Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » لٹ خانہ ۔۔۔ تبصرہ: شبیر رخشانی

لٹ خانہ ۔۔۔ تبصرہ: شبیر رخشانی

’’لٹ خانہ‘‘ ایک کتاب کا نام جسے مصنف نے اپنی زندگی سے جڑے ان لمحات کو یاد کرکے لکھا ہے جس میں معاشرتی رویے، زندگی میں پیش آنے والی مشکلات، عزم و استقلال، غربت و قربتوں کو شامل کرکے لکھا ہے۔ یوں کہئے کہ اپنی آپ بیتی خود لکھی ہے۔ یہ کتا ب ان چند مضامین پر مشتمل ہے جو گزشتہ ادوار میں وقتاً فوقتاً ماہتاک نوکیں دور اور ماہتاک سنگت میں چھپتے رہے ہیں۔ ایک ایسے شخص نے زندگی کو اس انداز میں بیاں کیا ہے کہ اس کو پڑھنے والے مایوس افراد زندگی کو از سر نو شروع کرنے پر آمادہ ہو جائیں یعنی ان میں زندگی کو نئے انداز میں دیکھنے اور سوچنے کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ یہ کتاب اپنے قاری کو اس بات پر ضرور آمادہ کر لیتی ہے کہ کتاب سے اس وقت جان خلاصی حاصل نہ کی جائے جب تک اسے مکمل طور پڑھا نا جائے یعن۔ی زندگی کی دلچسپ یادداشتوں پر مشتمل کتاب۔ پھر مزے کی ایک اور بات کہ زندگی کی ان دہائیوں کو کس انداز میں یاد کرکے ایک تحریر کی شکل دی ہے یقیناًاس پر مصنف داد وصول کئے بنا نہیں رہ سکتے۔ 250 صفحات کی یہ کتاب مصنف کی زندگی کے گزرے ان لمحات کو سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے جو اس پر غم و خوشی کی صورت میں نازل ہوئے ہیں۔ جسے پڑھ کر شاید ہی کوئی قاری اپنے جذبات کو خوشی اور آنسوؤں کے ملے جلے جذبات سے جدا کر سکے یا اپنے اندر جذب کر سکے۔
ایک دن یونہی سیلز اینڈ سروس کے اندر کتابیں دیکھ رہا تھا کہ ایک کتاب پر نظر پڑی۔ کتاب کے سرورق پر ایک جلتے ہوئے مشعل کی تصویر نمایاں نظر آرہی تھی۔ کتاب کا نام ’’لٹ خانہ‘‘ لکھا نظر آرہا تھا۔ جبکہ نیچے مصنف کا نام ’’عبداللہ جان جمالدینی‘‘ لکھا تھا۔ عبداللہ جان جمالدینی بلوچستانی ادبی شعبے میں ایک نمایاں نام رکھتے ہیں لیکن آج تک میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ کتاب کا ٹائٹل پیج ہی اس کتاب کو اندر جھانکے بغیر مجھے خریدنے پر مجبور کر گئی۔
خیر کتاب کئی دن تک میری کتابوں کی پیٹی کے اندر ہی مقفل ہوکر رہ گئی تھی۔ زندگی کی بے ترتیبی نے موقع نہیں دیا تھا کہ اس کو کھول کر اس کے اندر کی کہانی کا مشاہدہ پڑھ کر اپنے اندر جذب کر سکوں۔ اس کتاب کوپڑھنے کا ارادہ کیا۔ اسے قید سے نکال اپنے ہاتھوں میں تھما دینے کی صورت میں کیا۔ تو کتاب کے انتساب میں لکھا ایک شعر نظر آیا جو مصنف نے بہت ہی پیار سے ’’شان گل‘‘ کے نام کیا تھا۔
شان گل تو کجائے پرچے تو نیائے
مہرو وفائے تو پاک و صفائے
پندرہ مصرعوں پر مشتمل یہ شاعری شان گل کے نام پر تھا۔ آخر شان گل ہے کون جس سے مصنف کو اتنی انسیت ہے؟۔ آگے چل کر شان گل کا تعارف شاہ محمد مری صاحب کے نام سے جوڑ کر چونکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کہ ہم تو خوش نصیبوں میں نکلے کہ ہمیں شاہ محمد سے تو تھی ہی محبت اس کا چاہنے والا عبداللہ جان جمالدینی نکلتے ہیں یہ وہم و گمان میں نہیں تھا۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ شان گل مری صاحب کے بچپن کا نام ہے جو اس کی والدہ محترمہ نے اسے فرط محبت سے نوازا ہے کتنا پیارا سا نام ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ اگر مری صاحب اجازت دیں تو ہم بھی فرط محبت سے اسے اسی نام سے پکاریں ۔
مصنف آگے چل کر اپنی زندگی کا سفرنامہ1950سے بیان کرنا شروع کردیتے ہیں جب انکو اور انکے قریبی ساتھی جو کہ اسکے اسکول کے زمانے کا کلاس فیلو اور دوست رہا تھا کے متعلق بیان کرتا ہے کہ انہیں اور کمال خان شیرانی کو جب علم سے فراغت ملنے کے بعد نائب تحصیلداری کے عہدے سے حکومت نے نوازا۔ جو کہ اس زمانے میں ایک بہت بڑا اعزاز ہوا کرتا تھا۔ تو انہیں جلد ہی احساس ہو جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے نوازا گیا اعزاز انہیں کسی جیل میں ڈالنے کے مترادف ثابت ہوا ہے کیوں کہ مصنف کا تعلق ہی بچپن سے ادب کے ساتھ رہا ہے۔ اور انکے دل میں اپنے محکوم عوام کی خدمت کا جذبہ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ تو وہ اور کمال خان اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کو ہی اپنی فکر کی عافیت سمجھتے ہیں۔ اور کوئٹہ آکر لٹ خانہ کے نام سے ایک جھونپڑی کے اندر اپنی فکری و نظریاتی کام کا آغاز کرتے ہیں تو انہیں ایک اور باہمت دوست خدائیداد بھی دستیاب آجاتا ہے۔ عبداللہ جان جمالدینی کے اس فیصلے سے اسکا خاندان اور بالخصوص اسکی اکلوتی بہن ناراضگی کا اظہار کرتی ہے لیکن وہ اپنی سوچ کے آگے ایسی چیزوں کو بندات کی شکل میں سامنے آنے نہیں دیتے۔ پھر انکا تعلق عام آدمی سے ہو جاتا ہے۔ جہاں مستری محمد غوث، حبیب اللہ اور اس قسم کے دوسرے عام افراد انکی محفلیں اور نشستیں اٹینڈ کرنے رات کے وقت انکے پاس آجایا کرتی ہیں جہاں وہ اس محفل کو اپنا محفل ہی سمجھ کر اپنی دل کی باتیں اور گزرے ہوئے لمحات بھی شیئر کرتے ہیں۔ اس کتا ب میں آگے چل کر مصنف جب اپنے بیٹے کی جسمانی علیٰحدگی کو بیماری کی حالت میں بیان کرتا ہے اور اپنی بہن کی غم جدائی کو دل ہی دل میں سہہ کر لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو یقیناًپڑھنے والا پتھر دل انسان بھی اس موقع پر دل کے آنسو رونے پر آمادہ ہو جائے۔
آگے چل کر مصنف معاشی بدحالی، معاشرتی استحصالی کو کن الفاظ میں بیان کرتی ہے تو یقیناًوہ الفاظ قاری کی اس کتاب سے محبت کو مزید نمایاں طور پر بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ کس طرح کمال خان شیرانی کسی سے قرضہ لے کر انکی اچانک خیالی دکان جو کہ فی الحال کے خیال سے اخذ کرکے ’’ فی الحال اسٹیشنری‘‘ انجام قرار پاتی ہے۔ پھر اسی لٹ خانہ اور فی الحال اسٹیشنری کے ذریعے اپنے سوچ کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور انہی چاہتوں اور کوششوں کے بدولت ان کا کاروان دن بدن آگے برھتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مصنف پر فالج کا اٹیک آجاتا ہے تو اسکے چاہنے والوں کی لائنیں لگ جاتی ہیں اور ہر کوئی اپنے آپکو خدمت گار کے طور پرپیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مصنف آگے چل کر CIDکا ذکر بھی اپنے تحریروں میں بار بار شامل کرتا ہے کہ اس کی آنکھیں بار بار انکا پیچھا کس طرح کرتی ہیں۔ لیکن اس تمام صورتحال کو بالائے طاق رکھ کر وہ اپنے سوچ کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران جب گل خان نصیر اور غوث بخش بزنجو کی نظریں جب ان پر پڑتی ہیں تو ان کے جذبات کو سراہتے ہوئے اور اپنی کاروان میں شامل کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اسی کتاب میں مصنف اپنی اور اپنے دوستوں کی قید و بند کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اور سیاسی و صحافتی کارناموں کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف بہت سے نامور اور غیر نامور شخصیات کا ذکر بھی اپنی کتاب میں لاتا ہے۔ جن کو اس مضمون میں سمونا راقم الحروف کے بس کی بات نہیں۔ پوری کتاب ایک داستان ہے جو کہ مصنف کی فکر و سوچ، ہمت و حوصلوں سے بھر پڑی ہے۔ اس کتاب میں مصنف شاہ محمد مری صاحب کا ذکر بار بار کرتا ہے کہ اسکی کوششوں سے یہ کتاب مرتب کرنے میں وہ کامیاب ہو سکے ہیں۔ یقیناًعبداللہ جان جمالدینی اپنے حصے کا کام کر چکے ہیں لیکن یہ ذمہ داری اب نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے کہ اس فکر و سوچ کو آگے بڑھائیں۔
عبداللہ جان جمالدینی آج 90سال سے اوپر کے ہو چکے ہیں۔ لیکن آج بھی اس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد اس کے گھر کا رخ ہر اتوار کو کرکے محفل کی صورت میں کرتی ہے۔ گو کہ یہ گھر اب لٹ خانہ کے طور پر یاد نہیں کیا جاتا البتہ اب بھی لٹوں کا یہ قافلہ جس میں بچے، بوڑھے اور جوان شامل ہیں اسے بی ایس پی ’’بلوچستان سنڈے پارٹی‘‘ کا نام دے کر ہر اتوار کو اس میں شریک ہو تے ہیں۔ اور اس سفر کے بچھڑے لٹوں کو ضرور یاد کرتے ہیں۔
گزشتہ اتوار مجھے بھی ان کی سعادت اس وقت نصیب ہوئی جب میں نے سنڈے پارٹی اٹینڈ کیا۔ ایک بوڑھے شخص کو جب وتاخ میں داخل کیا گیا تو محفل میں یکدم سے خاموشی چھا گئی اور اچانک ہی قہقہوں کی بارش شروع ہو گئی اس محفل میں اب نہ کوئی مہمان تھا نہ کوئی چھوٹا بڑا۔ بس برابر کے شریک تھے۔ بلکہ یوں کہئے کہ بلا تکلف ایک دیوان تھا۔ جس میں کسی پر بات کرنے اور ہنسنے کی پابندی نہیں تھی جو عموماً فارمل پروگراموں میں کیا جاتا ہے۔ ماما عبداللہ جان جمالدینی سے جو بھی ہاتھ ملاتا تو وہ فرط محبت سے اسکا ہاتھ چومتے اور اپنی آنکھوں پر لگا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے۔ اور ہر ایک کو اپنا پیروکار بنالیتے کسی نے ایک مضمون میں خوب کہا تھا کہ’’ عبداللہ جان اب سن نہیں سکتے فالج کی وجہ سے جسم کا آدھا حصہ کام نہیں کرتا اور گویائی کا بھی مسئلہ انہیں درپیش ہے لیکن ہمارے لئے سب سے بڑی غنیمت یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ہم ہر ہفتے اسکا دیدار کرتے ہیں کھلکھلاتے ہیں مسکراتے ہیں دل کی بات کرتے ہیں‘‘۔۔

Check Also

jan-17-front-small-title

غدار ۔۔۔۔ مبصر : عابدہ رحمان

مصنف: کرشن چندر ’غدار‘ کرشن چندر کا وہ شاہکار ناول ہے جو ہندوستان کی تقسیم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *