوا جن میں1958میں عبدالرحمن غور نے میثاق الحق کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبارجاری کیا جو 1961میں بند ہوا ۔اس کے بعد سبی سے مجاہد نام کا پرچہ بھی شائع ہوا جو چھ سات اشاعتیں پیش کرسکا ان تمام جرائد سے مولوی محمد شریف بزدار منسلک رہے۔
آپ نے کچھی میں بسنے والے بزدار قبائل کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس زمانے میں بستی بزدار میں پرائمری سکول قائم کرایا۔ جسے آج ہائی سکول کا درجہ حاصل ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب علاقے میں سکول قائم کرانا بڑا مشکل کام تھا۔ سردار وڈیرے سکولوں کے خلاف تھے۔ اسی طرح آپ مٹھڑی اور حاجی شہر میں بھی سکول قائم کرائے ۔ آپ کا شمار ان سکولز کے بانیوں میں ہوتا ہے۔
مولوی محمد شریف بزدار بلوچستان کے بہت بڑے دانشور صحافی اور عالم دین تھے۔ قومی جذبہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔سندھ اور کوہِ سلیمان کے دامن میں بسنے والے بزدار قبائل کے ہاں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ آخری دم تک سچ بولتے اور سچ لکھتے رہے۔ جس کی پاداشت میں آپ کو کئی مرتبہ تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
محمد شریف بزدار زراعت کے بڑے شوقین تھے علاقے میں زرعی ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔
مولوی محمد شریف بزدار کو ہم سے بچھڑے25 سال ہوگئے اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی علاقے کے لوگ آپ کو نہیں بھول پائے آپ لوگوں کے دلوں میں گہرے نقش چھوڑ کر گئے ہیں۔
بھاگ شہر کے مضافات میں آج بھی ان کی زرعی اراضی موجود ہے۔ جہاں ان کے بیٹے اور خاندان کے لوگ آباد ہیں۔ مولوی صاحب ہمہ وقت اپنی بلوچ قوم اور بزدار قبیلے پر اپنی جان نچھاور کرتے تھے۔ اور انہیں تعلیم حاصل کرنے اپنے اندر اتحاد و اتفاق کا درس دیتے تھے۔ بڑے علم دوست اور شفیق انسان تھے۔ اور درویش صفت صحافی تھے۔ صحافتی دور میں کچھی علاقے کے مسائل اجاگر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ زرعی مسائل ہوں یا سڑک سکول ہسپتال کا مسئلہ ہو مسائل حل کرانے میں پیش پیش رہتے تھے۔
آپ27جون1990 میں کوئٹہ میں جہان فانی سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ان کے بیٹوں میں سے منیر احمد بزدار، فضل الرحمن بزدار، عطاء الرحمن بزدار، حاجی الطاف الرحمن بزدار اور خالد شریف بزدار اس وقت ضلع کچھی کے شہر بھاگ ناری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں ۔ا ن کا جاری کردہ ہفت روزہ اخبار مسلم آج بھی مستونگ سے شائع ہورہا ہے۔

Check Also

April-17 front small title

انگئی؛ مزاحمتی نسوانی چیخ ۔۔۔ بارکوال میاخیل

جس طرح ایک استحصالی طرز حکومت میں برسراقتدار طبقہ اپنے عوام کا استحصال کرتا ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *