Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وصاف باسط

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

پری سفر میں افق تک نہیں گئی ہوگی
مجھے پتہ ہے دھنک تک نہیں گئی ہوگی

یہ آسمان جو معمول کے مطابق ہے
زمیں کی چیخ فلک تک نہیں گئی ہوگی

نظر میں آتی ہوئی تیرگی خلاؤں بیچ
یہ روشنی بھی چمک تک نہیں گئی ہوگی

اسے خبر ہے طبیعت ہی میری ایسی ہے۔۔۔۔
مجھے یقیں ہے وہ شک تک نہیں گئی ہوگی

دبا کہ رکھا گیا بھید خون کے رنگ کا
مری سمجھ تو شفق تک نہیں گئی ہوگی

یہ لفظ یونہی پگھلتے رہیں گے کاغذ پر
یہ آگ شہر خنک تک نہیں گئی ہوگی

پھر آسمان کا منظر جلا ہوا دیکھا
کسی کی آنکھ پرکھ تک نہیں گئی ہوگی

وہ پھر خموش نگاہیں لیے ہوئے باسط
میری کسی بھی جھلک تک نہیں گئی ہوگی

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *