Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » مستیں توکلی ۔۔۔ شان گل

مستیں توکلی ۔۔۔ شان گل

یہ مری قبائلی علاقہ میں بسا دور افتادہ گاﺅں ماوندہے۔ اس کی موسمِ گرما کی چاندنی سے راتیںنہائی ہوتی ہیں۔ ایسی چاندنی راتوں میں اکثرایک گھر کے آنگن میں توکلی مست کا نغمہ گونجا کرتا تھا۔ یہ ایک باپ تھا جو اپنے خوش قسمت بچوں کو اِس دھرتی کے عظیم فلسفی شاعر ،تو کلی کا کلام گا گا کر سناتا تھا۔ کیا اُس وقت وہ اِس بات سے آشنا تھا کہ مست کا کلام اِن بچوں کے لئے فقط ایک میٹھی لوری ہی نہیںرہے گا؟۔ کیا وہ یہی چاہتا تھا جو بعد میں ہوگیا؟ ۔ اُن میں سے ایک بچہ اپنے دل میں اس شاعری کا ایک ایک حرف اس کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ رقم کرتا جارہاتھا ۔سوچتا ہوں کہ روایتی ڈگری والی تعلیم سے تہذیبی شعور کے تعلق کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
آج بھی اُس بچے کے ذہن میں اپنے باپ کا گایاہوا مست توکلی کا کلام گونجتا ہے ۔ جب بھی اردگرد کا ماحول اُسے متفکر کردیتا ہے تو وہ اسی درویش کے فلسفے کی آغوش میںڈوب جاتا ہے اور امید کی نئی کرنیں تلاش کرتا ہے ۔ مست توکلی سے وہ اپنی دہائیوں پرانی لگن کو کتابی صورت دیتا ہے ۔ اور یوں بڑاتو کلی مست ایک وسیع دنیا میں پڑھنے اور سمجھنے والوں کے لئے بھی فیض کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔
توکلی مست کا نام لیتے ہی ذہن میں اُس کی تصویر بطور ایک عاشق ابھر آتی ہے۔فخرِ عشاق،مست تو کلی کے پاس صرف ایک سپیشلٹی تھی : محبت ۔ مست کا تذکرہ کسی اور طرح سے کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اُس کی شاعری ، دوستیا ں ، دشت نوردیاں ، سب اسی پروٹونمرکزے کے طواف کنندہ الیکڑون تھے۔
ایک ایسا عاشق جس نے زندگی میں کچھ اور کام نہ کیا تھا۔مست توکلی کی آنکھیںجب ایک بار محبت سے چارہوئی تھیں تو پھر زندگی بھر اُسی کے سامنے بچھی ہی رہیں۔ مست نے اپنے روح وجسم کاایک ایک خلیہ شرابِ عشق میں بھگودیا اور پھر زندگی بھر اسی عشق کا ہوگیا۔
ظاہر ہے اُس پہ لکھی گئی ہر کتاب ، ہر مضمون بھی عشق ہی کے موضوع پر ہوگا ۔ اور بقول مولانا روم” وہ جو محبت کے سامنے اندھا ہے وہ کتے سے بھی بد تر ہے “۔
اس نے ہمارے قبائلی معاشرے میں شاید پہلی باربتایاکہ عشق لا محدود ہے ، اُسے محض جسمانی سرحدوں تک محدود رکھنا بہت زیادتی ہے ۔ مست کی پوری زندگانی میں جسم بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔گورا کالا،ننگ ، نام ، جنت دوزخ ، قبیلہ قوم سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بس ایک ” اُس “ کا خیال ساتھ رہتا ہے ۔ خیال جو درد بھرا ہوتا ہے ۔ درد جودوزخ جیسا تکلیف دہ ہوتا ہے ، دردجو عاشق کی ہستی مٹا دیتا ہے ۔ درد جو بوڑھے کومار کر جوان بنائے رکھتا ہے ۔ جوانسان کوعدم میں پہنچا کر دوام عطا کرتا ہے ۔ درد جو قلب ، روح اور نفس سب کچھ کو نکال باہر کرتا ہے ، اُسے شریک پسند نہیں ہوتا ۔ وہ لا شریک سے وصل کی خاطر لا شریک رہنا چاہے ۔
عشق کا انعام دل ِپر خوں ہی ہوتا ہے ۔ عشق کا اپنا ہی میکدہ ہوتا ہے ،اپنا ساقی ہوتا ہے ، اُس کے سلام دعا کا اپنا طرز ہوتا ہے ، اس کے اپنے اسلاف ہوتے ہیں۔ اپنے بزرگ اور اپنا شجرہِ نسب ہوتا ہے ۔یہ خود اپنا برخوردار ہوتا ہے، اور خود ہی اپنا بزرگوار۔۔۔ عشق ہرزمانے ہر سماج کابزرگ ہے ۔
توکلی مست کا زمانہ وہ ہے جہاں اُس کے قبیلے پر انگریز کی علمداری بہت ڈھیلی ڈھالی ہے ۔1839 کی جنگ کے وقت وہ کم سن تھا۔ اور بعد میںاُس کی زندگی میں (اور اس کی موجودگی میں)کوئی بہت بڑی جنگ ہوئی نہیں ۔ سرداری بھی اس قدر مضبوط نہ تھی ۔اُسے تو بعد میں سنڈیمن نے آبِ حیات پلاناتھا۔ ذرائع پیداوار وہی مویشی بانی تھے۔ ایک ڈھیلاڈھالا ، قدیم کمیونسٹ سماج سے حال ہی میںنکلا باشرف بلوچ سماج، جہاں قبائلی اخلاقی کو ڈزکی پاسداری ہوتی تھی ۔ ہر لحاظ سے انیسویں صدی کے وسط کا بلوچستان جہاں کوئی بڑی سماجی تحریک نہیں ، معاشی اتھل پتھل نہیں ۔ فطرت بھی خاموش ۔ ۔۔۔۔ایک آدھ برس قحط کی پیداکردہ ہِل جُل کے علاوہ مکمل خاموشی ۔
ایسے میں مست توکلی منظر پہ ابھر آتا ہے ۔ ایک محب ،ایک سیلانی ، ایک ان پڑھ، ایک مفکر ، ایک فلسفی اور ایک شاعر کی حیثیت سے وہ اِس خفتہ سماج میں ارتعاش و جنبش کے ایسے بیج بو دیتا ہے جن کی زود افزائش کے توکوئی امکان نہیں تھے ، البتہ بہت دیرپا اور مستقل اثرات کی پیشن گوئی حتمی تھی ۔عمومی عالمگیر صداقتوں پر مشتمل مست کے فلسفے نے کوئی تحر یر ی صورت اختیارنہ کی کہ لکھ پڑ ھ کا رواج تھا نہیں۔ صرف سینے تھے، دھڑکتے دل تھے ، دماغ تھا اور دماغ کا یادداشت مرکزتھا۔ سو نہ صرف اس کے مصرعے اِس قبیلے کی یادداشت مرکزمیں محفوظ رہے بلکہ وہ اپنی قبائلی سرحدات کوملیامیٹ کرتے ہوئے عالمی ادب کاحصہ بن گئے ۔ ٹیپ ، فلمیں،ڈرامے ، رسائل ، ریڈیوٹی ویمست ہماری ارواح اورروحانی سرگرمیوں کاحصہ بن گیا ۔ دو سوبرس بعد۔مست نے بلوچ سماج کو اپنے پڑوسی سرائیکستان ، پنجاب ،سندھ ،اور پشتون دیس کے بودوباش سے بڑے پیمانے پرمتعارف کرادیا، جغرافیائی وقبائلی بند شیںحد یں ملیا میٹ کردیں اور لولاکی عشق کے جھنڈے اپنے فلک بوس پہاڑو ں کی بلند ترین چوٹیوں پہ لہرائے ۔نہ صرف یہ ،بلکہ اس نے تو اپنی شاعری کوابدتک قائم رکھنے کا ایک اوربندوبست بھی کرلیا:
ھرکسے شیرانہ گشی مستئے قصواں
کل گناہ معافہ بنت ژہ خاوندہ درا
ترجمہ:
جو بھی اُس کے اشعار کہے گا ،اُس کا ذکر کرے گا
مالک کے دربار میں اس کے سارے گناہ معاف ہوںگے
مطلب یہ ہے کہ مست کی خواہش ہے کہ اُس کے اشعار دہرائے جاتے رہیں ۔ اُسے فراموش نہ کیا جائے۔ اُس کی محبت کے تذکرے جاری رہیں۔ ویسے تو اس نے اتمامِ حجت کے بطور یہ فرمائش کردی اس لےے کہ اُس کی شاعری ہی ایسی نادر ہے کہ جمال و جمالیات بھری روحیں ، معانی و مطلب کی متلاشی بصیرتیں، رسیاﺅں کی طرح تا ابد اِس پہ ٹوٹ ٹوٹ پڑیں گی۔
بھئی مست کی شاعری توزرتشی بلوچوں کی مقدس دائمی آگ ہے جس میں وہ ساری زندگی اپنی روح، اپنے دل، اور اپنے وجود کی ہڈیاں توڑکر پھینکتا رہا ۔ایسی آفاقیت اُس میں ڈال دی کہ ابدتک اس کے روشن رہنے کاانتظام کردیا۔
توکلی مست کی شاعری کامحور اور منبع سمو ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سموجو محبت کے اس بڑے ناول کی ہیروئن ہے۔ اُس کا مرکزی نکتہ، اُس کی نیوکلیئس ۔ سمو نہ ہو تو مست کے الیکٹرون کائنات کی وسعتوں میں بے مالکن بھیڑوں کی طرح بکھر بکھر جائیں۔ سمو مست کے نظامِ شمسی کی سورج ہے۔
دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فن پارے کے تخم تو فطرت نے مشرقی بلوچستان میں پھینکے، اور یہ ناول خلق بھی وہیںمشرقی بلوچستان میں ہوا۔۔۔۔رسترانی کے خوبصورت مرمریں کوہی دیواروں میں ،ہث وانا روکٹارکے سرسبزدرختوں میں ، بیہو کے ڈھلوانی سبزہ زار میں، بیورغ و گزین کے ڈیروں میں ،ماوند و منجھرا کی وسعتوں میں۔مگر پھر اس کی سایہ فگن شاخیں سندھ کے بیٹ و بھٹ میں ، سرور و قلندر کے بھنگ آگیں روضوں پہ، سخی سرور کے اُس پار میدانوں میں انسانوں پہ ظلم کی دھکتی شعاﺅں سے بچاﺅ بن گئیں۔ الغرض پورابلوچستان ،مغربی و جنوبی پنجاب اورسندھ سب اس کی متبرک زد میں آئے ۔( اور اب تو مشرقِ وسطی، یورپ ، وسطی ایشیا، ایران، افغانستان اور افریقہ میں نہ صرف اُس کے اپنے ہم زبان اُس کی شاعری کا شہد چاٹتے ہیں بلکہ تراجم اور انٹرنیٹ اور فیس بک سگھڑ سفیر بن کر چار چودھار مست کے دلدادگان کی تعداد اور اُن کے باہمی ربط کی مضبوطی کا سامان کررہے ہےں۔
مست نے بہت کچھ ان علاقوں سے لیا،بہت کچھ ان خطو ں کو دیا ۔فنِ عشق کی نازک اندامیو ں سے لے کر شاعری کی باریکیوں تک، اور موسیقی کے ابجد سے لیکرفلسفہ کے اوج تک مست اس خطے اوراس عہد کا سب سے بڑا درآمد برآمد کنندہ بنا ۔
ہمارے ہاں نیم پڑھے اور دماغ کو عملِ فکر سے کوسوں دور رکھے ہوئے ادیبو ں دانشوروں پر فیوڈل ساکن ورجعتی سوچ دبیز تہیں ڈال چکی ہے۔ اُن کا بدبخت وطیرہ رہاہے کہ وہ محبت کو ”کامیاب “یا ” ناکام“ قراردینے کی خوردبین سجائے ہر وقت فیصلے صادر کرتے رہتے ہیں ۔بھلے لوگو!لفظ” مہر“ خود اس قدر مکمل، جامع اور حتمی ہوتاہے کہ اس کے ساتھ کامیابی ناکامی ،کے پستہ قد اضافے تحقیر آمیزلگتے ہیں ۔مست کو اور سمو کو وہ مقام ملا جو بہت کم انسانوں کو ملتا ہے۔۔۔۔ خرد نامی مقام!!۔ مگر،جس نے محبت جیسی، پرکی طرح ہلکی پھلکی اور نور کی طرح ملائم ،نعمت کو کامیابی و ناکامی کے ترازو میں رکھنا ہو وہ بے شک اپنے بے ہودہ کھیل کو جاری رکھے، محبت خود اُن سے نمٹ لے گی۔
اسی طرح کچھ لوگ محبت کو ایک اور کراہت بھرا نام دیتے ہیں: ” عشقِ مجازی“۔ اور محض دامن ِ مہر کے کیڑے مکوڑے ہی ایسا نہیں کرتے بلکہ میں نے آسمانِ شعر و ادب تک کو اِس منحوس غلطی سے آلودہ دیکھا ہے ۔ ارے بھئی، عشق بھی بھلا مجازی ہوتا ہے، سچ بھی کبھی مجازی ہوتا ہے، حسن بھی کبھی مجازی ہوتا ہے؟ …….. دل کرتا ہے ناقابلِ تقسیم ” محبت“ کی مجازی گیری اور حقیقی پن دونوں کو اٹھا کر اِن کبیر و صغیر دانشوروںکی عقل کے منہ پر شڑاپ سے دے ماروں ۔بھئی یا تو لفظ محبت ، مہر،عشق استعمال ہی مت کرو، اور اگر کرلیا توجان لو کہ یہ لفظ خود کافی ہے، کُل ہے، کامل ہے۔ اِسے مجازی حقیقی کے چمچوں بدرقوں باڈی گارڈوں کی کوئی ضرورت نہیںہوتی۔
مست کا تحریری تذکرہ سب سے پہلے ڈیمز نے اپنی کتاب ”پاپولر پوئٹری آف بلوچیز“ میں کیاتھا۔پھر، اور لوگو ں نے بھی اس پہ کام کیا جن میں میر مٹھا خان مری،ذکیہ سردار خان،ڈاکٹر انعام الحق کوثر اور غوث بخش صابر قابل ذکر ہیں ۔مگر بلوچی شاعروں کے اس سر تاج پر بنیادی اور وسیع کام تو محترم مٹھا خان مری کاہے ۔اس نے مست پر دو کتابیں لکھیں ،جامع،معتبر اور مکمل ۔
میں والد کے ساتھ گزارے بچپن میں راتوں کو الحان کے ساتھ مست کی شاعری سنا کرتا تھا۔ اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ خوش الحانی کے ساتھ مست کی شاعری کی میری یادداشت کتنی بڑی نعمت رہی۔ اُس کے علاوہ مست پر کام کے اپنے پندرہ بیس برس میں نے سمجھو میرمٹھاخان مری کے دانش کے سخی اطا ق پہ ہی گزارے‘ سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے اپنے چچابختیار خان سے مانگے ، کچھ توشہ محمد خان پیر داذانڑیں اور کریمولانگھانڑیں سے لیا،ایک آدھ برس کا زادِراہ مامامحمد اکبر قلندرانڑیں سے مانگااور بقیہ لوازمات عالمی کلاسیکی ادب اور ہم عصر دانشوروں سے حاصل کیے۔اور بلا شبہ میرے اپنے دیوانہ پن کے تجربات بھی میری تحریرکا حصہ بنے۔ اس طرح میںنے مست کے اوپر اب تک کےے گئے کام میں منکسرانہ اضافے اوروسعت وگہرائی میں اپنا حصہ ڈالا
میں ان پندرہ بیس برسو ںمیںہر لمحہ تڑپا ،جاگا،اوررویا ہوں،ہر لمحہ محظوظ ہوا ہوں ۔شاید سب لکھاریوں پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہو گی ، مگر سچی بات یہ ہے کہ مست پر کوئی ٹکڑالکھنے سے چند دن پہلے اور اُس پر لکھ چکنے کے چند دن بعد تک ایک خاص کیفیت مجھ پر طاری رہتی رہی ہے ۔اتنی پرکیف کیفیت کہ سوچتا ہوں مجھ پہ تو یہ معمولی ِ وقت تک رہی۔ مست کا کیا حال ہوگا جو زندگی پھر اس سکون آور بے چینی کو زندگی بھر جیتا رہا۔مست ایک ٹرانس ہے!!، مہر کا ٹرانس!!۔

مگر میں اپنے قارئین کا قبائلی یا فیوڈل بھرم کیوں رکھوں؟ ۔ کون ایسا شخص ہے جو مست کو پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں کو پرنم ہونے سے کامیابی سے بچا پایا؟۔ کون قاری ہے جو مست کو پڑھتے ہوئے دل کی ایک دھڑکن کھو نہ گیا ہو؟۔میں نے عام مری سے لے کروڈے اور وڈیرے تک ،اور دانشور سے لے کرسردارتک سب کومست کا ” شکار “ پایا۔ کلامِ مست وحشی کو اشرف انسان بنانے کا تیر بہدف نسخہ ہے ۔ بلوچ قبائلی شخص تعریف ہی تب کرتا ہے جب اس کے دل کی جڑوں کا ایک ایک فائبر ہل کر نہ رہ گیا ہو…….. اور کلامِ مست پڑھنے کے بعد تو میں نے ایک بھی قبائلی نہیں دیکھا جس نے اس کتاب کی تعریف نہ کی ہو ( واضح رہے کہ مست پر لکھی یہ کتاب تیسری بار چھپ رہی ہے)۔
مجھے مست کے کلام کی ترتیب میں بہت مشکل پیش آئی ۔ایک بہت ہی وسیع و عریض وطن میں مقبولِ عام اِس شاعر کے مصرعوں کا اِدھر اُدھر ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ میں نے تومصرعوں ،اشعار اور کبھی کبھی تو پورے بند کے بند کو اپنی اصل جگہ کے بجائے کسی اور شیئر میں پیوست پایا۔ مست کی شاعری کو دو صدیاں گزرنے کے بعد ،آج صورت یہ ہے کہ لوگوں نے مشہور ضرب الامثال ،عالمی ادب کے ٹکڑے،حتیٰ کہ خود اپنے اشعار مست کی شاعری میں ڈال دیئے ہیں ۔جو کچھ بھی اچھا لگا مست کی جھولی میں ڈال دیا۔اس طرح مست کے شیئر میںتسلسل ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا تھا ۔
صرف باریک بین چھان پھٹک ہی سے آپ اِن ” گھس بیٹھیے“ ، مگر معززاشعار کو دور کر سکتے ہیں ۔یہاں مست کاعہد، اُس زمانے کے مظاہر و حقائق اور مست کااپنا ڈکشن آپ کو بہت مدد دےں گے ۔اسی طرح مست کے عہد کے مری قبیلہ کے بارے میں جانکاری،اُس زمانے میںبلوچستان ،سندھ اور پنجاب کے ملحقہ علاقوں کی معاشی سماجی حالات سے واقفیت، اور مروج ادبی ثقافتی سطح سے شناسائی آپ کو مست کے کلام کو خالص کرنے میں بہت مدد دیتی ہے۔واضح رہے کہ توکلی کا اسلوب اپنے زمانے کے شاعروں میں سب زیادہ ”عالمانہ“ ہے اور اُس میں اپنے عہد کی بلوچی لسانی جغر افیا ئی سرحدوں سے پار کا بھی دانش اورالفاظ موجود ہیں۔
مست بے شمار ایسی اصطلاحات اور الفاظ استعمال کرتا ہے جو بلوچی میں بعد میں مستعمل نہ رہے، یا زیادہ مستعمل نہ رہے ۔اُن اصطلاحات کا پیچھا کرنا، اُن کے لسانی روابط و جغرافیہ تلاش کرنا اور اُن کے معنی ڈھونڈنا مجھے بہت ستاتا رہا ۔
انسان بہت معصوم ہوتے ہیں۔کوئی ذرا سا پسند آیا اُسے جھٹ سے دیوتا قرار دیا اور اُس کے نام ، مقام اور کلام پہ نذر و نیاز تیار کرلےے، اُس کی پسند و نا پسند کو باقاعدہ حلال و حرام گردانا اور پرستش کا باقاعدہ ایک ڈھانچہ تیار کرلیا۔ایک فلسفی شاعر کے لئے اس سے زیادہ تکلیف دِہ چیز کیا ہوسکتی ہے۔ہماری سادگی اور عقیدت کی حد تک پیار سے اُس کی تعلیمات پسِ پشت جاتی ہیں نا!۔
مست کے ساتھ میری چاکری بھی عجیب ہے ۔فلک نے مجھے مست کے دربار جانے سے بہت پہلے سمو کی درگاہ کی بھرپورزیارتیں کروائیں۔ میں جب کاہان میں میڈیکل آفیسر تھا تو اپنے گاو¿ں ماوند سے کاہان آتے جاتے سمو کی آرام گاہ ،راستے میں پڑتی تھی ۔ میلوں تک پھیلی بے کراں خاموشی میں آپ سموکی قبر کے ساتھ بیٹھ کر مراقبہ میں مست و سمو کی محبت کے اسباب و علل کی نا ممکن دنیا میں داخل ہو پاتے ہیں اور زندوزیست کے فلسفہ میں بھی دور تک جاتے ہیں۔ سمو تفکر کی طرف لے جاتی ہے۔ مجھے اُس فکر گاہ پہ سر خم کرنے کے بے شمار بابرکت مواقع ملے ۔
بہت عرصہ بعد کہیں جا کر مست کے مقبرے کی قدم بوسی نصیب ہوئی ۔یہ تعداد ابھی تک صرف ایک رہی ہے۔ یوں ایک لحاظ سے مست تک میری رسائی سمو کے ذریعے ہوئی۔ اور یہ اچھا ہوا، یہی اچھا ہوا۔ مست تک رسائی کا مستحسن ترین راستہ بھی یہی ہے۔ نیا راہی ضرور یہ راستہ اختیار کرے۔ ورنہ مست کا مقبرہ آپ کو بزرگی برگزیدگی ،عقیدہ و عقیدت اور کرامت و توہمات کی دنیا میں لے جائے گا۔ اور لگے گا جیسے آپ کوئی دنیاوی غرض و طلب کے لےے ایک ولی کے دربار آگئے ہیں۔ فکرِ مست کنکریٹ ، اگربتی اور جالیوں جھالروں میں پردہ کناں ہوگا۔
میں کئی برس سے مست پر کام کر رہا ہوں ۔میں نے بے شمار لوگوں سے انٹرویو کئے ،بہت سی محفلوں میں مست کا ذکر چھیڑ کر ان کی باتیں نوٹ کرتا رہا ۔لوگ دلچسپ ہیں۔ جب کچھ سال بعد پھر یہی لوگ ملتے ہیں تو مست کی کتاب کا پوچھ کر فوراً اپنا پسندیدہ سوال پوچھتے ہیں :”اتنے عرصے سے لگے ہوئے ہو ،مست سے کوئی یاری،کوئی ملاقات ، کوئی خواب کوئی نزدیکی،کوئی کرامت ملی “؟۔ ……..قبائل بہت پاک ہوتے ہیں۔

Check Also

feb-17 front title small

سوفی ئے دنیا ۔۔۔ جونسن گارڈ؍ عبداللہ شوہازؔ

۱: باغِ عدن ۔۔۔الّم یک نہ یک جاہے آ چہ بہ ہچا چیزے جوڑ بوتگ۔۔۔ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *