Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » لٹ خانہ ۔۔۔۔۔۔۔ مصنف : عبداللہ جان جمالدینی ، تبصرہ : ہیبتان عمر

لٹ خانہ ۔۔۔۔۔۔۔ مصنف : عبداللہ جان جمالدینی ، تبصرہ : ہیبتان عمر

ایک دفعہ ہم نے ایک دوست سے ازراہِ مذاق کہا تھا کہ کتاب پڑھنے کا جو مزہ گاﺅں میں آتا ہے، وہ شہر میں کبھی ممکن نہیں۔ حالانکہ یہ بات ہم نے اس لیے کہی تھی کہ وہخوس مصنف ہونے کے باعث ہمیشہ سے ہم جیسے بظاہرمصروف دِکھنے والے لوگوں سے متعلق کبھی یقین ہی نہیں کرتے کہ ہم کتاب بھی پڑھ سکتے ہیں‘ وہ بھی مکمل کتاب۔ اس دفعہ باقی دوروں سے کچھ زیادہ لمبی چھٹی پر جب گاﺅں گئے تو اوپر کے اپنے ہی ارشاد کیے ہوئے الفاظ کی سچائی کا معترف ہونا پڑا ۔ کیونکہ ایک ایسی کتاب پڑھنے کے لیے ہاتھ لگ گئی کہ جس کے پڑھنے کا اصل مزہ واقعی گاﺅں میں ہی آنا تھا۔ یہ کتاب واجہ عبداﷲ جان جمالدینی کی ”لٹ خانہ“ تھی جسے پڑھ کر نہ صرف بہت ہی مزہ اٹھا یا بلکہ سوچا کہ اپنی بساط (نہ ہونے کے برابر)کے مطابق کچھ اظہار ِخیال کروں حالانکہ اس کتاب میں شامل ایک ایک شخصیت سمیت خود عبداﷲ جان جمالدینی کے سحر سے ایک زمانہ گرویدہ چلا آیا ہے اور جب تک تاریخ میں بلوچ سرزمین کی ترقی پسند تحاریک کا ذکر چھیڑا جائے گا، ان شخصیات کے کرداراور کارنامے روشن تر ہوتے جائیں گے۔ اُس روشنی کی قندیل کی طرح جسے ”لٹ خانہ“ کے ٹائٹل صفحے پر آویزاں کیا گیا ہے۔
”لٹ خانہ“ بقول شاہ محمد مری کے ” بلوچستان کے چند روشن فکر اذہان کے تجربات پر مشتمل کچھ برسوں کی کہانی ہے“۔ یہ کچھ برس ایسے ماہ و سال ہیں کہ جو بلوچستان کے حال و مستقبل پر اپنے گہرے نشان ثبت کر چکے ہیں کہ جن کو نہ صر ف ہماری موجودہ نسل بلکہ آئندہ کی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام دیتی رہیں گی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ اپنی فکر اور نظریے کو پالنے اور پوسنے کے لیے کس قدر قربانی دینا پڑتی ہے، اپنے اہل و عیال سے دوری کی شکل میں یا پھر تحصیلداری جیسی پرکشش نوکریوں سے دستبردار ہو کر۔ یہ کتاب ایک ایسی صدی کے حالات و واقعات اور شخصیات کے بارے میں آگاہ کرتی ہے کہ جن پہ بلوچ و بلوچستان ہمیشہ سے فخر کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔ ان میں میر عبدالعزیز کرد سے لے کر عطااﷲ خان مینگل اور نواب خیر بخش مری شامل ہیں۔ میر غوث بخش بزنجو ، میر گل خان نصیر، عنقا صاحب، باقی بلوچ، قادر بخش نظامانی، عبدالکریم شورش، پرنس آغا عبدالکریم ، انجم قزلباش، میر خدائیداد خان و سائیں کمال خان شیرانی ایسی محترم و اعلیٰ شخصیات ہیں کہ جن کے بغیر بلوچستان کی ادبی و سیاسی تاریخ کا ایک بھی ورق لکھنا ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ ان شخصیات کے بارے میں ہم ہمیشہ اور بے شمار طریقوں سے پڑھتے و سنتے آرہے ہیں لیکن اس ” لٹ خانہ“ میں ان نامور شخصیات کا جس منفرد انداز اور جس زاویے سے تذکرہ کیا گیا ہے، اس کا اظہار شاید ہی اس طریقے سے کبھی کیا گیا ہو، وہ بھی عبداﷲ جان جیسے عظیم انسان کے قلم و ذہن سے۔
”لٹ خانہ“ دو سو اڑتالیس صفحے کی ایک ایسی دلچسپ کہانی ہے کہ جس میں بلا کا ربط و تسلسل شروع سے آخر تک برقرار و قائم ہے۔ ناول یا کہانی نما (پتہ نہیں اس کو کہانی کہا جاسکتاہے یا نہیں) کتابوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کہیں کہانی میں ربط نہ ہو تو اس میں دلچسپی باقی نہیں رہتی لیکن اس کتاب کے ربط اور تسلسل کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ آپ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران بریک لگا دیں تو دل میں شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ جلد سے جلد دوبارہ پڑھنا شروع کیا جائے۔ ( شدید بیماری کی حالت میں واجہ عبداﷲ جان کا یہ کارنامہ یقیناً لائق تحسین ہے)
لٹ خانہ کے مصنف عبداﷲجان جمالدینی کی شخصیت کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالنا کم از کم میرے بس سے تو کوسوں دور ہے لیکن اتنا ضرورکہہ سکتاہوں کہ انہوں نے اس کتاب کے اندر بے شک اپنی ہم پلہ شخصیات کی بلا تکلف تعریف و توصیف کی ہو لیکن کہیں بھی اپنی تعریف یا خود نمائی کے لیے ایک بھی لائن تحریر نہیں کی ہے ورنہ ہمارے بلوچستانی ادیبوں میں اکثر اپنی بڑائی پیش کرنے کا شوق عیاں نظر آتا ہے۔ حالانکہ واجہ عبداﷲ جمالدینی کی شخصیت تعریف و توصیف کے لیے ہر لحاظ سے مکمل نظر آتی ہے لیکن کتاب کے اندر کہیں بھی شخصیت پرستی کا ہلکا سا شائبہ تک نہیں جھلکتا جس کے لیے مصنف صد مرتبہ لائق تحسین ہے۔
بھلے ہی لٹ خانے کا مطلب لٹ و بے کار لوگوں کی آماجگاہ لیا جاتاہو لیکن یہ لٹ خانہ واقعی میں بلوچ سماج کے لیے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے اور اس لٹ خانے کے لٹ لوگ (میر خدائیداد، سائیں کمال خان، بہادر خان، سید کامل القادری یا واجہ جمالدینی خود) اس یونیورسٹی کے پروفیسرز جبکہ لٹ خانے کا فکر و نظریہ اس کا نصاب۔ خدا کرے بلوچ سماج کے ہر فرد کو اس یونیورسٹی کے انمول نصاب کو پڑھنے اورسمجھنے کا شرف حاصل ہوسکے۔(آمین)

Check Also

March-17 sangat front small title

سنگت کے بکھرے موتی ۔۔۔ عابدہ رحمان

فروری 2016 ویمن مارچ آن واشنگٹن کے ٹائٹل کے ساتھ ماہتاک سنگت کھولا تو اداریہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *