Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » ملاقات مشکل ہے ۔۔۔ فرح یار

ملاقات مشکل ہے ۔۔۔ فرح یار

بادل کی گٹھڑی میں کچھ بھی نہیں
بس مہ و سال کی جھاڑ جھنکاڑ ہے
درد کی گرد ہے
جو مرے خانہِ دل کو گھیرے ہوئے ہے
ترے بام و در پر تھکن بن کے چھائی ہوئی ہے
نہ بجلی نہ بارش
نہ حجرے نہ ڈیرے
نہ لمبی اڑانوں کے اندر
گھڑی دو گھڑی کو
دعا کے بنیرے
لہو سرگراں تھا لہو سرگراں ہے
کہاں اپنا ہونا چمکتے ہوئے چاند کی اوٹ رکھیں
کسے خوش خرابی کی جانب بلائیں
بصارت کو پردے, درختوں کو
بیماریاں کھا گئی ہیں
بدن کی حرارت دسمبر کی چھت پر
علم کی طرح پھڑپھڑاتی ہے
کچنار شاموں کی رہداریوں میں
مشقت بھری زندگی اور
ارض و سماوات کی گھاٹیوں پر
ملاقات مشکل ہے
خواہش کے سینے پہ تاریک راتوں کا ملبہ گرا ہے
لٹکتے ہوئے باغ ، آنکھوں کے چھجے

قدیمی گھروں کی بھٹکتی ، لچکتی ہوئی آہٹیں دب گئی ہیں
پلٹنے کی ساعت
کہانی سے باہر نکلنے کا
رستہ نہیں ہے
چلو اپنے اپنے ٹھکانوں پہ اپنے ہی
اندر کے انگار تاپیں
جہاں بھر کے سارے خبر گیر جو کل تلک
دوڑتے پھر رہے تھے
طلب کے خجالت بھرے موڑ پر رک گئے ہیں
زمانے کا دریا ابھی دیکھتے دیکھتے
خامشی کے سمندر میں جا کر گرے گا
یہی خامشی کا سمندر ہے
جس کے کنول پر ملامت کا
سرِ نہاں اپنے خط کھینچتا ہے
تو بچے جوانی کے گھوڑوں پہ بیٹھے
کھلے آسمانوں میں نیلم کے پر دیکھتے ہیں
چلو اپنے اپنے ٹھکانوں پہ اپنے ہی اندر کے انگار تاپیں
ملاقات مشکل ہے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *