Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لینن کا نظریہِ جمالیات ۔۔۔ جاوید اختر

لینن کا نظریہِ جمالیات ۔۔۔ جاوید اختر

اقدارِ حسن وجمال
حسنِ فن میں بھی یہی کیفیت موجودہوتی ہے۔تصویر خواہ کتنے ہی قبیح المنظر جانور کی کیوں نہ ہواگر اس کے رنگوں،علامتوں اور خدوخال میں توازن و توافق ہو گا تو وہ ایک خوب صورت اور حسین وجمیل تصویر میں بدل جائے گی۔مثال کے طور ایک جنگلی چھپکلی درحقیقت انتہائی قبیح المنظر ہے۔لیکن جب اسے کوئی فن کاراپنی ہنرکاری سے اپنے کینوس پر رنگوں،قوسوں اور پس منظر کے حسین وجمیل امتزاج کے ساتھ پینٹ کرتا ہے تو وہ ایک حسین وجمیل تصویر میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ قبیح دکھائی نہیں دیتی ہے۔ حسنِ فن کے بارے میں دنیا بھر کے فلسفی اور نقادانِ فن کے درمیان شدید اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں حسنِ فن کے تصورات،معیارات اور اقدار ہر عہد اور ہر سماج میں تاریخی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتے ہیں۔
اس لیے انسان کی فطرتِ ثانیہ اور سنتِ جاریہ ہے کہ وہ اپنے ماحول کو بناتا اور سنوارتاہے اور اس سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔لیکن اس کی عظمت اس میں نہیں ہے کہ وہ خود کو صرف اپنے ماحول کے مطابق بنائے۔ بلکہ اس کی عظمت اس میں ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے ماحول سے مطمئن نہیں ہوتا ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش کرتا ہے۔خوب سے خوب تر کے حصول کے امکانات اسے مصروفِ عمل رکھتے ہیں اور وہ اپنے ماحول کو اپنے مقاصد کے تحت مسلسل تبدیل کر کے خوب سے خوب تراور حسین سے حسین تر بنانے کی کوشش میں سرِ گرمِ عمل رہتا ہے اور یہی بات اس کے ذہن میں اقدار کا احساس وادراک بھی پیدا کرتی ہے۔وہ مثالی حسن، خیر،عدل اور صداقت کی خواہش کرتا ہے۔یہ خواہش اس میں اس لیے پیدا ہوتی ہے۔کیوں کہ یہ سب کیسب اس کے ماحول میں نایاب ہوتے ہیں۔

انسان اپنی زندگی میں مختلف اقدار کا تعین کرتا ہے ۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قدر کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قدر وہ شئے ہے،جس میں انسان دلچسپی لیتا ہے۔قدر ہی وہ پیمانہ اور معیار ہے ،جس کی بنیاد پر ہم کسی چیز کو اچھا یا برا،حسین یا قبیح ،خوب یا بد ،راست یا باطل،مفید یا ضرررساں قرار دیتے ہیں۔اقدار کی دو بڑی قسمیں ہوتی ہیں۔آلاتی اقدار اور بنیادی اقدار ۔ ہمارے لیے بعض چیزوں اس لیے اہم اور دلچسپی کی حامل ہوتی ہیں ،کیوں کہ وہ دوسری چیزوں کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ہوتی ہیں،وہ آلاتی اقدار کہلاتی ہیں۔ مثال کے طور پرریل گاڑی مسافروں کے لیے منزلِ مقصود تک رسائی کا آلہ اور وسیلہ ہے۔لہذا وہ آلاتی قدر کی حامل ہے۔ ایک شخص شب وروز کاروبار میں مصروف رہتا ہے تاکہ دولت کما کراس کے وسیلے سے ایوانِ اقتدار کی مسند تک رسائی حاصل کرسکے۔لہذا دولت اس کے لیے آلاتی قدر کی حامل ہے۔لیکن بعض اشیاء بذاتِ خود اہمیت کی حامل ہیں،وہ بنیادی اقدار کہلاتی ہیں۔ان میں حسن،خیر اور صداقت ایسی بنیادی اقدار شامل ہیں،جوآفاقیت اور ہمہ گیری کی حامل ہیں۔کیوں کہ وہ کسی دوسری شئے کے حصول کا وسیلہ اور ذریعہ نہیں ہیں۔بلکہ وہ فی نفسہ ہمارے ذوقِ جمال کی تسکین وطمانیت کا باعث ہوتی ہیں۔
بعض فلسفی قدر کو خالص موضوعی قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک قدر شئے میں نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ انسان کے ذہن میں ہوتی ہے۔بعض فلسفی قدر کو مکمل معروضی تصور کرتے ہیں۔موضوعی نظریے کے حامی فلسفیوں کے مطابق قدر کا وجود اس کے معروض میں نہیں بلکہ اس کے باطن میں ہوتا ہے۔اس کا ادراک واحساس انسانی ذہن کے اندر موجود ہوتا ہے۔اگر قدر کو خالص موضوعی تصور کرلیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قدر انسان کے ذہن میں موجود ہوتی ہے توپھر قدر میں آفاقیت کیوں موجود ہوتی ہے؟اگر حسن کی قدر صرف موضوعی ہے تو پھرکیوں بعض چیزیں تو ہمیں حسیں دکھائی دیتی ہیں ۔جب کہ بعض اشیاء ہمیں قبیح لگتی ہیں؟۔اس نظریے کو صحیح تسلیم کرنے سے قدر کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔
اس کے برعکس اگر قدر کو قطعی طور پرمعروضی تصور کرلیا جائے تو پھرتمام افراد میں قدر کا ردِ عمل یکساں مرتب ہونا چاہیے ۔ یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ پھر کیوں یہ مادی اور تاریخی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتی ہے؟اور ہر عہد اور ملک کی اقدار دیگر سے کیوں مختلف ہوتی ہیں؟ہمارا مشاہدہ ثابت کرتا ہے کہ قدر تمام افراد پر یکساں طور پر کبھی بھی اثرانداز نہیں ہوتی ہے اور اس میں ہرعہد میں سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔یہاں اس امر کی وضاحت کرنا بھی بے حدلازمی ہے کہ ایک شئے ،جوکسی شخص کے لیے حسین ہو وہ لازمی نہیں کہ دوسرے شخص کے لیے بھی حسین ہو۔اس میں ہردو کی پسند وناپسند یا جمالیاتی ذوق کے اختلاف سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔قدر کے یہ دونوں نظریات نامکمل ہیں اور ایک دوسرے کا ابطال وانکار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ یہ دونوں نظریات سراسر غلط اوربے بنیاد ہیں۔ان میں ہر ایک نظریہ جزوی حقیقت کا حامل ہے۔اس لیے سیموئل الیگزینڈرقدر کو موضوعی و معروضی تعلقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔وہ تحریر کرتا ہے:
” ہر قدر کی طرح حسن وجمال میں بھی دو پہلو ہیں۔ قدر کا تعین کرنے کا موضوع اور قدر کا معروض ۔ قدر ان دونوں کے مابین موجود ہوتی ہے،جو ہردو سے جدا کوئی وجود نہیں رکھتی ہے۔ ” (17)
کیوں کہ قدر نہ تو مکمل طور پر معروضی ہوتی ہے اور نہ ہی کاملاً معروضی ہوتی ہے۔بلکہ کسی شئے میں قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے،جب اس میں کوئی شخص(دیکھنے والا) دلچسپی لیتا ہے۔یہی حال حسن وجمال کی قدر کا ہے۔حسن وجمال کی قدر کسی حسیں شئے (معروض)میں موجودتوہوتی ہے۔لیکن جب کوئی شخص اس کااحساس وادراک کر کے اس میں دلچسی لیتا ہے تو وہ اس وقت حسین ٹہرتی ہے۔اس لیے ہر بنیادی قدر نہ تو کسی طور پرخالصتاً موضوعی ہوتی ہے اور نہ ہی کلیتاً معروضی ہے ۔بلکہ قدرشے(معروض) اور ناظر (موضوع)کے مابین موضوعی اور معروضی رشتوں کیجدلیاتی تعامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔حسن بھی بنیادی انسانی اقدار میں سے ایک ہے ۔مثال کے طور پرایک جوہری اور ایک عورت سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کو دیکھتے ہیں۔یہ ہر دو کے لیے دلچسپی کا باعث اور اہم ہیں۔یہ جوہری کے لیے اس لیے اہم ہیں اور وہ ان میں اس لیے دلچسپی لیتا ہے کہ وہ اس کے لیے مفید اور منافع بخش ہیں۔جب کہ عورت کے لیے یہ اس لیے اہم ہیں اور وہ ان میں اس لیے دلچسپی لیتی ہے کیوں کہ وہ سب اس کے حسن و جمال کی زیب و زینت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔اول الذکر کے لیے سونا چاندی اور ہیرے جواہرات میں افادی قدر ہے۔جب کہ ثانی الذکر کے لیے یہ چیزیں جمالیاتی قدر کی حامل ہیں۔
اسی طرح گلاب کے غنچہِ نیم وا یا اس کی پنکھڑی کو دیکھ کر ایک شاعر کو لبِ محبوبہ اور اس کا غنچہ دہن یاد آجاتا ہے۔جب کہ یہ ایک پنساری کے لیے اس لیے دلچسپی کا باعث ہے۔کیوں کہ وہ اس سے گل قند بناسکتا ہے اور اس سے عرقِ گلاب کشید کرسکتا ہے اور ایک گل فروش کے لیے اس لیے اہم ہے اور وہ اس میں اس لیے دلچسپی لیتا ہے کیوں کہ اس سے اس کی روزی روٹی وابستہ ہے۔یعنی ایک شاعر کے لیے گلاب کی پنکھڑی جمالیاتی قدر کی حامل ہے۔جب کہ ایک پنساری اور گل فروش کے لیے ایک افادی قدر کی حامل ہے۔کسی گھنے لہلہاتے ہوئے سرسبزوشاداب جنگل میں ایک دوڑتے ہوئے ہرن کو دیکھ کر ایک شاعر کی چشمِ تصور میں اپنی محبوبہ کے پرشباب نرم وگداز سراپے کے خدوخال اور زاویے انگڑائیاں لے کرگھومنے لگتے ہیں۔لہذا وہ اپنی شاعری میں اس کی چال اور آنکھوں کو اپنی محبوبہ کی چال اور آنکھوں سے تشبیہہ دینے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے۔جب کہ ایک کہنہ مشق شکاری کواسے دیکھ کر اس کے نرم و لذیذ گوشت کی سجی کا زائقہ یاد آجاتا ہے۔
فرض کریں کہ ایک وادیِ کوہ میں صبح کا حسین وجمیل منظر دکھائی دے رہاہے۔سورج افق سے پہاڑ کی چوٹی پر طلوع ہورہا ہے۔اس کی کرنیں ہر چیز کو روشن اور تاب ناک بنارہی ہیں۔اسی دوران ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو ہانکتے ہوئے اپنے جھونپڑے سے باہرنکل رہا ہے اور دور چراگاہ کی طرف گامزن ہے۔لیکن وہ صبح کے حسین اور دلکش منظر سے بالکل بے نیاز ہے۔ اس کے نزدیک یہ محض روزمرہ کاایک معاملہ ہے کہ دن کا آغاذ ہورہا ہے اور اسے اپنے کام پر جانا ہے۔اس میں اس کے لیے اس منظر کی جمالیاتی قدر کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔لیکن ایک مصور اس منظر کو دیکھ کر اپنے ذہن کی قوسوں میں رنگ بھر لیتا ہے اور اس دل کش منظر کے حسن وجمال کی جلوہ گری اور صورت گری مختلف رنگوں کا تناسب وتوازن پیدا کرکے اس کے کینوس پر مجسم ہوکر ایک شہکار تصویر کا روپ دھار لیتی ہے۔وہ اس کے لیے اس لیے اہم ہے اور وہ اس میں اس لیے دلچسپی لیتا ہے کہ وہ اس کے لیے جمالیاتی قدر کا حامل ہے۔
معاشی پیداواری تعلقات اور پیداوری قوتیں ہر عہد کے سماج کی معاشی بنیاد کو متعین کرتے ہیں،جس پر اس کا بالائی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔اسی بالائی ڈھانچے میں سیاسیات،اخلاقیات، قانون،فلسفیانہ نظریات،فنونِ لطیفہ،جمالیات اورسماجی شعورکی دیگر صورتیں شامل ہوتی ہیں۔سماج کی معاشی بنیاد اور اس کے بالائی ڈھانچے کے مابین عمل اور ردِ عمل کا جدلیاتی تعامل کارفرما ہوتا ہے۔اسی جدلیاتی تعامل کی وجہ سے سماجی شعور کی مذکورہ بالا مختلف صورتوں میں معاشی حالات کاجدلیاتی انعکاس ہوتا ہے۔اس لیے سماج کی معاشی بنیاد کی تبدیلی سے اس کا بالائی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوجا تا ہے۔اس جدلیاتی اصول کی رو سے صداقت،خیر اور دیگر اقدار کی طرح حسن وجمال کی اقدار بھی اضافی ہیں۔وہ سماجی تبدیلیوں کی ترقی و تبدیلی کے ساتھ ساتھ تبدیل اور ارتقاء پذیر ہوتی ہیں۔
حسن کاری کا تاریخی ارتقاء
انسان کی تمام دیگر صلاحیتوں کی طرح اس کی جمالیاتی صلاحیت، جمالیاتی حس اور ذوق عملی تجربے، انسان اور سماج کے مابین تعامل کے نتیجے میں ارتقاء پذیر ہوتے ہیں،جس کے سلسلہِ عمل میں وہ اپنی اصل قوتوں میں سے ایک جمالیاتی صلاحیت کو مادی صورت دیتے ہوئے محسو س کرتا ہے۔ کارل مارکس اس سلسلے میں کہتا ہے:
“صرف معروضیت کے ذریعے انسان کا اصل وجود مالا مال ہوتا ہے،جو انسانی حساسیت کیموضوعی امارت ہے۔(ایک سریلا کان اور صورت کے حسن وجمال کے لیے آنکھ، المختصرانسانی طمانیت کے لیے حواس ،جو انسان کی اصل قوتوں کے طور پر خود کو ثابت کرتے ہیں)جویا تو نکھرتی ہے یا وجود میں آتی ہے۔”(18)
انسان تاریخ کے ابتدائی ادوار میں مظاہرو ظواہرِ کائنات کے حسن وجمال کا ادراک نہیں رکھتا تھا۔لیکن جب وہ ان کے ساتھ شعوری اور مثبت تعلقات کے دائرے میں داخل ہوا تو اس نے ان کے حسن وجمال کا ادراک و احساس کرنا شروع کیا۔پھر آہستہ آہستہ وہ اس کے لیے جمالیاتی تحسین کے معروض بن کر منظرِ عام پر آنے لگے۔بالآخر وہ مظاہروظواہر نسلِ انسانی کی قابلیت،قوت اورسطوت کا باعمل اور معروضی اظہار بن گئے۔حقیقت کے سب مظاہروظواہر جو کبھی انسان کے لیے اجنبی،خودمختار،طاقت ور اور خطرناک قوتوں کی حیثیت کے حامل تھے،وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے جمالیاتی تجسس اور تحسین کے معروض ثابت ہوئے۔
انسان نے حسن و قبح کے مظاہروظواہر کے مابین امتیاز،ان کی حقیقت وماہیت، مفہوم ومعانی کے ادراک،ان کی اقدار کے تعین اور ان کے معیار کو وضع کرنے میں صدیوں کا طویل اور پر پیچ وخم تاریخی سفر طے کیا ہے۔ابتدائی انسان نے خود کو فطرت کا حصہ سمجھا اور مظاہرِ فطرت کے مختلف روپوں میں اپنا چہرہ دیکھا۔پھر اس نے کہیں جاکر فطرت کو اپنی شکل وصورت میں سمجھنا شروع کیا۔ قدیم دورِ حجر میں قدیم انسان نے تقریباًاڑتیس برس قبل آلاتِ شکار بنائے،جن کے ذریعے وہ حیوان سے انسان بنا۔یہ حجری آلات ابتدا میں بھدے اور بدصورت تھے ،جو وقت کے ساتھ ساتھ عمدہ ہوتے گئے۔ ابتدائی انسان نے تقریباً انیس ہزاربرس قبل مسیح الٹامیرا(ہسپانیہ)اورسترہ ہزار برس پیشتر لاسکو (فرانس) ،تیس ہزار برس قبل مسیح (جنوبی فرانس)کی پہاڑی غاروں میں جنگلی جانوروں کی ر نگین تصاویر کشی کرکے حسن کاری کی روایت کی بنیاد قائم کی۔
بیس ہزار سال پیشترامریکہ کی غاروں میں انسانوں اور جانوروں کی تصاویر، ہندوستان میں مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں واقع پہاڑوں کی غاروں میں تیرکمان بردار نوجوان شکاری کی رنگین تصاویر ،موسیٰ خیل(بلوچستان)کی غاروں میں جنگلی جانوروں کی تصاویر اور فن لینڈ کی چٹانوں پر جانوروں ،انسانوں،مچھلیوں،سانپوں اور کشتیوں کی تصاویربھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔پوٹھوھار میں وادیِ سوان کے غاروں میں بھی اس قسم کی تصاویر پائی گئی ہیں۔ڈھائی ہزار برس قبل مسیح مصر میں اہرامِ مصر کی دیواروں کی آرائش وزیبائش کے لیے پرندوں، درختوں، جھیلوں اور انسانوں کی تصاویر بھی ابتدائی انسان کی فن کاری اور مصوری کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔
تقریباً آٹھ ہزار سال قبل مسیح مہر گڑھ(بلوچستان)،موہنجوڈڑو،ہڑپہ کے برتنوں،مہروں، سکوں، بتوں، مورتیوں اور زیورات پر نقوش ونگار،مادرِ ارض کی مورتیاں، انسانوں، جانوروں، پرندوں کی صورت میں بچوں کے کھلونے،کھلونا بیل گاڑی،ہڑپہ سے برآمد شدہ برہنہ رقاصہ کا مجسمہ انسان کی فن کاری کے اعلیٰ نمونے ہیں،جو اس عہد کے انسان کی تہذیبی سرگرمیوں اور ذوقِ حسن وجمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک ہزار قبل مسیح میں قدیم چین میں ٹھوس پیتل سے ظروف سازی کا فن شروع ہوا۔اسی عہد میں قدیم چینیوں نے لکڑی پر نقوش ونگار بنائے اور لکڑی کے چھاپے خانے پر روشنائی لگا کر چھاپنے کا فن بھی ایجاد کیا۔جدید چین میں موجوداسی دور کاریشم پر چھپا ہوا کپڑا اسی عہد کی داستان بیان کرتا ہے۔چوتھی صدی کے ایک چینی مصور نے اسی طرز پر ایک چینی کتاب کاتشریحی خاکہ بنایاتھا،جس میں کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق عورتوں کی خوبیوں کی تشریح کی گئی تھی۔
تیسری صدی قبل مسیح میں کشان حکمرانوں کے زمانے میں گندھارا فن کاری اور مجسمہ سازی کے شہکار نمونے برصغیر ،چین و جاپان سے لے کر افغانستان اور وسطی ایشیا تک محیط ہیں۔اشوکِ اعظم نے جہاں گوتم بدھ کے مجسمے ،بت اور مورتیاں بنوا کر اس کے چہرے کے نقوش ونگار کو لوگوں کے ذہنوں میں پختہ کردیاوہاں اس نے بے شمار سنگی کھمبے ترشوا کر گوتم بدھ کی تعلیمات کا پرچار کیا۔تین شہروں کے مجسمے والا سنگی کھمبا ،جو حکومت کی مہر کے طور پر مستعمل تھا،بھی اسی سلسلے کیکڑی ہے۔گندھارہ فنِ مجسمہ سازی کے نمونوں میں وہ مجسمہ بھی شامل ہے،جو گوتم بدھ کے قدیم ترین مجسموں میں شمار کیا جاتا ہے۔متھرا میں بھی گوتم بدھ کے مجسمے اسی عہد کی یادگار ہیں۔
گوتم بدھ کے مجسمے خصوصاً بامیان کی وادی میں واقع غاروں کی دیواروں پر تصاویر بنائی گئی ہیں۔یہاں پہاڑوں کے اوپر تین طویل الجثہ مجسمے بنائے گئے ۔(جنہیں طالبان نے اپنے تاریکِ دورِ اقتدار میں مسمار کردیاتھا)۔ان میں ایک گوتم بدھ کا طویل القامت مجسمہ،جو اسی گز کا تھا۔دوسرا مجسمہ گوتم بدھ کی بیوی یشودھرکا تھا ،جو پچاس گز کا تھا اور تیسر مجسمہ اس کے بیٹے رہولا کا، جوپندرہ گز کا تھا۔یہ فنِ مجسمہ سازی کے عمدہ اوراعلیٰ شہکار تھے۔گوتم بدھ کی دلکش تصاویر، جو سانچی،ایلورا اور اجنتا کے غاروں میں بنائی گئیں، انسانت ذوقِ جمال کی علویت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ،قبل مسیح میں چین میں بھی گوتم بدھ کے پیتل کے مجسمے، چوتھی صدی قبل مسیح میں ایران اور جاپان میں گوتم بدھ کے مجسمے مصوری اور مجسمہ سازی کے اعلیٰ شہکار ہیں،جو اس عہد کے انسان کے جمالیاتی ذوق کو ظاہر کرتے ہیں۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *