Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » محنت کی تہذیب ۔۔۔ وحید زہیر

محنت کی تہذیب ۔۔۔ وحید زہیر

جب خوف ہی آستانہ ہو ۔ظلم ٹھکانہ ہو ۔معصومیت ہر محا ذ پر نشانہ ہو ،ادب ادیب اور کتا ب بے معنیٰ ہو ،زندگی کا ایک ہی مقصد ہر گھڑی آزما نا ہو اور سب کاکام کا ندھوں پر لا ش اٹھا نا ہو روزکا معمول ہسپتالو ں میں کسی نہ کسی طور آنا جانا ہو ایسے میں محنت کی تہذیب کی بات عجیب لگتی ہے کیو نکہ محنت کا تعلق ہر اس کام سے ہے جو اپنی اور دوسر وں کی زندگی کی خو شحالی اور تر قی سے وابستہ ہو مزدور پیشہ افراد کے ساتھ محنت اس لئے جچتا ہے کہ وہ خون پسینہ بہا تا ہے لیکن اب یو م مئی پر اسکا احتجاج اور اس دن کو معتبر حوالے کے طور پر منا نے میں اس کا حصہ کم نظر آتا ہے با قی اسکے نام پر جلوس بھی نکلتے ہیں اسکی دادرسی کیلئے بھر پور انداز میں دہا ئی بھی ہو تی ہے مگر اس دن کے فلسفہ سے نہ تو وہ خود واقف ہیں اور نہ ہی یہ دن منا نے والے۔ ما ضی میں مز دور سب سے طا قتور طبقہ خیال کیا جا تا تھا اسکے با وجود کے اسکے مالی مسا ئل بے شمار تھے ان کے رہنما بھی انہی میں سے ہو تے تھے بعد میں ملکی سیا ست کی ہوا اس طبقے کو ایسی لگی کہ اسکی رہنما ئی کر نے والے مر اعات کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے پا رلیما نی لیڈروں کے یا سیا سی پا رٹیوں کے مزدور ونگ کے سر براہ بن کر خو د ہی مز دوروں کے استحصال کے مر تکب ٹہرے بس کیا تھا اس کے بعد تو مزدور سیا ست کا جنازہ اٹھنے لگا۔ فا ئیو اسٹار ہو ٹلو ں میں یو م مئی منانے اور مزدور سے یکجہتی کے سیمینار منعقد کرنے کا رواج عام ہواپارلیما نی لیڈروں میں وہ جا گیردار ،سر مایہ دار ،سا ہو کا ر جو مز دور کا ضد تھے وہ ان کے استحصالی ہمدرد بنے ،گھوسٹ ملا زمین ،کام چور اور بد عنوانی کے مر تکب افراد انقلا ب کے نعرے یو ں لگانے لگے جس طرح ہر پارٹی میں بے روز گار اور جیالے جی بھر کے لگا تے ہیں جوکہ روزگار پانے اور اچھی پو سٹنگ کیلئے پارٹی بدلنے کو عار محسوس نہیں کر تے۔ چند دیو انے سرپھر ے ابھی تک خشک روٹی گلے میں ڈا ل کر پر یس کلبوں کے سامنے فر یاد کر تے ہو ئے ملتے ہیں باقی بر یکنگ نیوز تک محدود رہتے ہیں مثلاً مالک اور ما لکن کی چوری کے الزام میں معصو م ملازم پر تشدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اسی روز ہی معاملہ رفع دفع ،تنگ دستی سے تنگ آکر عورت کی بچوں سمیت دریا میں چھلا نگ لگا کر خودکشی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر لمبی خامو شی۔ ایجنٹ کے ذریعے بیرون ملک روزگار کی تلا ش میں جانے والے نو جوانوں کی کشتی ڈوب گئی کسی کے بچنے کی امید نہیں ۔۔۔۔۔۔مکمل بے حسی ،کر اچی کے ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے دو سو افراد جھلس کر مرگئے ۔۔۔۔۔۔۔چند اخبا ری بیا نا ت ۔۔۔۔۔۔امدادی معا وضہ کا مطا لبہ اور پھر یہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔۔
تھا ارادہ تیری فریا د کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت تیر ا چا ہنے والا نکلا
ہما رے ہاں مز دور سیا ست اس ادھو ری فلم کی طر ح آدھے میں رک گیا ہے جس کا ہیرو پچاس فیصد کام مکمل ہو نے پر انتقال کر جاتا ہے محنت کی تہذیب کو سمجھنے کیلئے پہلے خود تہذیب یا فتہ ہو نا ہو گا مزدور جب مزدور کا خوداستحصال نہیں کر ے گا یا وہ خود اپنے استحصال میں شر یک جرم نہیں ٹہرے گا تب اسے اسکا جا ئز مقام پانے میں آسانی ہو گی شکا گو کے مزدوروں نے جو قربانی دی اس ما حول میں اسکا تصو ر بھی نہیں کیا جا سکتا زرا مزدوروں سے کوئی سوال کرے کہ انکا ووٹ کس کو پڑتا ہے وہ قبا ئلی اور ذات برادری کے چنگل سے کس قدر آزاد ہیں کیا وہ جعلی اشیا ء بنانے والے فیکڑیو ں میں کام نہیں کر رہے ہیں اور استحصالی طبقے کی پردہ پو شی نہیں کر رہے وہ مذہبی منا فر ت پھیلانے والوں سے تعلق نہیں رکھتے کیا ایک یکم مئی کے فو ٹو سیشن اور چند جذباتی تقا ریر اور پر یس ریلیز کا کفارہ پورے سال ادا کرنا پڑتا ہے کیا انکے صفو ں میں وہ لوگ موجود نہیں جو محنت کی عظمت کے نام پر دھبہ خیال کئے جاتے ہو ں اور اپنے دل پر ہا تھ رکھ کر خدا کو حا ضر و نا ظر جان کر جو اب دیں کہ کیا انکی اکثر یت اس استحصالی نظام کا کسی نہ کسی طرح حصہ نہیں ہیں جن اداروں اور تنظیموں سے انکا تعلق ہے وہاں وہ کسی مثالی تبد یلی میں کو ئی کامیابی حا صل کر چکے ہیں کہاں ہیں وہ محکمہ ریلو ے اور اسکے مزدور ملا زم اور انکی کمٹمنٹ ،کہاں ہیں وہ واپڈاکے ملازم اور مختلف محکموں کے بیلدار فیکٹریوں کے مزدورپیشہ ور ملازمین جو ملکی سطح پر استحصالی نظام کے خلا ف بر سر پیکار تھے افسوس کا مقام ہے کہ سمگلروں ،ہیروئن فروشوں اور اسلحہ کے تا جروں کے ہا ں کام کرنے والے اغواء کا روں ،ڈاکو ؤ ں کی رفا قت حا صل کر نے یا سرما یہ داروں اور ٹھا کروں کے گن مین بننے کے بعد خود کو غیر محفوظ سمجھنے اور اس تعلق پر فخر کرنے کو منز ل مقصود سمجھنا ہی ہماری سمجھداری ٹہری ما لکان کے بیٹوں کے قتل کے جرم کو اپنے سر لینا وفاداری ٹہری سر کا ری ملا زمت کو وظیفہ خواری میں تبدیل کر کے آدھا انسان ہو نے پر شکر بجا لا نا ذمہ داری ٹہری اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے بعد ریلو ے کے محنت کش قلی اور اسٹیشن کے کتے کسی سا ئے میں اپنے اپنے منہ پر چمٹی مکھیوں سے کھیلنے میں مصروف نظر آئے تا نگے با نوں کے گھو ڑے سواری اور چارہ نہ ملنے پر ایک ایک کر کے مرنے لگے معمولی تنخواہ پر گھروں بنگلوں ،نجی اداروں اور دکانوں پر گا رڈ بن کر پہرہ دینے لگے اس طرح سفید پوش چھوٹے بڑے چوروں اور ڈاکوں میں اضافہ ہوا موجودہ نظام کی کمزوریوں پر بیماری کے طا قتور جر اثیم نے ایسا حملہ کیا کہ کروڑوں کے اس ہجوم کا زیا دہ وقت ہسپتالو ں اور ڈاکڑوں کے چکر میں گزرتا ہے باقی اوقات ادویا ت کیلئے بھیک ما نگنے میں گزر جا تا ہے یہ با ت درست ہے جس قوم کے پاس محنت کا ورثہ نہیں محنت کی تہذیب نہیں اسکا کوئی قومی ورثہ نہیں اسکی کو ئی تہذیب نہیں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا اس ملک میں اسکی جڑیں تھیں اگر تھیں تو یہ بد تہذیبی کیوں ،بو ڑھے بزرگ کہتے ہیں کہ انگر یز کی غلا می ایک لعنت تھی مگر اس غلامی کے دوران ہم نے وقت کی پا بندی سیکھی جھو ٹ سے نفرت سیکھی قانو ن شکنی کو ایک بہت بڑے جرم کے طور پر جا نا پو رے کو ئٹہ شہر میں ایک ٹر یفک سا رجنٹ کا رعب ودبدبہ دیکھا ریلوے لا ئنیں بچھا نے والو ں کا قتل ہو تے نہیں دیکھا کام چوروں اور ڈاکو ؤں سے یا رانہ ایک گالی تھی انگر یز وں کے جانے کے ساتھ ہی بدتہذیبی کا آغاز ہو اآزادی کے نام پر قا ئم ملک میں آزادی کی روح کے منافی وہ سارے کام ہو نے لگے جو با عث ندامت خیال کئے جا تے ہیں جا بر حکمرانوں کے کر تو توں کے سامنے انگر یز حکمران فر شتہ صفت ثا بت ہو ئے اب چونکہ آزمائے ہو ئے نظام مز ید آزمائے نہیں جا سکتے تھے لہذا سو شلزم کے حا میوں نے انسان کی عظمت میں جدیددینا وی معا ملا ت سے پیداہونے والے کج روی کو ختم کرنے کیلئے تگ ودو شروع کی یہاں فیض احمد فیض ،گل خان نصیر ،حبیب جا لب میر عبداللہ جان جما لدینی ،قلندر مو مند و باز دیگر رہنما ؤ ں نے طبقاتی فرق کو مٹانے اور تر قی کی رائیں کھو لنے کی جدوجہد شروع کی ہیروئن کا چا ٹا بھلا چینی کیوں چا ٹتا ان رہنما ؤں ،دانشوروں اور انسا نیت کی بھلا ئی میں جتے ہمدردوں کیخلاف وہی ابو جہلا نہ پر وپگینڈے ،غلط بیا نی اور قید و بند کی صعو بتیں ،بہر حال یہیں سے محنت کی تہذیب کا جنازہ اٹھا ۔مدارس کے علماء اسٹار وار کاحصہ بنے با کل جیسے کیسی دیو قامت بدمعاش کے ساتھ اس کا بالشت بھر مداری سینہ پھلا کے چلتا ہے خیراب وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ لڑائی کسی اور کی تھی جیت بھی کسی اور کی ہوئی ہماری سر زمین اور ہم لا نچنگ پیڈ کے طور پر استعما ل ہو ئے آج ہم ٹا رگٹ بھی ہیں اور ٹا رگٹ کلر بھی ہیں ایان علی کی طر ح دولت رکھتے ہیں۔جیل بھی کا ٹتے ہیں صو لت مرزا کی طرح قتل بھی کر تے ہیں اور اسکابر ملا اعتراف بھی کر تے ہیں ۔
مضمحل ہو گئے قو ی غالب
اب عنا صر میں اعتدال کہاں
حکومت کے پاس با عزت روزگار دلا نے کیلئے کچھ بھی نہیں بم دھماکو ں میں مر نے پر ہر روز لا کھوں روپے امداد کا اعلا ن کرتی ہے اب تو یہ عالم ہے دس بر ائیاں رکھنے والے شخص کے مقابلے میں پا نچ بر ائیا ں رکھنے والا شخص غنیمت ہے دوسومز دوروں کے کسی فیکٹری میں جل کر راکھ ہو نا ایک بر یکنگ نیوز کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔بنسریڈنے کہا تھا کہ ہم بستر میں ہنستے ہیں ،بستر ہی میں روتے ہیں ،بستر میں جنم لیتے ہیں اوربستر ہی میں مر تے ہیں ہمارے ہاں اس کا الٹ ہے ہم ہجوم میں پیدا ہو تے ہیں ہجوم میں گر تے ہیں ہجوم میں اٹھتے ہیں اور ہجوم میں مر تے ہیں ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *