Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » ملتان اور صوفیائے کرام ۔۔۔ ڈاکٹر عقیلہ بشیر

ملتان اور صوفیائے کرام ۔۔۔ ڈاکٹر عقیلہ بشیر

ڈاکٹر روبینہ ترین کی تحقیق کا تعارف
صوفی کا تعلق عربی لفظ صفا سے ہے۔ جس کے معنی خالص کے ہیں ۔ صف کا مطلب سلسہ ، مرتبہ یا مقام و ترتیب اور صوف سے مراد اُون ہے۔ قدیم اسلامی دور میں وہ مسلمان درویش جو اُونی لباس پہنا کرتے اور بہت سادہ زندگی گزارتے صوفی کہے جاتے تھے۔ وہ قرآن و حدیث کے مطالعہ میں مصروف رہتے اور قناعت کی زندگی بسر کرتے تھے۔
تصوف کی اصل کا سلسلہ تو خود پیغمبر اسلام کی ذات سے ملتا ہے لیکن آ ٹھویں صدی عیسوی کے اختتام تک تصوف میں ایک نیا ارتقاء رونما ہونا شروع ہوا۔ یونانی ، ایرانی ، و یدانتی اور یورپی اثرات یہ تبدیلی لانے کا سبب بنے ۔ جوگی اور درویش عارف باللہ ہوگیا۔ تقلید پرست جو اپنے آ پ کو کٹر مسلمان کہلاتے تھے، ایسے صوفیوں کو بدعتی اور مذہبی عقائد کا مخالف قرار دیا۔ اس کے بعدتیرھویں صدی عیسوی میں تصوف کا شاندار دور آ یاجس میں ایران کے تین صوفی شاعر عطار ، رومی اور سعدی پیدا ہوئے ۔ چودھویں اور پندرہویں صدی میں حافظ اور جامی نے ترتیب وار شہرت پائی۔
صوفیوں کے تین روحانی حلقہ ہائے خیال بھی ایجاد یہ، شہود یہ اور وجود یہ کی تقسیم عمل میں آئی ۔ اس تمام روحانی سفر میں پیرو مرشد کی رہنمائی مشعل راہ ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی فتوحات کے سلسلے میں صوفیا کرام کثیر تعداد میں ہندوستان اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں آئے ۔ ان صوفیوں نے اسلامی کٹریت کو کبھی پسند نہ کیا اور باہمی رواداری اور مذہبی عقا ئد کی آ زادی کے لیے آ واز بلند کی۔ یہ بات تو طے ہے کہ صوفیوں نے رسمی یا تقلیدی مذہب کو رد نہیں کیا۔ بات صرف یہ ہے کہ وہ مذہب کے روایتی اور خشک اخلاقیاتی طرز عمل سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ انسانی وجود کے مختلف زاویوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ مطالعہ تبھی ممکن تھا جب پانچوں حواس مسدود ہوں یہی باطن کی دنیا تھی جہاں کائناتی تمنا کی تکمیل ہوتی ہے ۔ صوفیا کرام نے اس تکمیل کی خاطر انسانی آ سودگی کے لیے کوشش کی اور اس جہد مسلسل کی وجہ سے حیاتِ انسانی ابدی مسرت کس طرح سے حاصل کر پائی ۔ اس کا احاطہ کرنے کے لیے اس تحقیقی پرا جیکٹ پر کام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
اس وقت میرے پیشِ نظر ڈاکٹر روبینہ ترین کی کتاب ’’ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیا ئے کرام کا حصہ ‘‘ ہے۔ انہوں نے شعبہ اردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے1982 ء میں ایک ریسرچ پراجیکٹ کے تحت اس پر کام شروع کیا۔ جس پر انہیں1982ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ اگر اس کے موضوع اور کتاب کے عنوان کو دیکھیں تویہ امر بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس پر جذبے کو الگ رکھ کر خالصتاََ تحقیقی نظر ڈالی جائے۔ لیکن ڈاکٹر روبینہ ترین نے اسے بہت احسن طریقہ سے یوں مکمل کیا۔ ایک طرف اسے اپنے لیے سعادت کا حصول اور دوسری طرف ایک محقق کے منصب پر بھی آ نچ نہ آنے دی۔ کوئی بھی تحقیق عزم اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں اور ڈاکٹر صاحبہ نے اس کاوش کو بھی صوفیا ء کی دین قرار دیا۔ لیکن اس عقیدت کے باوجود ماورائے شعور چیزوں کو مسترد کر کے اپنے تھیس کی بنیاد اہلِ فکر کی دانش اور نادر قلمی نسخوں اور بنیادی حوالہ جات سے استفادے پر رکھی ۔ یوں انہوں نے جو بھی نتائج اخذ کیے ان پر بہت کم اختلاف کی گنجائش نکلتی ہے۔
چار ابواب پر مبنی اس کتاب میں ذیلی عنوانات کے تحت موضوع کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے ۔ باب اول ملتان کی قدامت اور سیاسی تاریخ کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ذہن میں اٹھنے والے بے شمار سوالوں کا تسلی بخش جواب مل جاتا ہے۔ مثلاََ ملتان کے قدیم نام ، عرب اور ہند کے تعلقات قبل از اسلام اور عہدِ رسالت میں ان تعلقات کی نوعیت ۔ یہاں کی اشیاء سے اہل عرب اور آ نحضور کی محبت اور پسندیدگی کے بارے میں تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ یہاں کی تہذیبی اشیاء ، لباس اور بعض خوراک کے اجزا عربوں کے مزاج میں دخیل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ عرب اور ہند کے باشندوں میں اگر کوئی ذہنی یکجہتی تھی تو یقیناََ اس کی کوئی ایسی ٹھوس وجہ ضرور رہی ہوگی جس کی وجہ سے جغرافیائی وسعتیں سمٹ گئیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ اس ذہنی ہم آ ہنگی کی وجہ اصنام پرستی، مظاہر پرستی اور کواکب پرستی کو قرار دیتی ہیں ۔ ملتان کا بت ہندوستان کے ان بتوں میں شامل تھا جن کی یاترا کرنے کے لیے عرب کے لوگ ہندوستان کا رخ کرتے تھے ۔ محمد بن قاسم کے بعد ملتان کی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے ابو ظفر ندوی کی تاریخِ سندھ ، ڈاکٹر مہر عبدالحق کی ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق ، تاریخ فرشتہ ، چچ نامہ اور نقش ملتان سے استفادہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ لسانی اعتبار سے ۱۱۱ھ میں ملتانی زبان سندھی سے علیحدہ ہو کر آ زادانہ طور پر ارتقاء پانے لگی ۔ انہوں نے ملتان کی قدامت کو مسلمہ قرار دیتے ہوئے اسے موہن جوڈارو، ہڑپہ اور بابل و نینوا کی تہذیب کے ہم عصر ثابت کیا ہے۔ اس سلسلے میں معروف محقق اور ماہر آ ثار قدیمہ ابن حنیف ملتان کے موعودہ مقام پر پہلی بستی کم از کم ساڑھے پانچ ہزار سال قبل کے لگ بھگ بتاتے ہیں ۔اسی طرح علامہ عتیق فکری کے بقول ملتان کے علاقے کی قدامت ۴۰۰۰قبل مسیح تک چلی جاتی ہے۔ یہاں ڈاکٹر صاحبہ نے یونانی ، فرانسیی ، برطانوی ، چینی اور عربی سیاحوں کے بیانات کی روشنی میں ملتان کی مذہبی ، معاشرتی اور تہذیبی زندگی کا جائزہ لیا ہے ۔ یہ وہ سفر نامے ہیں جو ان سیاحوں نے چوتھی صدی میں قبل مسیح سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک قلم بند کئے ہیں اور یہ وہ تفصیلات ہیں جو تاریخ میں رقم نہیں ۔ یہاں انہوں نے بہت سے محققین کی تحقیق سے بھی استفادہ کیاہے خصوصاََ سر زمین ملتان میں لسانی تشکیلات کے عمل کے حوالے سے جس پر بعد میں ان کی ایک اور کتاب (ملتان میں لسانی تشکیلات کا عمل ) ۲۰۰۴ء میں چھپی ۔ یہ کتاب زبان اردو کی تشکیل سے متعلق معلومات کا منبع ہے۔ البتہ ملتان اور گردونواح میں قرامطہ کے زیرِ اثر جو بغاوت ہوئی اس کے بیان میں قدرے تشنگی کا احساس ہوتاہے۔ وہاں زیادہ تر ثانوی معلومات پر انحصار کیا گیا ہے۔ لیکن جو اس کتاب کا اصل موضوع ہے یعنی ملتان میں صوفیاء کا دور اور ان کی خدمات مصنفہ نے اس پر بہت لگن اور ایمانداری سے کام کیا ہے۔ اور دسویں صدی سے پہلے اور دسویں صدی کے بعد کے صوفیا کرام کا احوال ، تعلیمات ، اردو زبان و ادب کی ترویج میں ان کی خدمات اور ان کے زبان و ادب پر اثرات کا بھر پور تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔
اس حوالے سے مصنفہ کو ان کے سن پیدائش ، سن وفات اور خاندانی پس منظر کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے یقیناََ دِقت پیش آ ئی ہوگی ۔ جس کا اندازہ ان کی کتاب میں شامل حواشی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان بزرگوں سے متعلق کہانیوں کو ڈاکٹر صاحبہ نے سر ے سے نظر انداز کر دیا ہے۔ جو یقیناََ ان کی محققانہ تحقیق کے پیش نظر مستحسن تھا۔ بزرگوں کے خاندانی کتب خانوں کا ذکر ناقدین اور محققین کے لیے بھی دلچسپی کا حامل ہے۔ مصنفہ نے جہاں اس خزانے پر سے پردے اٹھائے ہیں وہاں مزارات کے فنِ تعمیر کے حوالے سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ اس دوران بہت سے صوفیا کرام کے قلمی نسخوں تک بھی ان کی رسائی ہوئی جو بجائے خود ایک سعادت بھی ہے اور ایک محقق کے ذوق و شوق کی سند بھی ۔ اور اگر وہ اس کا اظہار فخر سے کرتی ہیں تو بجا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب مین جا بجا ان کے کلام سے مثالیں دے کر ان کے خیالات کی ترجمانی کی ہے جس میں جہاں اخلاق و معارف کے بے شمار مضامین ادا ہوئے ہیں وہاں عشق کی فضیلت ، فقر و قناعت ، عشقِ حقیقی میں معشوق کا کردار اور اس کا منصب کا بیان بھی ملتا ہے ا ور چوں کہ تمام جذبے نظم کیے گئے ہیں اس لیے ان کا تاثر دو چند ہو جاتا ہے۔
دسویں صدی ہجری کے بعد تصوف کا سلسلہ حضرت حافظ جمال، حضرت خواجہ سلیمان تونسوی ، حضرت خواجہ غلام فرید، حضرت خواجہ خدا بخش اور غلام حسن شہید وغیرہ کی بدولت نہ صرف قائم رہا بلکہ اس دور کے ملفوظات زیادہ تر فارسی ہی میں ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے تراجم ہو چکے ہیں اور صوفیاء کا اردو کلام بھی دستیاب ہے یہ وہ دور ہے جب ایک طرف تصوف نے تہذیبی اور علمی سطح پر دیر پا نقوش مرتسم کیے جبکہ دوسری جانب عالمی سطح پر مسمانوں کے مادی اور دنیاوی زوال کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور بیسویں صدی میں یہ زوال اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ بر صغیر میں اس پسماندگی کے دور میں جو با عمل اور با علم صوفیا کا گروہ سامنے آ یا وہ اگرچہ پورے علاقے میں روحانی اور اخلاقی قدروں کی نشوونما کے لیے سرگرم تھے مگر اس کتاب میں موضوع کے مطابق صرف سرزمین ملتان سے متعلق صوفیا کرام کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا کام علم وادب کے حوالے سے اتنا گراں قدر اور ضخیم ہے کہ اسے ایک پی۔ ایچ ۔ ڈی کے مقالہ میں سموناجوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ کیوں کہ ایک تو ان کے اپنے مفلوظات اور علمی و ادبی تصانیف اور پھر ان کے حوالے سے ہونے والا مختلف نوعیت کا کام۔ اس سب سے استفادہ کرنا ور تحقیق کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مواد تلاش کرناا ور حتمی نتائج نکالنا خاصا صبر آ زما رہا ہوگا ۔ لیکن اردو شعر و ادب کی ترویج کے سلسلے میں صوفیا کرام کی خدمات پوری طرح عیاں ہو کر سانے آ جاتی ہیں ۔ مثلاََ حافظ محمد جمال کے اسلوب کے حوالے سے انہوں نے ایسے الفاظ کی نشاندہی کی ہے کہ جو بیک وقت سرائیکی اور اردو میں مشترکہ طور پر مستعمل ہیں ۔ ان کی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ان کے ہاں الفاظ کا ذخیرہ بتاتا ہے کہ وہ اردو زبان سے کما حقہ ، واقفیت رکھتے تھے۔
اِسی طرح حضرت خواجہ خدا بخش کی گفتگو میں ادبیت کا رنگ تلاش کیاہے جواشاروں اور کنایوں سے مزین ہے اور ان کی صفت کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنی بات کم عقل اور جاہل لوگوں تک قصوں ، شعروں یا حکایتوں کے ذریعے پہنچاتے۔
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی فارسی میں شاعری کرتے تھے۔ آپ کا سرائیکی ، اردو کلام موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے بقول ان کے ملفوظات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ شعرو شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔
منشی غلام حسین شہید کی ایک مثنوی جو فارسی زبان میں لکھی گئی اس کا قلمی نسخہ ڈاکٹر صاحبہ کے پاس موجود ہے ۔یہ کتا ب ۸۵صفحات پر مشتمل ہے۔ جس پر میڈم کا تبصرہ پڑھنے کے لائق ہے۔ انہوں نے منشی غلام حسن شہید کے قلمی دیوان کا بھی ذکرکیا ہے جس میں اردو، پنجابی ، سرائیکی اور ہندی زبان کے شعری نمونے موجود ہیں۔ یہاں اردو غزل میں مخلوط ڈکشن کی انہوں نے کئی مثالیں بھی دی ہیں ۔ خواجہ غلام فرید کو وہ سرائیکی میں وہی مقام دیتی ہیں جو عربی میں امراؤ القیس ، فارسی میں حافظ اور رومی ، انگریزی میں ورڈز ورتھ ، کیٹس اور اردو میں درد ، میر، غالب اور اقبال ، بنگلہ میں نذر السلام ، پنجابی میں شاہ حسین اور وارث شاہ، پشتو میں رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک اور سندھی میں سچل سر مست اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کو حاصل ہے۔ خواجہ فرید پر تحقیق کرتے ہوئے شاید وہ بہت سے گوشے اور پہلو سامنے نہ لا سکیں اس لیے بعد میں انہوں نے خواجہ فرید پر الگ سے کتاب لکھ کر اپنی تحقیقی کاوشوں کی تکمیل کی۔ اگرچہ ان کی سرائیکی اور اردو شاعری کا بھر پور مطالعہ یہاں بھی موجود ہے۔
اس کی کتاب کے چوتھے باب میں ڈاکٹر روبینہ ترین نے ملتان کے فنونِ لطیفہ پر صوفیا کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ جس میں بزرگوں سے اس شہر کے لوگوں کی محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر نقاشی ، کاشی گری اور خطاطی کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے۔ فنِ تعمیر کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ عرس اور میلے جو تہذیب و ثقافت کے حوالے سے زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ یہاں اس کا ذکر موجودہ ہے اگرچہ قدرے مختصر ۔ مدرسے اور خانقاہوں کے حوالے سے ملتان کی تعلیمی ، تدریسی اور علمی زندگی پر صوفیاء کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے اور حقیقتاََ انہی مدرسوں کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے سوچ و فکر کے دھارے بدلے۔ حیر ت اس بات کی ہے ان بزرگوں نے لوگوں کے اندر سے ضعیف الاعتقادی کو نکالا ور انہیں روشن مستقبل کی راہ سمجھائی۔ انہوں نے فن کی قدر کی اور جو درسگاہیں اور مدرسے قائم کئے ان میں فلسفہ و منطق، ہئیت ، حساب ، الجبرا، جیومیٹری ، تاریخ اور طب کی تدریس شروع کی۔
ہمارے صوفیاء کرام اور اکابرین فلسفہ و فکر نے دنیا کی ظلمتوں اورجہالتوں میں نور و عرفان ، رشد و ہدایت اور مادی و دنیاوی ترقیوں کی قندیلیں روشن کیں ۔ اگر اس دور میں ایسا ہو سکتا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس دور میں ایسا نہ ہو سکے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں جیسا جذبہ، استقامت ، صبر و استقلال ، ہمت ، جرات ، دردمندی ،اور ضبطِ نفس کے جذبے بیدار ہو جائیں۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *