Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » موت مردہ باد

موت مردہ باد

موت برحق بھی ہے، اور کبھی کبھی تو یہ نجات، اور ، پردہ بھی بن جاتی ہے۔ مگر بحیثیت مجموعی سارے لولاک کی مخلوقات سے اشرف مخلوق ،یعنی انسان کی موت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بالخصوص ایسے اچھے انسانوں کی موت جو انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں گزاردیں۔ لاہور کے حاجی ملک محمد اسلم ایسے ہی نادر انسانوں میں سے ایک تھا جس کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا۔
ملک اسلم عوامی انقلاب کا ایک نا معلوم سپاہی تھا۔ وہ اِس میدان میں پاگلوں کی طرح کام کرتا تھا، مگرنجیب انسانوں کی طرح اپنا نام آگے آنے نہیں دیتاتھا۔ عاجزی کی انتہا کا ایک نام ،ملک محمد اسلم ہے۔ بہت گہرے طور پر ڈی کلاس یہ شخص جب عمر میں ’’ اٹھیایا‘‘ گیا تھا، تب بھی شرطیہ طورپر کہا جاسکتاتھا کہ اُسے آٹھ آدمی بھی ایک لیڈر، ایک استاد کے بطور نہیں جانتے ہوں گے۔ اس قدر کنٹرول، اس قدر نفس کشی، اس قدر ڈسپلن!
ملک محمد اسلم 1933 میں ایک ہنستے مسکراتے اور بہت ہی مجلسی سکول ٹیچر جناب محمد طفیل کے گھر پیدا ہوا ۔ طفیل صاحب محفل میں سکول ماسٹروں کی طرح ہی پیش آتا تھا۔اس کا مخاطب خواہ محمود بوٹی کا سکول بچہ ہوتا، یا ماوند کا پوسٹ گریجویٹ ،وہ اونچا اونچا بولتا تھا، اور بہت دیر تک بولتا تھا ۔ مشترک دلچسپی کا عنوان خود بخود اُس کے ہاتھ لگ جاتی تھی ۔ اور پھر وہ علم کے ساتھ ساتھ تجربہ کے موتی بکھیرتا جاتا اور محفل کو کچھ نہ کچھ عطا کرتا جاتا۔
ملک اسلم کا آبائی علاقہ لاہورشہر کے مضافات میں محمود بُوٹی نامی گاؤں تھا(اب شہروں نے گاؤں نامی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں ، بالخصوص پنجاب میں تو شہر، گاؤں کے گاؤں چٹ کر بیٹھے ہیں)۔یہ علاقہ شالا مار باغ کے بھی اُس پار ہے، اور پاکستانی سکّے بنانے والے کارخانے سے بھی پرے ہے۔
ملک اسلم نے باغبانپورہ ہائی سکول سے میٹرک کیا۔ ایف اے اور بی اے دیال سنگھ کالج لاہورسے کیے اور پھروکالت کی تعلیم کے لیے وہ کراچی چلاگیا۔ وہاں اس نے ایس ایم لاء کالج سے 1962 میں لاء کیا۔ 1963میں اُس نے لاہور میں وکالت شروع کی ۔
غالباً یہ ستمبر یا اکتوبر1963 کا کوئی دن تھا، اور اُسے ابھی دو تین ماہ ہی کچہری آتے ہوئے گزرے تھے کہ فطرت اُس پہ مہربان ہوئی اور اس کا زندگی کا وطیرہ تلپٹ ہوگیا۔ایک دن چوہدری محمد اکرام جن کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور لا کالج میں وہ دونوں ہوسٹل میں اکٹھے رہتے تھے‘ اچانک ضلع کچہری لاہور میں اُسے ملا۔ حال احوال کا تبادلہ ہوا ۔ملک نے اِس ماحول سے دل برداشتگی اور بے زاری کا اظہار کیا تو موصوف نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ یہاں پر اپنے دوست ہیں وہ اُس کی ان سے ملاقات کروادیتاہے ۔ یہ کہہ کر وہ ضلع کچہری کے ساتھ تحصیل کے احاطہ میں ملک صاحب کوایک ٹنڈ منڈ درخت کے ساتھ ایک وکیل صاحب کے چھپر نما اڈے پر لے گیا ۔
وہاں پر دو تین نوجوان وکیل اور خوبرو اور گھنے سفید و سیاہ بالوں والا ایک بزرگ وکیل بیٹھا تھا۔ چوہدری محمد اکرام نے ملک کا اُن سب سے تعارف کرایا ۔ یہ بزرگ جناب سی آر اسلم صاحب تھا اور دوسرے نوجوان چوہدری بشیر احمد اور خان اے حمید تھے۔
سی آر صاحب کو سب’’ چوہدری صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس نے اپنی بات روک کر نہایت شفقت بھری نگاہوں سے اس نئے وکیل کو دیکھا ‘بٹھایا اور فرصت کے وقت اپنے پاس آتے جاتے رہنے کو کہا اور ساتھ ہی وہاں پر موجود دوستوں سے جس موضوع پر بات کررہا تھا، دوبارہ شروع کردی۔یہ زندگی میں کسی سیاسی شخصیت سے اس کی پہلی ملاقات تھی۔ وہ اس شخص کی سادگی ، صاف گوئی، سچائی اور پختگی سے بے حد متاثر ہوا۔
ملک اسلم اکثر سی آر اسلم کے اس اڈے پر چلا جاتا۔کبھی اُس سے ملاقات ہوجاتی اور کبھی وہ غیر حاضرپایا جاتا ۔ یہیں سی آر اسلم کی سیٹ پر شہر کے کئی اہم لوگوں اور سیاسی کارکنوں سے بھی اُس کی ملاقات ہوئی جن میں ملک معراج خالد، شیخ محمد رفیق،ملک شاہ محمدمحسن،خواجہ محمد رفیق‘ ملک غلام نبی،ملک لال خان ،رحمن مولوی‘ مرزا محمد ابراہیم اور طاؤس خان شامل تھے۔
ان گاہے بگا ہے ملاقاتوں کے دوران ملک ،چوہدری صاحب کے قریب آتا گیا۔ یوں،اُسے بھی سیاست سے شوق پیدا ہوا۔ مطالعہ کی طرف اس کارحجان بڑھتا گیا اور وہ دنیا کو بہتر اور صاف انداز میں جاننے لگا ۔ اس طرح وہ غیر ارادی طور پر چوہدری صاحب کے حلقے کا حصہ بنتا گیا ۔
کچھ دنوں بعد سی آر اسلم نے اُس سے کہا کہ اپنی سائیکل پکڑو اور آؤ چلیں ۔ لہٰذا وہ دونوں اپنی اپنی سائیکل پر سوار مال روڈ پر ہوتے ہوئے ریگل چوک سے ذرا آگے گئے۔سڑک کے دائیں ہاتھ لارڈز ریسٹورنٹ ہوا کرتا تھا ۔ وہ دونوں اُس کے ساتھ والی گلی کے اندر نیشنل عوامی پارٹی(پنجاب)کے دفتر چلے گئے۔وہاں کافی لوگ موجود تھے۔ جن میں سید مطلبی فرید آبادی،مرزامحمد ابراہیم،راؤ مہر وز اختر‘ ملک لال خاں اور خواجہ محمد رفیق شامل تھے۔ چوہدری صاحب نے ان سب سے اُس کا تعارف کرایا۔ شفقت‘ پیار‘ اوربغیر احساس دلائے سیاسی تربیت کرنا سی آر اسلم کا طریقہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ چوہدری صاحب سے زیادہ متاثر اورقریب ہونے لگا۔
ملک اسلم نے سمجھو1963 سے سیاست شروع کی۔ اس کے لیے اُسے سی آراسلم کی صورت ایک کامل استاد ،پختہ کار اور پرعزم راہنما ہونے کے ساتھ نہایت ہی شفیق اور بردبار انسان میسر ہوا۔ وہ ہر دوست اور ساتھی کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتا تھا اور ان کی خوشی اس کے لیے ہمیشہ بہت عزیز رہی۔ بلاشبہ اس نے اپنی زندگی ہزاروں سیاسی کارکنوں کی تربیت و تعلیم کی اور لازوال سلسلہ شاگردی قائم رکھا۔
ہم اور ملک اسلم آپس میں گہرے دوست اس لیے بھی رہے ہیں کہ ہمارا استاد ایک ہی تھا۔
ملک اسلم نے اخبار ’’ عوامی جمہوریت‘‘ کے ساتھ ساتھ پارٹی کا ٹریڈ یونین فرنٹ سنبھالا۔ یوں وہ ہمارا وزیر خارجہ بنا۔ ورلڈ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز میں وہ پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری کے بطور بہت متحرک اور سرگرم رہا۔ اس ملک میں بہت کم ایسے لوگ ہوں کے جو ملکی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ رہے ہوں ۔ ملک اسلم اُسی قبیلے سے متعلق تھا۔ اِس خطے کی سامراج دشمن اور فیوڈلزم مخالفت کی پچاس سالہ تاریخ میں ملک اسلم آپ کو ایک ہول ٹائمرسیاسی ورکرنظر آئے گا۔ نیپ بننے ، نیپ ٹوٹنے، سوشلسٹ پارٹی بننے اور انضماموں سے گزرنے ، روشن فکر سیاسی اخباروں کے جریدنے نکلنے بند ہونے، ٹریونین منظم ہونے اور بکھر جانے تک ملک اسلم ہر دور کا محض چشم دیدگواہ ہی نہیں، وہ اس سب کا سرگرم شریک اور حصہ دار رہا۔
ملک اسلم کی رفیقہِ حیات اس کے سیاسی کاموں میں ساتھ دیتی دیتی اپنی زندگی کے دن پورے کر چکیں۔اس کا بیٹا علی کبھی اِس ملک نوکری کرتا ہے کبھی اُس ملک۔ کچھ عرصے تک وہ لاہور میں استاد رہا(دادے کی پیروی میں)، اور اُن دنوں باپ بیٹے کا گھر، کارموٹر اور ساری توانائی سوشلزم کے لیے وقف رہتا تھا۔
پوتے پوتیاں لاہور میں ہوتیں تو ملک صاحب کا گھر میلہ اور جشن شادی لگتاتھا، اور اگر ملک سے باہر ہوتیں تو گھربلوچستان کا دشتِ بے دولت لگتا اور ملک صاحب یہ اضافی وقت بھی اپنی سیاسی پارٹی کو دے دیتا۔
ملک اسلم کے تقریباً سارے ہم عمر اب دنیا میں نہیں رہے تھے ۔ سب کے سب ’’ ست گھرا‘‘ چلے گئے اور ’’ سیوی‘‘ پہ دوسرے ’’ دِنگ‘‘ آگئے ۔ مگر یہ شخص مختلف عادتوں، رحجانات، زبانوں، ثقافتوں کے ساتھ کام کرنے میں کبھی مشکل محسوس نہ کرتا ۔ اُسے تو اِس بڑھاپے ، تنہائی، اور نزوری میں بھی گرکٹوں، گوہوں، حدتوں شدتوں کا سفر درپیش رہا۔ اُس کا ہوتؔ تو کب کا اونٹ پہ باندھ کر پہلے آمو، پھر سائیبریا سے پار اغوا ہوچکا ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں۔
اب پتہ نہیں کیچ اُس کی منزل تھی یا راستہ؟۔ پتہ نہیں راستہ اُس کی منزل تھا ،یا راستہ ۔ یہ جاننے کی اُسے کبھی پرواہ ہی نہیں رہی ، خود ہمیں بھی اپنے لیے یہ معلوم کرنے کی فرصت نہ ملی۔ آدم کی اولاد کے کارواں کے کسی ’’ شاہ عنایت ‘‘ کے لیے کوئی سایہ ہی بنا پائیں تو سمجھیں گے دلی ہمارا ہوا ،اوربخارا بھی۔
حالیہ دنوں میں، میں بہت عرصہ قبل سی آر اسلم پرلکھی اپنی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی تیار ی میں تھا۔ کتاب میں سی آر اسلم کے معاصرین میں ملک اسلم بھی شامل تھا۔ میں اُس کے بارے میں مزید چیزیں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اُس سے بات کی تو اس نے کہا سوالات بھیجو، جواب دیتا جاؤں گا۔
میں نے اسے پہلا سوال ٹیکسٹ کیا؛ اُس کی قید و بند کی تفصیلات سے متعلق۔مگر، اس نے جواب میں تاخیر کی۔۔۔۔۔۔۔ اورپھر ملک محمد علی بھارا نے ملتان سے فون کرکے ملک اسلم کی جنرل ہسپتال لاہور میں داخل ہونے اور ہمارے ایک اور قریبی ساتھی الیاس کی موت کی خبر دی۔
ملک اسلم کو سڑوک ہوگیا۔ وہ ایک ہفتہ تک ہسپتال بے ہوشی میں رہا ۔ میں اس کے ڈاکٹروں کے ساتھ رابطے میں رہا ۔جنہوں نے بتایا کہ بچنا شاید ممکن نہ ہو۔یوں 82 سال کی عمر میں ہمارا دوست میرے آخری سوال کے جواب کا قرض لیے موت کی جھولی میں پناہ گزیں ہوگیا۔
مجھے اُس کی موت پر کوئی ماتمی بات نہیں کرنی ۔ ایک انسان پا ک پیدا ہوا ہو، پاک المخلوقات کی بھرپور خدمت میں پاک زندگی جیا ہو، اور بیاسی برس تک عوام الناس کے حق میں مارشلاؤں، جاگیرداروں ، اور ان کی ظالم حکومتوں سے بھڑا رہا ہو، اُس کی موت پر ماتم کرنا بنتا نہیں ہے۔ جس انسان کی روح اپنے ساتھی انسانوں کی بھوک بیماری اور بے بسی کے غم میں ہمہ داغ داغ رہی ہو وہ روح ایک نہیں رہتی ہزار بن جاتی ہے۔ اورارواح کو موت کہاں؟۔جو شخص پسینے کا قطرہ قطرہ مشعلیں جلانے میں لگاتار ہا ہو،وہ شخص ہر پہناوا بدل سکتا ہے ماسوائے فنا کے پہناوے کے ۔جو شخص زندگی بھر نجاتِ انساں کے صحرائی سفروں میں رہا ہو اُس شخص کے پاؤں کے آبلوں کی گنتی بے کار کا م ہے کہ ہر آبلہ، آبلہ پاؤوں کی ایک فصل اگا چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص مارشل لاؤں میں بار بار انڈر گراؤنڈ ہوتا رہا ہو اُس کی یہ حتمی ابدی زیر زمینی جسمانی ہی ہوگی ، اس کے پیغا م کو زندوں میں ہی ہونا ہے قبروں میں نہیں۔
ملک محمد اسلم کے طفیل، البتہ ایک بات دل کی گہرائی سے نکلتی ہے: موت مردہ باد

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ شمارہ ’’عورت ایڈیشن ‘‘نہیں ہے

ایک اتنا اچھا اور خوشگوار عمل ہوا کہ ہم نے اپنی ہی روایت توڑ ڈالی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *