Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لینن کا نظریہِ جمالیات ۔۔۔ جاوید اختر

لینن کا نظریہِ جمالیات ۔۔۔ جاوید اختر

لینن کے نظریہِ جمالیات پر بحث کرنے سے پہلے یہ طے کرنابہت ہی لازم اور ناگزیرہوگا کہ حسن (Beauty)درحقیقت کیا ہے؟ اور وہ قبح( Ugliness)سے کیوں اور کیوں کر مختلف ہوتاہے؟ اگرکسی عام آدمی سے دریافت کیا جائے کہ حسن کیا ہے ؟تو اس کا جواب غالباً یہی ہوگا کہ حسن تو حسن ہے اور کیا ہے؟۔اسی طرح جب ہم ایک معصوم بچے کوکسی رنگین تتلی کاتعاقب کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،جو اسے پکڑنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے توہم اس سے بے اختیار پوچھتے ہیں کہ وہ تتلی کا تعاقب کیوں کررہا ہے؟تو وہ کہتا ہے کہ وہ اسے پکڑنا چاہتا ہے۔جب ہم اس سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ اسے کیوں پکڑنا چاہتا ہے؟ تو وہ بڑی معصومیت سے ا س سوال کا یہ جواب دیتا ہے کہ وہ تتلی کو اس لیے پکڑنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ اسے بہت اچھی لگتی ہے۔اگراس سے یہ سوال دریافت کیا جائے کہ یہ اسے کیوں اچھی لگتی ہے؟ تواس کا جواب یقیناً یہ ہوگا کہ یہ اسے اس لیے اچھی لگتی ہے کیوں کہ یہ بہت خوب صورت ہے۔
لیکن بچے کے یہ معصوم جواب بظاہر سیدھے سادے ہیں ا ور اپنے اندر ایک طرح کی معصومیت اوربرجستگی لیے ہوئے ہیں ۔ ایک شئے ہمیں کیوں حسین لگتی ہے؟ اس سوال کا جواب کسی بچے یا عام آدمی کے بس کا روگ ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ اس سوال نے تو بڑے بڑے شاعروں،ادیبوں ، فلسفیوں اور دانشوروں کو بھی ہمیشہ پریشان اورسرگرداں کیے رکھا ہے۔اس لیے اس کے بارے میں ایک مرتبہ مشہور فرانسیسی دانشور ناطول فرانس نے کہا تھا:
“مجھے یقین ہے کہ ہم کبھی بھی صحیح طور پر یہ نہیں جان پائیں گے کہ ایک شئے کیوں حسین ہوتی ہے ۔ “(1)
لہذا اس قسم کے سوالات کا تسلی بخش اور منطقی جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں جمالیات سے رجوع کرنا پڑے گا۔کائناتِ رنگ وبومیں حسن سے زیادہ لطیف اور قبح سے زیادہ کثیف کوئی شئے موجود نہیں ہے۔حسن مظاہرِ کائنات کے اجزائے ترکیبی میں حسین و جمیل تناسب و توازن،ترتیب و تنظیم اورتوافق و تطابق کا نام ہے۔حسن مظاہرِ کائنات کی کثرت فی الوحدت اور وحدت فی الکثرت سے وجود پذیر ہوتاہے۔ جب کہ قبح مظاہرِ کائنات کے اجزائے ترکیبی میں مذکورہ عناصر کے فقدان کا نام ہے،جسے ہم کسی طور پر حسن وجمال نہیں کہہ سکتے ہیں۔یونانِ قدیم میں لوگ اس اصول سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔وہ اشیا اور مظاہروظواہر میں تناسب وتوازن، ترتیب وتنظیم اور توافق وتطابق کو ہی حسن وجمال قراردیتے تھے۔زینوفون کی کتاب “Economics”کا ایک کردار کہتا ہے:
“اپنی نوع کے لحاظ سے جب جوتے قطار میں پڑے ہوتے ہیں تو خوب صورت دکھائی دیتے ہیں۔لباس اور بستر پوش جب استعمال کے مطابق منتخب کیے گئے ہوں تو خوب صورت دکھائی دیتے ہیں۔اسی طرح منتخب کیے گئے شیشے کے گل دان اور میز پوش بھی خوب صورت لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پکانے کے برتن ترتیب اور تنظیم میں منظم ہوں تو خوب صورت دکھائی دیتے ہیں۔ہاں تمام چیزیں بلا استثنیٰ تناسب کی وجہ سے بہت خوب صورت لگتی ہیں،جب انہیں ترتیب سے رکھا جائے۔ان تمام چیزوں میں جب ایک تال میل اور مرکز پیدا ہوتا ہے،جو انہیں منظم ومرتب کرتاہے تاکہ یہ حسن وجمال پیدا کریں،جو گروہ میں دیگر اشیا کے فاصلے سے اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ “(2)
کائنات جہاں حسین وجمیل مظاہرِ فطرت سے عبارت ہے،وہاں اس میں بدصورت اور قبیح مظاہرِ فطرت کی بھی کمی نہیں ہے۔مثال کے طور پرنیم روزمیں ایک بے آب وگیاہ اور لق ودق صحر ا میں چلچلاتی ہوئی دھوپ اورغضب ناک گرمی ہوتی ہے،جہاں سبزہ ، سایہ اور پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔وہاں سے گزرتے ہوئے شتربانوں پر مشتمل کاروان کے لیے یہ بالکل بے کشش اور ناگوار ہوتا ہے۔کیوں کہ وہ اس وقت سفر نہیں کرسکتا ہے اور اسے اپنا سفر رات تک موقوف کرنا پڑتا ہے۔لیکن جب رات کے وقت اسی صحرا میں ریت ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور وہاں ماہِ کامل اپنی چاندنی کی اجلی اورسفید چادر تاحدِ نظر بچھادیتا ہے تو صحرا کے ماحول میں روشنی اور خنکی سے ایک تناسب و توازن پیدا ہوجاتا ہے ۔اب وہ جلتے ہوئے لق ودق صحرا کے قبیح اور خوف ناک منظر سے ایک حسین و جمیل منظر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس طرح سے وہ صحراشتربانوں کے کاروان کے مزید سفر کے لیے سازگار ہوجاتا ہے اور وہ سوئے منزل اپنے سفر پر دوبارہ روانہ ہونے کے قابل ہوجاتا ہے۔
کائناتِ رنگ وبو چوں کہ حسن و قبح کے مختلف،متنوع اور متضاد مظاہر کا اجتماع الضدین ہے۔اس لیے اس میں جہاں حسن کے مظاہر بکثرت موجود ہیں،وہاں قبح کے مظاہر کی بھی بہتات ہے۔رنگا رنگ پھول ، قطرہِ شبنم کی چمک،سرسبزوشاداب جنگل،سبزہ زار،کوہ ودمن،بادو باراں ، باغ وراغ،شور مچاتے ہوئے چشمے، آبشار ،نغمہ سنج ندیاں،گنگناتے ہوئے نالے بل کھاتی ہوئی جھیلیں،رواں دواں دریا، وسیع و عریض سمندر،کھلکھلاتا ہواموسمِ بہاراں،صحت وتندرستی،سبزہ زار میں چرتے ہوئے ہرن ،بارہ سنگے ، چہچہاتے ہوئے رنگ برنگے پرندے، رنگین تتلی، جگمگاتا ہوا جگنو، کوئل کی مدہر اور سریلی کوک، بلبل کی دلکش نغمہ سنجی،سیاہ گھنگوربادل،رمم جھم برسات،برف باری ،ہفت رنگ دھنک، سورج ، چاند ستارے، کہکشاں، چاندنی،طلوع وغروبِ آفتاب کے دلکش مناظر، لیل و نہار کی دل فریبیاں،موسموں کا تغیرو تبدل، معصوم بچے کی کل کاریاں اورمتناسب نقوش کی حامل نازک اندام عورتوں کی جلوہ سامانیاں سب کے سب حسن و جمال کے مظاہرِ کائنات ہیں۔ اس کے برعکس مظاہرِکائنات میں لاتعدادانتہائی خوف ناک ،نفرت انگیزاورکریہہ المنظردرندے ، زہرناک گزندے، خاردارجھاڑیاں، موسمِ خزاں،بیماری ،تلخ زائقہ چیزیں،چھپکلی، مینڈک، چمگادڑ،کچھوا،مگرمچھ، سور،گدھا، بچھو ،اژدہا، مورکی ٹانگیں، گدھے کی کریہہ الصوت ہنہناہٹ (صوت الحمیر) ، خوف ناک جانور اور حشرات الارض ،بدصورت انسان قبح واکراہ کے مظاہر ہیں۔
حسن وجمال کے مظاہر میں ایک خاص قسم کی کشش اور دل کشی ہوتی ہے،جو اشیا اور مظاہر میں مادی تناسب،توازن اور ترتیب و تنظیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اشیا اور مظاہرِ کائنات کے اجزائے ترکیبی میں گوناگوں اورمختلف صورتوں،رنگوں،آوازوں ،سروں، سازوں،زائقوں ،نقش ونگار، خدوخال اور حرکات وسکنات کامادی تناسب،توازن اور ترتیب وتنظیم ہی حسن وجمال ہے۔جب کہ کسی چیزکے اجزائے ترکیبی میں اس مادی تناسب وتوازن،ترتیب وتنظیم کی عدم موجودگی اسے حسن وجمال کے دائرے سے خارج کرکے بد صورت اور قبیح بنادیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قبح کے مظاہر میں ایک کراہت و قباحت پائی جاتی ہے،جو ان عناصر کے فقدان کی وجہ سے ہے۔ انسان حسن وقبح کے مظاہروظواہر کو اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔وہ سونگھ کر مختلف قسم کی خوشبواور بدبو میں تمیز کرسکتا ہے۔مختلف قسم کی آوازوں،سروں اور سازوں۱ور بے ہنگم شوروغل کو سن کر ان میں فرق کرسکتا ہے۔اس کی انگلیاں اشیاء کو چھو کر ان کی نرمی وملائمت،کھردرے پن،صلابت اور سختی کو محسوس کرسکتی ہیں۔اس کی آنکھیں رنگ ونور اور ظلمت وتاریکی کو دیکھ سکتی ہیں اور اس کی زبان تلخ،ترش،نمکین اور شیریں ذائقوں کو محسوس کرسکتی ہے۔
اس لیے ایک خوب صورت وادی کے منظر کو دیکھتے ہوئے ہماری نظروں کو ایک فرحت وانبساط محسوس ہوتی ہے۔جب ہم کوئل کی مدہر اور سریلی کوک اور بلبل کی نغمہ سنجی کوسنتے ہیں تو اس کی موسیقیت ہماری سماعت میں رس گھول دیتی ہے۔جب ہم کسی حسین وجمیل رقاصہ کے متحرک سراپے اور اس کے تھرکتے ہوئے اعضائے بدن کو دیکھتے ہیں تو ہم پر ایک خاص وجد وسما ع کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔جب ہم گلاب کو سونگھتے ہیں تو اس کی بھینی بھینی مہک ہماری سانسوں کو معطر کردیتی ہے۔اسی طرح ایک حسین وجمیل عورت کے پرشباب نازک اندام کے لمس اور بوس وکنارسے ہمارے جسم وذہن کو لطف و انبساط محسوس ہوتا ہے۔شہد کو چکھنے سے ہمیں شیرینی اور عذوبت کافرحت بخش شیریں ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔اس لیے یہ سب کے سب مظاہر حسن و جمال کے مظاہر ہیں۔
اس کے برعکس قبح کے مظاہرِ کائنات کے بارے میں ہماراحسی،جذباتی اور عقلی ردِ عمل مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ ایک کریہہ المنظر جنگلی چھپکلی کو دیکھ کر ہمیں کراہت و قباحت کا احساس ہوتا ہے۔جب ہم ایک گدھے کی کریہہ الصوت ہنہناہٹ کو سنتے ہیں تو اس سے ہمیں ایک ناگوار سی سمع خراشی محسوس ہوتی ہے۔غلاظت کے تعفن اورسڑاندسے ہماری سانسوں کو تکلیف دہ احساس ہوتا ہے۔خشک کانٹوں اور جنگلی خاردار جھاڑیوں کو چھونے سے ہمارا ہاتھ زخمی ہوتا ہے اورہنظل کو چکھنے سے ہمیں تلخی کا ناگوارتلخ زائقہ محسوس ہوتاہے۔ایک قبیح المنظر ،قریہہ اصوت اوریبوست مآب عورت کی بے کشش شخصیت کی ہم نشینی سے ہمیں اکتاہٹ ،بے کیفی کا احساس اور ذہنی کوفت محسوس ہوتی ہے۔کیوں کہ یہ سب کے سب مظاہرِ کائنات قبیح و کریہہ ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسن وجمال کے مظاہرِ کائنات ہمیں فرحت و انبساط عطا کرتے ہیں۔جب کہ قبح کے مظاہرِ کائنات کے مشاہدے ،حسی و عقلی تجربات سے ہمیں نفرت ،کراہت اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
انسان طبعی طور پر حسن وجمال کو پسند کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے اور قبح سے نفرت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے پھول،تتلی اورکونپل حسین وجمیل ہیں۔چشمے کا صاف وشفاف رواں دواں پانی دل کش ہے۔شفق، دھنک، چاند تارے،کوہ ودمن، باغ وراغ، سبزہ زار، معصوم بچے ،دل کش نقش ونگار اور متناسب خدوخال والی حسینائیں ہمارے لیے سحر انگیز ہیں۔اسی طرح مسحور کن موسیقی، دل کو چھونے والی رقاصی ، حسین اورمتاثر کن تصاویر اور مجسمے اور خوب صورت شاعری ہمیں اچھی لگتی ہیں۔ہم انہیں دیکھے،سنتے اور محسوس کرتے ہیں تو ہمیں فرحت و مسرت محسوس ہوتی ہے۔
حسن وجمال کے تمام مظاہر کو اگر سمیٹا جائے تو یہ تین بڑی قسموں: حسنِ فطرت، حسنِ انسان اور حسنِ فن میں تقسیم ہوتے ہیں۔حسنِ فطرت میں مناظر کا حسن شامل ہے۔دن کے وقت افق کی طرف کوئی بھی نہیں دیکھتا ہے۔لیکن جب شام کے وقت مشرقی افق پرپہاڑ کی بلندچوٹی پر غروبِ آفتاب کی قرمزی شعائیں اس میں رنگ ونور کا تناسب وتوازن پیدا کردیتی ہیں تو افق کا منظر ایک خاص تناسب وتنظیم میں بدل کرحسین وجمیل ہوجاتا ہے۔ یہ منظر سب کی توجہ کو اپنی طرف پوری طرح سے مبذول کردیتا ہے۔ حسنِ فطرت کے بارے میں دنیا بھر کے افراد میں اختلافِ رائے نہیں پایا جاتا ہے۔
انسان بھی حسین وجمیل مظاہرِ فطرت میں سے ایک حسین وجمیل مظہر ہے۔لہذا ذہنِ انسانی میں فطرت کے تمام حسین وجمیل مظاہر کے حسن وجمال کا شعور،احساس وادراک بھی حسنِ انسان کے حوالے سے حاصل ہوتا ہے۔انسان کے دماغ میں مظاہرِ فطرت کا شعور،ادراک اور احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب اس میں عنفوانِ شباب کے ساتھ جنسی خواہش سر اٹھاتی ہے۔ایک کم سن بچہ مظاہرِ فطرت کے حسن وجمال سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا ہے۔لیکن جب وہ شباب کی دہلیز عبور کرتاہے تو اس میں صنفِ مخالف کے لیے جنسی کشش پیدا ہوتی ہے۔وہ اس کے حسن وجمال میں بے پناہ جنسی کشش محسوس کرتا ہے۔یہی جنسی کشش اس کے ذہن میں صنفِ مخالف کے حسن وجمال کا شعورواحساس بھی اجاگر کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن میں مظاہرِ فطرت کے حسن وجمال کا بھی شعور پیدا کرتی ہے۔ فطرت کے حسین مظاہروظواہر میں اگر جمالِ ہم نشیں موجود ہوتو اس کے حسن و جمال میں چارچاند لگ جاتے ہیں،جو کسی فن کار کے جذبات میں شعلہِ جوالہ بن کر اس کے فن میں حسن کاری کے عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔
انسان کا حسن وجمال بھی اس کے چہرے اور بدن میں تناسب وتوازن کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کے چہرے کے خوش وضع نقش ونگار،خدوخال اور اس کا متناسب الاعضاء بدن ہی اسے حسین وجمیل بناتے ہیں۔ایک حسین وجمیل عورت کے چہرے کے نقش ونگار اور نازک اندام کے د ل فریب خدوخال ،اعضااور دل کش زاویوں میں تناسب وتوازن موجود ہوتا ہے، جو دیکھنے والے کی نظروں کو موہ لیتا ہے اور وہ دم بخود ہوکر اسے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔حسنِ انسان دوسر ے انسانوں میں محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انسان کا جذبہِ محبت حسن کا معیار طے کرتا ہے۔حسنِ انسانی کا معیار دنیا بھر کی قوموں میں ایک جیسا ہے ۔لیکن حسنِ انسان کے بارے میں دنیا بھر کے افراد کے درمیان اختلافِ رائے بھی پایا جاتا ہے۔یہ اختلافات ان کے درمیان زمان و مکان کے اختلافات کا بھی نتیجہ ہیں اور جغرافیائی، سماجی، سیاسی،ثقافتی حالات کے اختلاف کا بھی اور انفرادی طور پر اختلافِ ذوق بھی ۔اس لیے ہر خطے کے لوگوں اور قوموں کے ہاں مذکورہ بالا ماحول کے اختلاف کی وجہ سے حسنِ انسان کے بارے میں مختلف تصورات اورمعیارات پائے جاتے ہیں۔
افریقہ کی حبشی قوم میں سیاہ رنگت اور فربہہ جسم کے لحیم شحیم اعضاء،فربہ سرینوں اور چہرے کے ابھرے ہوئے خدوخال اور نقوش ونگارنسوانی حسن وجمال کا معیار ہیں۔اس لیے وہ سفید فام قوموں کو پسند نہیں کرتی ہے اور انہیں سفیدبندر سے شباہت دیتی ہے۔ امریکی بڑی بڑی آنکھوں کو حسنِ نسواں کا معیار تصور کرتے ہیں۔چین کے لوگ سفید دانتوں،کشیدہ قامت،ننھے منے پاؤں والی عورت کو حسین تصور کرتے ہیں۔ جاپانی بڑی بڑی آنکھوں،سفید دانتوں،ستواں ناک،غنچہ دہن اور نرم ونازک ہاتھ پاؤں والی عورت کو حسین وجمیل تصور کرتے ہیں۔ایرانی قوم میں نسوانی حسن کا معیارسفید رنگ،لمبی لمی سیاہ زلفیں،غنچہ دہن،سرخ رخسار، بلند قامت ،پتلی کمر،ا ور نازک اندامی ہے۔اس لیے فارسی شاعری اس قسم کے حسنِ نسواں کے اردگرد گھومتی ہے۔ برصغیر پر آریاؤں سے لے کر برطانوی حملہ آوروں تک سب کی سب قومیں سفید فام تھیں۔جب کہ برصغیر کے اصل باشندے سیاہ فام تھے۔اس لیے برصغیر میں سفید رنگ ،کنول آنکھیں،سیاہ زلفیں،سرخ لب،پتلی کمر،نسوانی حسن وجمال کا معیار ہیں۔اجنتا کی غاروں کی تصاویر میں عورتوں کی نیم وا آنکھیں کنول کے پھول کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
اہلِ عرب کے ہاں حسنِ نسوانی ہمیشہ بہت ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔اس پر انہوں نے شعروادب کے دفتر کے دفتر تحریر کیے ہیں،جن میں سلامہ بن رحمون کی کتاب”المقالہ فی حضب ابدان النساء” اور جاحظ کی کتاب “القیان”قابلِ ذکر ہیں۔ان کے نزدیک نسوانی حسن وجمال کا معیارعورت کا لحیم شحیم اور بھرا پرابدن ہے۔ زمانہِ جاہلیت کی عربی شاعری (جس میں جابجا عرب شاعروں نے عورتوں کے بھاری بھرکم سرینوں کو ریت کے ٹیلوں سے تشبیہہ دی ہے۔”(5)،جو عربوں کے معیارِ حسن کی غمازی کرتی ہے۔الف لیلیٰ”(6)میں بھی عربوں کے نسوانی حسن وجمال کا معیار ظاہر ہوتا ہے۔عرب عورت کے غنچہ دہن یعنی چھوٹے دہن کو پسند کرتے ہیں۔اس لیے عرب شعرا نے اکثروبیشتر اپنی شاعری میں اسے انگشتری سے تشبیہہ دی ہے۔،موتی کی طرح سفید دانتوں،سرخ لبوں،لمبی گردن،سیاہ آنکھوں کے عشوہ واداعربی شاعری کے اجزائے ترکیبی ہیں۔
اسی طرح یورپی ا قوام میں حسن وجمال کے معیارات دنیا بھرکی دیگر قوموں سے بالکل مختلف ہیں۔ سویڈن میں سنہری زلفیں اور نیلی آنکھیں حسن کا معیار تصور کی جاتی ہیں۔جنوبی فرانس، ہسپانیہ اور اطالیہ میں سیاہ آنکھیں نسوانی حسن وجمال کا معیار تصور کی جاتی ہیں۔جرمنی اور روس میں سرخ لبوں،فراخ دہن،پتلی کمر، سرین کے غیر معمولی ابھار کو نسوانی حسن کامعیار سمجھا جاتا ہے۔فرانس میں بھرے بھرے ہونٹوں،گول شانوں، نازک کلائی اور گداز ٹخنے کو نسوانی حسن وجمال کا معیار قراردیا جاتا ہے۔
بلوچ بھی حسنِ نسوانی کے بے حد دلدادہ ہیں۔ان کے نزدیک مون سون کی طرح متحرک اور ناگن کی طرح لہراتاہوا کشیدہ قامت(8)،قدح کی طرح بڑی بڑی غزالیں آنکھیں(9)کمان کی طرح ابرو(10) تیر نماسیدھی پلکیں(11)باریک کاغذی ہونٹ(12)پتلی اور ستواں ناک(13) سراحی کی طرح لمبی گردن(14)ماہِ کامل جیسا چہرہ(15)، خوب صورت دستِ حنائی(16)حسنِ نسواں کا معیار تصور کیے جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں حسنِ انسان کے تصورات، معیارات اور اقدار ہر عہد اور ہر سماج میں ایک قوم سے دوسری قوم تک مختلف ہیں اور مختلف ادوار میں تاریخی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتے رہے ہیں۔جاگیرداری عہد میں جو حسنِ نسواں کا معیار تھا،سرمایہ داری کے فروغ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوگیا۔جاگیرداری عہد میں حسنِ نسواں کا معیار اس کے چہر ے کے نقوش و نگار اور جسم کے خط وخال کا تناسب وتوافق تھا۔سرمایہ داری ،چوں کہ ہر شئے کو جنسںِ تجارت میں تبدیل کردیتی ہے۔لہذا ان نے عورت کو بھی جنسںِ تجارت میں تبدیل کردیا ہے اور حسن وجمال باقاعدہ ایک کارباری صنعتِ حسن و جمال کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عورت کے چہرے کے متناسب نقوش ونگار آج ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ان کے بجائے اس کا حسین اور خوب صورت جسم اہم ہوکر نسوانی حسن کا معیار بن گیا ہے۔اسی لیے آج کل حسنِ نسوانی کے معیار عورت کے چہرے کے نقوش ونگار نہیں ہیں۔بلکہ اس کے جسم کے متناسب الاعضاء ،جن میں جنسی کشش ہو،نسوانی حسن وجمال کا معیار ہیں۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *