Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ کاشف کمال

غزل ۔۔۔ کاشف کمال

شعور و علم و حکمت کے خزانے بیچ دیتے ہیں
یہاں تو بھو کے بچے اپنے بستے بیچ دیتے ہیں

ہمیں اُس شہر میں عز ت سے جینے کی تمنا ہے
جہاں غر بت کے ہاتھوں لوگ بچے بیچ دیتے ہیں

یہاں ناموں کا محفوظ رہنا غیر ممکن ہے
یہاں کے لوگ تو قبروں کے کتبے بیچ دیتے ہیں

ہمیں نیندیں میسر تو نہیں آتی ہیں لیکن ہم
منا سب دام لگ جانے پہ سپنے بیچ دیتے ہیں

تمہیں دستار کی خواہش تو ہے پر سو چ لینا تم
یہاں کے حکمراں لوگوں کے شملےِ بیچ دیتے ہیں

کھلاڑی میچ کا سودا سر میداں نہیں کرتے
اسے میدان میں آنے سے پہلے بیچ دیتے ہیں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *