Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » قربتِ لینن میں چند گھڑیاں ۔۔۔ سلمیٰ اعوان

قربتِ لینن میں چند گھڑیاں ۔۔۔ سلمیٰ اعوان

کاغذوں کے حرف کہیں آنکھوں میں محفوظ تھے۔ وہ ورقے ، وہ صفحے، وہ سطریں جنہوں نے کبھی دل کے تاروں کو چھُو کر اس میں ہل چل مچائی تھی اب سامنے تھیں۔
This time we are determined to destroy
With our own hands the pack of imperialists and feudal lords.
No more will they force us to suffer,
No more will they shoot at workers and peasants.
Workers and peasants raise your banners
مجھے یا دہے . بہُت اچھی طرح یاد ہے. آواخر مئی کی وہ چلچلاتی دوپہر جب میں کالج لائبریری میں بیٹھی لیڈراف ماڈرن تھاٹ ’’کارل مارکس‘‘ اور اُس کی بیوی جینی کی زبوں حالی اور کسمپرسی سے بھری ہوئی زندگی پر ایک مضمون پڑھ رہی تھی۔ اختتام پر کمیونسٹ سیاسی قیدیوں کایہ شہر ہ آفاق گیت تھا، بول کیا تھے؟ محرومیوں میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے اُٹھ کھڑے ہونے کے نمائندہ، جنہوں نے میرے تن بدن میں آگ سی لگا دی تھی۔غُربت کی ماری اِس اٹھارہ سالہ لڑکی کے شب وروز گھر میں ننہال کی امارت اور والدین کی غریبی کی تلخ سوچوں کی گھمن گھیریوں میں گذرتے۔ سوالوں جوابوں نے حاسدی اور باغی جیسے خطاب سگے رشتوں سے دلوا دئیے تھے۔
کوئی ایک بار نہیں میں نے بیسیوں بار صوتی اور معنوی نغمگی سے لبالب بھرے یہ اشعار زیر لب دہرائے تھے۔مجھے یو ں لگا تھا جیسے کالج سے باہر سڑک پر ایک ہجوم بینر اٹھائے کھڑا میرا منتظر ہے۔ بس مجھے بھاگتے ہوئے جا کر ایک بینر اٹھا لینا ہے اور ماموؤں پر چڑھائی کرتے ہوئے یہ پوچھنا ہے کہ جاڑوں میں ان کی صُبح نوکر کے ہاتھوں بیڈٹی لینے اور کشمیری گاؤن میں ملبوس ہو کر باہر آنے اور میرے ابّا کی لنڈے کے اُدھڑے پدھڑے سوئیٹر ، پھٹی پرانی پینٹ اور ہاتھ میں پکڑے روُمال میں بندھی روٹی لے کر کام پر جانے کی بھاگ ڈور میں کیوں ہوتی ہے اور یہ کہ ان کے سٹور خانوں میں گلگت اور اسکردو کے خشک میوہ جاتوں کے بوروں کے باوجود میری خالائیں اور ممانیاں میری ہتھیلی پر چلغوزے اور خوبانیاں فقیر کو دینے والے چٹکی بھر آٹے کی طرح کیوں رکھتی ہیں؟
ہم اتنے غریب کیوں ہیں؟
پھر وقت نے سمجھا دیا کہ چُپکی بیٹھو۔ زیادہ اُچھل کُود کی ضرورت نہیں کہ ظلم ، ناانصافی اور جَبر کے خلاف صدیوں سے عَلم اٹھتے رہے اور اٹھتے رہیں گے۔ لوگ سینہ سَپر ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے ، نہ کبھی اور نہ کہیں اس فیوڈیلزم اور امپیریلزم سے نجات ملی اور نہ ملے گی۔ تیسرے درجے کے لوگ کل بھی پھانسیاں لگتے ، جلا وطن ہوتے اور خون میں نہاتے رہے اور آج بھی کسی نہ کسی انداز میں اُن کا خون ارزاں ٹھہرتا ہے۔
پر بات اتنی سی ہے کہ رواں دواں وقت کا پہیہ جب اُلٹی چال چلتا ہے نیچے کی مٹی اُوپر آتی ہے،پستی بلندی پر چڑھتی ہے۔ تب بھی انسانیت کا گلا کٹتا ہے ، تب بھی خون ارزاں ہوتا ہے ۔ سیری اور بھُوک ننگ کی نفسیات، خطّوں ، زمانوں ، نسلوں اور مذاہب کے جنون قرنوں صدیوں سے اسی طرح ہیں او رانہیں ایسے ہی رہنا ہے ۔ انسان خواہ کتنا ہی متمّدن کیوں نہ ہو جائے آخر اپنی وحشی جبلّت کا کیا کرے گا؟
تو جس دھرتی پر میں اس وقت موجود ہوں۔ جس کے انقلاب کی گونج سے پوری دُنیا چونکی تھی۔ وہ تو مقبرے میں دھری کسی مورتی کی طرح سجاوٹی شے بنا بیٹھا ہے ۔ اور فیوڈل لارڈز اورامپیریئلسٹ اسی انقلابی دھرتی پر پھر سے موجیں مارتے پھرتے ہیں۔
Lennin is dead. Bow hammer now and sickle
In sorrow stricken on homage to his soul.
جرمنی کے ایرچ مہسم (Erich Miihsam)کی اس عقیدت بھری خواہش میں کروڑوں انقلابیوں کی خواہش شامل تھی۔
بڑے سال یہ ہتھوڑا اور درانتی دنیائے اوّل کے طاقتوروں کو ڈراتی دھمکاتی اور خوف زدہ کرتی رہی ۔ بڑے سال یہ دنیائے دوم اور سوم کے محنت کشوں فاقہ زدوں کو اُمید اورر وشنی کا پیغام دیتی رہی ۔
مجھے آج بھی یا دہے ، ستّر70کی دہائی کے وسط میں اپنی ایک پیشہ ورانہ ٹریننگ کے دوران سوویٹ روس پر ایک سبق کی تیاری کے لئے چارٹ پر ہتھوڑا اور درانتی کو عین اُوپر نہ بنانے پر کیسے ٹیچر کی لعن طعن نے میرا خون جلایا تھا۔
’’کمبخت اِسے دلکش بناؤ۔اس میں خوبصورت رنگ بھرو کہ یہ غریب کی اُمید ہے۔‘‘میری اُستاد نے کِسی غصیلے کامریڈ کی طرح آنکھیں دکھائی تھیں۔
پتہ نہیں میری وہ اُستاد اب کہا ں ہے؟ کہیں ملے تو کہوں۔
’’ مِس وہ ہتھوڑا اور درانتی تو گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہوگئے ہیں اور سارے میں وہ شاہی امپریلزم کا امتیازی نشان دو مونہا عقاب اپنے پَراور پنجے جھاڑ کر پرانے عہدے پر بحال ہو گیا ہے۔ ‘‘
چلّی کے Huidobro ہیوڈوبرو کے خراج عقیدت میں اس کی پوری شخصیت سمٹی ہوئی تھی۔
Strogner than the song of life
Stronger than death itself
Stronger than the grief of remembrance
Stronger than the anguish of time
Is your presence in the heart of the world
10دسمبر1870کوسمبرسک میں پیدا ہونے والا ولادی میرایلیچ الیانوف پیدائشی جری تھایا اُسے حالات نے جری بنا دیا تھا۔
زندگی کے سازپر جتنے گیت اُس نے گائے وہ المیہ زیادہ تھے۔ اُن کا دورانیہ بُہت لمبا اور پھیلا ہوا تھا۔ طربیہ گیت بارش کے اُن چند چھینٹوں جیسے تھے جو اس کی زندگی کے تپتے صحرا پر پڑتے اور بھک سے اُڑ جاتے ۔
وہ سرکش اور باغی سا تھا ۔اپنے بچپن ہی سے۔ ایک دن گھر میں آنے والے نہایت معزز مہمان سے باتیں کرتے کرتے اچانک اُس کے والد الیانکو لیوچ الیانوف نے کہا۔’’میں بُہت پریشان ہوں۔ میرے بچّے چرچ جانا پسند نہیں کرتے۔ ‘‘
مہمان ہنسا۔ لینن کی طرف دیکھا اور بولا۔’’بید سے خوب ٹھکائی کرو۔ سیدھے ہو جائینگے۔‘‘
اُس کا چہرہ سُرخ ہوگیا۔ گلے میں پڑی صلیب والی چین اُ س نے ہاتھ بڑھا کر وحشی انداز میں نوچی اور اُسے مہمان کے سامنے پھینک کر کمرے سے بھاگ گیا۔اُس وقت اُس کی عمر دس سال تھی۔
بہنیں اور بھائی سب کے سب سوچوں میں منفرد ،محنتی اور عام روایتی ڈگر سے ہٹ کر کام کرنے والے۔ ماں باپ پڑھے لکھے تھے۔ الیانکولیوچ الیانوف کا زان یونیورسٹی میں فزکس اور ریاضی کا اُستاد تھااور اور ماں ماریا الیگزینڈر ونہ سکول انسپکٹریس۔
صرف سترہ برس کا تھا۔ جب اُس نے پھاہے لگے (پھانسی لگے) اپنے بڑے بھائی الیگزینڈر الیانوف کے لاشے کو دیکھا۔ جُرم تو وہی تھا کہ نعرے لگاتا تھا اُٹھو میری دُنیا کے غریبوں کو جگا دو ۔کاخ امراء کے درودیوار ہلا دو۔
زار الیگزینڈر سوم پر قاتلانہ حملے میں اُس کا نام بھی تھا۔ وہ رویا پر اپنی آنکھوں سے ٹپکتا پانی اُسے لہو لگا۔ وہ باہر بھاگا۔ بھاگتا چلاگیا۔ رُکا۔ پھر ایک آواز اُس کے جسم وجان کی پوری قوت سے اُس کا تن من پھاڑتی فضاء میں گونجی تھی۔
’’انقلاب۔ میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ انقلاب کے لئے وقف کرتا ہوں۔‘‘
’’کارل مارکس‘‘ کو باریک بینی سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ کازان یونیورسٹی میں طلبہ کی انقلابی سرگرمیوں کا لیڈر بھی بن گیا اور گرفتار بھی ہوگیا۔پولیس کے سنیئر افسر کی نظروں میں تلوار جیسی چمک تھی۔ لہجے میں برچھی جیسی کاٹ تھی۔
’’انجام جانتے ہو۔‘‘
’’میں پہلا اور آخری حرف ہوں۔ا بتداء بھی ہوں اور انتہاء بھی۔‘‘
اُس کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔ لہجہ پُر اعتماد اور آنکھوں میں کچھ کر جانے کی چمک۔پولیس افسر نے بغور دیکھا۔ چند لمحے دیکھتا رہا پھر قدرے نرم لہجے میں بولا۔’’زندگی شاعر ی نہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے ۔نوجوان ہو، خود کے دشمن بن گئے ہو۔سامنے تو لوہے کی دیوار ہے۔ ٹکریں ماروگے تو کس کا سر پھٹے گا؟‘‘
’’کسی کو بارش کا پہلا قطرہ تو بننا ہے اور وہ میں کیوں نہ بنوں۔ یہ یاد رکھئے کہ ظلم وجبر اور استحصال پر کھڑی دیواریں بظاہر لوہے کی نظر آتی ہیں۔ مگر وہ مٹی کی ہوتی ہیں اور وہ بھی بودی۔ ایک زوردار دھکا لگے گا تو گر جائیں گی۔‘‘
آفسیر نے مزید کچھ کہنے کی بجائے سر کاغذات پر جھُکا لیا تھا۔
ہر کامیاب مرد کے پیچھے کوئی عورت ہوتی ہے۔ ولادی میرلینن کی پُشت پر تین عورتیں تھیں۔ ماں، بیوی اور بہن ۔ اس کی ماں میکسم گورکی کے ناول ’’ماں‘‘ جیسی ہی تھی، بلند ہمت اور پُر عزم ۔
ایک بار بیٹے سے ملنے جیل گئی۔ جیل کے داروغے نے خوفناک سُرخ آنکھوں سے گھُورا۔ طنز اُس کے چہرے پر غاز ے کی طرح چمکا تھا۔ بھدّی اور کرخت آواز نفر ت اور گھٹیا پن سے بھری ہوئی تھی۔
’’زار شاہی کو تم جیسی عورتوں کو تمغے دینے چاہییں۔ کیسے قابل فخر بیٹے جنے ہیں تم نے۔ ایک تو پھانسی لگ گیا ہے اوردوسرا لگنے کو تیار ہے۔‘‘
ماریا الیگزینڈرو ونہ نے کچھ نہیں کہا۔غم اور پریشانیوں کو تو پہنے کھڑی تھی۔چُپ چاپ آگے بڑھ گئی ۔ پر قدرے آگے جا کر واپس پلٹی تھی۔ ایک ٹک داروغے کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’شاید میں نہ دیکھ سکوں۔ تم اگر زندہ رہے تو ضرور دیکھوگے کہ وہ ایک دن رُوس کے آسما ن پر سوُرج کی طرح طلوع ہوگا۔‘‘
اپنے بیٹے کے معاشی مسائل کا اُسے ہمیشہ احساس رہتا تھا۔ کبھی کبھی وہ اُسے اپنی پنشن میں سے تھوڑی سی رقم ضرور بھیج دیتی۔ اُس کے بُہت سے خطوں میں اس اصرار پر کہ وہ اُس کے پاس آجائے ، پڑھتی۔دُکھ کی بوجھل مسکراہٹ میں نہاتی۔ پھر اُس کا چہرہ خود کلامی کی کیفیت میں ڈھلتے ہوئے بولنے لگتا۔
’’ایلیچ ممتا والی چنتا تو تیرے بارے میں ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے۔ پر تیرے لئے تیری بیوی کی محبت اورسچی چاہت دیکھ کر مُطمئن بھی بُہت ہوں۔‘‘
ستّر(70) سال کی بوڑھی عورت جو اپنے گھر میں تنہا رہتی ہے۔ اپنے گردوپیش میں اپنی ہم عمر عورتوں کو پوتے پوتیوں ، بیٹوں بیٹیوں میں گھرادیکھتی اور اُ ن کے خوشیوں بھرے قہقہے سُنتی اور پھر افسردگی میں ڈوبی اُن دنوں کے حساب کتاب میں اُلجھ جاتی کہ کب کب کہاں کہاں اور کس کس جیل میں اُسے اپنے بیٹے بیٹی اور داماد سے ملنے جانا ہے۔ انہیں دیکھنا ہے۔ ان کا حوصلہ بڑھانا ہے اُن سے حوصلہ لینا ہے۔ وقت تو گاڑیوں راستوں ، جیلوں اور قلعوں کی انتظار گاہوں میں گذر جاتاہے۔ بولو۔تم ہی مجھے بتاؤ کہ تمہارے پاس کیسے آسکتی ہوں؟ ہاں تمہارے خط جن میں تم مجھے لکھتے ہو کہ میرا کواٹر ہر صورت گرم رہنا چاہیے اور یہ کہ مجھے صرف لوہے کا اسٹوو استعما ل کرنا ہے۔ کھانے میں گوشت اور پھل ضرور لینے ہیں۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا ہے۔ یہ سب مجھے اچھا لگتا ہے اور مجھے اِن اندھیروں میں حوصلہ اور توانائی دیتا ہے۔
پیٹرز برگ کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں پڑھنے والی لڑکی نادیزدا کرپسکایاNadezhada Krupskayaجس کا چہر ہ خوبصورت تھا۔آنکھوں میں کام کرنے اور صعوبتوں کو برداشت کرنے کاعزم تھا۔سیدھے سنہری بالوں کے نیچے دماغ انقلابی تھا۔ تن پر معمولی سا لباس قناعت اور سادگی کا مظہر تھا۔ ایک سوشل ڈیموکریٹ گروپ کی طرف سے قائم سٹڈی سرکل میں مزدوروں کو فارغ وقت پڑھایا کرتی تھی۔
لینن نے قانون پڑھا پر وکالت کی بجائے انقلابی سرگرمیاں اس کا محور تھیں اور پیٹرز برگ کی زمین زیادہ انقلابی تھی اور یہیں وہ نادیزدا کرپسکایا سے ملا۔
کرپسکایاکے سٹڈی سرکل میں نکولائی پیٹرو واچ کے فرضی نام سے لیکچر دینے لگا۔ بظاہر اس کی شخصیت ذرا متاثر کن نہ تھی۔ پراسکا علم، اُس کااندازِ بیان، اُ س کے دلائل سیدھے دل میں اُترتے ۔ وہ’’ مارکس کی کپٹل ‘ Capitalمیں سے تھوڑا سا پڑھتا، اُس کے ہر پہلو کی وضاحت کرتا۔ پھر مزدورں سے اُن کے کام اور حالات کار کے بارے میں پوچھتا۔ سادہ سے لہجے ، سادہ سی زبان میں روزمرّہ زندگی کی مثالوں سے ہی وہ مزدوروں کی زندگی کو سماج کے ڈھانچے سے جوڑ دیتا۔ اُس کے ہاں نظریہ اور عمل لازم وملزوم تھے۔کرپسکایا شدید متاثر ہو چکی تھی۔
اُس کے کام میں چیتے جیسی تندی اور تیزی تھی۔ لیف لیٹس کی تیاری میں اُس کا گہرا انہماک توجہ اور لینن کی مشاورت کے لئے اُس کی طرف کرپسکایا کا غیر معمولی جھکاؤ اُس کے دلی جذبوں کا عکاس تھا۔
گرفتاریاں ہوگئیں۔ دونوں پکڑے گئے۔ لینن کو سائبیریا بھیج دیا گیا۔ اور جب اُسے کہیں اور جلاوطن کیا جانے لگا۔ وہ افسران بالا کے سامنے پیش ہوئی ۔ اُس نے کہا۔’’مجھے شوشن شکوئے بھیجو۔‘‘ لینن اُسے Shu. shu. shuکہتا تھا۔
اس کی درخواست مان لی گئی تھی۔ جب وہ وہاں پہنچی۔ اُس نے ہنس کر کہا ۔
’’تو اب بیاہ کرتے ہیں اور اس جہنم جیسی زندگی کو جنت میں بدلتے ہیں۔ دونوں کا بیاہ ہوگیا۔‘‘
وہ لینن کا سایہ تھی۔ سائبیریا کے بیانوں سے لے کر’’ کریملن اور گورکی‘‘ کے اُس کمرے تک جہاں اُس نے آخر ی سانسیں لی تھیں۔ زندگی جہد مسلسل تھی۔ معاشی مسائل نے ہمیشہ پریشان کیا۔ جینوا، لندن، میونخ ،پیرس ،سوئزرلینڈ کے سستے ترین علاقوں میں ایک ایک کمرے کے فلیٹ میں اُن کی جلا وطنی کا ساراوقت گذرا۔
کام کا غیر معمولی پریشر، پارٹی کے مسائل اور اُن کے جھگڑے۔ ’’اسکرا‘‘ (ہفت روزہ) کے اداراتی بورڈ میں ممبران کے درمیان ڈھیروں ڈھیر مسائل ، توڑ جوڑ، ملک کے دگرگوں سیاسی حالات، وہ استقامت سے اُس کے ساتھ اس کا دستِ راست بن کر ہمیشہ کھڑی رہی۔ ’’اسکرا‘‘کے مضامین کی پرُوف ریڈنگ کرتی۔ اندرون ملک کامریڈز کے خطوط کو پڑھتی۔ لینن کی ہدایات پر اُن کے جواب لکھتی۔
دودھ اور لیموں سے لکھے جانے والے ٹاپ کنفیڈنشل خطوں کو بھی پڑھنے کی ذمہ داری اُسی کی تھی۔ یہ خط پڑھنے بُہت دُشوار تھے۔ کانگریس کی میٹنگوں میں ممبران کی آپس میں تلخیاں ، لینن کا شدید جذباتی تناؤ میں آنا، رُوسی جلاوطنوں کی ابتر حالت اورفنڈز کی کمی یہ سب وہ پریشانیاں اور مسائل تھے جو اکثر اُسے اپ سیٹ کرتے ۔ ایسے میں اُسے نارمل کرنا کرپسکایا کا وہ کام تھاجسے کرتے ہوئے اُس نے کبھی اکتاہٹ یا بیزاری محسوس نہیں کی۔
لینن کی صحت گرتی جا رہی تھی۔ او ر اُن کے پاس ڈاکٹر کا علاج کروانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ زبردستی کروپسکایا اُسے معائنے کے لئے لے گئی۔
اسے’’ہولی فائر‘‘ ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا۔
اور کروپسکایا نے لمبی سانس بھرتے ہوئے ڈاکٹر سے مرض کی تفصیل سُنی کہ یہ کمر اور سینے کے اعصابی سروں پر سوزش کی ایک بیماری ہے ۔اور علاج کیسے ہوتا کہ اُ ن کے پاس ڈاکٹر کی فیس ایک گنی بھی نہیں تھی۔
دونوں گھر آئے۔ لینن کرسی پر بیٹھا چُپ چاپ ، سنجیدگی اور تفکّر میں ڈوبا ہو اتھا۔ جب اُس نے کہا۔’’ایلیچ وہ گیت گاؤ جو تمہارا فیورٹ ہے۔‘‘
I love you, love you, without end.
وہ مُسکرایااور بولا۔’’تم بڑی ظالم ہو۔‘‘
اور اُس شام اُس چھوٹے سے کمرے میں اُن د ونوں کی آوازوں نے مل کر بُہت سارے گانوں کی ٹانگیں توڑیں ۔
” They did not marry us in the church.”
” The jolly day of May has come.”
” Comrad, March, march, march.”
کوئی بھی گیت انہیں پورا نہیں آتا تھا۔ بس وہ گاتے رہے، ہنستے رہے اور اس ہنسی میں اپنے غم اور پریشانیوں کو تحلیل کرتے رہے۔ جہاں قوت ارادی زبردست ہو، محبت وپیار اور احساس کی فراوانی ہو تو پھر گھریلو ٹوٹکے بھی مسیحائی کا کردار ادا کر دیتے ہیں۔
میوزک کا حد درجہ دلدادہ۔ بہت مگن ہو کر موسیقی سُنتا۔ یاد اشت تویوں بھی کمال کی تھی۔ زمانوں پرانے گیت اور موسیقی کی دُھنیں اُن کے ساتھ وابستہ یادیں سبھی اپنی تفصیلی جزئیات کے ساتھ یا د ہوتیں۔ وائلن کا بُہت شوقین۔پیانو بھی کمزوری تھا۔ بیھتوون کے سانٹیز Pathetique and Appassionata بُہت پسند تھے۔اکثر جذب کے عالم میں نیم وا آنکھوں سے وہ اُداسی میں لپٹی مسکراہٹ لبوں پرلاتے ہوئے کرپسکایاسے کہتا ۔
’’جی چاہتا ہے میں appassionataکو روز سُنوں اورسُنتے سُنتے اس میں گُم ہو جاؤں ۔ یہ کیسی جسم وجان میں حلُول کرتی سحر انگیز موسیقی ہے۔پر میں اِسے ہر روز نہیں سُن سکتا۔یہ میرے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘‘
کلاسیک لٹریچر کا بڑا شائق۔ ٹالسٹائی کو بار بار پڑھتا۔ لُطف اُٹھاتااورکہتا ۔
’’کرپسکایا یورپ میں ٹالسٹائی کا مقابلہ کِس سے کروگی؟‘‘ اپنے ہاتھوں کو خوشی وسرشاری سے مَسلتے ہوئے وہ اپنے سوال کا جواب خود ہی دیتا۔
’’کسی سے بھی نہیں۔ کوئی بھی اُس جیسا نہیں۔‘‘
بیلے کی نسبت اوپیرازیادہ پسند تھا پر اکثر پہلے ایکٹ کے بعد اُٹھ جاتا تھا۔تھیٹر بھی شوق سے دیکھتا ۔ اچھی پرفارمینس ہمیشہ اُسے شدید متاثر کرتی ۔
لکھنے میں رفتار حیرت انگیز تھی۔ تحریر ہمیشہ لوجک پر ہوتی۔تصیح کی ضرورت بہت کم پڑتی۔تقریر ہمیشہ سادہ اور جوش وجذبے سے پُرہوتی۔ بولنے کا انداز بھی سادہ ہوتا۔ خالصتاً رُوسی سٹائل۔ یہ جذباتی طور پر چارج کرتی پر مصنوعی نہ لگتی۔ لفظوں کا انتخاب ہمیشہ اچھا اور خوبصورت ہوتا۔
وہ ہمیشہ جذبے کی بھرپور سچائی سے بات کرتا خواہ یہ نجی گفتگو ہوتی یاپبلک میں کوئی تقریر۔ جب بھی وہ کمرے میں چکر کاٹنے لگتا۔ اُس کی خو د سے باتیں یا سرگوشیاں شروع ہوجاتیں اوروہ جذباتیت کے بہاؤ میں آ جاتا۔ کرپسکایا کا کہنا تھا۔میں سمجھ جاتی تھی اور اُس کے پاس ہوتے ہوئے بھی خود کو غائب کر لیتی۔ سیر کے دوران بھی اگر مجھے اس امرکا احساس ہو جاتا تو میں اُسے کبھی ڈسٹرب نہیں کرتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اگر اُس کا جی چاہتا وہ تفصیلی بات کرتا۔ایسے وقت میں وہ بحث اور مداخلت کو قطعی پسند نہیں کرتا تھااور میں ہمیشہ اس کا خیال رکھتی تھی۔جب بھی وہ باہر کہیں کسی ڈیبیٹ پر جاتا، اپنی واپسی پر اکثر وہ افسردہ ، خاموش اور کم ہمت سا ہوتا۔ اور ایسے وقت میں مَیں سوالات کرنے سے گریز کرتی۔ اکثر بعد میں وہ مجھے تفصیلاً سب کچھ بتاتا۔
اس کی بیماری کے دوران ڈاکٹراُسے پڑھنے لکھنے سے منع کرتے ، تب وہ مجھ سے کہتا۔’’یہ تو زیادہ نقصان دہ ہے۔ وہ مجھے سوچنے سے روک نہیں سکتے اور نہ میں خود کو ایسا کرنے سے باز رکھ سکتا ہوں۔‘‘
اُس کی شخصیت میں اثر پذیر ی کا عنصر بُہت زیادہ تھا۔ ردّعمل ہمیشہ بڑا طوفانی ہوتا۔ برسلز میں پلیخانوف کے ساتھ ایک جھگڑے میں جب وہ فوراً پلیخا نوف کے طنزیہ ریمارکس پر جوابِ آں غزل لکھنے بیٹھا۔ اُس نے کٹیلے لہجے میں کہا تھا۔
’’بلا شبہ میری حیثیت ایک گھوڑے سے زیادہ نہیں۔ میں کو چوان پلیخانوف کے گھوڑوں میں سے ایک ہوں۔ انتہائی صبر والا گھوڑا۔ لیکن جس طرح وہ مجھے زِچ کرنے پر تُلا ہوا ہے ایسے میں صبر والا گھوڑا اُسے پھینکے گا نہیں تو اور کیا کرے گا۔‘‘
میں کمرے میں کھڑی اِس سنگین صورت حال کو دیکھتی تھی کہ وہ کس قد ر شدید دباؤ میں ہے۔ اس میں کو ئی شُبہ نہیں تھا کہ پلیخا نوف بُہت باصلاحیت اور گہری دانش کا مالک تھا۔ لیکن انقلابی جبلّت سے خالی تھا۔ لینن حقیقت پسند انقلابی تھا اور اُسے گلا تھا کہ پلیخانوف کا ڈرافٹ انقلابی عمل کی راہنمائی کے لئے قطعی موزوں نہیں۔ میں نے اُس کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا اور اُسے سیر کے لئے چلنے کی ترغیب دی ۔
“Let’s go take a look at the Cathedral.” اُس کا جواب تھا۔
لباس سے لے کر کھانے تک میں ہمیشہ سادگی ہوتی ۔ لنین کو دہی بُہت پسند تھا۔ سٹرابیری سے چڑ تھی۔ کریملن میں جب وہ سیاہ وسفید کا مالک تھا، اُس کے رات کے کھانے اور دوپہر میں چائے، بلیک بریڈ، مکھن اور پینر ہوتا۔ اگر کبھی کوئی غیر ملکی مہمان آجاتا ،میٹھے کی ضرورت پڑتی تولینن کی بہن بھاگتی پھرتی ۔ اِدھراُدھر ہاتھ مارتی۔ کہیں کوئی جار ملتا۔ تھوڑا سا جام یا جیلی اُس کے اندر ہوتی۔ بس تو اسی سے تواضع ہو جاتی۔قحط سالی کے دنوں میں جب کارکنوں کو کھانا راشن پر ملتا تھا۔ ملک بھر سے لنین کو گوشت ، پھلوں ، سبزیوں اور بیکری کی اشیاء تحائف کی صورت آتیں جنہیں وہ ہمیشہ فوراً اسپتالوں اور بچوں کے سکولوں میں بجھوا دیتا۔
ایک بار اُس کی بہن ماریا ایلنچنا Ilyinichna نے کہا۔ ’’ولوڈایا Volodya تم کچھ اپنے لئے بھی رکھ لیاکرو۔ تم بھُوک سے کمزور ہوتے جا رہے ہو۔ انقلاب کی کامیابی کو تمہاری صحت کی ضرورت ہے۔ ‘‘
’’میں کچھ نہیں کھا سکتا جب کہ مجھے علم ہے کہ میرے کارکن لوگ اور بچے بھُوکے ہیں۔‘‘میکسم گورکی اپنی پہلی ملاقات کا احوال قلم بند کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
اُس کا ہیروازم اس کی ظاہری شخصیت کا محتاج نہیں تھا ۔ وہ رُوس کا حد درجہ مخلص دانشور، عملی ا نقلابی ، اپنی ذات میں درویشی جیسی صفات کا حامل ، نہ ٹوٹنے والا جس کی زندگی کا اوّلین مقصد دنیا کے لوگوں کو انصاف اور خوشیاں بانٹنا تھا۔
جب ہم ایک دوسرے سے ملے اُ س نے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے دبایا اورکہا۔’’کتنا اچھا ہوا کہ تم آئے ہو۔‘‘میں اُس سے کبھی نہیں ملا تھا اور نہ ہی اُس کے متعلق کچھ زیادہ پڑھا تھا ۔ لند ن کے ساؤتھ گیٹ روڈ پربرادر ہوڈ چرچ وائٹ چیپل کا وہ ننگی دیواروں والا مضحکہ خیز سا کمرہ ابھی بھی میری نظروں کے سامنے تھا جس کی چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں اس ہال میں کھُلتی تھیں جو ایک بھدے سے سکول کے کلاس روُم کا تاثر دیتا تھا۔
میرے ذہن میں اُس کے متعلق ایسا تصور نہیں تھا جیسا وہ مجھے نظر آیا تھا۔ اپنے کوٹ کے بازوؤں کے پھٹے سوراخوں میں اپنے انگوٹھے گھُسیڑتا اور حلق سے آوازیں نکالتا مجھے محسوس ہوا تھا۔ اُس میں کسی چیز کی کمی ہے ؟ کس چیز کی؟میں کچھ اُلجھا ہوا تھا۔
بہت سادہ تھا۔ لیڈروں والی کوئی بات نہیں تھی اس میں۔ ظاہر ہے میں لکھنے والا تھا اورباریک بینی اور تفصیلات میں اُترنا میری سرشت میں داخل تھا۔
پر جب ’’آسکرا‘‘ کے ادارتی بورڈ کے سینئر اہم ممبرپلیخانوف سے میرا تعارف ہوا۔ اُس نے سنگ دلانہ نظروں سے مجھے اُس تھکے ہوئے اُستاد کی طرح دیکھا کہ جو کہتا ہو ۔
’’لو ایک اور نیاشاگرد آگیا ہے ۔‘‘ اتنا ضروراُس نے کہا ۔’’میں تمہارے ٹیلنٹ کا مدّاح ہوں بس۔‘‘
لیکن وہ بے کیف، ظاہری دلکشی سے عاری، گنجا آدمی جو مسلسل اپنی سقراطی بھنووں کو ایک ہاتھ سے مسلتے اور دوسرے سے میرے ہاتھوں کو جھٹکا دیتے، اپنی مسکراتی روشن آنکھوں سے ’’ماں‘‘ کے بارے میں بولنا شروع ہوگیا تھا۔
’’موجودہ وقت کو ایسی ہی کتاب کی ضرورت تھی۔ پر مزید لکھو کہ سرمایہ دار کس طرح زمین اُس کے تیل ، لوہے ، لکڑی اور کوئلے پر قابض ہو کر مزدورکی زندگی جہنم بنا رہا ہے۔ ‘‘
لینن کے کردار کا یہ ایک مثالی اور روشن پہلو تھا کہ وہ جذباتیت ، اپنی ذاتی پسند ناپسند کو اصولی سیاسی مسائل سے کبھی گڈ مڈ کرنے کی ہلکی سی بھی کوشش نہیں کرتا تھا۔ اُس میں لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچاننے کی ایک قدرتی حِس تھی۔ ذاتی نفرت اُس کے قریب سے بھی نہیں گذری تھی۔انقلاب کے بعد جب لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔ غیر تربیت یافتہ ان پڑھ بالشویک مزدُوروں نے اپنے آپ کو صنعت وحرفت کا مالک سمجھنا شروع کردیا۔ پورے مُلک میں طوائف المُلکی کی سی کیفیت پیداہوگئی۔ گورکی نے اپنے ذاتی اخبار’’ نوایا‘‘میں بالشویکوں پر نُکتہ چینی کی تو اُ س کے اخبار کو بند کرنے کا مطالبہ ہوا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے؟ ‘‘ لنین مُسکرایا۔’’ گورکی ہم میں سے ہے۔ گورکی غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ سچی بات لکھتا ہے۔ اُسے رجعت پسندی کے دورے ضرور پڑتے ہیں۔ پر جو کچھ ہو رہا ہے یہ بھی تو ہمارے لئے تباہ کن ہے ۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو درُست کرنا ہے ۔ گھبراؤ نہیں وہ ہمارے پاس واپس آئے گا۔‘‘
چھوٹی سی قامت پر بڑے دماغ اورمُلک کے لئے اونچے اونچے خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا عزم رکھنے والے کی ذہنی سوچ، کام کا طریق کار اور اُس کی ادائیگی سبھی سائنسی انداز کے تابع تھے۔انقلاب کے بعد پورے رُوس کے ریلوے نظام کی بوسیدگی اورتنزّلی لمحہ فکر تھی۔ ملک کے طول وعرض کو برقانے (Electrification) انگلینڈ اور ہالینڈ کی طرز پرسیٹ کرنے میں اُس کا جنون دیکھ کر برطانیہ کا ہربرٹ جی ویلز دنگ رہ گیا تھا۔وہ کہے بغیر نہ رہ سکا تھا۔
’’زمینی حقائق کو سامنے رکھیئے۔ انگلینڈ اور ہالینڈ کی طرف مت دیکھئے ۔ ان کی گھنی تعلیم یافتہ آبادی ، اعلیٰ درجے کے صنعتی علاقوں اور مرکزوں میں ایسے منصوبے اقتصادی اورکاروباری لحاظ سے بُہت کامیاب ہو سکتے ہیں پر رُوس جیسے پس ماندہ، گھنے جنگلوں پر مشتمل علاقے، جہاں اَن پڑھ کسانوں اور بے ہنر لوگوں کی اکثریت رہتی ہے اور جس قسم کے حالات کا مُلک سامنا کر رہا ہے۔ اِن خوابوں کی کامیابی ممکن نہیں۔
’’صرف دس سال۔ ہمارے عزائم کے سامنے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ‘‘
اُس کے کام کرنے کا انداز حیرت انگیز تھا۔الیگزینڈر سرافیموچ (Scrafrmovich) لکھتا ہے۔’’یہ انقلاب کے ابتدائی دن تھے۔ایجوکیشن کمسار (وزیروزارت) کی سربراہی میر ی تحویل میں دی گئی۔ اس وقت پرانا لٹریچر کہیں کھڈے لائن لگاپڑا تھا اور انقلاب سے پہلے کے لکھنے والے بھی غائب تھے۔نئے پرولتاری لٹریچر نے ابھی کوئی واضح صورت اور رنگ نہیں پکڑا تھا۔ اس وقت صرف مایاکووسکی ہی ادبی منظر نامے پر حاضر تھا۔ مجھے انقلاب کے حامیوں سے لکھوانا تھاجو یقیناً ایک مشکل کام تھا۔ اور ولادی میر ایلچ اس کے لئے بُہت بے چین تھا۔ ایک دن مجھے رپورٹ کے لئے بُلایا گیا۔ میں کریملن پہنچا۔
اکتوبر کا یہ چمکتا دن ،ہواؤں میں جھُومتے درختوں کے پیلے پتے، کریملن سے باہر سینٹ باسل چرچ کا ایک گُبند،جو شیل سے زخمی ہو چکا تھا اور جس کی ابھی بھی مرمت نہیں ہوئی تھی سب ایک پُر اثر منظر کے عکاس تھے۔
مجھے ایک بڑے ہال میں لے جایا گیا۔ غیر معمولی بڑا کمرہ، غیر معمولی بڑی میز جس کے گرد تقریباً اسی(80)کے قریب ایڈمنسٹریٹر کمسار (وزیر) اُن کے ڈپٹی، ڈپارٹمنٹوں کے سربراہ، کمیٹی چیئرمین اوردوسرے صوبوں کے لوگ موجود تھے۔کامریڈ لینن صدارتی کرسی پر تھا۔ میں نے دیکھا کہ سپیکر کو ایوان میں بحث کے لئے کہاجاتا۔ ٹو دی پوائنٹ بات اور اگر وہ کہیں فن خطابت میں کسی فضولیات میں پڑتا تواُسی وقت ٹوک دیا جاتا ۔ نوٹس لئے جاتے۔ مختصر بحث۔ طریق کار واضح۔ آگے بڑھیئے۔
کاغذ کی قلّت کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ بتایا گیاکہ فوری طور پر سرخ فوج، سویلین اور پبلیشنگ کے لئے کاغذ کی اشد ضرورت ہے۔لینن نے اپنے سامنے پڑا فولڈر اٹھایا اور کہا۔’’اس فولڈ ر میں کاغذ کی صنعت اور کاغذ سازی کی فیکٹریوں جو بہترین کارکردگی کی حامل ہیں سے متعلق پروجیکٹ کے کاغذات ہیں۔
لینن کامریڈ شیوڈچکوو Shvedchikov جو پیپر پروڈکشن کے انچارج تھے سے مخاطب ہوئے۔
آپ اس پروجیکٹ کے خالق کے ساتھ باہر کو ریڈور میں چلے جائیں۔ یہ آپ کو اس کے بارے میں آؤٹ لائن دے گا۔ اگر آپ نے اسے منظور کیا تو ہم اس پر کسی قسم کی بحث کئے بغیر اِسے اوکے کریں گے اور اگرآپ نے محسوس کیا کہ یہ محض بکواس ہے اور منصوبہ ساز نے وقت ضائع کیا تو اسے تین دن حراست میں رکھا جائے گا۔میں صرف پانچ منٹ دوں گا۔‘‘
میٹنگ اگلے مسئلے پر شروع ہوگئی۔ دونوں باہر چلے گئے۔ منصوبہ ساز کچھ خاموش سا نظر آتا تھا۔ چہرہ چقندر کی طرح سرخ تھا۔پانچ منٹ بعد دونوں کی واپسی ہوئی۔’’ یہ ٹھیک ہے۔‘‘فولڈر منظوری کے ساتھ سکر یٹری کو ایک منٹ میں حوالے کر دیاگیا۔
ایسے ہی روس نے نیم تاریک اندھیرے میں سے چھلانگ مار کر روشن دنیا میں قدم نہیں رکھ دیا تھا۔اُس کی ترقی نے ایک زمانے کو حیران پریشان کر دیا تھا۔ سوال اُٹھتا تھا، روسی انسان ہیں یا جن؟
وہ مخلص اور خاموش کام کرنے والوں کا بُہت مدّاح تھا ہمیشہ انہیں یا د رکھتا۔ جب کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ مرتّب ہو رہی تھی۔ اُ س نے اُن سب لوگوں کے بارے میں مختصر نوٹس لکھوائے جنہوں نے کام کا آغاز کیا پراسکا نتیجہ دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہے۔
اُ سکے الفاظ آغاز ہی محنت طلب کا م ہے۔ زیرو سے شروع۔ صبر کے ساتھ نظریات کا پھیلاؤ۔ ایک ایک دو دو لوگوں کا قائل ہونا۔ تنظیم، تعمیر جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
موت نے بالآخر اُس انسان کو پچھاڑ دیا تھا جوذہنی طور پر بُہت طاقتور تھا۔ جس کی قوت ارادی بے مثال تھی۔جوآہنی خیال کیا جاتا تھا۔ جس کے دل کے دورہ کاسُن کر ایک ہی سوال گردش میں آیا۔ لنین کو کیا ہو سکتا ہے؟ اُس کے دل جیسادل تو پورے رُوس میں کسی کا نہ ہوگا۔ سخت جان۔
اُس کا سر درد اُسے بے چین رکھتا تھااورڈاکٹروں کی ٹیم سمجھنے سے قاصر تھی۔ تو جہاں سائنس ناکا م تھی۔ وجہ تلاش کرنے سے قاصر تھی۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا انسان ناممکن کو ممکن بنا دینے والا دماغ ایک دن چُڑ مُڑ ہوابستر مرگ پر تھا۔ بولنے سے قاصر تھا۔ کچھ کرنے سے عاجز تھا۔ تو کیاموت و زیست کے ایسے جانگسل سے لمحات میں اُس نے خدا اور اُس کی کائنات کی ازلی وابدی حقیقت کی سچائی کو مانااور شاعر مشرق کی ہمنوائی محسوس کی۔
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بُہت بندہ مزدُور کے اوقات
کب ڈوبے گاسرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیر ی منتظر روز مکافات

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *