Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » ماں ۔۔۔ میکسم گورکی

ماں ۔۔۔ میکسم گورکی

آئیے ہم عورت کی۔ ۔۔ماں کی، فاتحِ کل زندگی کے سر چشمے کی تعریف میں اپنی آ وازیں بلند کریں !
یہ تیمور لنگ، لنگڑے چیتے ، کی داستان ہے، یہی صاحب قراں ، خوش قسمت فاتح کی داستان ہے، یہ داستان ہے تیمور لین کی، جیسا کہ کافر اُسے کہتے تھے،اُس شخص کی جو تمام دنیا کی تخریب پر تلا ہوا تھا۔
پچاس سا ل تک وہ دھرتی کو کچلتا رہا ، اس کی آ ہنی ایڑی شہروں اور ریاستوں کو اس طرح مسلتی رہی جیسا ایک ہاتھی کا پاؤں چیونٹیوں کے گھر وندوں کو مسل ڈالتا ہے۔ وہ جہاں کہیں سے گزرتا اس کے پیچھے خون کی سرخ ندیاں بہنے لگتی تھیں۔ اس نے مفتوحوں کی ہڈیوں سے اونچے اونچے مینار تعمیر کئے۔ا س نے زندگی کی تخریب کی، اسے تباہ کیا اور اپنی طاقت کو موت کی طاقت کے مقابلے میں لایا کیونکہ وہ اپنے بیٹے جہاں نگیر کی موت کا انتقام لے رہا تھا ۔وہ خوفناک آ دمی چاہتا تھا کہ موت کو اس کے تمام مال غنیمت سے محروم کر دے تاکہ وہ بھوک اور مایوسی کا شکار ہو کر ختم ہو جائے !۔
اس دن سے لے کر جب اس کا بیٹا جہانگیر مرا تھا اور سمرقند کے لوگ خبیث جیتی قوم کے فاتح کے حضور میں سیاہ اور ہلکے نیلے لباسوں میں ملبوس اپنے سروں پر خاک اور راکھ ڈالے ہوئے آئے تھے اس گھڑی تک جب تیس سال بعد اوترار میں آ خر کارمو ت نے اس پر غلبہ پا لیا تھا، تیمور ایک دفعہ بھی نہیں مسکرایا۔ وہ تیس سال تک اسی طرح ہونٹ بھینچے ، اپنے دل کے دروازے عفو اور ترحم کے لئے بند کیے اور سر کو کبھی بھی جھکائے بغیر زندہ رہا !۔
آئیے ہم عورت کی، ماں کی، شان میں گیت گائیں ، اُس واحد قوت کی شان میں جس کے سامنے موت عاجزی سے سر جھکا دیتی ہے۔ یہاں ماں کے متعلق سچ سچ بات بتائی جائے گی کہ موت کا خادم اور غلام ، سنگ دل تیمور لنگ ، وہ دنیا کے واسطے ایک بلائے بے درماں ، کس طرح ماں کے سامنے جھک گیا۔
یہ واقعہ اس طرح پیش آ یا: تیمور لنگ گلاب اور چنبیلی کے بادلوں سے ڈھکی ہوئی دلفریب کانی گوالا وادی میں مصروفِ جشن تھا جسے سمر قندی شاعروں نے ’’ وادی گل ‘‘ کا نام دے رکھا تھا اور جہاں سے عظیم الشان شہر کے نیلے مینا ر اور مسجدوں کے نیلے گیند نظر آ تے تھے ۔
وادی میں پندرہ ہزار گول خیمے پندرہ ہزار گل ہا ئے لالہ کی طرح پنکھے کی شکل میں پھیلے ہوئے تھے اور ہر خیمے پر سینکڑوں ریشمی مخروطی جھنڈے ہوا میں لہرا رہے تھے ۔
اور ان کے بیچوں بیچ گورگان تیمور کا خیمہ نصب تھا جس طرح ایک ملکہ اپنے خدم اور حشم کے درمیان کھڑی ہو ۔ یہ خیمہ چو گوشیہ تھا، اس کی لمبائی اور چوڑائی ایک ایک سو قدم تھی اور وہ تین نیزے بلند تھا۔ اس کے مرکز میں بارہ سونے کے ستون سہارے کے لیے کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک ایک انسان برابر موٹا تھا۔ اوپرکی طرف ایک ہلکے نیلے رنگ کا قبہ تھا اور خیمے کی دیواریں سیاہ، زرد اور نیلی دہاریوں والے ریشم کی تھیں ۔ پانچ سو ارغوانی رنگ کی ڈوریاں اسے مضبوطی سے زمین سے باندھے ہوئی تھیں تاکہ وہ اڑ کر آ سمان تک نہ پہنچ جائے ۔ چار نقرئی عقاب اس کے چاروں بیچ کونوں پر ایستادہ تھے اور قبے کے نیچے خیمے کے بیچوں ایک تخت کے اوپر پانچواں عقاب بیٹھا ہوا تھا۔ شاہوں کا شاہ ، ناقابل تسخیر تیمور گورگان ۔
وہ ایک آ سمانی رنگ کے ڈھیلے ڈھالے ریشمی جبے میں ملبوس تھا جس پر موتی ٹکے ہوئے تھے۔ پانچ ہزار بڑے بڑے سچے موتی ۔ اس کی پرہیبت ، سفید سر پر ایک سفید چھجے دا ر ٹوپی رکھی ہوئی تھی اور اس کے سرے پر جڑا ہوا لعل ایک دنیا کا معائنہ کرنے والی خون کی سی سرخ آ نکھ کی مانند ادھر ادھر ہل رہا تھا۔
تیمورلنگ کا چہرہ ایک چوڑے پھل والے چاقو سے مشابہہ تھا جسے اس خون نے زنگ آ لود کر دیا ہوجس میں وہ بارہا ڈوب چکا تھا۔ اس کی تنگ آ نکھیں بہت تیز تھیں جو ہر چیز کو فوراََ دیکھ لیتی تھیں اور ان کی چمک عربوں کے محبوب پتھر زمرد کی سرد چمک کی مانند تھی جو مرگی کے مرض کو دور کر سکتا ہے اور جسے کافر ایمیرالڈ کہتے ہیں ۔ اور اس کے کانوں میں لنکا کے لعلوں کے آ ویزے لٹکے ہوئے تھے جن کا رنگ ایک دلکش اور حسین دوشیزہ کے لب لعلیں سے ملتا جلتا تھا۔
خیمے کے فرش پر بے نظیر،حسین غالیچوں کے اوپر شراب اور ہر اس چیز سے بھرے ہوئے جو شاہوں کے شایان شان ہے، طلائی جام و مینا ر رکھے ہوئے تھے ۔ تیمور کے پیچھے ساز ندے اور موسیقار بیٹھے ہوئے تھے اور اس کے پہلو بہ ہلو کوئی نہیں تھا اور اس کے قدموں کے نزدیک اس کے رشتہ دار ، بادشاہ ، شاہزادے اور سردار بیٹھے تھے اور شاعر کرمانی اس سے سب سے زیادہ قریب بیٹھا تھا ، یہ وہی شاعرتھا جس نے اس غارت گر عالم کے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کرمانی ، اگر مجھے بیچا جائے تو تم مجھے کس قیمت پر خریدو گے؟ ‘‘ جواب دیا تھا ’’پچیس آ سکر میں ۔ ‘ ‘
’’لیکن میری توفقط ایک پیٹی ہی اس قیمت کی ہے! ‘‘ تیمور حیرت سے چلایا ۔
’’میں صرف تمہاری پیٹی ہی کے متعلق سوچ رہا تھا ‘‘ کرمانی نے جواب دیا ’’ صرف پیٹی کے متعلق ، خود تمہاری قیمت تو ایک پیسہ بھر بھی نہیں ہے ۔‘‘
شاعر کرمانی شاہوں کے شاہ سے، اس مجسمہ ہیبت اور شیطنت ور چیطنت سے ، اس طرح بات چیت کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے لئے شاعر کی، صداقت کے دوست کی عظمت و شان تیمور لنگ کی عظمت و شان سے زیادہ سرفراز اور بلند رہے گی ۔
آ ئیے شاعروں کی شان میں قصیدے پڑھیں جو فقط ایک خدا کو۔۔۔۔۔۔۔ ’’صداقت‘‘ کے بے خوفی اور خوبصورتی سے ادا کئے ہوئے لفظ کو ۔ ۔۔۔۔۔۔جانتے ہیں ۔ صداقت ہی ان کا دیوتا ہے ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے !
سو رنگ رلیوں اور جشن و ضیافت کی اس گھڑی میں جب جنگوں اور فتوحات کی پر فخر یادیں اپنے عروج پر پہنچی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلند بانگ موسیقی کے درمیان ، اوران مختلف عوامی کھیلوں کے دوران میں جو بادشاہ کے خیمے کے سامنے کھیلے جا رہے تھے ، جہاں ان گنت، طرح طرح کے مسخرے اچھل کو دکر رہے تھے ، پہلوان کشتی میں مصروف تھے ، کرتب کرنے والے اپنے جسموں کو اس طرح توڑ مروڑ رہے تھے جیسے ان کے بدن میں قتل ہڈی کا نام بھی نہ ہو، سپاہی پٹہ بازی کر کرکے قتل و خون کے فن میں اپنی بے نظیر مہارت کا مظاہرہ کر رہے تھے ور ان لال سبز رنگے ہوئے ہاتھیوں کے کرتب دکھائے جا رہے تھے جن میں سے بعض خوفناک معلوم ہو رہے تھے اور بعض مضحکہ خیز ۔ جب تیمور کے پاہی اور مصاحب تیمور کے ڈر، اس کی عظمت و شان کے فخر، فتو حات کی تھکن اور شراب اور کو میس سے معمور اور مخمور رنگ رلیاں منا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اس مجنو نانہ گھڑی ایک عورت کی آ واز ایک مادہِ شاہین کی پر غرور پکار بادلوں کے پیچھے سے یکبارگی چمک جانے والی بجلی کی طرح اس شورو غل کو چیرتی ہوئی خود سلطان بایزید کے فاتح کے کانوں تک پہنچی ۔ اس آ وا ز سے اس کے کان آ شنا تھے اور یہ اس کی زخمی روح سے ہم آ ہنگ تھی ، اس روح سے جسے موت نے زخمی کر دیا تھا اور جو اسی وجہ سے زندہ انسانوں کے لئے رحم نا آ شنا تھی۔
اس نے اپنے آ دمیوں کو حکم دیا کہ جا کر دیکھیں کہ کون ہے جو اس قدر بے مسرت آ واز میں چلایا ہے۔ اور اسے بتایا گیا کہ ایک عورت ، ایک چیتھڑے لگائے اور گرد میں اٹی ہوئی پاگل مخلوق ،عربوں کی زبان بولتی ہوئی آ ئی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے ، ہاں مطالبہ کر رہی ہے، کہ اُسے بادشاہ کے پاس، دنیا کے تین اہم ترین حصوں کے فرماں روا کے پاس، لایاجائے ۔
’’اسے یہاں لاؤ!‘‘ بادشاہ نے کہا ۔
چنانچہ ایک عورت اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ وہ ننگے پاؤں تھی اور اس کے تار تار لباس کا دھوپ میں بالکل رنگ اڑ چکا تھا۔ اس کی سیاہ لٹیں کھلی ہوئی تھیں اور اس کے عریاں سینے کو ڈھانپے ہوئے تھیں۔ اس کے چہرے کا رنگ تانبے کا سا تھا، اس کی آ نکھوں میں تحکمانہ جھلک تھی اور اس کا تیمور لنگ کی طرف بڑھا ہوا سیاہ ہاتھ کانپ نہیں رہا تھا۔
’’کیاتم ہی نے سلطان بایزید کو مغلوب کیا ہے ؟‘‘ اس دریافت کیا ۔
’’ہاں ، میں نے اُسے اور اس کے علاوہ اور بہتیروں کو مغلوب کیا ہے اور میں ابھی فتوحات سے تھکا نہیں ہوں ۔ اور اے عورت ، تم اپنے متعلق کیا کہتی ہو؟‘‘
’’میری بات سنو!‘‘ اس نے کہا ’’تم نے جو کچھ بھی کیاہو مگر بہرحال تم انسان ہو۔ میں ماں ہوں ، تم موت کی خدمت کرتے ہو، میں زندگی کی خدمت کرتی ہوں ۔ تم میرے گناہ گار ہو اور اسی لئے میں تمہارے پاس اس گناہ کے کفارے کا مطالبہ کرنے کے لئے آ ئی ہوں ۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم ’’قوت انصاف میں مضمر ہے‘‘ پر عامل ہو ۔ مجھے اس کا یقین نہیں ہے۔ لیکن میرے ساتھ تمہیں عدل کر ناچاہیے کیونکہ میں ماں ہوں۔‘‘
بادشاہ میں اتنی عقل تھی کہ ان بے باک لفظوں میں مضمر طاقت کو محسوس کر سکے ۔
’’بیٹھ جاؤا ور پھر بات کرو ، میں تمہاری بات سننا چاہتا ہوں ۔‘‘
وہ قریب قریب بیٹھے ہوئے بادشاہوں کے حلقے میں آ رام سے غالیچے پر بیٹھ گئی اور اس نے اپنی داستان اس طرح شروع کی:
’’میں سالیر نو کے علاقے کے رہنے والی ہوں جو دور اٹلی میں ہے۔ تم ان جگہوں کو نہیں جانتے ہو! میرا باپ مچھیرا تھا اور میرا شوہر مچھیراتھا اور وہ اتنا خوبصورت تھا جتنے خوش و خرم انسان ہی ہوسکتے ہیں اور اس کو خوشی اور مسرت دینے والی میں تھی۔ میرے ایک بیٹا بھی تھا، دنیا کا حسین ترین بچہ ۔۔۔‘‘
’’میرے جہانگیر کی طرح ‘‘ بوڑھا سپاہی زیر لب بولا۔
’’میرے بیٹے جتنا خوبصورت اور عقل مند کو ئی اور ہو نہیں سکتا ! ۔وہ چھ سال کا تھا جب ساسانی سمندری لٹیرے ہمارے ساحل پر آ دھمکے ۔ انہوں نے میرے باپ اور شوہر کو قتل کر دیا اور اسی طرح اور بہت سوں کو جان سے مار ڈالا اور میرے بچے کو اٹھا کر لے گئے اور اب میں چار سال سے اس کی تلاش میں زمین کا کونہ کونہ چھان رہی ہوں ۔ اس وقت وہ تمہارے پاس ہے۔ مجھے یہ بات معلوم ہے کیونکہ بایزید کے آ دمیوں نے سمندری لٹیروں کو پکڑا تھا اور اب تم نے بایزید کو ہرا کے اس کے تمام مال متاع پر قبضہ کر لیا ہے۔تمہیں ضرور معلوم ہو گا کہ میرا بیٹا کہاں ہے اور تمہیں اس کو مجھے واپس دینا چاہیے !‘‘۔
ہر شخص ہنسنے لگا اور بادشاہ جو اپنے کو ہمیشہ عقل مند سمجھتے ہیں ، بولے:
’’یہ عورت پاگل ہے!‘‘ بادشاہوں نے کہا اور تیمور کے دوستوں اور شاہزادوں ، سرداروں سب نے یہی کہا اور سب ہنسنے لگے ۔
صرف کرمانی سنجیدگی سے اور تیمورلنگ بہت ہی زیادہ حیرت سے اُسے دیکھتا رہا ۔
’’یہ پاگل ہے جیسے ایک ماں پاگل ہوتی ہے ۔‘‘شرابی شاعر کرمانی نے دھیرے سے کہا ۔ اور بادشاہ نے۔۔۔ اس دشمنِ امن نے۔۔۔ کہا:
’’اے عورت تو اس اجنبی سر زمین سے، سمندروں اور دریاؤں پہاڑوں اور جنگلوں کو عبور کر کے کس طرح یہاں تک پہنچی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ درندوں اور انسانوں نے۔ ۔۔جو اکثر اوقات انتہائی وحشی درندوں سے بھی زیادہ وحشی ہوتے ہیں۔۔ ۔ تجھ سے تغرض نہیں کیا اور تو بغیر کسی ہتھیار کے۔۔۔ جو بے بسوں اور مجبوروں کا واحد سہارا ہوتا ہے اور جو آ دمی کا اُس وقت تک ساتھ دیتا ہے جب تک کہ اس کے دم میں دم اور ہتھیار پکڑنے کی طاقت ہے۔۔۔ تو ایسے کسی ہتھیار کے بغیر تن تنہا پھرتی رہی؟ ۔ مجھے یہ سب معلوم ہونا چاہیے تاکہ میں تیری بات کا یقین کر سکوں اور تاکہ میرا تعجب اور تحیر میرے لئے تیری بات کو سمجھنے میں حارج نہ ہو!‘‘۔
آ ئیے ہم عورت کی، ماں کی شان میں ترانے گائیں جس کی محبت کسی رکاوٹ سے آ شنا نہیں ہے، جس کے سینے نے پوری دنیا کو پالا پوسا ہے ، پروان چڑھایا ہے۔ انسان میں جو بھی خوبصورت خصوصیات ہیں وہ سورج کی شعاعوں اور اس کی ماں کے دودھ کا عطیہ ہیں ۔ یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اندر زندگی کی محبت پیدا کرتی ہے!
’’اپنے سفرکے دوران میں نے فقط ایک سمندر دیکھا‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اس میں بہت سے جزیرے اور مچھلی پکڑنے والی کشتیاں تھیں ، اور جب آ دمی اپنے کسی پیارے کی تلاش میں نکلتا ہے تو ہوا ہمیشہ اس کے موافق ہوتی ہے ۔ اور ایک ایسے شخص کے لئے جو ساحلِ سمندر پر پلا بڑھا ہو دریاؤں کو تیر کر پار کرنا کوئی بڑا کٹھن کام نہیں ہے ۔ رہے پہاڑ؟ سو میں نے غور نہیں کیا کہ پہاڑ تھے یا نہیں ۔‘‘
اور مخمور کرمانی نے خوش دلی سے کہا:
’’محبت کرنے والی ہستی کے لئے پہاڑ وادی بن جاتے ہیں !‘‘
’’ہاں جنگل ضرور تھے ۔ مجھے راستے میں جنگلی سور ، بن بلاؤ ، ریچھ ، اور خوفناک بیل ملے جو اپنے سر جھکائے ہوئے تھے اور دو دفعہ چیتوں نے مجھے تیری ہی جیسی آ نکھوں سے گھور ا۔ لیکن ہر جانور کے دل ہوتا ہے اور میں نے جانوروں سے اسی طرح بات کی جس طرح میں تم سے کر رہی ہوں۔ اور جب میں نے ان سے کہا کہ میں ماں ہوں تو انہوں نے میری بات کا یقین کر لیا اور وہ آ ہیں بھرتے ہوئے اپنی اپنی راہ چل دیے، کیونکہ انہیں مجھ پر ترس آ رہا تھا ۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ درندے بھی اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ ان کی جانوں اورآ زادی کے لئے لڑنے میں انسانوں سے کم ماہر نہیں ہیں ؟‘‘
’’اے عورت تم نے بہت خوب کہا!‘‘ تیمور بولا ’’اور یہ میں جانتا ہوں کہ درندے انسانوں سے زیادہ پر زور محبت کرتے ہیں اور اُن سے زیادہ ثابت قدمی سے لڑتے ہیں !‘‘
’’انسان ‘‘ اس نے ایک بچے کی طرح کہنا شروع کیا ، کیونکہ ہر ماں دل میں سو بار بچہ ہے۔ ’’انسان اپنی ماؤں کے لئے ہمیشہ بچے ہی رہتے ہیں ، کیونکہ ہر انسان کی ایک ماں ہوتی ہے، اور ہر انسان کسی ماں کا جگر گوشہ ہوتا ہے اور اے بوڑھے شخص ، خود تونے بھی عورت کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔ تو خدا کی ذات سے انکار کر سکتا ہے لیکن اس حقیقت سے کبھی نہیں کر سکتا !‘‘
’’خوب کہا ، اے عورت !‘‘ بے خوف شاعر کرمانی چلایا ۔ ’’خوب کہا! بیلوں کے ریوڑ سے بچھڑے نہیں پیدا ہو سکتے ، سورج کے بغیر پھول نہیں کھل سکتے ، محبت کے بغیر مسرت ناممکن ہے، عورت کے بغیر محبت کا وجود نہیں ہو سکتا اور ماؤں کے بغیر نہ شاعر ہوسکتے ہیں نہ سورما!‘‘
اور عورت بولی :’’مجھے میر ابچہ دے دو کیونکہ میں اس کی ماں ہوں اور میں اس سے محبت کرتی ہوں !‘‘
آ ئیے ہم عورت کے سامنے سر جھکائیں ۔۔۔ اس نے موسی ؑ کو جنم دیا اور محمدؐ کو جنم دیا اور عیسیؑ کو جنم دیا۔۔۔ اس عظیم المرتبت پیغمبر کو جنہیں بدطنیت لوگوں نے جان سے مار ڈالا تھا مگر جن کا ، شریف الدین کے قول کے مطابق ، ایک دفعہ پھر ظہور ہوگا اور وہ مُردوں اور زندوں سب کو وہ جزا و سزا دیں گے جس کے وہ مستحق ہیں اور یہ دمشق میں ہوگا ، دمشق میں !
آ ئیے ہم اس کے سامنے جھک جائیں جو ان تھک عظیم انسانوں کو جنم دیتی رہتی ہے! ۔ارسطو اس کا بیٹا ہے اور فردوسی اور شہد کی مانند شیریں سعدی اور عمر خیام ۔ وہ زہر ملی ہوئی شراب کی مانند شخص ۔۔۔ اور سکندر اور نابینا ہومر۔۔۔ یہ سب اس کے بچے ہیں ، سب نے اس کا دودھ پیا ہے اور وہ ان سب کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر ، دنیا میں لائی ہے جب وہ گلہائے لالہ جتنے ننھے منے تھے ۔ دنیا کا سارا مایہِ فخر ماؤں کی دین ہے!
اور وہ سفید بالوں والا غارت گر عالم ، لنگڑا چیتا تیمور گورگان غوطے میں پڑگیا۔ ایک طویل خاموشی کے بعد وہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے اس طرح مخاطب ہوا:
’’میں تانگری قلی تیمور! میں خدا کا بندہ تیمور وہی کہتا ہوں جو کہنا چاہیے ! ۔میں اس طرح رہ رہا ہوں کہ بہت عرصے سے دھرتی میرے پاؤں تلے دبی ہوئی تکلیف سے کراہ رہی ہے اور تیس سال سے میں اپنے بیٹے جہانگیر کی موت کا انتقام لینے کے لئے ، اس لئے کہ اس نے میرے دل میں آ فتاب زندگی کو غروب کر دیا ہے، اسے تباہ و برباد کر رہاہوں !۔ شہروں اور مملکتوں کی وجہ سے لوگ مجھ سے جنگ آ زما ہوئے ہیں ، لیکن آ ج تک کسی نے انسان کی خاطر مجھ سے جنگ نہیں کی تھی اور کبھی میری نظروں میں انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور میری راہ میں کیوں حائل ہے! ۔وہ میں ، تیمور ، ہی تھا جس نے بایزید کو شکست دینے پر اس سے کہا تھا: ’’ بایزید، معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک ممالک اور انسان کو ئی وقعت اور اہمیت نہیں رکھتے کیوں کہ دیکھ لو وہ ان کو ہم جیسے لوگوں کے قبضے میں آ نے دیتا ہے ۔۔۔ تمہارے جو کہ کانے ہو اور میرے جو لنگڑا ہوں !۔ میں نے اُس وقت اس سے اس طرح خطاب کیا تھا جب وہ پابہ زنجیر میرے سامنے لایا گیاتھا اور ان کے بوجھ کے نیچے اُس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا، اس وقت بایزید کو،جس پر تب برا وقت آ ن پڑا تھا، تکتے ہوئے میں نے اس سے یہ بات کہی تھی اور اس وقت میرے لئے زندگی کڑوی جڑی بوٹی کی طرح ، کھنڈروں پر اگے ہوئے خس و خاشاک کی طر ح ، تلخ تھی۔
’’میں خدا کا بندہ تیمور، وہی کہتا ہوں جو کہنا چاہیے ! ۔یہاں میرے روبرو ایک عورت بیٹھی ہے، کروڑوں عورتوں میں سے ایک ، اور اس نے میری روح میں ایک ایسا جذبہ بیدار کر دیا ہے جس سے میں ہمیشہ نا آ شنا رہا ہوں ۔ وہ مجھ سے ایک برابر والے کی طرح بات کر رہی ہے، وہ منت سماجت نہیں کرتی، وہ مطالبہ کرتی ہے۔ اور اب میں دیکھ سکتا ہوں ، اب میں جانتا ہوں کہ یہ عورت اتنی طاقت ور کیوں ہے۔۔۔ یہ محبت کرتی ہے اور محبت نے اسے بتا دیا ہے کہ اس کا بچہ زندگی کی چنگاری ہے جو کئی آ نے والی صدیوں کے لئے ایک شعلہ روشن کر سکتی ہے۔ کیا سب پیغمبر بھی بچے نہیں تھے اور کیا سارے سورما کمزور نہیں تھے ؟ ۔اے جہانگیر، اے میرے نورنظر ، شاید تو بھی زمین کو شعلہ ساماں کرنے کے لئے ، اس میں مسرت کے بیج بونے کے لئے پیدا ہوا تھا اور میں نے ، تیرے باپ نے، اسے خوب اچھی طرح خون سے سینچ ڈالا اور اب وہ زرخیز ہو گئی ہے!‘‘
ایک دفعہ پھر وہ غارت گِر اقوام بہت دیر کے لئے سوچ میں پڑ گیا، پھر آ خر کار اس طر ح بولا :
’’میں ، خدا کا بندہ تیمور ، وہی کہتا ہوں جو کہنا چاہیے!۔۔۔ تین سو گھڑ سوار فوراََ میری مملکت کے چاروں کونوں کی طرف روانہ ہو جائیں گے اور وہ اس عورت کے بیٹے کو تلاش کر کے لائیں گے اور یہ عورت یہاں انتظار کرے گی اور میں اس کے ساتھ انتظار کروں گا۔ جو شخص بچے کو اپنے گھوڑے پر بٹھا ئے ہوئے آ ئے گا اس کا منہ موتیوں سے بھر دیا جائے گا ۔ یہ میں ، تیمور کہہ رہا ہوں ۔ میں نے اچھی باتیں کہیں ہیں ، اے عورت؟‘‘
اس عورت نے اپنے سیاہ بال ایک جھٹکے کے ساتھ اپنے چہرے پر سے ہٹا دیے، بادشاہ کی طرف دیکھ کے مسکرائی اور جواب دیا:
’’ہاں ، بادشاہ !‘‘
تب وہ خوفناک بوڑھا آ دمی خاموشی سے اٹھا اور اس کے سامنے جھک گیا اور خوش دل کرمانی باغ باغ ہو کر کہنے لگا:
نغمہِ گل سے اورستاروں کے گیت سے زیادہ
سندر چیز کیا ہے؟
سب لوگ فوراََ جواب دیتے ہیں ۔۔۔ نغمہ محبت!
ماہ مئی کی دوپہر کے سورج سے زیادہ
حسین شے اور کیا ہے؟
عاشق جواب دیتا ہے : وہ جس سے مجھے پریم ہے!
آ دھی رات کے آ سمان پر تا بندہ ستارے بہت
حسین ہیں ،
اور گرمی کی دوپہر کی دھوپ بھی اسی
قدر حسین ،
لیکن محبوب کی آ نکھیں سارے پھولوں سے
زیادہ سندر ہیں ،
اور اس کی مسکراہٹ سورج کی کرنوں سے
زیادہ ملائم اور لطیف۔
لیکن سب سے زیادہ حسین گیت ابھی گایا
نہیں گیا۔
اس دنیا میں ہر شے کے آ غاز اور ابتداء
کا گیت،
دھرتی کے دھڑکتے دل کا گیت، دلوں کے
جادو کا گیت،
اس کی شان میں گیت جسے ہم انسان ماں
کے نام سے یاد کرتے ہیں !
اور تیمور نے اپنے شاعر سے کہا :
’’بہت خوب کرمانی ! خدا نے اپنی عقل و دانائی کی حمد و سرا کرانے کے لئے تیرے لبوں کو منتخب کر کے غلطی نہیں کی!‘‘
’’خدا خود ایک عظیم شاعر ہے!‘‘ مخمور کرمانی بولا ۔
اور عورت مسکرائی اور سارے بادشاہ مسکرائے اور شہزادے اور سردار مسکرائے ، وہ جس وقت اسے۔۔ ۔ ماں کو۔۔ ۔ دیکھ رہے تھے اس وقت وہ سب کے سب بچوں کی طرح ہو گئے تھے۔
یہ سارا واقعہ سچا ہے ۔ یہاں جو کچھ بیان کیا گیا اس کا ایک ایک حرف سچا ہے ۔ ہماری مائیں جانتی ہیں کہ یہ سب کچھ سچی بات ہے ، ا ن سے پوچھو تو وہ تمہیں بتائیں گی:
’’ہاں یہ سب ایک ابدی صداقت ہے۔ ہم موت سے زیادہ طاقت ور ہیں ۔ ہم جو مسلسل دنیا کو عارف اور شاعر اور سورما دیتے رہتے ہیں ، ہم جو انسان کو ہر اس چیز سے سرشار کرتے ہیں جو اُسے عظمت و شان عطا کرتی ہے!‘‘

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *